Original Articles Urdu Articles

بھٹوز اور مذھب بارے فوبیا – عامرحسینی

 

 

مسئلہ عوام کی جہالت یا بھٹو کے طلسم کا نہیں بلکہ شہری درمیانے طبقے کے دانشور حضرات کی اپنے عوام سے دوری اور اجنبیت کا ہے(ڈاکٹر فیروز احمد)

ہمارے ملک کی سند یافتہ ترقی پسند،انقلابی ،مارکسی ،لیننی اور پرولتاری پارٹیاں پچیس سال یا اس سے زیادہ عرصے میں نہ کرسکیں ،اسے بھٹو نے دو سے تین سال کے اندر کردکھایا تھا-کوئی مشینی مادیت پرست اگر یہ کہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا اگر بھٹو نہیں کرتا تو کوئی اور کرتا تو مجھے اس کی سادگي اور بے بسی پر رحم آئے گا

بعض ترقی پسندوں کا خیال ہے کہ داتا گنج بخش اور قلندر شہباز کی درگاہوں پر سونے کی انیٹیں لگاکر پیر پرستی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے-اگر اس کو فیوڈل سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ زندہ پیروں اور مولویوں کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے مردہ پیروں کا ٹیکٹیکل (تدبیری)استعمال ہے(ڈاکٹر فیروز احمد)

بھٹو فوبیا درحقیقت امیر اور درمیانے طبقے کا ‘عوام فوبیا’ ہے اور بھٹو مانیا درحقیقت فاشسٹ اور بونا پارٹسٹ قوتوں کے خلاف عوام کی مزاحمت کا اظہار ہے(ڈاکٹر فیروز احمد)

پاکستان میں لڑی جانے والی جنگ اس وقت بھٹو اور اس کے مخالفین کے مابین سیاسی رسہ کشی نہیں رہی-یہ ایک بہت اونچی سطح پر ظالموں اور مظلوموں کے درمیان جنگ ہے جس میں عوام دشمن قوتیں ‘بھٹوازم’کو ختم کرنے کی آڑ میں عوام کو ان کی خود اعتمادی ،سیاست میں سرگرم شرکت اور ملک کا حقیق وارث بننے کی آس سے اور مزدوروں کو حاصل شدہ قانونی حقوق سے محروم کردینا چاہتی ہیں تاکہ اس ظلم و استبداد کے نظام میں پڑے ہوئے شگاف کو جلدی سے بھر دیا جائے۔۔۔۔۔۔مظلوم عوام نے بھٹو کو اپنی مزاحمت کی علامت بنادیا ہے(ڈاکٹر فیروز احمد)

Bhuttos and PPP never remained anti-religion. Their politics was neither Islam-o-phobic nor religion phobic .

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہر حال میں کمرشل لبرل مافیا اور اس کے اندر موجود بے ہودہ/ولگر لبرل ملحدین کی خوشنودی کے لیے اپنی پارٹی کے بانی چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو،بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی سیاست اور ان کی سماجی سرگرمیوں میں عوامی صوفیانہ کلچر اور رسوم سے شغف کی واضح تجسیم کے باوجود پاکستان میں مذہب بمقابلہ الحاد کی جنگ کے بے ہودہ الحاد پرست لبرل میافیا کے رجحان کو آگے بڑھانے کی شعوری و لاشعوری کوشش کرتے رہتے ہیں-

حال ہی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا سیل سے وابستہ اور بلاول بھٹو زرداری کا سایہ بنے رہنے والی ایک ہستی نے اپنی فیس بک پوسٹ کرونا وائرس کے حوالے سے لگائی اور یہ ساری پوسٹ کرونا وائرس وبا بارے سارا نزلہ عوام کی مذہبی عقیدتوں اور عوامی صوفی کلچر پر حملے پر مبنی ہے-

اس پوسٹ کو پڑھ کر آپ کا یہ تاثر بنے گا کہ اس ملک میں عوام کی اکثریت سرے سے میڈیکل سائنس، علاج معالجے، سائنسی حفاظتی تدابیر پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ وہ مذہب پر یقین رکھنے والی ہے- اور پوسٹ میں آپ کو باقاعدہ طور پر یہ کہا جارہا ہے:

“دنیا کا کوئی بھی مذہب نظام حیات نہیں ہوسکتا، مذہب کا سیاست، سماج یا مختلف شعبہ جات سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں، مذہب ایک ذاتی زندگی کا معاملہ ہوتا ہے، اگر یہ وہیں تک محدود رکھا جاتا تو آج دنیا بھر کے مذہبی لوگوں کو یوں منہ نہ چھپانا پڑتا۔”

“خدا کے نام لیواؤں کے لئے کرونا وائرس شاید اسی کی جانب سے ایک موقع ہے، یہ آپ کو بتارہا ہے کہ خدا کا نام لے کر جو زمین پر انسانوں پر راج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ سب دو نمبر ہیں۔”

