Original Articles Urdu Articles

انبیا علیہ السلام اور اصحاب کرام کے مزارات کے بعد داعش نے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کا مزار بھی تباہ کر دیا

چند ماہ قبل شامی فوج نے ادلب کے علاقے مرتہ النعمان کے قصبے کو داعش اور القاعدہ کے خوارج کے قبضے سے واپس لیا تو شام کی سرکاری نیوز ایجنسی ثنا نے اس علاقے میں تکفیری قبضے کے دوران ہونے والی تباہی کی تصاویر اپنے ویب سائٹ پر شائع کیں۔ انہی تصاویر میں سے کچھ تصاویر ادلب کے علاقے میں موجود حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بھی تھیں جن کو داعش اور القاعدہ کے تکفیریوں نے اپنی عادت کے مطابق پامال کر ڈالا تھا۔

وہابی سلفی تکفیری داعشی اور القاعدہ کی یہ روش نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی یہ عناصر شام اور عراق میں حضرت یونس پیغمبر، حضرت عمار بن یاسر، حضرت حجر بن عدی اور حضرت عمر کے پوتے اور لیبیا میں امام حسن کے پوتوں کی قبور اور مزارات کو تباہ کر چکے ہیں جبکہ اس سے قبل یہی کام ان کے اجداد آل سعود مدینہ میں جنت البقیع اور مکہ میں جنت المعلی کے قبرستانوں میں اہل بیت ع، اجداد پیغمبر حضرت محمد ص اور اصحاب پیغبر رض کی قبور اور مزارات مبارکہ کے ساتھ سرانجام دے چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تکفیری عناصر کے درپردہ اور کھلے حامیوں کی جانب سے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی کا الزام شام کے شیعہ مسلمانوں پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ سب جانتے ہیں کہ مزاروں کو تباہ کرنے کی روایت کس کی ہے اور کس کی رہی ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ پاکستان میں چاہے داتا دربار ہوں، سخی سرور ہوں، بری امام ہوں، عبداللہ شاہ غازی ہوں، لال شہباز قلندر ہوں، مست توکلی ہوں، رحمان بابا ہوں شاہ بلاول نورانی ہوں یا درجنوں مزارات جن پر سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان، داعش اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے تکفیری وہابی یا دیوبندی حملے کے چکے ہیں۔ یہ عناصر تو کھلے عام نبی کریم کے روضہ مبارک کو بھی شہید کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ آج صرف اور صرف تکفیری عناصر کے دفاع میں یہ افراد ایسے گھناونے عمل کا الزام شیعہ مسلمانوں پر عائد کر رہے ہیں جو نہ صرف شام اور عراق بلکہ ہر جگہ مزارات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں بلکہ ان کے دفاع میں پیش پیش رہے ہیں۔

حضرت عمر بن عبد العزیز کی قبر کا شیعوں کے ہاتھوں انہدام ، سراسر جھوٹ اور شر پسندی پر مبنی مہم ہے ۔ شیعہ ، حضرت عمر بن عبد العزیز کی عزت کرتے ہیں ۔ جناب عمر بن عبد العزیز ، پانچویں امام باقر ع کے دور کے اموی خلیفہ تھے ۔ انہوں نے امام علی ع پر سب و شتم کی روایت کو سرکاری طور پر بند کروایا ۔ انہوں نے ہی فدک کی جاگیر آلِ مروان سے چھین کر آلِ فاطمہ ع کو واپس کی جسے امام محمد باقر ع نے قبول فرمایا ۔ یاد رہے ، جناب عمر بن عبد العزیز کو بنی امیہ نے ہی اہل بیتِ رسول ص سے محبت کیوجہ سے زہر دیا اور انکی جان لے لی ۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر انہیں قتل نہ کیا جاتا تو خلافت بھی بنی امیہ سے چھین کر بنی فاطمہ کو واپس کردیتے ۔