Featured Original Articles Urdu Articles

بلوچستان کی برمش تحریک – پروفیسر عابد میر

نواب اکبر بگٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اردو میڈیا اور سیاست دانوں کے مسلسل بہرے پن سے بیزار آ کر ایک زمانے میں اردو کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور ایک عرصے تک وہ صرف بلوچی بولتے رہے۔

پھر جب ان کا قتل ہوا تو بلوچستان میں قومی سیاست سمیت قومی رویوں نے بھی نئی کروٹ لی۔ ایک بڑی سماجی تبدیلی یہ آئی کہ بلوچستان یونیورسٹی کا شعبہ بلوچی، جہاں ہمارے اکثر لسانی و لٹریری ڈپارٹمنٹس کی طرح دھول اڑا کرتی تھی اور ویرانی رقص کرتی تھی، وہاں ایک دم طلبا کا جمِ غفیر جمع ہو گیا۔ مادری اور قومی زبان سے رغبت کا رواج ایسا پڑا کہ شعبہ بلوچی میں تِل دھرنے کو جگہ نہ رہی، سیٹیں کم پڑ گئیں اور داخلے کے لیے باقاعدہ امتحان ہونے لگا۔

آج برسوں بعد ایسا ہی ایک ابھار برمش تحریک کے پہلو سے پھوٹنے کو ہے۔

برمش یکجہتی کمیٹی کے نام سے اکتیس مئی سے شروع ہونے والے مظاہرے آج دس جون تک بلوچستان کے چونتیس شہروں تک پھیل چکے۔ اس کے علاوہ کراچی سمیت اندرونِ سندھ اور لاہور سمیت جنوبی پنجاب کو ملا لیں تو چالیس کے قریب مظاہرے ہو چکے۔

محکوم حلقے جوں جوں اس کی شدت سے اور اس کے تناظرات سے آگاہ ہو رہے ہیں، اس سے جڑتے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں یہ تحریک اب محض احتجاجی ریلیوں، مظاہروں تک محدود نہیں رہی، اس نے سماج میں نئے مباحث کے در کھول دیے ہیں۔ برمش یکجہتی کمیٹی کی تنظیمی تشکیل ہو نہ ہو، کی بحث اپنی جگہ جاری ہے۔ مظاہروں میں آئینی مؤقف اور سخت مؤقف اپنانے پہ مباحث زوروں پر ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کا کردار بھی زیربحث ہے۔ موجودہ پارلیمانی و غیرپارلیمانی جماعتوں کا مستقبل بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اور خطے کے دیگر محکوم عوام سے تعلق داری پہ بھی بات ہو رہی ہے۔

ایک فوری تناظر یہ ابھرا کہ فیس بک پر بلوچ ڈائسپورا کی نمائندگی کرنے والے ہمارے ممدوح، ذوالفقار علی زلفی نے اردو ترک کے بلوچی میں لکھنے کا اعلان کیا اور آج سے انھوں نے باضابطہ بلوچی میں لکھنا شروع کر دیا۔ زلفی کی فیس بک پہ نہ صرف وسیع فین فالونگ ہے، بلکہ پاکستان کے نامور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں، اور ان کے رویوں کی وجہ سے ہی انھوں نے یہ فیصلہ لیا، اس لیے اس پر تنقید بھی خاصی ہوئی اور لوگ ان سے مایوس بھی ہوئے ہیں۔ زلفی مگر اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ بلکہ ’’نامور دانشوروں‘‘ کو وہ ان فرینڈ تک کر چکا ہے۔

یہ وہ رویہ ہے جو قوم، وطن، عوام اور زبان سے مخلص ہر شخص کی زندگی میں لازماً آتا ہے۔ شیخ ایاز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ابراہیم جویو انھیں مادری زبان میں لکھنے پر مائل نہ کرتے تو آج وہ سندھی کے لطیف ثانی ہونے کی بجائے اردو میں دوسرے درجے کے اوسط شاعر کے بطور جانے جاتے۔ یہی معاملہ ہمارے گل خان نصیر، عطا شاد اور صبا دشتیاری کے ساتھ ہوا۔ گل خان نصیر اردو ترک نہ کرتا تو بلوچی کو اس کا ملک الشعرا نصیب نہ ہوتا۔ عطاشاد اردو تک محدود رہتا تو اپنے وطن میں اجنبی رہتا۔ صبا صاحب کے بارے میں تو کہا جاتا ہے وہ جب کوئٹہ آئے تو باقاعدہ لکھنوی انداز اپنایا ہوا تھا۔ ان کی تالیفِ قلب بھی سانحہ بگٹی کے بعد ہوئی اور پھر وہ بلوچ اور بلوچی کے ہو کر رہ گئے۔

آج ہمارا سوشل میڈیا کا ایک وسیع پیمانے پر پڑھا جانے والا ساتھی اپنی زبان کو سدھار گیا تو اس میں نہ صرف اس کی زبان کی بھلائی ہے بلکہ اسی میں اس کی اپنی بقا بھی ہے۔ نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہے، پاکستان کے اس حلقے کا ہے جو روشن فکر بلوچ کے ساتھ مکالمے کا خواہش مند ہے۔

اب بھی اگر پاکستان کا ترقی پسند حلقہ اس ’’نقصان‘‘ کا ادراک نہیں کرتا تو عین ممکن ہے بہت جلد یہ رویہ بھی ایک تحریک کی صورت اختیار کر لے اور تمام بلوچ، سوشل میڈیا میں اپنی مادری زبانوں کو ذریعہ اظہار بنا لیں اور ان کے ساتھ ایڈ پاکستان کے ترقی پسند پھر اپنا منہ دیکھتے رہیں (یا نوچتے رہیں)، یہ فیصلہ ان کو ہی کرنا ہے۔

برمش ایک بچی نہیں رہی، سانحہ ڈنُک محض ایک واقعہ نہیں رہا، یہ ایک تحریک بن چکی ہے، یہ ہمارے وطن کی جدید متحرک ترین تحریک بن چکی ہے، پاکستان (ظاہر ہے اس سے مراد روشن فکر طبقہ) جتنا جلد اس سے اپنی جڑت پیدا کر سکا، اس کا ہی فائدہ ہے، جتنی دیر کی، نقصان بھی اسی کا ہے۔

اس لیے بھی کہ بلوچ کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، اور پانے کو پورا ’’وطن‘‘ پڑا ہے۔