پاکستان پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا اور میڈیا سیل کی مرکزی باڈی میں بیٹھا ایک شخص اپنے مذہب بارے فوبیا اور اس حوالے سے نفسیاتی عارضے کو ایسے ظاہر کرے گا تو اسے جواب میں شٹ اپ کال دینا ہی پڑے گی-

ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں خیالی اور یوٹوپیائی بے عمل بایاں بازو جن میں سے اکثر اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے خیال پرست لبرل تھے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ اپنے بازو پر امام ضامن کیوں بندھواتے ہیں؟ وہ سوشلزم کے لیے ‘مساوات محمدی’ کی اصطلاح کیوں استعمال کرتے ہیں؟ ان کا اس زمانے کا میڈیا سیل الیکشن کمپئن کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کی تلوار اور سیف ذوالفقار کے درمیان استعاراتی اشتراک کیوں تلاش کرتا ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر سونے کا دروازہ کیوں نصب کراتا ہے؟ اس نے سندھ، پنجاب کے عوامی صوفی روایات سے وابستہ مزارات پر حاضریوں کا سیاسی کلچر کیوں پیدا کیا؟

وہ مزارات پر جاکر دعائیں مانگتا کیوں نظر آتا ہے؟ اس نے سرکاری حکام کو عام صوفیانہ میلے ٹھیلوں،عرس اور دیگر صوفیانہ تقریبات میں شرکت کا کلچر کیوں پیدا کیا-

Bhutto’s strategy was to eliminate the middlemen who were the backbone of Ayub’s economic and political organization. He nationalized many industries and appealed directly to the ordinary citizen. As the head of the People’s party and successor to Ayub’s fallen regime, he was acutely aware of the power of mass protest.

He tried to be a charismatic leader, whom everyone would look up to as the supreme benefactor (Sayeed 1980:94), and he used the shrines to carry out this policy. Instead of using the shrine festivals to teach villagers modern agricultural techniques, for instance, he emphasized governmental participation in the rituals themselves.

زرا آخری سطروں کو پڑھیں جو شہری تعلیم یافتہ سیکولر جدیدیت پرست ذہن کے بانجھ پن کی بھرپور عکاسی کرتی ہے جو عوامی مذہبی روایات اور کلچر سے بھٹو اور پیپلزپارٹی کی وابستگی کو ہمیشہ سے طنز اور حقارت کی نظر سے دیکھتی آئی ہے- کیا بھٹوز اور پیپلزپارٹی مذہب کو ہماری سیاست،سماج اور مختلف شعبہ حیات سے نکالنا چاہتے تھے؟ نہیں-

The governments of Ayub Khan and Bhutto, though different in fundamental ways, both wanted to avoid direct participation of the ‘Ullama in politics; yet they also wanted to identify their governments with Islam

Bhutto chose to identify themselves with the doctrines of Sufism in order to create for themselves a link with religious authority. The Sufi was the symbol these secularists chose to represent their position and to legitimate their position as leaders of a Muslim democracy. They strove to enhance the shrines and the Sufi origins of these shrines for the glorification of Islam and Pakistan. At the same time they sought to strip the hereditary pirs of their traditional functions

مذہب میں ‘سیاسی مذہبی پیشوائیت’ اور ‘ملائیت’ کو رد کرتے ہوئے عوامی مذہب جس کا دوسرا نام صوفی ازم تھا کو بھٹوز نے چنا اور انہوں نے اپنی حکومت کو اسلام سے گریزاں ثابت نہیں کیا-

آخری انگریزی پیراگراف بتاتا ہے کہ بھٹو نے اسلام اور پاکستان کی شان وشوکت بڑھانے کے لیے ان مزارات کی صوفیانہ اصل کو مستحکم کرنے کے لیے کام کیا- ساتھ ہی انہوں نے موروثی پیروں سے ان کے روایتی کام چھین لینے کی کوشش بھی کی- یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی اور بھٹوز بڑے بڑے پیر جاگیرداروں کو شکست فاش سے دوچار کیا- شہروں میں اس نے سیاسی مولویوں کو زبردست چیلنج دیا-

بھٹوز اور پاکستان پیپلزپارٹی نے اتاترک کی طرح یہ نہیں کیا تھا کہ مذہب کو سماجی اور سیاسی سطح پر بالکل ہی ختم کردیا جائے- اس کا کمال یہ تھا کہ اس نے جاگیردار پیروں، شہری سیاسی ملّاؤں کی مذہبی ٹھیکے داری کو چیلنچ کرتے ہوئے عوامی مذہبی روایت کو سینے سے لگالیا تھا اور اسے سیکولر ڈیموکریسی کے ساتھ پرولیا تھا- اسی لیے بھٹوز اور پیپلزپارٹی کو جاگیردار پیروں اور شہری سیاسی ملّاؤں کی زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا- مذہب جب آپ کی زاتی دنیا میں ہوتا ہے تو لامحالہ اس کا اظہار انسان کی سیاست اور سماجی زندگی میں بھی ہوتا ہے- اور یہ عوامی مذہب میڈیکل سائنس کی سہولتوں اور حفظان صحت کے اصولوں کو ایک طرف رکھ دینے کی تلقین کرنے والا ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ تو اس کے ساتھ مطابقت میں آتا تھا-

