Featured Original Articles Urdu Articles

صحافت کا عالمی دن: آزادی صحافت کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا – عامر حسینی

آج صحافت کا عالمی دن ہے- اس دن کی مناسبت سے پوری دنیا میں کورونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے سبب بڑی تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد نہیں کیا گیا- لیکن اس دن کی مناسبت سے پیغامات ارسال کرنے ،فاصلاتی مکالموں کا انعقاد ضرور کیا گیا ہے

پاکستان کے تناظر میں صحافت کے عالمی دن کے موقعہ پر میرے نزدیک اس وقت سب سے بڑا مسئلہ صحافیوں کی معاشی زندگی کو تحفظ دینے اور ان کی نوکریوں کو تحفظ دینے کا ہے- پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اس وقت تاریخ کی بدترین ڈاؤن سائزنگ سے گزر رہی ہے- کئی میڈیا گروپ کے چینلز، اخبارات بند ہوچکے اور کئی میڈیا گروپوں سے ہزاروں صحافی کارکن اداروں سے جبری طور پر نکال دیے گئے- کئی صحافتی اداروں میں اس وقت کئی کئی ماہ سے صحافی کارکنوں کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں

وفاقی حکومت ایک طرف تو اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کے وعدے پر عمل درآمد نہیں کرسکی تو دوسری طرف میڈیا گروپوں کو اشتہارات کی تقسیم صحافی کارکنوں کی تنخواہوں سے مشروط کرنے کے وعدے پر بھی عمل نہیں کرسکی- ایسے ہی صوبائی حکومتیں بھی اپنے اشتہارات کی تقسیم کو کارکنوں کی تنخواہوں سے مشروط نہیں کرسکی

ابھی تک نیا ویج بورڑ ایوارڈ پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے

پاکستان میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ کارکنوں کو اپنی نوکری کے تحفظ کے حوالے سے جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے، وہ تمام میڈیا گروپوں میں تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ کی پالیسی کا نفاذ ہے- حکومت جہاں دیگر معاشی سیکٹرز میں مستقل نوکری کے قانون کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے،وہیں میڈیا انڈسٹری میں تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ پر پابندی لگانے کا مطالبہ یہ آج تک پورا نہیں کرسکی

پاکستان میں آج صحافت کا سب سے بڑا مسئلہ رپورٹنگ سیکشن میں معروضیت کا خطرناک حد تک معیار کا گرتے چلے جانا ہے- اب تو خبر،تجزیہ، رائے کے درمیان بعض اوقات فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے- اور اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کے میڈیا مالکان کا اپنے گروپوں کے ٹی وی چینلز اور اخبارات و جرائد کو سیاست اور ریاستی اداروں میں موجود لابیوں اور ایسے ہی حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان پاور کی رسا کشی میں کسی ایک فریق کا پروپیگنڈا سنٹر/بھونپو بن جانا ہے

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر کام کرنے والے صحافی، تجزیہ نگار، کالم نگار، اینکرز خود بھی خاموشی سے یا اعلانیہ کسی ایک سیاسی و سماجی طاقتور گروہ کے پروپیگنڈا سیل کا حصّہ بن جاتے ہیں اور اپنی صحافت کی معروضیت پر کمپرومائز کرجاتے ہیں

پاکستان میں صحافت اپنے سماج سے الگ نہیں ہے- یہ ہمارے سماج کے مادی حالات کا عکس ہے- ہمارے سماج کی طبقاتی،مذہبی،نسلیاتی، صنفیاتی تقسیم اس پر اثر ڈالتی ہے- ہمارے سماج کے اندر گزرے سالوں میں سب سے بڑا المیہ تو یہ رونما ہوا ہے یہاں پریشر گروپوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے- سرمایہ داروں کے کارٹیل صحافتی کارکنوں اور صحافتی اداروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی زبردست پلاننگ کرتے ہیں اور اس طرح سے معروضیت کو کمپرومائز کراتے ہیں

پاکستان میں صحافت ہماری ریاست کے اداروں کے اپنے درمیان چل رہی رسا کشی اور ایسے ہی منتخب ہئیت مقتدرہ اور غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے درمیان اختیارات کی لڑائی میں کولہو کا بیل بنتی ہے- اور اس لڑائی میں اختیار کی جانے والی پوزیشن آپ کے لیے مراعات یا عتاب کا فیصلہ کرتی ہے- اور اکثر غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ کے دو گروہوں کی لڑائی میں کئی ایک میڈیا گروپ فریق بنکر اپنی لڑائی کو جمہوریت کی بالادستی اور آزادی صحافت کی جنگ قرار دینے لگتے ہیں

پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں صحافتی ٹریڈ یونین سیاست اس وقت سب سے بڑے بحران کا شکار ہے- بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اس وقت پاکستان کے میڈیا گروپوں کے کام کرنے کی جگہ پر ٹریڈ یونین سیاست سب سے کمزور ہے- اکثر جگہوں پر مالکان کی منظور نظر پاکٹ سی بی اے موجود ہے جبکہ نئے میڈیا گروپوں میں کام کرنے والے ہزاروں کارکن صحافی کسی ٹریڈ یونین صحافتی تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں اور نہ ہی جہاں وہ کام کرتے ہیں رجسٹرڈ یونین موجود ہے

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس جو پہلے پہلے منھاج برنا اور دستور دو گروپوں میں تقسیم تھی، اب منھاج برنا گروپ کے بھی دو ٹکڑے ہوچکے ہیں- پی ایف یو جے ایک ایسی تنظیم تھی جو پاکستان بھر میں صحافتی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو پروان چڑھاسکتی تھی اور اب بھی یہی اسے آگے لیکر جائے گی- لیکن پی ایف یو جے کی ٹریڈ یونین سیاست کو سب سے بڑا خطرہ ان صحافیوں سے ہے جو مالکان کے منظور نظر ہیں اور ان کے اشارے پر مالکان کے مفادات کو عام صحافی کارکن کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں

پاکستان کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں قائم صحافیوں کی تنظیمیں جیسے ملتان یونین آف جرنلسٹس، کے یو جے، آر یو جے، آئی یو جے وغیرہ ہیں ان کا صحافتی ٹریڈ یونین کے احیا کے لیے سرگرم ہونا اشد ضروری ہے- کیونکہ پریس کلبز اور کئی ایک دوسری صحافتی تنظیمیں تنظیمیں کم اور پریشر گروپ زیادہ لگتے ہیں- پاکستان میں پریس کلبز میں ذاتی مفادات کے تحت اسقدر گہری دھڑے بندی ہے کہ یہ پریس کلبز صحافیوں کے ٹریڈ یونین رائٹس میں سرے سے کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں

پاکستان میں صحافت کا عالمی دن ایک ایسے موقعہ پر آیا ہے جب حسب معمول پاکستان کے صحافیوں کے لیے کئی شورش زدہ علاقے ایسے ہیں جو ‘نوگوایریا’ میں بدل چکے ہیں- مثال کے طور پر فاٹا، بلوچستان اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر ، گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں معروضی صحافت کرنا ناممکن سا عمل بن گیا ہے

آج جب ہم صحافت کا عالمی دن منارہے ہیں تو سویڈن سے ہمارے ساتھی ساجد بلوچ کی دو مارچ کو گمشدگی کے بعد 26 اپریل کو اوپسالا شہر کے قریب ایک دریا سے لاش ملی ہے- جبکہ فاٹا سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے کزن عارف وزیر کی لاش ملی اور اس خبر کو پی ٹی ایم کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے حکومت کی جانب سے سنسر کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا

غیر جانبدار صحافت کرنے والوں کے کافی مشکل ہوگیا ہے کہ وہ شورش زدہ علاقوں میں اور جہاں پر سیکورٹی ادارے آپریشن کررہے ہیں میں حکومت اور وہاں کے حزب اختلاف کی طرف سے ہونے والے دعوؤں کی تصدیق یا تردید پر مبنی معروضی رپورٹنگ کرسکے

ایسے ہی پاکستان میں بسنے والی اقوام کی حقوق کی تحریکوں بارے رپورٹنگ کرنا، جبری گمشدگی کے ساتھ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی فیکٹ فائنڈنگ اور قابل بھروسا خبر ڈھونڈ نکالنا اور پھر اسے شایع کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے

پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کسی بھی دور میں کبھی بالکل بند نہیں ہوئی- ہاں یہ ضرور کہا جاتا تھا کہ آمرانہ ادوار میں یہ کوششیں زیادہ جابرانہ طرز اختیار کرجاتی ہیں- لیکن پاکستان میں جنرل مشرف کی آمریت کے بعد جمہوریت کی بحالی کے بعد سے لیکر میڈیا کو کنٹرول کرنے کا کام تیز تر ہوگیا ہے- اب جہاں پیمرا اور پی ٹی اے جیسی اتھارٹیز ہیں تو وہیں اینٹی سائبر کرائمز ایکٹ، 25 ڈی ٹیلی گراف ایکٹ جیسے قوانین کا غلط استعمال بھی جاری ہے- انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی اداروں کے اندر ایسے افراد اور لابیز موجود ہیں جو معروضی خبر نگاری پر ہرگز خوش نہیں ہوتے

آزادی صحافت پاکستان میں کل بھی ایک ایسا خواب تھا جسے پوری طرح سے شرمندہ تعبیر ہونے میں ابھی کچھ دیر پڑی تھی اور آج بھی یہ ایسا ہی ایک خواب ہے جسے ابھی شرمندہ تعبیر ہونا ہے- یاد رکھیں جب تک صحافتی کام کی جگہ پر آزاد ٹریڈ یونین سرگرمیاں کرنے کی آزادی نہیں ہوگی، اس وقت تک آزادی صحافت ایک خواب رہے گا