Featured Original Articles Urdu Articles

ریاست غریبوں کا بیڑا اٹھانے کی بجائے غرق کرنے میں ماہر ہے – عامر حسینی

پنجاب بھر میں دیہی سطح پر فی یونین کونسل 15 اور میونسپل کمیٹی،مونسپل کارپوریشن اور میٹروپولٹن میں وارڈ لیول پر دس راشن تھیلے پبلک-پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت تقسیم کرنے کا فیصلہ

یونین کونسل میں پندرہ خاندانوں میں فی خاندان ایک راشن تھیلہ مہینے بھر کے لیے تقسیم کیا جائے گا جبکہ وارڈ میں دس خاندانوں میں فی خاندان ایک تھیلہ راشن مہینے بھر کے لیے تقسیم کیا جائے گا

اور یہ تقسیم ایم این اے، ایم پی اے، پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر کی فراہم کردہ لسٹ کے مطابق ہوگی

خانیوال ضلع کی کل آبادی 29 لاکھ ہے جبکہ غربت کی شرح 28 فیصد یعنی سرکار مانتی ہے یہاں 8 لاکھ 12 ہزار غریب لوگ ہیں

تحصیل خانیوال میں 35 یونین کونسل اور خانیوال میونسپل کمیٹی کے 45 وارڈ ہیں- آبادی 856793 ہے جس میں ڈھائی لاکھ کے قریب اربن باقی کے ساڑھے چھے لاکھ سے زیادہ آبادی دیہات میں رہتی ہے- دیہی آبادی میں 144 چکوک ہیں- غربت کی شرح 9 فیصد تو قریب قریب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غریبوں کی تعداد 77 ہزار ہے- اب اس حساب کتاب سے 77 ہزار راشن تھیلے خانیوال میں حکومت کو تقسیم کرنے چاہیں تھے لیکن یہ تحصیل خانیوال میں صرف 750 غریبوں کو مہینے بھر کا راشن پہنچا پائے گی

ایک راشن تھیلہ جس میں مہینے بھر کا راشن ہے کی لاگت قریب قریب 5 ہزار ہے اور اس کا مطلب ہے کہ پہلے مرحلے میں 37 لاکھ 50 ہزار روپے کا راشن 750 خاندانوں میں تقسیم ہوگا اور میری اطلاع کے مطابق اس وقت حلقہ پی پی 206 میں 50 لاکھ روپے کا فنڈ جمع ہوچُکا ہے- لیکن اگر خانیوال کے سب غریبوں میں مہینے بھر کا راشن تقسیم کیا جائے تو اس پر لاگت 38 کروڑ 50 لاکھ روپے آئے گی- یہ رقم پنجاب حکومت کبھی بھی خانیوال کے لیے مختص نہیں کرے گی- اس سے ہم یہ بھی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ موجودہ ریاستی سسٹم تو ایک ماہ کے لیے ایک چھوٹے سے ضلع کی ایک ایسی تحصیل کے کُل غریبوں کو ایک ماہ کا راشن دینے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ یہ اس تحصیل کے اربن ایریا کے 45 بلدیاتی وارڈ کے غریبوں کے ایک مہینے راشن فراہمی کا زمہ نہیں اٹھا سکتا تو یہ سسٹم کیسے پورے صوبے اور پھر پورے مُلک کی غربت کا کیسے خاتمہ کرسکتا ہے

یہ بھی یاد رہے کہ بطور حکومت پنجاب اور وفاق نے 750 راشن تھیلوں کی فراہمی میں کوئی فنڈ نہیں دیا

اس ایک کیس کے پیٹرن پر آپ پورے پنجاب میں غریبوں کو لاک ڈاؤن کے دوران راشن کی فراہمی کی صورت حال کا اندازہ لگالیں

میں لاک ڈاؤن کے پہلے دن سے یہ بات کررہا ہوں کہ اس لاک ڈاؤن نے ہماری ریاست کے حکمران طبقات کی لونڈی ہونے اور غریبوں کے دشمن ہونے کو اور زیادہ ننگا کرکے دکھا دیا ہے