Original Articles Urdu Articles

چار اپریل 1979، بھٹو کی شہادت کی پرسہ داری – زوار حسین کامریڈ

میری والدہ خورشید بیگم نے ستر کی انتخابی مہم میں قائد عوام کی جیت کے لیے مجھے بارہ سال کی عمر میں ساتھ لے کر گلی گلی جا کرخواتین میں پی پی پی کی کینوینسنگ جس جوش و جذبہ سے کی تھی اس کے محرکات سیاسی سے زیادہ شیعہ عقیدہ سے وابستگی تھی. ان کے مطابق چئیرمین پی پی پی کا نام ذوالفقارعلی بھٹو ، مولا علی کی تلوارذوالفقار سے منسوب ہے جبکہ انتخابی نشان تلوار بھی تلوار حیدر کی علامت ہے. ضیاء نے آمریت نافد کی تو امی جان نے اسے یزید ثانی قرار دے کر شہید بھٹو کے حق میں احتجاج کرنے کو امام حسین کی عزادری کے برابر کا رتبہ دے کر مجھے ہر جلسے جلوس میں شرکت کا حکم دیا. شہید بھٹو اور پی پی پی پر ٹوٹنے والے مصائب کے ایام امی جان اور مجھ پر گھریلو مشکلات کا بھی بد ترین دور لے کر آے

جس کی وجہ والد صاحب کی تین شادیاں اور اس کے نتیجہ میں آنے والی معاشی تنزلی تھی. جس سے میری تعلیم بری طرح متاثر ہوئی. گھر کا سیٹ اپ کچھ یوں تھا کہ میری امی سمیت تیسری والدہ شیعہ مسلک کی تھیں اور دونوں ایک ہی گھر میں مقیم تھیں جہاں محرم کی عزا داری حد درجہ عقیدت اور غم و رنج میں ڈوب کر منائی جاتی تھی جبکہ میری بڑی والدہ محترمہ اہل سنت مسلک کی تھیں اور بچوں کو دینی تعلیم دیتی تھیں ان کے ہمراہ رہنے والے بڑے بھائی اور دو بہنیں بھی سنی عقیدہ کی تھیں. فیملی کے حالات 1979 کے اوائل تک اس نہج پر پہنچ گۓ کہ مجھے اپنا گھر چھوڑ کر بڑی والدہ کے گھر منتقل ہونا پڑا اور حصول تعلیم کی بجاۓ بھائی صاحب کی ورکشاپ پر آٹو مکینک کا کام جبری طور پر سیکھنے کی مشقت کرنا پڑ گئی


4 اپریل 1979 کی صبح آٹھ بجے معمول کے مطابق میں ورک شاپ کھول کرصفائی کر کے شاپ پر آنے والا `نواے وقت` اخبار جبر کے ساتھ پڑھنے لگا مگر اس میں شائع کوئی بھی لفظ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا بس ایک خوف اور غم کی کیفیت احساسات و جسم پر غالب ہوتی جا رہی تھی . اسی اثنا میں مارکیٹ میں شور مچ گیا کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی . جسے ہی شور کی آواز سنی میں اپنے آپ کو شعوری و جسمانی طور پرسکتہ میں محسوس کرنے لگا. کچھ دیر بعد بڑے بھائی اۓ تو انھیں ارد گرد کے دکاندار مبارکبادیں دینے لگے. میں بت بنا خاموشی سے دل چیر جانے والے منظر دیکھتا رہا ، دل چاہتا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر رووں خوشیاں منانے والےسطحی سوچ کے ان بے حس لوگوں کے سامنے رونا تو کیا چیخنا چنگھاڑنا بھی بے سود ہوتا

تھوڑی دیر بعد مٹھائی بانٹنے کی تو تاکار مچ گئی تو میں اپنی پر نم آنکھوں کے ساتھ گاڑی کا کام کرنے کے بہانے ورکشاپ سے دورآ گیا . دوپہر کا کھانا کھانے کی ہمت ہی نہ ہو سکی. شام کو ورکشاپ بند کر کے میں فوری طور پر اپنے دوسرے گھر پہنچا تو وہاں محرم سے بھی زیادہ سوگوار ماحول تھا. میری دونوں والدہ محترمائیں الم و غم کی تصویر بنی تمام بچوں کے ساتھ بھوکی پیاسی بھٹو کے بین کرتی اونچی آواز میں رو رہی تھیں . میں گھر میں داخل ہو کر دونوں کے گلے لگ کر دل کھول کر رویا تو میرا ماؤف دماغ آھستہ آھستہ نارمل ہونے لگا . اس دوران آٹھ بجے بی بی سی کی خبریں و سیر بین سننے کے لیے جھنگ بازار میں پی پی پی کے جیالوں کے مرکز تمباکو کی ایک دوکان پر پہنچا جہاں شہر بھر کے پارٹی کارکنان بہت بڑے ریڈیو سیٹ پر خبریں سنتے ہوےدھاڑیں مار کر رو رہے تھے


بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا