Featured Original Articles Urdu Articles

اسلام آباد ایڈمنسٹریشن اور لال مسجد کے سابق خطیب کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،کالعدم تنظیم کے سربراہ ثالث وضامن تھے

اسلام آباد: اسلام آباد ایڈمنسٹریشن اور سابق لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اپنے موقف میں لچک لے آئے- پولیس نے مسجد کے گرد روکاوٹیں ہٹالیں اور علاقے سے پولیس دستے چلے گئے

پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے اہلکاروں نے کہا کہ ایڈمنسٹریشن اور مسٹر عزیز اپنے معاملات کو حل کرنے اور دوماہ کے اندر مکمل معاہدے تک پہنچنے پر رضامندی ظاہر کردی

معلوم ہوا ہے کہ شیعہ مخالف عسکردیت پسند تنظیم اہل سنت والجماعت جو 2012ء سے کالعدم ہے کے سرپرست اعلی مولانا محمد احمد لدھیانوی دونوں فریقوں کی جانب سے ثالث اور ضامن چنے گئے تھے

دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کے بعد مسجد کے گرد روکاٹیں ہٹالی گئیں، راستے کھول دیے گئے اور پولیس کے تعینات دستے واپس بلالیے گئے-جبکہ کچھ اہلکار ابھی بھی وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں

کالعدم اہلسنت والجماعت کے ترجمان حافظ منیب نے میڈیا رپورٹرز کو بتایا مولانا محمد احمد لدھیانوی سربراہ اہلسنت والجماعت نے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے دونوں اطراف سے ثالثی ک

لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز کے بھتیجے اور لال مسجد میں موجود دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران مارے جانے والے غازی عبدالرشید کے بیٹے ہارون رشید نے میڈیا رپورٹرز کو موبائل میسج بھیجا- پیغام میں انھوں نے لکھا کہ انتظامیہ اور مولانا عبدالعزیز کے درمیان معاہدہ طے پایا گیا- مسٹر لدھیانوی ضامن تھے- اس معاہدے کی رو سے پولیس دستے ہٹالیے گئے-جبکہ دیگر مطالبات پر مذکرات کو جاری رکھا جائے گا

مبینہ معاہدے پر اسلام آباد ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ڈی سی اسلام آباد کے دستخط ہیں اور جبکہ دوسرے فریق کے طور پر مسٹر عزیز کے دستحظ ہیں- جبکہ مسٹر لدھیانوی نے بطور ثالث و ضامن معاہدے پر دستخط ثبت کیے ہیں

معاہدے کے مطابق لال مسجد کے سابق خطیب اور ان کی بیگم تین دن میں لال مسجد خالی کردیں گے اور جامعہ حفصہ سیکٹر جی سیون اسلام آباد میں بسیرا کریں گے- دو ماہ تک وہ لال مسجد میں داخل نہیں ہوں گے- اس دوران ہارون رشید اور دیگر مسجد کا انتظام و انصرام سنبھالیں گے-دو ماہ بعد مولانا عبد العزیز پر سے نقل و حرکت کرنے کی پابندی اٹھالی جائے گی-جامعہ حفصہ کے طلباء کو لال مسجد میں پڑھنے سے نہیں روکا جائے گا

جون 2019ء میں اسلام آباد ایڈمنسٹریشن نے مسٹر عزیز کو لال مسجد کے خطیب کے عہدے سے ہٹادیا تھا اور ان کا داخلہ مسجد میں تین ماہ کے لیے بند کردیا تھا- اس کے بعد مولانا عزیز اپنی بیوی کے ساتھ لال مسجد کے اندر بنے آٹھ کمروں میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں جامعہ حفصہ کے طالب علموں و طالبات کو پڑھانا شروع کردیا تھا- فروری میں اسلام آباد انتظامیہ نے مسجد کو خاردار تاریں لگاکربند کردیا اور مسجد کی طرف آنے والے راستوں کو بھی بند کردیا تھا- پولیس دستے وہاں پر تعینات کردیے گئے تھے

اسلام آباد انتظامیہ کے اندر باوثوق زرایع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر انتظامیہ نے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ سے رابطہ کیا اور ان سے مولانا عبدالعزیز سے مذاکرات میں ثالث بننے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کرلی، بعد ازاں معاہدے کے ضامن بھی دونوں طرف سے کالعدم تنظیم کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی بنے

ریاست کی جانب سے نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والے ایک فرقہ پرست مذہبی رہنما کو رام کرنے اور اس کے لیے ایک اور کالعدم عسکریت پسند فرقہ وارانہ تنظیم کے سربراہ جو فورتھ شیڈول لسٹ میں بھی ہے کو ثالث و ضامن بنانے پر انسانی حقوق کے رضاکاروں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے

سیدہ گل زھرہ رضوی، جو اسلام آباد میں مقیم انسانی حقوق کی کارکن ہیں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ حکومت پاکستان کی اپنی رٹ پر سمجھوتہ کرنے کی علامت ہے- انہوں نے ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ کی ضمانت لینے کے عمل کی بھی شدید مذمت کی جو کن کے مطابق ایک ایسی تنظیم کا سربراہ ہے جس نے 22 ہزار سے زائد شیعہ مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں اور یہ تنظیم شیعہ مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی منظم مہم چلا رہی ہے

پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ضلع مظفر گڑھ کے صدر ساحل چانڈیو جو ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بھی وابستہ ہیں کا کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ اور ایک نفرت انگیز تقریر کرنے والا مولوی عبدالعزيز کے درمیان سمجھوتہ باز معاہدہ اور ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ کا معاہدے میں ضامن ہونا نہ تو حیران کن ہے اور نہ ہی انوکھی شئے ہے- پہلے دن کی پیش رفت سے یہی متوقع تھا کہ ایسا ہوگا- پہلے دن سے پی ٹی آئی کی حکومت کالعدم تنظیموں کو سپورٹ کررہی ہے جو فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں- وزیراعظم عمران خان طالبان کے سب سے بڑے وکیل صفائی ہیں-جس شخص کو نفرت پھیلانے اور تشدد کو راہ دینے کی پاداش میں جیل ہونا چاہئیے اس سے حکومت معاہدے کررہی ہے اور جس پر ہزاروں معصوم شیعہ مسلمانوں کے مرنے کے مقدمات چلنے چاہیں وہ حکومت اور نفرت انگیز مولوی عزیز کے درمیان ثالث بنا ہوا ہے