Featured Original Articles Urdu Articles

قائد طلباء شہید نجیب احمد کو سرخ سلام – عامر حسینی

آج 11 اپریل ہے اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی ڈویژن کے صدر نجیب احمد کی 30ویں برسی ہے
نجیب شہید کی کراچی میں آخری پریس کانفرنس ، جس میں انہوں نے اپنی قتل کی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے اے پی ایم ایس او کے مرکزی صدر خالد بن ولید کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا
آج کے دن نجیب سر آغا خان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے تھے- ان کے قافلے پر نارتھ ناظم آباد آباد میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما خالد بن ولید کی قیادت میں مسلح دہشت گردوں نے مبینہ حملے کیا اور گولیاں لگنے سے ڈاکٹر نجیب شدید زخمی ہوئے- اس روز معروف فوٹو گرافر جرنلسٹ زاہد حسین کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 16 افراد شہید ہوئے-
اے پی ایم ایس او کا مرکزی صدر اور قاتل ٹولے کا سربراہ ، 10 اپریل 1990ء تھانے میں گرفتاری کے بعد فتح کا نشان بناتے ہوئے صاف دکھائی دیتا ہے کہ نجیب سمیت معصوم شہریوں کی ہلاکت میں یہ ملوث تھا
یہ وہ دہائی تھی جب کراچی ڈویژن کے تعلیمی اداروں میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی دہشت گردی اور ہاسٹلز پر قبضوں کی مہم میں شدت آگئی تھی- کراچی کے تعلیمی اداروں میں اس لسانی دہشت گرد تنظیم نے کسی اور تنظیم کے لیے کام کرنا مشکل بنادیا تھا- کراچی ڈویژن کے تعلیمی اداروں میں مہاجر لسانی تنظیم اے پی ایم ایس او نے اپنی پیش رو تنظیم اسلامی جمعیت طلبا پاکستان- آئی جے ٹی کی روایت کواپناتے ہوئے دوسری طلبا تنظیموں کے لیے کام کو مشکل بنادیا تھا- جو طالب علم اے پی ایم ایس او کے مقابل کام کرتے ان کو مار پیٹ، دھونس اور دھاندلی سے خاموش کرایا جاتا اور پھر بھی باز نہ آتا تو اے پی ایم ایس کے قاتل اسکواڈ ان طالب علموں کا کام تمام کردیتے
اے پی ایم ایس او نے عدم برداشت اور فسطائیت کی جو پالیسی تعلیمی اداروں میں اپنائی، وہی پالیسی اس نے بعد ازاں کراچی ڈویژن کے مہاجر اکثریتی آبادی کے علاقوں میں اپناتے ہوئے ایم کیو ایم کے علاوہ کسی اور سیاسی جماعت کے کارکنوں کے لیے سیاست کرنا بہت مشکل بناڈالا- اے پی ایم ایس او سے لیکر ایم کیو ایم تک مہاجر قیادت سندھ کے شہری علاقوں خاص طور پر حیدرآباد اور کراچی میں صرف اپنی اکثریت کے بل بوتے پر انتخابی فتح پر قانع نہیں تھی بلکہ وہ تو مخالفوں کو مکمل طور پر غائب کرنا اور ان پر مکمل فتح چاہتی تھی اور اس کے لیے بدترین تشدد اور قتل و غارت گری کا سہارا لینا اشد ضروری تھا
 
مہاجر لسانی سیاست کے ابھار نے بدقسمتی سے سندھ کے شہری علاقوں میں موجود نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حاضر اردو بولنے والے طلباء کارکنوں، سابق طالب علم رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو یا تو لسانی تعصب کے زیر اثر یا اپنی کمیونٹی کے دباؤ پر یا موقعہ پرستی کے سبب یا خوفزدہ ہوکر اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا- بائیں بازو کے بڑے بڑے اردو اسپیکنگ رہنماء جیسے معراج محمد خان اور ڈاکٹر رشید حسن تھے ان کی تربیت بھی این ایس ایف یا بائیں بازو کے حاضر یا سابق طالب عل رہنماؤں اور کارکنوں کے ایک بڑے حصّے کو مہاجر لسانی سیاست کے آگے سربسجود ہونے سے نہ روک سکی
 
اس موقعہ پر یہ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کا طلباء ونگ پی ایس ایف تھا جس نے اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کی لسانی فسطائی آندھی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا
 
کراچی کے تعلیمی اداروں میں نجیب احمد 1986ء سے ضیاء آمریت کے دور سے پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سرگرم تھے- وہ اور ان کے ساتھی اے پی ایم ایس او کی فسطائی سیاست کے خلاف کراچی ڈویژن کے تعلیمی اداروں میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور انھوں نے اے پی ایم ایس او کے تشدد اور غنڈا گردی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا- اس دوران وہ کئی بار گرفتار ہوکر جیل گئے اور ان پر جھوٹے مقدمات کا اندراج بھی کیا گیا- لیکن نجیب جمہوریت پسند سیاست کی راہ میں آنے والی کسی روکاوٹ کو خاطر میں نہیں لایا- اور اپنی بہادری اور قائدانہ صلاحیتوں کے سبب اس نے نوے کی دہائی میں کراچی کے تعلیمی اداروں میں پی ایس ایف کا پرچم بلند رکھا اور اس دوران اس نے پی ایس ایف کو مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے طالب علموں کی مقبول طلبا تنظیم بناڈالا-سیدہ شہلا رضا نے بھی ان کے ساتھ ہی پی ایس ایف کو کراچی کے تعلیمی اداروں میں منظم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا شروع کیا تھا
 
پاکستان پیپلزپارٹی 1988ء میں جیسے ہی بہت مشکل سے وفاق میں اپنی حکومت بنانے کے قابل ہوئی تو اسٹبلشمنٹ نے جہاں پنجاب کے اندر اپنے بغل بچے نواز شریف کو چیف منسٹر بناکر پنجاب کی پوری مشینری پی پی پی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور فعال کارکنوں کے خلاف انتقامی کاروائی کرنے کے لیے لگادی، وہیں پر سندھ میں ان کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ایم کیو ایم تھی، جو پیپلزپارٹی کی طرف سے مشروط اور لولا لنگڑا اقتدار کی اسٹبلشمنٹ کی جانب سے پیشکش کے بعد ہی حکومت کا حصّہ بننے پر رضامند ہوئی تھی
ایم کیو ایم نے بطور جماعت تو الیکشن مین حصّہ نہیں لیا تھا لیکن کراچی سے اس کے 13 ممبران آزاد منتخب ہوئے تھے- ایم کیو ایم چاہتی تھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے شہری علاقوں سے سیاست سے عملی طور پر دست بردار ہوجائے اور ایم کیو ایم کو اردو بولنے والی سندھ کی آبادی کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کرلے اور ایم کیو ایم کسی بھی قیمت پر یہ ہدف حاصل کرنا چاہتی تھی- اسٹبلشمنٹ اس زمانے میں سندھ کے دیہی علاقوں میں ایک طرف تو سندھی قوم پرستوں پر سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے تھی تو دوسری طرف اس کے پاس پیر پگاڑا سمیت کئی سنٹر رائٹ کے سیاسی گھوڑے موجود تھے- جبکہ سندھ کے شہری علاقوں میں اس نے سیاسی اعتبار سے مہاجر لسانی سیاست کی علمبردار ایم کیو ایم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا- ضیاء الحق کے دور سے پی پی پی اور ترقی پسند قوتوں کو شہری سندھ میں لسانی اور مذہبی دہشت گرد تنظیموں کے تشدد اور دہشت گردی کا سامنا تھا- اور اندرون دیہی سندھ میں اسے سندھی قوم پرستانہ پرتشدد سیاست کا سامنا تھا- تعلیمی اداروں میں بھی یہی چیلنج اسے درپیش تھا
 
ایم کیو ایم نے دسمبر 1988ء سے اکتوبر 1990ء تک کا عرصہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاق میں حکومت میں اتحادی کے طور پر گزارا لیکن اس دوران اس نے پاکستان پیپلزپارٹی کو کراچی ڈویژن کے اردو بولنے والے سندھیوں کی اکثریت کے علاقے سے نکال باہر کرنے، اردو بولنے والی آبادی میں سندھیوں کے بارے میں نفرت پیدا کرنے اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک سندھی متعصب اور مہاجر دشمن پارٹی ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا
 
کراچی ڈویژن کے ایسے تعلیمی ادارے جو اردو بولنے والے طلباء کی اکثریت کے ادارے تھے،وہاں پر ایم کیو ایم نے اپنے طلباء ونگ اے پی ایم ایس کو یہ ٹاسک دیا کہ وہاں ایک تو کوئی ایک بھی اردو بولنے والا طالب علم کسی اور طلبا تنظیم کا رکن نہ ہو اور نہ ہی ان تعلیمی اداروں میں اے پی ایم ایس او کے علاوہ کوئی اور طلبا تنظیم کام کرپائے- بدقسمتی سے کراچی ڈویژن کے اردو بولنے والے طلباء کی اکثریت والے تعلیمی اداروں میں جہاں جہاں این ایس ایف اور این ایس او، ڈی ایس ایف وغیرہ کے یونٹ تھے ان کے اکثر وبیشتر اردو بولنے والے طالب علم کارکن لسانی منافرت کا شکار ہوئے یا کسی دھونس دھمکی کا نشانہ بنے یا موقعہ پرستی کا شکار ہوئے تو وہ اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے
معراج محمد خان، ڈاکٹر رشید حسن جیسے سابق طالب علم رہنما جنھوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں آمریت کے خلاف طالب علموں کے اندر شعور کی بیداری میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا وہ 86ء کے بعد سے مسلسل غیر موثر ہوتے گئے اور لسانی سیاست کا کراچی کے تعلیمی اداروں میں ویسے مقابلہ نہ کرپائے جیسے انہوں نے رجعت پرست اسلامی جمعیت طلبا کا کیا تھا- ایسی بے سروسامانی کے عالم میں اردو اسپیکنگ کراچی کی مڈل کلاس جیالا خاندان سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر نجیب جو لیفٹ کے خیالات سے مسلح تھا کراچی ڈویژن میں طلبا سیاست کے افق پر ستارہ بن کر چمکا
 
نجیب کے طلباء سیاست میں کرئیر کو ہم دس سال پر محیط قرار دے سکتے ہیں- وہ 1980 کے لگ بھگ کالج کے زمانے میں پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے بطور ساتھی طالب علم متحرک ہوا- یہ وہ دور ہے جب ضیاء الحق کی آمریت کو مسلط تین سال ہوچکے تھے اور ان تین سالوں کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوانوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد کے دوران قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کردی تھی اور اپنے سینئرز سے بازی لے گئے تھے- پی ایس ایف جو 5 جولائی 1977ء تک حکومتی سائے میں پروان چڑھنے والی طلبا تنظیم سمجھی جاتی تھی اور کئی ایک لیفٹ و مارکسی پنڈت اس کی لیفٹ ساکھ کو ماننے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے لیکن ضیاء آمریت کے تین سالوں میں پورے پاکستان میں خاص طور پر پنجاب، کے پی کے اور سندھ میں پی ایس ایف کے نوجوانوں نے اپنی مزاحمتی اور انقلابی سیاست سے اپنا لوہا منوالیا- پاکستان پیپلزپارٹی کے شہیدوں اور جیلیں کاٹنے والوں میں پی ایس ایف کا حصّہ سب پر بھاری تھا
پی ایس ایف پنجاب سے تعلق رکھنے والے اسلم وڑائچ ، اعظم خان سمیت کئی ایک ساتھیوں نے ‘پی ایس ایف کا انقلابی اعلامیہ’ 1980ء میں تحریر کیا جو پاکستان بھر کے پی ایس ایف کی تنظیموں کا منشور قرار پاگیا- اس اعلامیہ کی تشہیر و تقسیم پر ضیاء آمریت نے پابندی لگائی مگر نہ تقسیم رکی نہ تشہیر رکی- ایسے ہی ایم آر ڈی کے زمانے میں جب طیارہ اغوا کیس ہوا تو ‘قزاق کون’ کے نام سے پمفلٹ بھی پی ایس ایف کے جیالے کارکنوں نے لکھا اور بانٹا- یہ پمفلٹ سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا- اور ضیاء الحق کے ریفرنڈم کے خلاف پمفلٹ بھی پی ایس ایف نے لکھا اور تقسیم کیا
 
