Featured Original Articles Urdu Articles

کورونا وائرس:ملائیت سے کہیں بڑی حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہے- عامر حسینی

تبلیغی جماعت 1926ء میں دیوبندی فرقے سے تعلق رکھنے والے مولوی محمد الیاس نے قائم کی تھی اور اس کے قائم ہونے کاابتدائی سبب میوات سمیت راجھستان میں ہندؤ مہاسبھائی فرقہ پرستوں کی طرف سے چلائی جانے والی شدھی کی تحریک تھی جس کا مقصد مقامی مسلمانوں کو واپس ہندؤ مت کا پیرو بنانا تھا- اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تنظیم نے نہ صرف پورے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش میں اپنا نیٹ ورک پھیلایا بلکہ یہ دنیا کے اکثر ممالک میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی- پہلے اس جماعت کا مرکزی اجتماع دہلی میں نظام الدین اولیا میں قائم تبلیغی مرکز میں ہوتا تھا اور اب اس تنظیم کا ایشیائی اجتماع کوالالمپور ملائیشیا میں اور ملکی سالانہ اجتماعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں
 
دہلی میں عالمی تبلیغی مرکز ہو کہ رائے ونڈ پنجاب پاکستان میں اس کا مرکز ہو اس نے اپنے سآلانہ اجتماعات کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ریاستی احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے منعقد کیا- اور اس انعقاد نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں بہرحال اضافہ ہی گیا ہے- لیکن کیا ہم اس پھیلاؤ کی واحد ذمہ دار تبلیغی جماعت اور اس کے ممبران کو قرار دیں گے؟
اس کا جواب نیچے تفصیل پڑھ کر مل جائے گا- لیکن حقائق اور واقعات یہ ہیں کہ ہندوستان کی حکومت نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے اور جیسا کہ خود ہندوستان کی مرکزی وزرات داخلہ کا جاری کردہ لیٹر بتاتا ہے کہ اسے پہلے سے پتا تھا کہ ملیشیا میں ہوئے تبلیغی اجتماع میں کورونا وائرس کے مریض موجود تھے اور وہ اگر ہندوستان کا رخ کریں گے تو اس سے یہاں لوگوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوگا- لیکن ہم نے دیکھا کہ 800 انڈویشیا اور 200 ملیشیا کے تبلیغی جماعت کے ممبران کو وزٹ ویزہ جاری کیا گیا جن میں بڑی تعداد ایشیا اجتماع کوالالمپور میں شریک تھی
 
یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ہندوستانی دہلی پولیس نے جو آڈر 13 مارچ کو عین اجتماع کے دن جاری کیا وہ اس سے پہلے کیوں نہیں جاری کیا؟ اگر تبلیغی جماعت اپنا اجتماع روکنے سے انکاری تھی تو 13 مارچ کو یا اس سے پہلے تبلیغی مرکز کو سیل کیوں نہیں کیا گیا؟
پاکستان میں بھی ایک طرف پاکستان-ایران کے سرحدی شہر تفتان پر شیعہ مسلمان زائرین کو نہ تو پراپر قرنطینن کیا گیا اور نہ ہی ان کے کورونا وائرس ٹیسٹ کروائے گئے
 
اور دوسری طرف پنجاب کے شہر رائے ونڈ میں سالانہ تبلیغی اجتماع کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ اس میں بھی ایسے مبلغین اور شرکاء موجود تھے جو ایشیا اجتماع میں بھی شریک تھے- شیعہ مسلمان زائرین کو بھی نہ تو حکومت پاکستان نے ایران جانے سے روکا اور نہ ہی حکومت پاکستان نے اس دوران عمرے کے لیے سعودی عرب جانے والے کو روکا جبکہ اس وقت تک کورونا وائرس عالمی پھیلاؤ کی خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں
 
وفاقی حکومت پاکستان نے اگر ایران جانے والے زائرین، سعودی عرب عمرے کے لیے جانے والوں اور تبلیغی جماعت کے لاہور اجتماع کو روکا ہوتا اور تبلیغی دورے کرنے والوں کو شہر شہر جانے سے ابتدا میں روک لیا ہوتا تو پاکستان میں اس وبا کا شکار ہونے والوں میں خاطر خواہ کمی آتی
 
پاکستانی حکومت نے جس طرح سے چین اور ایران میں پڑھنے والے طالب علموں کو کورونا وائرس کے دوران واپس نہ لانے کی پالیسی اپناتے ہوئے اس راستے سے کورونا وائرس کے پھیلنے پر کامیاب روک لگائی تھی، ویسی روک یہ تبلیغی مرکز کو بند کرکے، مساجد میں جمعہ اور دیگر نمازوں کی باجماعت ادائیگی پر آغاز سے پابندی لگائی ہوتی تو ہمارے ہاں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں کافی کمی آتی- یہی کام ہندوستان کی حکومت کو کرنا چاہئیے تھا
 
