Featured Original Articles Urdu Articles

سیلانی ٹرسٹ پر لیاری میں ہندؤ مزدوروں کو راشن نہ دینے کا الزام – رپورٹ : عامر حسینی

لیاری میں ہندؤ برادری سے تعلق رکھنے والے مزدوروں نے الزام لگایا ہے کہ سیلانی ٹرسٹ کراچی نے ان کے ہندؤ ہونے کے سبب ان کو سندھ حکومت کی طرف سے بھیجا جانے والا راشن دینے سے انکار کردیا

سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کے دوران ڈیلی ویج مزدوروں اور غریبوں میں مقامی این جی او اور لیاری ایڈمنسٹریشن کے زریعے راشن تقسیم کرنے کا حکم جاری کیا تھا. کراچی کی معروف سندھی رپورٹرويگناس سے لیاری میں ایک ہندؤ مزدور عورت نے بات کرتے ہوئے کہا،’انھوں ہمیں قطار میں کھڑے ہونے سے منع کیا-ہم نے قطار چھوڑ دی اور سوچا کہ ہمیں الگ سے دیں گے۔ ہم ان کے پاس گئے، معلوم کیا کہ ہمیں راشن کیوں نہیں دیا جارہا، انہوں نے ہماری طرف غور سے دیکھا اور کہا کہ راشن صرف مسلمانوں کے لیے ہے ناکہ ہندؤں کے لیے

لیاری ٹاؤن میں راشن سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ کراچی سندھ کی طرف سے تقسیم کیا جارہا تھا. ویراگ مہشیوری لیاری میں سماجی رضا کار ہے نے بتایا کہ ہندؤ برادری کی مہیشوری جات کے لوگ کراچی میں محنت مزدوری کے آتے ہیں اور ان میں دیہاڑی دار مزدور اور خاکروب ہیں- لاک ڈاؤن کے سبب وہ نہ تو کام پر جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان واپس گھر جاسکتے ہیں

جب سندھ حکومت نے اعلان کیا کہ مزدوروں کے درمیان راشن تقسیم کیا جائے گا تو لوگوں نے تنظیم کو فون کی کوشش کی جسے راشن تقسیم کرنے کا کام دیا گیا تھا- تنظیم نے ان کی کالوں کا کوئی جواب نہ دیا جب ان کو مہشیوری جاتی کے ہندؤ مزدوروں نے اپنے شناختی کوائف بتائے- اس کے بعد لوگ ٹرسٹ کے آفس پہنچے جہاں راشن تقسیم کیا جانا تھا

ویراگ مہشیوری نے بتایا کہ ان کو اپنے شناختی کارڈ دکھانے کو کہا گیا جس پر ان کے گاؤں کا پتا درج تھا تو شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ راشن صرف کراچی کے مسلمان شہریوں کے لیے ہے۔ سندھ ریلیف کمیٹی کے سربراہ امتیاز شیخ نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے- اور کہا کہ راشن سب مزدوروں اور غریبوں کا حق ہے جو کراچی میں موجود ہے اور اس میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی