Featured Original Articles Urdu Articles

کرونا وائرس وبا میں کیسے بدلا؟ – تحریر – لی ہمبر- مترجم : عامر حسینی ( آخری حصہ)

 

Marx wrote: “In these prisons, animals are born and remain there until they are killed off. The question is whether or not this system connected to the breeding system that grows animals in an abnormal way by aborting bones in order to transform them to mere meat and a bulk of fat — whereas earlier animals remained active by staying under free air as much as possible — will ultimately result in serious deterioration of life force.”
مارکس نے لکھا: ” ان قید خانوں میں، جانور پیدا ہوتے اور اس وقت تک رہتے ہیں جب تک ان کو ذبح نہیں کردیا جاتا- سوال ہے کیا اس سسٹم کو اس بریڈنگ سسٹم سے جوڑا جاتا یا نہیں جوڑا جاتا جس میں جانوروں کی پرورش ایک ایسے ابنارمل طریقے سے کی جاتی ہے جس میں ہڈیوں کو ختم کردیا جاتا ہے تاکہ ان کو محض گوشت اور چربی کے ڈھیر میں بدل دیا جائے جس کا آخری نتیجہ قوت حیات کی سنگین تباہی کی شکل میں نکلتا ہے- جبکہ پہلے جانور آزاد فضا میں جہاں تک ممکن ہوں چست و چالاک رہا کرتے تھے
Compare this with modern-day industrial poultry production. In 1940, Henry Wallace Jnr developed the first breed of industrially hybridised chicken at Hy-Line International, a spin-off from the agricultural company of his father — former US secretary of agriculture and vice-president Henry Wallace Snr. Within a decade, almost all commercial poultry breeders worldwide produced stock from these hybrids.
اس کا موازانہ جدید زمانے کی انڈسٹریل پولٹری پروڈکشن سے کریں- 1940ء میں، ہنری ولاس جونیئر نے پہلا ہائبرڈائزڈ چکن کی بریڈ ہائے لائن انٹرنیشنل میں تیار کی جوکہ اس کے باپ کی زرعی کمپنی کا ذیلی یونٹ تھا- امریکی سیکرٹری برائے زراعت اور امریکن نائب صدر ہنر؛ ولاس سینئر- دس سل کے اندر اندر، دنیا بھر کے کاروباری پولٹری بریڈرز نے انہی ہائبرڈز سے اسٹاک پیدا کیا
Today, almost 75 percent of the world’s poultry production is in the hands of a few companies. By 2006, there were four primary breeders which engineer the first three generations of “broiler” (chickens for meat) lines, down from 11 in 1989. The ten companies producing layer lines (for eggs) declined to just two over the same period.
آج دنیا کی 75 فیصد پولٹری پروڈکشن چند کمپنیوں کے پاس ہے- 2006ء میں،چار بنیادی بریڈرز تھے جنھوں نے برائلرز لائن(گوشت کے لیے چکن) کی پہلی نسل پیدا کی تھی- اور 1989 میں یہ 11 ہوگئے تھے-جبکہ لئیر لائنز/ انڈے پیدا کرنے والے دس سے کم ہوکر محض دو رہ گئے تھے
The EW (Erich Wesjohann) Group alone controls almost 70 percent of total white egg production in the world. Hendrix Genetics controls 80 percent of brown egg production and has a 50 percent stake in Nutreco which breeds turkeys, broilers and pigs. The Grimaud Group is the second-largest company in avian genetics. Cobb-Vantress, the last of the big-four poultry producers, is owned by Tyson Foods, the world’s largest processor and marketer of chicken meat.
ایرک ویسجوہان گروپ فارمی انڈوں کی کل پیداوار کا 70 فیصد تنہا کنٹرول کرتا ہے- ہینڈرکس جینٹکس براؤن انڈوں کی کل پیداوار کا 80 فیصد کنٹرول کرتا ہے- جبکہ نوٹریکو میں اس کے 50 فیصد سٹیک ہیں جو ٹرکی، برائلر اور سؤر کی بریڈنگ کرتا ہے- گریماؤڈ گروپ ایوی آن جینیٹکس میں دنیا کی دوسری بڑی کمپنی ہے-کوب وینٹریس آخری چار بڑے پولٹری پروڈیوسر میں سے ہے جس کی مالک ٹئی سن فوڈز ہے،جوکہ چکن میٹ/مرغی گوشت کے پروسسر اور مارکیٹر ہیں
Production is strictly and mercilessly controlled to eliminate any unplanned diversity in production. In 2009 a Chicago-based animal rights group, Mercy for Animals, released footage of male layer chicks at a Hy-Line hatchery being fed through a meat grinder. The practice of grinding male layer chicks which, by definition can’t lay eggs, is industry standard.
پروڈکشن/پیداوار سختی سے اور بے رحمی کے ساتھ پیداوار میں کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی کے بغیر اور تنوع سے خالی پولٹری پروڈکشن کو ختم کرنے کے لیے سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے-2009 میں شگاگو کی جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘مرسی فار اینمل’ ہائے لائن انٹرنیشنل ہیچری میں میٹ گرائینڈر سے میل لئیر چکس کو فیڈ کیے جانے کی فوٹیج جاری کی- میل لئیر چکس جو کہ تعریف کی رو سے انڈے نہیں دیتے ان کی گرائنڈنگ انڈسٹری سٹینڈرڈ ہے
Jane Foulton of Hy-Line responded by explaining: “We have very tight financial responsibilities. Lines not performing at required economic levels will be eliminated”. A consequence of this elimination is that global poultry production is characterised by monocultures. Chickens are disabled by breeding from resistance to new viruses, with a limited pool of genes limiting the variety of immune reactions to viruses as they mutate. The likelihood of poultry-human cross-over is therefore increased.
ہائے لائن کے جین فولٹن کہتے ہیں
“ہماری بڑی سخت فنانشل زمہ داریاں ہیں- لائنز جو درکار معاشی سطح پر کارکردگی نہیں دکھا پارہیں ختم کردی جائیں گی-” اس خاتمے کا ایک نتیجہ گلوبل پولٹری پیداوار کی کردار نگاری مونوکلچر سے کرنا ہے- چکن بریڈنگ ان کو نئے وائرسوں کی مزاحمت کے قابل نہیں رہنے نہیں دیتی- ان میں بہت محدود تعداد میں ایسے جین ہوتے ہیں جو ان میں داخل ہونے والے امیون ری ایکشن/مدافعتی ردعمل کی ورائٹی کو محدود کردیتی ہے- اور اسی ليے پولٹری سے انسانوں کے اندر وائرس منتقل ہونے میں اضافہ ہوگیا ہے
Animals are raised in large “factory farms” in appalling conditions. Broilers are fattened in barns of tens of thousands of birds. The chickens have been bred to gain weight rapidly — meaning quicker turnover and higher profits — with outsize breasts reflecting the preference for white meat.
جانوروں کو بڑے فیکڑی فارم میں برے حالات میں رکھا جاتا ہے- برائلر کو دسیوں ہزار پرندوں کے ساتھ گوداموں میں بند رکھا جاتا ہے- چکن کو تیزی سے وزن بڑھانے اور ان کی چیسٹ کو حد سے بڑے ہوئے سائز کے ساتھ پالا جاتا ہے، اس سے وائٹ میٹ کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے تاکہ تیزی سے ٹرن اوور بڑھے اور بلند شرح منافع حاصل ہو
They are inactive because so much of the energy they consume is converted to growth and spend most of their lives sitting on the floor as manure accumulates during a growing cycle — usually losing breast feathers and developing sores because of the constant contact with manure.
وہ سست رہتے ہیں کیونکہ جو توانائی وہ جذب کرتے ہیں وہ تو گروتھ میں بدل جاتی ہے اور ان کی زیادہ زندگی تو فرش پر بیٹھے گزرجاتی ہے جس سے گروتھ سائیکل کے دوران ان کے اندر گوبر جمع ہوتا رہتا ہے- عام طور پر وہ بریسٹ کے قریب پروں سے محروم ہوجاتے ہیں اور گوبر سے مسلسل جڑے رہنے سے ان پر گھاؤ پڑجاتے ہیں
Barns are cleaned out only after the chickens have been shipped, but the manure may remain for the next group of chickens with only a thin layer of fresh litter such as wood chips placed on top of the old.
گوداموں کو صرف اسی وقت صاف کیا جاتا ہے جب چکن کو جہازوں پر لادھ دیا جاتا ہے لیکن نئی آنے والی مرغیوں کے گروپ کے لیے گوبر ایک پتلی سی تازہ گندگی کے ساتھ ایسے پڑی رہ جاتی ہے جیسے لکڑی کی پرانی چپ کے اوپر نئی چپ رکھ دی جاتی ہیں
Raised mostly in dim light (companies may forbid natural lighting) these chickens have a six-to-eight-week life spent entirely in the barn. They are fed a diet laced with additives such as antibiotics which enhance growth, but many die in the crowded conditions. Most commercial-grade poultry feed is laced with arsenic to keep bird flesh pink through shipment and sale.