نجیب پی ایس ایف کی اسی مزاحمتی سیاست کو امتیازی نشان بناکر کراچی ڈویژن کی طلباء سیاست کے میدان میں اترا تھا- پہلے اس نے اسلامی جمعت طلباء کی غنڈا گردی اور قبضہ سیاست کے خلاف کامیاب مزاحمت کی اور پھر 1986ء سے لیکر 11 اپریل 1990ء تک اس کے سامنے کراچی ڈویژن میں سب سے بڑا چیلنج تعلیمی اداروں میں لسانی دہشت گرد سیاست تھی جس کی علمبردار اے پی ایم ایس او تھی جس کی سربراہی اس زمانے میں خالد بن ولید کے پاس تھی جو ایک بڑے ڈیتھ اسکواڈ اور پروفیشنل قاتلوں کا بڑا سیل چلا رہا تھا- اے پی ایم ایس کا خالد بن ولید قاتل ٹولے کے ساتھ جمہوری سیاست کا نام و نشان مٹانے کے درپے تھا
 
نجیب نے جس زمانے میں قتل کیے گئے اس زمانے میں مئی 1990ء میں پورے سندھ کے تعلیمی اداروں میں طلباء یونین کے انتخابات ہونا تھے- کراچی ڈویژن کے درجنوں تعلیمی اداروں میں پی ایس ایف کے فعال تنظیمی یونٹ کام کررہے تھے اور ڈاکٹ نجیب کی خواہش تھی کا طلباء یونین کے انتخابات میں پی ایس ایف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالب علموں کے بڑی تعداد میں ووٹ لیکر ابھرنے والی ترقی پسند جمہوری طلبا تنظیم کے طور پر سامنے آئے- ان کی شکل میں اے پی ایم ایس او کو نوشتہ دیوار صاف نظر آرہا تھا اور انھوں نے ڈاکٹر نجیب کو چار سالوں میں (86-90) تک کئی بار قتل کرنے کی کوشش کی اور ڈاکٹر نجیب کئی بار حملوں میں بچ کر نکلتے رہے- انھوں نے آخری پریس کانفرنس اپنے قتل سے چند روز پہلے کی اور اس پریس کانفرنس میں انہوں نے نام لیکر اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ڈیتھ اسکواڈ سے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو مروانے کی کوشش کررہی ہے
ان کی جان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ان دونوں کی قیادت ہوگی- انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بطور خاص ایے پی ایم ایس او کے خالد بن ولید جو اس کا سربراہ تھا کا نام بتایا تھا- یہ حقیقت ہے کہ 86 سے 90 تک ڈاکٹر نجیب نے صاف دیکھ لیا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پوری طرح سے ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او کے ساتھ کھڑی ہے- پولیس، رینجرز ، فوج، عدالتیں سب جگہ اسٹبلشمنٹ میں ضیاء الحقی باقیات پوری طرح سے ان کا ساتھ دے رہی ہے
 
اکتوبر 1989ء میں ایم کیو ایم پی پی پی کی وفاقی حکومت سے الگ ہوگئی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ گئی- اسی سال ایوان صدر، آرمی ہیڈکوارٹر ، اسلامی جمہوری اتحاد بشمول ایم کیو ایم اور عالمی دہشت گرد نیٹ ورک کے سربراہ اسامہ بن لادن نے ملکر پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت ختم کرنے کے لیے نومبر 1989ء میں عدم اعتماد کی قرار داد قومی اسمبلی میں پیش کرائی اور یہ عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہوگئی
 
اس کے بعد تو کراچی کے حالات تیزی سے بگڑنے لگے اور آئے دن کراچی میں لسانی تنظیم کی غنڈا گردی اور دہشت گردی بڑھتی چلی گئی- اکتوبر 1989ء سے اپریل 1990ء کے دوران پی ایس ایف کراچی ڈویژن کے تعلیمی اداروں میں قائم یونٹ کے عہدے داروں اور کارکن ساتھی طالب علموں پر چار سو سے زیادہ پرتشدد اور جان لیوا حملے ہوئے اور کئی ساتھی طالب علم جان کی بازی ہار گئے- اے پی ایم ایس او نے درجنوں تعلیمی اداروں میں اس دوران پی ایس ایف کا کام بند کروانے کے لیے پرتشدد حملے کیے جن میں سے اکثر حملوں کو نجیب اور ان کے ساتھیوں نے وہاں موجود ہوکر ڈٹ کر ناکام بنایا جس سے پی ایس ایف کے ساتھیوں کا مورال بلند ہوا- یہ صورت حال نہ تو اے پی ایم ایس او کو قبول تھی اور نہ ہی ان کے نادیدہ آقاؤں کو منظور تھی اور انھوں نے نجیب کی زندگی کو ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا
کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں لسانی بنیادوں پر قتل و غارت گری، اندرون سندھ میں اچانک ڈاکوؤں کی یلغار اور پاکستان کے مین سٹریم پرنٹ میڈیا پر پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن، بد امنی سمیت دیگر الزامات کے تحت میڈیا ٹرائل تیز کردیا گیا- یہ سب کام پی پی پی کی حکومت گرانے کے بڑے ایجنڈے کا حصّہ تھا جس میں سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او اپنا کردار پوری طرح سے ادا کررہی تھیں- اور اپریل 1990ء کو نجیب پر حملہ بھی اس منصوبے کا ایک حصّہ تھا- 11 اپریل کو جب ڈاکٹر نجیب دم توڑ گئے اور ان کے قتل کے الزام میں ایم کیو ایم کے خالد بن ولید سمیت کئی کارکن گرفتار ہوئے تو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے اپنے ساتھیوں سمیت گرفتار کارکنوں کی رہائی تک تادم مرگ بھوک ہڑتال کردی- یہ بھوک ہڑتال ان کی محبت میں گرفتار ایم کیو ایم کے حامیوں نے بھی کی- کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے اور تشدد بڑھتا چلا گیا
اگرچہ رینجرز اور فوجی دستے کراچی میں طلب کیے گئے لیکن حیرت انگیز طور پر اردو اسپیکنگ اکثریت والے علاقوں میں لسانی دہشت گرد آزادی سے کاروائی کرتے رہے اور ان کو اگر گرفتار بھی کیا جاتا تو رات گئے وہ چھوڑ دیے جاتے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت کو ایوان صدر، جی ایچ کیو ، پنجاب میں برسر اقتدار نواز شریف اور اس کا اسلامی جمہوری اتحاد، دشمنی کی حد تک ہونے والا پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کا میڈیا ٹرائل یرغمال بنا چکا تھا، شہری سندھ میں لسانی نفرت کو اتنا شدید کردیا گیا تھا کہ پی پی پی کی حکومت نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک طرف تو مجبوری میں ڈاکٹر نجیب کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث خالد بن ولید اور دیگر کو رہا کردیا اور نائن زیرو پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے الطاف حسین کے پاس گورنر سندھ فخر الدین جی ابراہیم کو بھجوایا جنھوں نے الطاف حسین کی بھوک ہڑتال شربت پلا کر ختم کروائی- یہ بھوک ہڑتال 143 گھنٹے 13 اپریل 1990ء تک جاری رہی تھی
یعنی تین دنوں میں نجیب کے قاتلوں کی رہائی کے لیے پی پی پی مجبور ہوگئی کیونکہ ایم کیو ایم اپنے مبینہ قاتل ٹولے کو بچانے کے لیے پورےسندھ کو آگ لگانے سے بھی نہیں چوکنے والی تھی- اور اس دوران میاں نواز شریف نے نائن زیرو کا دورہ کیا اور بھڑکتی آگ کو شعلے دکھائے
