Featured Original Articles Urdu Articles

کرونا وائرس مذہبی منافرت کا ہتھیار کیسے بن رہا ہے؟ – ریاض ملک

نوٹ: ریاض ملک نے ایک انتہائی فکر انگیز پوسٹ اپنی وال پر کی ہے- جوپاکستانی سماج میں ایک ایسی لعنت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو پاکستان میں عوام الناس کے اندر موجود صلح کل مذہبی ہم آہنگی کے سماجی بندھنوں کو پاش پاش کرنے کا کوئی موقعہ بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی – آپ ٹوئٹر پر اور فیس بک پر درجنوں پاکستانی تکفیری نیٹ ورک کے اکاؤنٹس پر جاکر دیکھ سکتے ہیں کہ کرونا وائرس کو مذہبی منافرت کا طاقتور ہتھیار بناکر اسے شیعہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اور ایک بار پھر مسلم لیگ نواز اور پاکستانی میڈیا گروپوں سے وابستہ کئی ایک اینکر، صحافی ، کالم نگار ان تکفیریوں کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں- مجھے ایک بار پھر اس پر نہ چاہتے ہوئے بھی قلم اٹھانا اس لیے پڑ رہا ہے کہ کچھ بھولے بھالے نادان لوگ بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر نظر آرہے ہیں(ع-ح)

پاکستانی فرقہ پرست متعصب گروہ کورونا وائرس کی وبا کو شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں- سپاہ صحابہ پاکستان، کمرشل لبرل اور پاکستان مسلم لیگ نواز پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے کے لیے باہم مربوط کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ پاکستان میں کروناوائرس جس مریض میں سب سے پہلے پایا گیا، اس مریض کی مسلکانہ شناخت کو میڈیا میں غیرمعمولی طور پر اچھالا گیا- کیا یہ بات صحافتی اخلاقیات کے زمرے میں آتی تھی؟ کیا نیوز اسٹوری فائل کرنے کے لیے یہ خصوصی تقاضا تھا؟

پاکستان میں کورونا وائرس کا شکار پہلا مریض 20 فروری کو پاکستان پہنچا اور اس نے 21 فروری کو رضاکارانہ طور پر خود کو ٹیسٹ کے لیے پیش کردیا- دو دن میں اس کی ٹیسٹ رپورٹ پازیٹو آئیں تو اس نے خود کو علاج کے لیے اور تنہائی میں رکھے جانے کے لیے پیش کردیا- اور وہ صحت یاب ہوگیا- اس نے ایکسپریس ٹرائبون میں ایک بلاگ کی شکل میں اپنی روداد لکھی- جو اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے

https://tribune.com.pk/…/1-tales-survival-became-pakistan…/…

اس کا علاج سندھ پی پی پی کی حکومت نے کافی اچھے سے کیا جس کا وہ اعتراف کرتا ہے

پاکستان میں کرونا وائرس سے پہلی موت سعادت اللہ خان نامی شخص کی ہوئی- یہ موت پشاور میں ہوئی اور پشاور کے ایک نواحی گاؤں سے سعادت اللہ خان کا تعلق تھا اور وہ 9 مارچ کو عمرہ کرکے سعودی عرب سے لوٹا تھا- پاکستان کے کسی میڈیا گروپ نے سعادت خان کی نہ تو مسلکی شناخت ظاہر کی جو اچھا اقدام تھا اور کسی نے اس متوفی کی وجہ سے کرونا وائرس کو اس متوفی کے مسلکی شناخت سے جوڑ کر دیکھا حالانکہ تمام میڈیا گروپوں نے یہ زکر کیا کہ عمرے سے واپسی کے بعد گاؤں میں متوفی کا شاندار استقبال ہوا تھا اور بڑی دعوت بھی ہوئی تھی اور اس سے کئی اور لوگ بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے

مارچ کے تیسرے ہفتے جب پنجاب میں جزوی لاک ڈاؤن تھا اور دفعہ 144 کا نفاذ تھا تو اس کے باوجود رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کا انعقاد ہوا اور اس اجتماع میں شریک کئی لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور ایسے ہی تبلیغی جماعت کے تبلیغی دورے کرنے والے اراکین میں بھی کورونا وائرس پایا گیا- اس سے بھی کورونا وائرس کا مختلف لوگ شکار ہوئے

پاکستانی میڈیا گروپوں نے تبلیغی اجتماع اور تبلیغی جماعت کے اراکین کے تبلیغی دوروں سے کورونا وائرس کے پھیل جانے کی خبروں کو شایع کرتے ہوئے کہیں بھی تبلیغی جماعت کی دیوبندی شناخت کا ذکر نہیں کیا

پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کی اور ٹی وی چینلز کے کیمروں کے سامنے خواجہ آصف نے ایران سے آنے والے زائرین کے لیے شیعہ زائرین کا لفظ استعمال کیا اور شیعہ زائرین پر پاکستان میں کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کو ٹھہرایا – کیا مسلم لیگ نواز نے کورونا وائرس کے شکار سعودی عرب سے عمرہ کرکے آنے والوں اور تبلیغی جماعت کے اجتماع کے انعقاد اور تبلیغی دوروں کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر بھی ایسی تنقید کی؟ کیا میڈیا کو کوئی ایک عدد بیان بھی جاری کیا ہو؟ رائے ونڈ میں اجتماع کی اجازت پر سردارعثمان بزدار چیف منسٹر پنجاب، وزیر قانون، وزیر داخلہ، ھوم سیکرٹری اور وفاقی وزیر مذہبی امور پر لگائی ہو؟

کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان/ کالعدم اہلسنت والجماعت جو کہ دیوبندی حنفی فرقے سے نکلنے والی ایک تکفیری انتہا پسند جماعت ہے اس کے قائدین اور کارکنوں نے سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل ٹوئٹ اکاؤنٹس، فیس بک پیجز اور یو ٹیوب چینلز پر ایران سے آنے والے شیعہ مسلمان زائرین کو پاکستان میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف منافرت انگیز مہم چلائی اور پاکستانی پرنٹ ميڈیا میں ان کے بیانات بھی شایع ہوئے- اور ابتک یہ مہم چل رہی ہے

محمد احمد لدھیانوی، اورنگ زیب فاروقی سمیت سپاہ صحابہ کے جملہ رہنما ایران سے آنے والے شیعہ مسلمان زائرین میں سے کئی ایک کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے پر پاکستانی شیعہ مسلمانوں اور ایران کو پاکستان میں کورونا وائرس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن وہ 15000 سعودی عرب سے عمرہ کرکے آنے والوں میں کورونا وائرس کا شکار مریضوں کی دریافت پر نہ تو سعودی عرب کو ملزم قرار دیتے ہیں اور نہ ہی عمرہ کرکے آنے والے کورونا کے شکار مریضوں کی مسلکی شناخت کا ڈھونڈرا پیٹتے ہیں

سب سے زیادہ منافقت تو یہ ہے کہ وہ ایران سے آنے والے شیعہ مسلمان زائرین کو گھروں میں جانے کی پالیسی کا ذمہ دار زلفی بخاری اور علی زیدی کو قرار دیتے ہیں تو یہی زلفی بخاری ہی عمرہ کرکے آنے والوں کو گھر جانے کی اجازت دیتے ہیں تو اس معاملے پر سپاہ صحابہ خاموشی کیوں اختیار کرلی جاتی ہے؟(زلفی بخاری نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں اپنی صفائی پیش کی ہے اور کہا ہے خواجہ آصف کے بیان نے ان کی جان خطرے میں ڈال دی ہے)؟ یہی سوال ان کی تبلیغی اجتماع کی اجازت اور اس سے کورونا وائرس کے پھیل جانے پر خاموشی پر بنتا ہے

سلیم صافی سمیت جن صحافیوں نے زلفی بخاری کو شیعہ زائرین کا معاملہ لیکر تنقیدی ٹوئٹ کیے وہ ایسے ٹوئٹ تبلیغی اجتماع کے انعقاد اور سعودی عرب سے واپس آنے والے کورونا کے مریضوں کے سوال پر کیوں نہیں کرپائے؟

شیعہ مسلمانوں کے خلاف ان لابیوں کے حملے ایک ہی سکرپٹ رکھتے ہیں

شیعہ مسلمانوں کے خلاف مسلکی منافرت پھیلائی جائے

ایران= شیعہ مسلمان بائنری کو پختہ کیا جائے

حکومت میں صرف شیعہ مسلمان وزرا کو الگ کرکے پوائنٹ آؤٹ کیا جائے

شیعہ مسلمان متاثرین کورونا کو بدنام کیا جائے

بلوچستان حکومت اور سرحد پر تعینات سیکورٹی حکام کو ذمہ داری سے مبرا قرار دے دیا جائے جنھوں نے سرحد پر زائرین کو الگ کرکے رکھنے اور ان کے ٹھیک ٹھیک ٹیسٹ کرنے سے غفلت برتی

پنجاب حکومت کی جانب سے تبلیغی اجتماع کی اجازت دیے جانے پر تنقید نہ کی جائے

وفاقی حکومت کی طرف سے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کے پراپر ٹیسٹ نہ کرنے اور ان کو چودہ روز کے لیے الگ تھلگ نہ رکھنے کی ناکامی کا زکر نہ کیا جائے

ریاست کی کورونا وائرس کے شبے میں الگ رکھے جانے کی کوششوں میں تعاون کرنے والے (بمقابلہ ان ملاؤں کے جنھوں نے الگ کرنے کی پالیسی کے برخلاف کام کیا) اکثر شیعہ مسلمان زائرین کی شناخت کو زور و شور سے بیان کرنے والوں کی منافقت بہت واضح ہے

جب غریب شیعہ مسلمان زائرین بدترین حالات میں پاک-ایران سرحد پر واقع تفتان پر بے یارو مددگار پڑے تھے تو کمرشل لبرل متاثرین کو بدنام کرنے کے ساتھ ان پر الزام تراشی کررہے تھے- اور ان نمایاں طعنے یہ تھے

” مزارات تو تمہیں شفا نہ دے سکے”

” تم تو ہر طریقے ایران کے وفادار ہو”

“تمہیں تو وہیں ایران رہ جانا چاہیے تھا”

یہ ویسا ہی کھیل ہے جو دیوبندی فرقے سے نکلنے والے تکفیری گروہ جیسے سپاہ صحابہ پاکستان ہے کھیلتی ہے- یہ غلیظ اور امتیازی فرقہ وارانہ بنیادوں پر شرم دلانے کا عمل شیعہ مسلمانوں کو انہی تکفیری دہشت گردوں کا نشانہ بناتا ہے جنھوں نے پاکستان کے سب ہی مسلمان فرقوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں سے 70 ہزار لوگ قتل کیے- ان دہشت گردوں نے سنّی مسلمان ( بریلوی،دیوبندی اور صوفی)، شیعہ مسلمان، مسیحی، احمدی، سکھ اور ہندؤں پر پاکستان میں حملے کیے

پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا اسقدر بے شرم اور بے حیا ہے کہ دہشت گردی کرنے والوں کی فرقہ وارانہ نظریاتی شناخت کو ہمیشہ چھپاتا رہا ہے- اور جب اس نے زیارات سے آنے والے زائرین کو رگیدنا ہو تو یہ بے شرمی سے ان کی شیعہ مسلمان شناخت کو اچھالتا ہے- یہ مذہبی اور فرقے کی شناخت کو اس وقت لکھتے یا بیان کرتے ہیں جب عراق، شام، یمن اور لیبیا کے بارے میں سی آئی آے کے لفظوں کی جگالی کرنا مقصود ہوتا ہے