کم روشنی میں زیادہ تر پہلنے والی مرغیاں چھے سے سات ہفتے کی ساری زندگی گودام میں گزارتی ہیں- ان کو ایسی خوراک کھھلائی جاتی ہے جس سے اینٹی بائیوٹکس چپکائی گئی ہوتی ہے تاکہ گروتھ میں استحکام رہے- لیکن بہت ساری مرغیاں ہجوم والی حالت میں ہونے کے سبب مرجاتی ہیں- اکثر کمرشل گریڈ پولٹری فیڈ آرسینک سے ملی ہوتی ہے تاکہ شپمنٹ اور فروخت کے دوران پرندے کا گوشت پنک/گلابی رہے۔
These are ideal circumstances in which to encourage what Wallace calls a “veritable zoo” of new viruses, especially flu viruses. Key to the evolution of virulence is a supply of susceptible hosts. As long as there are enough hosts to infect, a virus can evolve. Industrial livestock are therefore ideal populations for supporting virulent pathogens.
یہ وہ مثالی حالات ہیں جس میں نئے وائرسوں خاص طور پر فلو وائرسوں کی تصدیق کرنے والے چڑیا گھروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے- وبا کے ارتقاء کی کلید مشکوک میزبانوں کی سپلائی ہے- جتنی دیر تک انفیکٹ ہونے کے لیے کافی میزبان رہتے ہیں، ایک وائرس کا نمودار ہونا ممکن ہوتا ہے- انڈسٹریل لائیو سٹاک اس لیے وبائی امراض کو مدد دینے کے آئیڈیل آبادی ہیں
Genetic monocultures of animals remove whatever immune firebreaks may otherwise slow transmission. Large population sizes and densities facilitate greater rates of transmission. Crowded conditions depress immune responses. Fast turnover of livestock provides a continually renewed supply of susceptible hosts.
جانوروں کا جینٹک مونوکلچر امیون فائربریکس کو ہٹادیتے ہیں ورنہ دوسری صورت میں یہ وائرس کی منتقلی کو آہستہ کردیتے ہیں- بڑی آبادی بلحاظ جسامت اور گنجانی کے منتقلی کی شرح کو زیادہ کرنے میں سہولت کار کا کام دیتی ہے- ہجومی حالات امیون رسپانس کو دبادیتے ہیں- لائیوسٹاک کا تیز تر ٹرن اوور مسلسل مشکوک میزبانوں کی نئی سپلائی فراہم کرتی ہے
Influenza infections must reach their transmission threshold quickly in any animal, before the chicken, duck or pig is killed because as soon as industrial animals reach the right bulk they are slaughtered. Innovations in production, such as reducing the age at which chickens are processed from 60 to 40 days, have increased the pressure on viruses to reach their transmission threshold faster.
انفلوئنزا انفیکشن کسی بھی جانور میں ٹرانمیشن کی جگہ پر پہنچ جاتی ہے اس سے پہلے مرغی،بطخ یا سؤر کو ذبح کردیا جائے کیونکہ جتنی جلدی انڈسٹریل جانور مطلوبہ معیار ک پہنچتے ہیں ذبح کردیے جاتے ہیں- پیداوار میں جدت جیسے مرغیوں کی 40 سے 60 دنوں تک پروسس کرنے کی شرط کو کم کرنا نے وائرسوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ زیادہ تیزی سے اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچ جائیں
Culling once a virus infection occurs is not the answer. Rapid culling of whole flocks or herds in response to viruses fails to allow for selection of host resistance to the circulating strain, killing off animals with potential immune reactions so that repeated invasion occurs.
Industrial practices inherent in the capitalist mode of production, now globalised and intensified by 50 years of neoliberalism, are actively breeding more and more virulent and deadly pathogens. This pattern of epidemics is not accidental. It is a consequence of the way the food we eat is produced.
ایک بار جب وائرس انفیکشن جنم لے لیتی ہے تو بے ہنگم خاتمے کا طریقہ اس کا جواب نہیں ہے- بے ہنگم جانوروں کے ریوڑ یا باڑوں کو ختم کرنے کا عمل ان جانوروں کو بھی مار ڈالتا ہے جو وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے والا امیون سسٹم رکھتے ہیں اور اس طرح سے سے وائرس کو روکنے میں ناکام ہوجاتے ہیں- ممکنہ امیون سسٹم رکھنے والے جانوروں کے قتل کرنے سے
What can we do? Are more anti-virus vaccines the answer? This is the dominant paradigm, what Wallace calls ‘a molecular narrative’ that suggests disease and ill-health is about the fight between viruses and immunity, about viral evolution and humanity’s capacity to produce vaccines, about nature versus science.
