Featured Original Articles Urdu Articles

حامد میر اور اعزاز سید کی صحافت – عامر حسینی

کنفلکٹ زون یا شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی اکثر وبیشتر ان علاقوں میں برسرپیکار تنظیموں جن پر دہشت گردی کا الزام ہوتا ہے یا انہوں نے ایسے واقعات کی زمہ داری قبول کی ہوتی ہے کے کمانڈرز اور اُن تنظیموں کے سربراہان کے انٹرویوز کرتے رہتے ہیں اور اُن کے موقف بھی اپنے سورس سے حاصل کرتے رہتے ہیں اور یہ کام کسی بھی طرح صحافتی اخلاقیات کے منافی نہیں ہوتا- لیکن جب کوئی صحافی اپنے انٹرویو کے انٹرو میں یا اس انٹرویو یا ملاقات پر لکھے کالم یا کسی جگہ اس حوالے سے بات چیت میں ایسے فقرے لکھے یا بول دے جو اس مبینہ دہشت گرد تنظیم کی آئیڈیالوجی اور اس کے اقدامات کا جواز فراہم کرتے ہوں تو اس سے یہ رائے قائم کرلی جاتی ہے کہ مذکورہ صحافی اس تنظیم کی آئیڈیالوجی سے ہمدردی رکھتا ہے اور اُس کے کاموں کو وہ کسی نہ کسی جواز کی شکل میں دیکھتا ہے

مثال کے طور پر جنگ/جیو گروپ کے رپورٹر اعزاز سید نے اپنے حال ہی میں ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ اُن کا لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز کے بھائی مولوی رشید سے بہت تعلق خاطر تھا اور وہ مولوی عبدالرشید غازی کی تحریروں سے متاثر تھے، اُن کا انگریزی ترجمہ کرکے کتابی شکل میں شایع کرنا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے وہ بقول اعزاز سید کے شہید کردیے گئے- اعزاز سید نے اس انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز، مولوی رشید اور ان کے پیروکاروں کا انتہاپسندی، دہشت گردی وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا- اور لال مسجد آپریشن وکلاء تحریک سے توجہ ہٹانے کے لیے تھا

اعزاز سید کی یہ باتیں ہمیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اُن کے نزدیک مولوی عبدالعزیز اور مولوی عبدالرشید غازی کے کوئی تکفیری، جہادی، مذھبی بنیادوں پر انتہاپسندانہ، فرقہ پرستانہ خیالات تھے ہی نہیں

یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو اعزاز سید بول گئے لیکن یہ ضرور بتاگئے کہ اُن کا تعلق کس ٹولے سے ہے

اس سے پہلے ہمارے سامنے حامد میر کی مثال ہے، وہ سپاہ صحابہ کی فرقہ پرست قیادت کے ممدوح رہے، پھر وہ مولوی سمیع الحق کے عاشق صادق نکلے، اُس سے آگے وہ اُسامہ بن لادن اور پھر طالبان کی قیادت کے مداح نکلے- مولوی عبدالعزیز اور مولوی رشید غازی بھی اُن کے ممدوحین میں شامل ہیں

ہمارے لیے یہ اچھی بات ہے کہ یہ صحافی اپنے رجحانات اور جھکاؤ چھپائیں نہ بلکہ اُن کو وقفے وقفے سے سامنے لاتے رہیں تاکہ ہم کم از کم کمرشل لبرل مافیا کی اس یاوہ گوئی کا رد کرسکیں جو اُن جیسے صحافیوں کو آزادی صحافت کی علامت قرار دیتے ہیں- پاکستان میں حامد میر اور اعزاز سید جیسے صحافی رجعت پسندانہ صحافت کے اندر سے جنم لینے والی جہادی پلس فرقہ پرستانہ صحافت کے ترجمان ہیں- ان کا فرقہ پرستانہ تعصب انھیں خود فرقہ پرستانہ مذھبی انتہاپسندی کے باب میں بھی فرقہ وارانہ پس منظر دیکھ کر رد عمل دینے کی پابند اجازت دیتا ہے

حامد میر اور اعزاز سید کا طاہر القادری کے دھرنے پر موقف اور جبکہ فضل الرحمان کے دھرنے پر موقف اور تھا

سپاہ صحابہ، لال مسجد، طالبان اور مولوی سمیع الحق کے بارے میں موقف اور جبکہ مولوی خادم، اشرف جلالی اور تحریک لبیک پر موقف اور تھا