پاکستان پیپلزپارٹی کے کسی چئیرمین اور کسی چئیرپرسن نے مذہب کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ کبھی نہیں کہا:

” تمہاری محتاطی کی ایسی کم تیسی”

بے نظیر بھٹو دعائیں اور منتیں مانگنے مزارات پر جایا کرتیں اور ہاتھ میں تسبیح رکھتیں تو یہ جنرل ضیاء الحق کی باقیات تھی جو یہ پروپیگنڈا کرتی تھی کہ ‘محترمہ تو تسبیح کے دانوں پر ‘یا کرسی،یا کرسی’ کا ورد کرتی ہیں’

وہ اجمیر شریف گئیں، شاہ لطیف بھٹائی کے مزار پر حاضر ہوئیں، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی کے مزاروں اور عرس کی تقریبات میں شریک ہوا کرتیں، نذر و نیاز دلایا کرتیں اور سر پر خواجہ اجمیر کی چادروں کا سایہ کرتیں- وہ کراچی ائرپورٹ پر اتریں اکتوبر 2008ء کو جہاز کی سیڑھیوں سے اترتے وقت ان پر قرآن کا سایہ تھا اور بازو پر امام ضامن بندھا ہوا تھا اور ائرپورٹ پر اترتے ہی ان کی آنکھیں بھیگ گئیں اور ہاتھ انہوں نے دعا کے لیے اٹھا دیے- پیپلزپارٹی کے جلسوں میں نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور پھر نعرہ حیدری لگتا تھا اور لگتا ہے- یہ سیاست میں عوامی مذہب کو شامل کرنا تھا-

کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر بارے ملاں اور موروثی پیر(سب نہیں) کی جانب سے ميڈیکل سائنس اور عقل کو ایک طرف ڈال دینے کا مطلب یہ نہيں ہے عوامی مذہب پر عمل پیرا اکثریت ان سے اتفاق کرتی ہے بلکہ وہ تو اس کے الٹ عمل کررہی ہے-

جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تب ملتان میں 1230 شیعہ مسلمان زائر آئے اور ان سب نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے پیش کیا اور وہ سب اس وائرس سے محفوظ پائے گے اور سعودی عرب سے عمرہ کرکے واپس آنے والوں کو بھی اسی ٹیسٹ سے گزارا گیا- ان میں سے کسی نے اپنے مذہب کو کرونا وآئرس سے بچنے کے لیے بتائی جانے والی تدبیر اور اقدامات کا مخالف قرار دیا؟ نہیں نا”

بھٹوز اور پاکستان پیپلزپارٹی کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں مذہب اور صوفی ازم کو ری ڈیفائن کیا اور اس میں سے عوامی مذہب و عوامی تصوف کو ملاں،پیر،جاگیردار کے چنگل سے آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے سیکولر سوشل ڈیموکریسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی- انھوں نے اپنی روشن خیالی اور ترقی پسندی کو مذہب بارے فوبیا کے ساتھ نہیں ملایا تھا اور پاکستانی عوام کی اکثریت کے جذبات کا احترام کیا- یہ احترام پیپلزپارٹی اور بھٹوز کی نفرت اور بغض میں اندھے ہوجانے والے کمرشل لبرل مافیا اور ضیاء الحق کے دور میں اور بعد میں سامنے آنے والی تعلیم یافتہ شہری چیٹرنگ مڈل کلاس کی سمجھ میں نہ آئے تو سمجھ آتی ہے لیکن پیپلزپارٹی اور بھٹوز کا کوئی جیالا ایسا کہنے لگ جائے تو بہت افسوس ہوتا ہے-

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ایسے جیالے کے ذہن پر کمرشل لبرل بے ہودہ الحادیت کا غلبہ بھٹوازم کی دین نہیں ہے بلکہ یہ اس صحبت کی دین ہے جو اس کی بدقسمتی کے سبب پاکستانی کمرشل لبرل ملحدین کے ساتھ ہوئی-

میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان جیالوں کو خاص طور پر نوجوان دانشور جیالوں کو کہوں گا کہ وہ ڈاکٹر فیروز احمد کا ‘بھٹو فیلیا’ مضمون پڑھ ڈالیں جو 1978ء پاکستان فورم رسالے میں شایع ہوا تھا-

بھٹوز کا عوامی مذہب اور عوامی صوفی کلچر میں رنگے جانا اور’مزارات کی سیاست’ کرنا کوئی ڈرامہ یا دکھاوا نہیں تھا- وہ کبھی سرمایہ دارانہ لبرل ازم کے راستے پر چل کر مذہب سے جنگ کرنے والے سیاست دان اور سیاسی مہان کے طور پر سامنے نہیں آئے نہ ہی انہوں نے مذہب کو بالکل ہی چھوڑ دیا- بلکہ اس کی عوامی مزاحمتی تعبیرات کو گلے لگایا تھا-