پاکستان ہو یا ہندوستان ہو دونوں ممالک میں لبرل سیکشن کا بھاری بھرکم حصّہ پہلے ‘کورونا وائرس’ کے پھیلاؤ میں بھاری بھرکم تنقید کا فوکس شیعہ مسلمانوں پر رکھے رہا تو اب اس کا فوکس زیادہ تر تبلیغی جماعت پر ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ہو یا ہندوستان یا بنگلہ دیش تینوں ممالک کے ملاؤں جن میں شیعہ، سنّی(دیوبندی،بریلوی،اہلحدیث) دونوں فرقوں کے ملاں شامل تھے سماجی میل جول سے دوری میں مذہبی اجتماعات اور نماز پنچگانہ و جمعہ کی باجماعت ادائیگی کے لیے مساجد و امام بارگاہوں میں اجتماعات کو استثنا دے ڈالا اور یہی حال ابتداء میں سعودی عرب اور ایران کے کئی ایک ملاؤں کا تھا- اور ان کے اس عمل نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اپنا کردار ادا کیا ہے
 
لیکن ہندوستان میں 13 لاکھ بین الاقوامی مسافر جو جنوری سے مارچ کے دوران ہندوستان میں داخل ہوئے ان کی سکریننگ اور کورونا وائرس ٹیسٹ کی شرح ایک فیصد بھی نہیں تھی- پاکستان میں جنوری سے مارچ تک کتنے مسافر بین الاقوامی پروازوں سے پاکستان داخل ہوئے کا ڈیٹا ابتک ہمیں میسر نہیں ہے اور یہ بات بھی کنفرم ہے کہ وفاقی حکومت ایران سے آنے والے زائرین، سعودی عرب سے عمرے سے واپس آنے والوں کی سکریننگ اور ٹیسٹ نہیں کرپائی- اور نہ ہی اس نے جنوری سے مارچ کے دوران پوری قوت سے مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کی- اس صورت حال میں بھی سب سے بڑی ذمہ دارحکومتیں بنتی ہیں- پاکستانی لبرل اس سارے معاملے میں ریاست کے سسٹم کی ناکامی اور حکومتی پالیسی کی ناکامی پر تنقید سے کہیں زیادہ فوکس مذہب اور مذہبی شناخت رکھنے والوں پر رکھے رہے
 

پاکستانی لبرل اور اینٹی شیعہ تکفیری فسطائی گروہوں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان ہے نے بے شرمی سے کورونا وائرس کا سارا ملبہ شیعہ مسلمان زائرین پر ڈالنے کی کوشش کی اور اسے مسلم لیگ نواز کی کانفرنس اور اس میں خواجہ آصف جیسوں کے فرقہ پرستانہ بیانات نے شیعہ مسلمانوں کی پرسیکوشن مہم میں بدل ڈالنے کی کوشش بنادیا

 

ہندوستان میں اب کئی ایک لبرل سیکشن اور بڑے پیمانے پر ہندوتوا کے حامی تبلیغی جماعت کے مرکز کے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے معاملے کو لیکر مسلمانوں کے خلاف عمومی منافرت پھیلانے کا کام کررہے ہیں- اور یہ ایک قابل مذمت عمل ہے
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تبلیغی جماعت کے منتظمین نے کورونا وائرس کے عروج کے زمانے میں اور اسقدر بڑے پیمانے پر سماج اجتماع سے پیدا خطرات بارے آگہی کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کی عوام کو جس بڑے خطرے میں ڈالا ہے اس کے سبب ان کی مذمت بھی نہ کی جائے- تبلیغی مرکز دہلی سے جاری ہونے والی پریس ریلیز ‘عذر گناہ،بدتر از گناہ’ کی مثال ہے
ہندوستان میں تبلیغی اجتماع کے شرکاء تو صرف 2000 ہزار تھے لیکن رائے ونڈ پنجاب میں جو اجتماع ہوا، اس کے شرکا 15 سے 20 لاکھ تھے- اور یہ پاکستانی اجتماع پاکستان کے عام شہریوں کے لیے ایشیاء اجتماع کوالالمپور سے کہیں زیادہ خطرناک تھا کیونکہ وہاں شرکا کی تعداد 10000 تھی
آج جو پاکستان میں ‘مذہب بارے فوبیا’ کا بیانیہ اس قدر طاقتور ہوکر سامنے آیا ہے اور اس میں کہیں کہیں فرقہ وارانہ تعصب طاقتور عنصر بنکر ابھرا ہے تو اس کے سب سے زیادہ ذمہ دار خود مسلم فرقوں کے مذہبی پیشواؤں کی اکثریت ہے جنھوں نے مذہبی اجتماعات اور باجماعت نمازوں پر عارضی پابندی کو اسلام کے خلاف قرار دے ڈالا ہے۔
ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں نظام آباد میں واقع عالمی تبلیغی مرکز میں 13 مارچ سے 15 مارچ تک تبلیغی اجتماع منعقد کیا گیا جبکہ 13 تاریخ کو دہلی پولیس نے 200 سے زائد افراد کے کسی بھی اجتماع پر پابندی عائد کردی تھی
مارچ 30 کو دہلی پولیس نے تبلیغی مرکز سمیت ارد گرد کے علاقے کو اس وقت گھیرے میں لیکر سیل کردیا جب علاقے سے 200 سے زائد افراد میں کورونا وائرس ٹیسٹ پازیٹو آئے- جب تبلیغی مرکز میں موجود افراد کے ہوئے ٹیسٹ کے نتیجے میں 28 افراد میں کورونا وائرس پایا گیا جب کہ کم ازکم 7 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے
تبلیغی جماعت کے اجتماع میں 2000 افراد شریک تھے جن میں 800 مبلغین کا تعلق انڈویشیا سے تھا- جبکہ دو سو کے قریب کا تعلق ملائیشیا سے تھا اور یہ سب وزٹ ویزہ پر ہندوستان میں داخل ہوئے تھے- ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ وزٹ ویزہ پر تبلیغی سرگرمیوں میں شرکت کرنا اور تبلیغی فرائض سرانجام دینا غیر قانونی ہے- اور ایسے سب وزٹ ویزہ پر آکر ہندوستان تبلیغی سرگرمیوں میں شریک ہونے والوں کو بلیک لسٹ کیا جارہا ہے
تبلیغی جماعت کے مرکز سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ‘اجتماع’ غیر قانونی نہیں تھا-(دہلی پولیس کے امتناع اجتماع دو صد افراد آڈر جاری کردہ 13 مارچ کا کوئی جواب پریس ریلیز میں نہیں ہے)- بلکہ مارچ 25 کو اچانک سے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری’جنتا کرفیو’ کے سبب تبلیغی مرکز کو پریشان حال تبلیغی ارکان کو اپنے ہاں جیسے تیسے ٹھہرانا پڑا
ہندوستان کے مشہور روزنامہ ‘ہندوستان ٹائمز’/ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی ویب سائٹ پر 31 مارچ 2020ء کو خبر دی کہ ہندوستان کی ریاست تامل ناڈو کورونا وائرس کے 50 نئےکیس سامنے آئے ہیں جن میں سے 45 کا تعلق تبلیغی جماعت کے نظام الدین مرکز پر ہونے والے 21 مارچ کے تبلیغی اجتماع سے بنتا ہے
تبلیغی جماعت کے تحت ‘ایشیا اجتماع’ 27 فروری سے یکم مارچ تک کواللمپور ملائیشیا میں ہوا- ہندوستان کی مرکزی وزرات داخلہ کے دفتر سے جاری لیٹر میں بتایا گیا کہ اس اجتماع میں شرکت کرنے والے بہت سارے افراد میں کورونا وائرس پازیٹو نکلا اور ان میں سے جو لوگ ہندوستان پہنچے ہیں ان کی سکریننگ اشد ضروری ہے- اس خط کے مطابق انڈویشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے 2000 افراد ایسے تھے جو ملائیشیا میں تبلیغی اجتماع میں شریک تھے اور وہ وزٹ ويزہ پر ہندوستان داخل ہوئے ہیں، ان کے کورونا وائرس کے ٹسٹ ہونا لازم ہیں- یہ لیٹر 28 مارچ کو جاری کیا گیا تھا
