Featured Original Articles Urdu Articles

کیا وفاق کو سندھ سے لاشیں درکار ہیں؟ – جمیل خان

جس روز اس ملک کے اقتدار پر جنرل ضیاء الحق نے قبضہ کیا تھا، وہ دن ہے اور آج کا دن، میں نے اس طویل عرصے کے دوران سندھ میں کبھی سکون کا وقت نہیں دیکھا۔ سندھ میں دیگر علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ تو اس سے پہلے سے جاری تھا، لیکن ضیاءالحق کے اقتدار اور اس کے بعد سندھ اور خصوصاً سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ساتھ ایک مقبوضہ ریاست کی مانند سلوک کیا جاتا رہا ہے۔

ضیاء الحق کے منحوس دور میں سندھ کے پسماندہ علاقوں میں ڈاکوؤں کو پروان چڑھایا گیا، انہیں اسلحہ فراہم کیا جاتا رہا۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عام تھیں۔ ڈاکوؤں کی ٹولیاں لوٹ مار کرکے اُنہی راستوں سے گزر کر جنگل میں غائب ہوجاتیں، جن راستوں پر گزرنے والے ایک عام فرد سے وردی والے ہزار سوال کرکے اُسے زچ کردیا کرتے تھے۔

سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں لسانی فسادات اور پھر ایک دہشت گرد تنظیم کی سرپرستی کی گئی، جس نے ان شہروں کی تعلیمی، تہذیبی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی اقدار کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔

آج دنیا کرونا وائرس کی تباہی سے دوچار ہے، تو ضیاءالحق کی غلیظ باقیات کے اقدامات اور رویّوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ سندھ کو بڑی تباہی کے گڑھے میں دھکیلنے کی پوری تیاری کیے بیٹھے ہیں، اور اپنے اس ناپاک ارادوں کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو بُری طرح روندنا چاہتے ہیں۔

میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں، جس نے سندھ میں بالعموم اور سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بالخصوص تیس برس خانہ جنگی کی سی صورتحال کا مشاہدہ کیا ہے۔ شہر میں روزانہ دس سے بارہ افراد کو نشانہ بناکر قتل کرنا معمول کی سی بات ہوگئی تھی، یہ بھی دیکھا کہ سڑکوں اور بس اسٹاپس پر کھڑے معصوم افراد پر بلااشتعال فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کیا جاتا تھا، تاکہ ہڑتال یا احتجاجی لاک ڈاؤن کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے۔

آج بھی سندھ میں دانشوروں، ڈاکٹروں، شاعروں، انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد اور سیاسی کارکنان کا اغوا ہونا اور ان میں سے بعض کی مسخ شدہ لاشوں کا برآمد ہونا ایک عام سی بات ہے۔

یہاں تک کہ کرونا کی وباء میں جب لوگ اس وباء کا شکار ہوکر مررہے ہیں تب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

سندھ میں ملک کی بندرگاہیں ہی نہیں ہیں، سندھ کے انڈسٹریل زون جان بوجھ کر تباہ کیے جانے کے بعد بھی آج ملکی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، یہی نہیں بلکہ سندھ کا ملکی معدنی دولت میں بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ پورے ملک کو فراہم کی جانے والی گیس میں سندھ کا 71 فیصد حصہ ہوتا ہے۔

اس وقت کرونا کی وباء سے بچانے کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات کی وفاق کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے، اور سخت لاک ڈاؤن جس میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا ازحد ضروری ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ان کی دھجیاں اُڑادی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اعلیٰ افسران کی تعیناتی وفاق کی مرضی سے ہوتی ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف نیشنل ہائی ویز اور سپرہائی وے سے وصول ہونے والے اربوں روپے کے محصول میں کمی وفاق کو بہت کھل رہی ہوگی۔ یاد رہے کہ سپرہائی وے کو محض کارپیٹنگ کرکے موٹروے کا نام دے دیا گیاہےاور محصول موٹر وے کا وصول کیا جارہا ہے، جس میں جگہ جگہ سڑک دھنس رہی ہے۔

سندھ کے دو اضلاع ملیر، کراچی اور گھوٹکی کو ہی لے لیجیے، آخر ان اضلاع پر وفاق کو اپنی گرفت مضبوط بنائے رکھنا کیوں ضروری ہے؟

اور یہاں سندھ کے جعلی ڈومیسائل کے حامل افراد کو کیوں پوسٹ کیا جاتا ہے؟ کیوں سوال نہیں کیا جاتا کہ ان دونوں اضلاع کی انتظامیہ میں تعیناتی کے حوالے سے سندھ کی صوبائی حکومت کو بائی پاس کیوں کیا جاتا ہے؟

ضلع ملیر میں گڈاپ تھانے کا ایس ایچ او جی ایچ کیو کی منظوری سے کیوں تعینات ہوتا ہے؟

سندھ سے وفاق کو حاصل ہونے والے ریونیو میں ضلع گھوٹکی کا حصہ الگ کیا جائے تو شاید پورے کے پی کے کے ریونیو سے کہیں زیادہ ہو۔

میرے منہ میں خاک لیکن مجھے یہ خدشہ بُری طرح ستائے جارہا ہے کہ ضیاءالحق کی باقیات کے دل بھی اُسی ڈکٹیٹر کی مانند پتھر ہیں۔ جس ضیاءالحق نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے اوجڑی کیمپ جلوادیا اور سینکڑوں ہلاکتوں کی کوئی پروا نہیں کی، جس ضیاءالحق نے ہتھوڑا گروپ کے ذریعے سینکڑوں بےگناہوں کو وحشتناک طریقے سے قتل کروایا، جس ضیاءالحق نے سندھ میں سیاسی جدوجہد کرنے والے ہزاروں کارکنوں کو قتل کیا، جس نے کراچی میں ایک دہشت گرد تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس کی سرپرستی کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا، آج اسی ضیاءالحق کی باقیات سندھ میں کرونا کی وباء میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کی منتظر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت کے اقدامات سے اسے سخت تکلیف پہنچ رہی ہے۔

سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت سے مجھے بھی شکایات رہی ہیں، لیکن اس موقع پر مجھے سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ کا کردار قابل تحسین معلوم ہورہا ہے، میں ہی نہیں کراچی کے بہت سے افراد جن میں اردو شعراء، ادیب، صحافی، ڈاکٹرز، دانشور اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مراد علی شاہ کی کھلے دل سے حمایت کررہے ہیں۔

ابھی تو ہمیں اس وباء سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بچانا ہے، کرونا کی وباء سے ہم سلامت نکل آئیں، خدارایہ اختلافات اس وقت کے لیے اُٹھا کر رکھ دیجیے۔

ضیاءالحق کی باقیات نے تو سدھرنا نہیں ہے، وہ گمراہ کن افواہیں پھیلاتے رہیں گے، مجھے تو حیرت ہورہی ہے کہ یہ کیسے سنگدل ہیں کہ سندھ میں لسانی نفرتوں کو اِس صورتحال میں بھی ہوا دے رہے ہیں۔مذہبی ٹھیکے داروں کو سندھ حکومت کے خلاف کھڑا کررہے ہیں اور اُن کی احمقانہ سوچ پر اُنہیں تھپکیاں دے رہے ہیں۔

ادی نورالہدیٰ شاہ  نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ’’مُراد علی شاہ آپ بے شک انسانوں کی سلامتی کی بات کریں، مگر عمران خان اینڈ کمپنی کو لاشیں چاہیئیں، بیچنے کے لیے، وہ بھی سندھ سے، بالخصوص کراچی سے۔تاکہ وہ کراچی والوں کا خون آپ کے گلے میں ڈال کر ایک تیر سے دو شکار کریں۔کراچی کے شہریوں کا سیاسی استعمال اور کشکول کا کاروبار۔ مگر سندھ والے ایسا ہونے نہیں دیں گے

لہٰذا میری گزارش ہے کہ ضیاء کی باقیات نے تو سدھرنا نہیں ہے، لیکن آپ میری بات پر توجہ دیجیے، آپ چاہے اردو زبان بولتے ہوں، یا سندھی، آپ نے سندھ کی مٹی سے جنم لیا ہے۔ سندھ کی دھرتی کا آپ پر قرض ہے، اس قرض کو اُتارنے کا وقت آگیا ہے، خدارا خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، اپنی جان بچائیں، اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں۔