Featured Original Articles Urdu Articles

بہترین ڈاکٹرز کا خط وائرل کیوں نہیں ہوسکتا؟ – عامر حسینی

چار روز قبل پاکستان کے ٹاپ کے ماہرین صحت نے مشترکہ طور پر وزیراعظم پاکستان اور مختلف مسالک کے جید علماء کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں انھوں نے حکومت اور علماء کے درمیان چند شرائط کے ساتھ رمضان میں تراویح، باجماعت نمازوں کی اور جمعہ کے اجتماعات کی اجازت دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی

ان ماہرین صحت نے واضح کیا کہ پاکستانی سماج کی جو سماجی بناؤٹ ہے اُس میں بدانتظامی، ڈسپلن کی پابندی نہ کرنا اور اصولوں و شرائط پر عمل درآمد نہ کرنا اور اُن کی پیروی سے بھاگنا عام ہے، تو جو معاہدہ علماء اور حکومت کے درمیان ہوا ہے اُن میں مذکور شرائط کی پابندی عملاً ناممکن ہے اور گنجان آبادی والے علاقوں میں اس پر عمل کرنا ویسے ہی ناممکن اور محال ہوجائے گا

ٹاپ کے ماہرین صحت نے کہا کہ سماجی دوری کا اصول ہی کورونا وبا سے نمٹنے کا اہم اور بنیادی طریقہ ہے جس کو موجودہ معاہدہ برباد کرکے رکھ دے گا

پاکستان میں نہ تو ٹوئٹر پر نہ ہی فیس بُک پر ٹاپ کے ماہرین صحت کے اس خط کے حوالے سے کوئی ھیش ٹیگ سامنے آسکا اور نہ ہی ٹی وی ٹاک شوز پر اس خط پر کوئی بحث ہوسکی

لیکن فیصل واڈا کی بکواس اور مذھبی اشتعال پھیلانے والا ویڈیو کلپ خوب وائرل ہوا

پاکستان پیپلزپارٹی نے مارچ کے تیسرے ہفتے میں جب صوبہ سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا تو ساتھ ہی سندھ بھر سے علماء و مشائخ کو بُلایا تھا جس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مساجد میں باجماعت نمازوں پر پابندی ہوگی اور لوگ گھرو‍ں میں عبادات کریں گے

لیکن اُس اتفاق کو بعد ازاں مذھبی اشتعال پھیلاکر اور لوگوں کے مذھبی جذبات کو مجروح کرکے ختم کروایا گیا، وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماء خاص طور پر کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء، گورنر سندھ نے سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کو ناکام بنانے کی کوشش شروع کردیا

سندھ حکومت نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل کے دو ہفتوں میں مکمل لاک ڈاؤن سے کامیاب نتائج حاصل کرکے دکھائے اور پوری دنیا اُس کی تعریف کرنے لگی تو وزیراعظم جزوی لاک ڈاؤن، کراچی و سندھ میں انڈسٹریز کو کھولنے، پھر کنسٹرکشن سلیکٹرز کو کھولنے کی باتیں کرنے لگے اور سندھ میں مذھبی اجتماعات اور مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی نہ کرنے پر ہونے والے اتفاق کو سبوتاژ کرتے ہوئے پہلے کراچی کے دو بڑے مسالک کے کچھ علماء کو انتہائی غیر زمہ دار بیانات دینے پر راغب کیا گیا پھر صدر مملکت کے پاس علماء کا ایک اجتماع کرکے ایک غیر عملی معاہدہ کرلیا گیا مقصد سندھ کے مکمل لاک ڈاؤن کے موقف کو سبوتاژ کرنا تھا

اب یہی وزیراعظم کہہ رہا ہے کہ مساجد میں اجتماعات سے کورونا وائرس پھیلا تو پابندی لگادی جائے گی

مطلب اچھے سے معلوم ہے کہ یہ معاہدہ کتنا خطرناک ہے لیکن پیپلزپارٹی سے دُشمنی کی تسکین اور اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے انسانی جانوں کو داؤ پر لگادیا ہے

یاد رہے کہ حکومت سندھ نے 10 مارچ 2020 کو ہی وفاقی حکومت کو کہا تھا کہ مُلک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا جائے- برای دن انتظار کے بعد سندھ حکومت نے سندھ میں تمام سیاسی، مذھبی، تجارتی و سماجی نمائندوں سے اجلاس میں یقین دہانی لیکر 23 مارچ کو مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا- جبکہ وفاق اور تین صوبوں میں پی ٹی آئی اور اُس کے اتحادیوں نے وبا کے پھیل جانے پر بھی جزوی لاک ڈاؤن کیا، اس دوران تبلیغی جماعت کا بین الاقوامی اجتماع رائے ونڈ میں ہونے دیا، ایران سے زائرین اور سعودی عرب سے واپس آنے والوں اور دیگر ممالک سے واپس آنے والوں کو قرنطین نہ کرنے اور اُن کے کورونا ٹیسٹ نہ ہونے کے سبب مقامی طور پر وائرس منتقلی کے عمل کو بڑھایا

اپنی نااہلی اور مجرمانہ غفلت سے سبق سیکھنے کی بجائے یہ بروقت اقدام اٹھانے والی سندھ حکومت کی کامیابی کو تباہ کرکے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ دیکھو! اگر وفاق، تین صوبوں اور گلت بلتستان میں کورونا تباہی مچارہا ہے تو کم تباہی مکمل لاک ڈاؤن کرنے والے سندھ میں بھی نہیں ہوئی

یہ مجرمانہ زھنیت ہے اور بتاتی ہے کہ عوام کا سامنا کس قدر گھٹیا زہنیت اور کم حوصلہ رکھنے والے حُکم رانوں سے ہے