ہم کیا کرسکتے ہیں؟ کیا زیادہ سے زیادہ اینٹی وائرس ویکسیئن اس کا جواب ہیں؟ یہ غالب پیراڈائم ہے، جسے ولاس ‘مالیکولر بیانیہ’ کہتا ہے جو بیماری اور خراب صحت کو وائرس اور مدافعتی/امیون سسٹم کے درمیان لڑائی ہے، وائرل ارتقا اور انسان کی ویکسیئن پیدا کرنے کی صلاحیت بارے جنگ ہے اور ایسے یہ فطرت بمقابلہ سائنس کی جنگ ہے
It’s a narrative that big pharmaceutical corporations such as Bayer — a leading manufacturer of pesticides, herbicides and insecticides and, after its billion-dollar take-over of Monsanto, the world’s biggest seed company — are happy with.
یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جس سے بڑی فارماسیوٹکل کارپوریشنیں جیسے بائر ہے جو پیسٹی سائیڈز، ہرب سائیڈز، انسیکٹی سائیڈز مینوفیکچرنگ کی لیڈنگ کمپنی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے اربوں ڈالر کمانےوالی مونسانتو جو دنیا کی سب سے بڑی سیڈ کمپنی ہے ۔۔۔ خوش ہیں
First, they sell us food that makes us ill, the production of which generates a deadly viral-epidemic threat. Then they sell us the drugs to make us well again. It’s insulting nonsense. Drugs are as effective in addressing the general health-and-wellbeing needs of humanity as catalytic converters are to the pollution of the planet.
پہلے تو وہ ہمیں خوراک بیچتی ہیں جو ہمیں بیمار کرتی ہیں، جن کی پروڈکشن/ پیداوار ہلاکت وائرل وبائی خطرہ پیدا کرتی ہے- پھر وہ ہمیں ایسی دوائیں بیچتے ہیں جو دوبارہ ہمیں ٹھیک کردیں- یہ ذلت آمیز حماقت ہے- دوائیں عمومی صحت اور بہتری کے لیے موثر ہوتی ہیں جو انسانیت کی ضرورت ہیںکیونکہ عمل انگیزی پر مبنی کنورٹرز کرہ ارض کو آلودہ بناتے ہیں
We know the answer. We need to end factory farming and industrial agriculture which strips the earth of forests and leaches the soil of natural nutrients, and replace these practices with planned, collectivised, safe and humane mass-livestock and agricultural practices that are sustainable and provide us with the nutrition we need.
ہم جواب جانتے ہیں- ہمیں فیکٹری فارمنگ اور انڈسٹری ايگری کلچرل کے ان طریقوں کے خاتمے کی ضرورت ہے جو کرہ ارض سے جنگلات، قدرتی غذائی اجزا سے ملی مٹی کو نیست و نابود کرتے ہیں اور ان طریقوں کو ہٹاکر منصوبہ بند، اجتماعی، محفوظ اور انسان دوست اجتماعی لائیوسٹاک اور زراعت بانی کے طریقوں کو لانے کی ضرورت ہے جو مستحکم ، پائیدار بھی ہیں اور ہمیں وہ غذائیت فراہم کرتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے
We are prevented from doing this not by any lack of knowledge or need, but by the ownership of the means of food production by a tiny minority of obscenely rich capitalists. They and their class have a vested interest in maintaining these unhealthy and potentially deadly food-production systems. For them to give up this ownership would be for them to give up themselves. For the good of humanity, we need to take these systems away from them.
ہم ایسا کرنے سے روک اس لیے نہیں دیے جاتے کہ علم کی کمی ہے یا ان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ فوڈ پروڈکشن کے جو زرایع ہے ان کی ملکیت ایک جھوٹی سے نہ دکھائی دینے والی سرمایہ دار مخلوق کے پاس ہوتی ہے جو ایسا کرنے سے ہمیں روکتے ہیں- وہ اور ان کا طبقاتی مفاد ان غیر صحتمندانہ اور بالقوہ طور پر ہلاکت انگیز فوڈ پروڈکشن سسٹم پر ہے- ان کے لیے ان کی ملکیت کو چھوڑدینے کا مطلب خود اپنے آپ کو چھوڑ دینا ہے- انسانیت کی بھلائی کے لیے ہمیں ان نظاموں سے دور ہونا ہوگا