اس سے پہلے 21 مارچ کو مرکزی وزرات داخلہ ہندوستان نے تمام ریاستوں کو ایک خط جاری کیا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ تبلیغی جماعت کے ان 824 ممبران کا پتا چلاکر ان کو قرنطینن کردیں جو ملک کے ختلف حصوں میں تبلیغ کے نام پر سفر کررہے تھے
According to the Home Ministry’s data, since January 1, 2,100 foreigners had visited India for Tablighi activities and the Bureau of Immigration (BOI) started sharing details of all international arrivals with the States from March 6.
اس کا مطلب صاف ہے کہ یکم جنوری سے 12000 افراد ایسے تھے جو باہر کے ممالک سے تبلیغی سرگرمیوں کے لیے ہندوستان میں داخل ہوئے اور وزرات داخلہ اور بیورو آف امیگریشن نے ان کی تفصیل ہندوستانی ریاستوں کے ساتھ 6 مارچ سے شیئر کرنا شروع کردی تھی
ہندوستان کی مرکزی وزرات صحت یونین آف ہیلتھ منسٹری کے کنٹرول روم نے کئی ریاستوں کو وزرات داخلہ سے پہلے ہی تبلیغی مرکز سے جڑے کئی ایک مریضوں میں کورونا وائرس کے پازیٹو آنے کی رپورٹ جاری کردی تھی
21 مارچ کو ہندوستان میں ‘جنتا کرفیو’ سے ایک دن پہلے جموں و کشمیر حکام نے ہیلتھ منسٹری کے کنٹرول روم کو بتایا تھا کہ ایک 65 سالہ مریض میں کورونا وائرس ٹیسٹ پازیٹو نکلا ہے- اس کی سفری روابط کی ٹریکنگ سے پتا چلا کہ اس نے16 فروری سے انڈیمان،نکوبار آئی لینڈ ، دہلی اور دیوبند کے سفر کیے تھے- اور اس خط میں کہا گیا تھا کہ مریض دہلی،دیوبند میں انڈویشی،تھائی تبلیغی ممبرز سے ملا تھا ہوسکتا ہے یہ وائرس وہاں سے اس کے اندر داخل ہوا ہو- اپنے زمینی، ریل اور ہوائی سفر کے دوران وہ 15000 افراد سے رابطے میں آیا- اس کے گھروالوں میں سے آٹھ افراد میں کرونا وائرس ٹیسٹ پازیٹو آئے اور 14 میڈیکل اسٹاف ممبر جموں میں جنھوں نے اس مریض کی دیکھ بھال کی تھی قرنطینن کردیے گئے- جبکہ تلنگانہ ریاست کی پولیس نے 24 تبلیغی جماعت کے ممبران کو قرنطینن کیا جب انھیں جموں و کشمیر سے الرٹ جاری ہوا
The Home Ministry said in a statement on Tuesday that as on March 21, 824 foreign Tablighi workers were in different parts of the country for missionary work. Further, 1,530 Indian and 216 foreign members were staying in the Delhi Markaz (centre). “All the Tablighi Jamaat members staying at Nizamuddin are being medically examined since March 26” and over 300 of them had showed symptoms.
وزرات داخلہ ہندوستان نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ 21 مارچ سے 21،824 غیر ملکی تبلیغی کارکن تبلیغی سرگرمیوں کے ملک کے مختلف حصوں میں موجود تھے- 1530 ہندوستانی اور 216 غیر ملکی تبلیغی اراکین دہلی مرکز تبلیغ نظام الدین میں ٹھہرے ہوئے تھے- مرکز میں ٹھہرے تبلیغی ممبران کا 26 مارچ سے لگاتار طبی معائنہ کیا گیا تو ان میں سے 300 میں کورونا وائرس کی علامات پائی گئیں۔
An official said the role of the local intelligence unit of the Delhi police was also being probed as they failed to report the presence of a large number of foreign nationals at the Markaz.
ایک افسر مجاز کا کہنا تھا کہ دہلی پولیس کے مقامی انٹیلی جنس یونٹ کے کردار کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ وہ مرکز تبلیغ میں اتنے بڑے پیمانے پر غیرملکیوں کی موجودگی بارے رپورٹ کرنے میں ناکام رہی
مارچ 26 کو کیبنٹ سیکرٹری نے تمام ریاستوں میں لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ جنوری اٹھارہ سے تئیس مارچ تک 15 لاکھ انٹرنیشنل مسافر ہندوستان میں داخل ہوئے اور ان مسافروں کی مانیٹرنگ اور نگرانی میں واضح خلا موجود ہے
Five members of a mosque in Bijnor, Uttar Pradesh, including the Maulvi, have been booked for allegedly hiding information about the presence of Indonesian nationals who had returned after attending the Tablighi Jamaat meeting in Delhi on March 21.
بجنور اترپردیش میں ایک مسجد کے پانچ اراکین بشمول امام مسجد کو گرفتار کرکے پرچہ درج کیا گیا- ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر پانچ انڈویشی باشندوں کی موجودگی کو چھپایا جو جو دہلی میں 21 مارچ کو تبلیغی اجتماع میں شرکت کرکے آئے تھے۔