Featured Original Articles Urdu Articles

اشرافیہ کی معیشت اور سکیورٹی سٹیٹ – عامر حسینی

موجودہ حکومت کا بجٹ بدترین ہے لیکن نواز لیگ کی سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ورکنگ کلاس کبھی بھی اولین ترجیح پر نہیں رہیں

نواز لیگ کی سابقہ حکومتیں اور موجودہ حکومت سرمایہ داروں جوکہ اصل میں کارٹیل اور مافیا ہیں کو نوازنے میں کبھی بخیلی سے کام لیتی نظر نہیں آئیں لیکن ان دونوں کے ادوار حکومت میں جو چیزیں اینٹی ورکنگ کلاس ملتی ہیں وہ یہ ہیں

کسانو‌ں کے لیے فصلوں کی سپورٹ پرائس میں کمی کرنا

تنخواہ دار طبقے کو افراط زر کی شرح کے مطابق اضافہ کرکے نہ دینا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نچلے طبقات تک منتقل نہ کرنا

غربت اور بے روزگاری کی شرح کو کم دکھانا اور لاکھوں غریب اور بے روزگاروں کو سوشل پروٹیکشن پروگرام سے الگ رکھنا

سرکاری ملکیت کے انٹرپرائز کی نجکاری کرنا اور پرائیویٹ سیکٹر کا مقابلہ پبلک سیکٹر سے ختم کرنا

وفاق اسلام آباد کا صوبائی امور میں مداخلت کرنا

اکثر سرکاری اداروں میں یا تو حاضر سروس جرنیل لاکر بٹھانا یا پھر ریٹائرڈ فوجی جنرل تعینات کرنا

سب سے زیادہ فنڈ جہاں آئیں وہان باوردی جرنیل سربراہ مقرر کردینا جیسے آج کل این ڈی ایم اے اور واپڈا کا سربراہ جرنیل ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے بجٹ گواہ ہیں کہ اس نے نہ صرف تنخواہ دار طبقے کا خیال رکھا بلکہ اس نے اس ملک کے کسانوں کو اُن کی اجناس کی ریکارڈ سپورٹ پرائس مقرر کی اور ہر ممکن کوشش کی کہ صوبے 1973ء کے آئین کے مطابق اپنے پیروں پر کھڑے ہوں

پی پی پی نے تنخواہ دار طبقے کی قیمتوں میں 2008ء سے لیکر 2013 تک دو سال میں 20، 20 فیصد ،دو سال 15،15 فیصد اور ایک سال 50 فیصد اضافہ کیا تھا اور یہ اضافہ اُس وقت ہوا جب تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے 145 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہچکولے کھاتی رہی

جبکہ مسلم لیگ نواز جب 2013 سے 2018ء تک برسراقتدار رہی تو اس نے سب سے بڑا بلنڈر یہ کیا کہ روپے کی قیمت مصنوعی طور پر بلند رکھی جبکہ اس کے پانچ سالہ دور میں صرف 2014ء کا سال تھا جب پٹرول کی قیمت 93 ڈالر سے 107 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہچکولے کھاتی رہی لیکن باقی کے چار سال یہ 2015ء میں 43 ڈالر فی بیرل اور پھر 2016 سے 2018ء تک یہ 50 ڈالر سے 65 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی جبکہ اس دوران نواز حکومت کو سعودی عرب نے بھی مفت تیل دیا، 1.5 ارب ڈالر الگ سے دیے- لیکن ان سب کا فائدہ نواز لیگ نہ تو تنخواہ دار طبقے کو پہنچایا(10 فیصد اضافہ روپے کی قدر گرتے ہی چھومنتر ہوگیا) اور نہ ہی کسانوں کو

مسلم لیگ نواز نے کپاس کی سپورٹ پرائس فریز کردی، چاول کی سپورٹ پرائس میں اضافہ نہ کیا-گندم کی سپورٹ پرائس میں 50 روپے اضافہ کیا- مکئی کی سپورٹ پرائس میں معمولی اضافہ کیا اور مسلم لیگ نواز کا دور کسانوں کے لیے تباہی کا سامان لیکر آیا- گنے کے کسانوں کا برا حشر کیا

مسلم لیگ نواز کے دور میں میاں منشا جیسے بڑے کارپوریٹ سرمایہ داروں کی چاندی ہوئی اور اور ان کے ٹھیکے داروں کی انجمن نے خوب مال کمایا

پاکستان تحریک انصاف روپے کی مصنوعی گراں قیمت کے مسئلے سے نمٹنے میں تاحال ناکام ہے، اس کی نااہلی نے نواز لیگ سے ورثے میں ملے مسئلے کو اور پیچیدہ کیا اور روپیہ کی قیمت افواہوں اور سٹے بازی کے سبب ڈالر 150 سے 160 کے درمیان گھومتا رہا اور پھر پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ ساز کمی کا فائدہ بھی اس نے نہ تنخواہ دار طبقے کو پہنچایا نہ کسان کو…. کسان کو پچھلے سال سے ٹڈی دَل، گلابی سنڈی، بے موسمی بارش نے برباد کیا تو کیا کپاس کی سرکاری قیمت 4000 روپے فی من پر کھڑی رکھی گئی، گندم کی قیمت میں 50 روپے اضافہ ہوا جبکہ چاول، مکئی کی سپورٹ پرائس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

پاکستان تحریک انصاف کے پاس اپنے کارپوریٹ بھی تھے اور انہوں نے میاں منشا، عارف حبیب، عبدالرزاق داؤد، زلفی بخاری، جہانگیر ترین، خسرو بختیار، فیصل وڈوا، علی زیدی سب سرمایہ داروں کو ساتھ ملالیا اور یوں ٹھیکے دار، کارپوریٹ سرمایہ دار، چینی، سیمنٹ، آٹا، تمباکو کے کارٹیل سب نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں- 215 ارب روپے کی سبسڈیز سرمایہ داروں اور تاجروں کو دی گئی

اور ان کے ساتھ “کمپنی بہادر” نے بھی

زندگی مشکل ہوئی تو تنخواہ دار طبقے اور کسان کی یہ سب پاکستان کی معشیت کے اشراف کی معشیت میں بدلنے، اس کے سیکورٹی سٹیٹ بن جانے کی سزا بھگت رہے ہیں