یاد رہے کہ کراچی کے حالات کو انتہائی کشیدہ بنانے کا سلسلہ فروری 1990ء میں اس وقت اپنی انتہا کو پہنچا جب ایم کیو ایم نے کراچی میں عام ہڑتال کی کال دی اور ہڑتال کامیاب کروانے کے لیے پرتشدد واقعات ہوئے-قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع ہوا اور کراچی مفلوج ہوکر رہ گیا- بے نظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم کراچی میں فوج اور رینجرز کو تعینات کرنے کا حکم جاری کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوج اور رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں ضیاء الحق کی باقیات نے کراچی میں بدامنی کو روکنے کی بجائے اسے بڑھانے کا کردار ادا کیا- فروری سے اگست 1990 تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اگست کے پہلے ہفتے صدر غلام اسحاق خان نے پی پی پی کی حکومت کو آٹھویں ترمیم کے زریعے حاصل اسمبلی تحلیل کرنے کے اخیتار کو استعمال کرتے ہوئے ختم کردیا- اور ساتھ ہی گورنروں نے چاروں صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل کرکے گورنر راج لگادیا- ڈاکٹر نجیب سمیت کراچی ڈویژن میں پی پی پی کے فعال کارکنوں کا قتل اور پی پی پی کی کراچی ڈویژن کے اردو اسپیکنگ اکثریت کے علاقوں سے باہر نکالے جانے کے خلاف مزاحمت کو انتہائی کمزور کردیا گیا- یہ سلسلہ صرف ڈاکٹر نجیب تک نہیں رکا- بلکہ ہم نے اس کے بعد بھی اردو اسپیکنگ فعال جیالوں کو ایک ایک کرکے قتل ہوتے دیکھا- 17 ستمبر 1995ء میں سعید غنی کے والد ، بینکنگ ٹریڈ یونینسٹ اور محنت کشوں میں ایک نام رکھنے والے عثمان غنی کو قتل کیا گیا
اسٹبلشمنٹ نے سندھ کے شہری علاقوں میں لسانی فسطائیت کے زبردستی نفاذ کے لیے ایم کیو ایم کو جو فری ہینڈ دیا تھا اس نے کراچی شہر کو ترقی کی اس معراج پر پہنچنے سے روک دیا جس معراج پر اس شہر سے ترقی میں کوسوں دور کھڑے دبئی جیسے شہر بعد میں پہنچے اور کراچی کی یہ تباہی ایک سوجے سمجھے منصوبے کے تحت ہوئی- اور کراچی شہر بالغ النظر سیاسی کارکنوں سے خالی ہوتا چلا گیا- ڈاکٹر محمد نجیب اگر زندہ رہتے تو کراچی شہر میں وہ سیاست کی آبرو بنکر ابھرتے- ہم ان کے لیے بھی وہی احترام دیکھتے جو آج شہلا رضا، مرحوم فوزیہ وہاب، سعید غنی، مرتضی وہاب، نجمی عالم، تاج حیدر ، حارث گزدر سمیت اردو اسپیکنگ درجنوں پی پی پی کراچی ڈویژن کے اردو اسپینگ سیاست دانوں کا ہے
نجیب کی سرگرمیوں کی تصویری جھلکیاں

پی ایس ایف کراچی ڈویژن کی پکنک ٹور کی یاد گار تصویر

اس تصویر میں ہم انتہائی بائیں طرف پیچھے سیدہ شہلا رضا، اور ان کے ساتھ نجیب اور شہلا کے ساتھ پہلے دائیں طرف سید ہاشم اور سید عروہ کو بیٹھے دیکھ سکتے ہیں

عاشق کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے ۔
( میں فوٹوز کے لیے عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر زاہد حسین، سابق طالب علم رہنما پی ایس ایف ساتھی نجیب شہید سید ہاشم کا انتہائی مشکور ہوں- زاہد حسین جیسے صحافی اب انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنھوں نے کمرشل ازم اور موقعہ پرستی کی آندھیوں میں بھی حقائق پر مبنی فوٹو جرنلزم کا پرچم سربلند رکھا ہے- پیپلز پارٹی کا ہر ایک نظریاتی اور سچا کارکن ان کی طرف سے پی پی پی کی فوٹو ہسٹری کو محفوظ رکھنے اور اسے ترتیب دینے کی کوششوں کا احسان مند ہے- سیاست کا ہر طالب علم ان کو سرخ سلام پیش کرتا ہے)