Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان میں لاک ڈاؤن اور غریب – عامر حسینی

پاکستان کی کُل آبادی 19 کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہے اور غربت کی شرح ہے 24 فیصد، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کُل غریبوں کی تعداد چار کروڑ، 72لاکھ 80 ہزار اور وفاقی حکومت لاک ڈاؤن کے دوران 200 ارب روپے کا پیکج غریبوں کے لیے لائی ہے تو یہ 4230 روپے فی کس بنتے ہیں یومیہ فی غریب 141 روپے بنتے ہیں

پنجاب کی کُل آبادی 110,012,442 (11 کروڑ، 12 ہزار 442) ہے اور غربت کی شرح 31.4 فیصد ہے یعنی پنجاب میں کُل غریب لوگ 34,543,906.788(3کروڑ،45 لاکھ 43ہزار 788) بنتے ہیں- دو کھرب روپے کے پیکج میں پنجاب کے حصے میں 4,905,234,763.896(4 ارب،90کروڑ،52لاکھ،34ہزار،7سو،63 روپے) آئیں گےذ

اور پنجاب کے اس وقت کُل 36 اضلاع ہیں اور اس وقت ضلعی ایڈمنسٹریشن ضلع میں روزانہ کی بنیاد پر ہزار سے دو ہزار راشن بیگ غریبوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں یعنی سارے پنجاب میں روزانہ کی بنیاد پر 36 ہزار یا 72 ہزار راشن بیگ تقسیم ہوں گے

یعنی صرف 36 ہزار یا 72 ہزار غریب پورے پنجاب میں روزانہ راشن بیگ لے پائیں گے

جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع کی آبادی پونے تین کروڑ کے قریب ہے اور ہر ضلع میں غربت کی شرح ڈبل ہندسوں میں ہے، سب سے زیادہ راجن پور میں ہے جہاں یہ 44 فیصد ہے جبکہ بہاولنگر، مظفرگڑھ میں 41 فیصد و 40 فیصد ہے، جبکہ ملتان، لودھراں، لیہ، ڈی جی خان، وہاڑی، خانیوال بہاول پور رحیم یار خان میں 28، 28، 31، 36، 37، 28، 30، 36 فیصد ہے

جنوبی پنجاب میں ضلعی ایڈمنسٹریشن پبلک – پرائیویٹ چئیرٹی کی بنیاد پر جو راشن تقسیم کرنا چاہتی ہے وہ تحصیل سطح پر 1000 یا ضلعی سطح پر چار ہزار ہے- اب اگر راجن پور ضلع کو لیں جس میں غربت کی شرح 44 فی صد ہے تو یہ راجن پور کی کُل آبادی میں سے 8 لاکھ 36 ہزار افراد غریب بنتے ہیں، گویا لاک ڈاؤن کی صورت میں کم از کم ہر روز 8 لاکھ 36 ہزار راشن بیگ تقسیم کرنے ہوں گے، ایسے ہی خانیوال جس کی آبادی 29 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور غربت کی شرح ہے 28 فیصد گویا ضلع میں 812000 غریب ہیں اور راشن بیگ ہیں 3200 یا 4000 اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہی‍ں لاک ڈاؤن کے دوران پنجاب میں ضلعی سطح پر کتنے غریب خاندانوں تک پہنچا جاسکے گا

اب اگر اس کے مقابلے میں آپ حکومت کی ٹیکسٹائل، سمینٹ، شوگر، فلور ملز، سٹاک ایکسچینج بروکرز، امپورٹرز، ایکسپورٹرز ،بینکرز کو دی جانے والی سبسڈیز سے کیا جائے تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے والا اقدام سمجھا جائے گا

 پنجاب میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ غریب لوگوں کا ہے اور وفاق و صوبے کی لاک ڈاؤن کے دوران چئیرٹی اور مالی پیکج کی جو حثیت ہے وہ کسی مذاق سے کم نہیں ہے، ایسے ہی سندھ کے اعداد و شمار بھی ہیں- اگرچہ سندھ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفیکشن کے زریعے سندھ کے اندر سرکاری اور پرائیویٹ چھوٹے بڑے اداروں اور کاروبار میں کام کرنے والے ڈیلی ویجرز کو ان کی روزانہ اجرت کا ان کے مالکان کو پابند بنایا ہے لیکن مجھے شک ہے کہ نجی شعبے میں اس نوٹیفیکشن کے زریعے ڈیلی ویجرز کی اجرت کو یقینی بنایا جاسکے گا- ایسے ہی سندھ کے سب ہی غریبوں کے گھروں میں راشن پہنچانے کا معاملہ بھی مشکوک ہی لگتا ہے۔

سندھ کی کل آبادی 478 ملین یعنی 4 کروڑ 78 لاکھ ہے- غربت کی شرح 43 فیصد ہے- یعنی سندھ میں 2 کروڑ 59 لاکھ ،980 افراد غریب ہیں- سندھ کی شہری آبادی میں 25 فیصد اور دیہی آبادی میں 75 فیصد غربت ہے- اگر ان سب غریبوں کو 2 کھرب کے پیکج میں سے فی کس 4142 روپے دیے جائیں تو یہ 85 ارب،6 کروڑ78 لاکھ39 ہزار 160 روپے بنیں گے

کراچی ساؤتھ 11 فیصد، کراچی ایسٹ 12 فیصد، کراچی سنٹرل 11 فیصد،کراچی ویسٹ 18 فیصد،کراچی ملیر 20 فیصد،حیدرآباد62۔36 فیصد،میرپور خاص 97۔47 فیصد،دادو 20۔50،سانگھڑ 57۔50 فیصد،لاڑکانہ 4۔55 فیصد، ٹنڈوالہیار 64۔60 فیصد،مٹیاری 67۔61 فیصد،شہید بے نظیرآباد 84۔65 فیصد،شکارپور93۔65 فیصد،عمرکوٹ66فیصد،خیرپور81۔53،گھوٹکی 54فیصد،تھرپارکر 54 فیصد،بدین67 فیصد،ٹنڈو محمد خان 70فیصد،ٹھٹھہ 72فیصد، جامشورو 54 فیصد،سکھر 54 فیصد،نوشہروفیروز 67 فیصد،جیکب آباد 68 فیصد،شکار پور 78 فیصد،قمبر شداد کوٹ 69 فیصد،سجاول 60 فیصد، کورنگی 12 فیصد غربت ہے

حکمران طبقات اور ان کی خادم ریاستی مشینری کو بھاڑ میں جھونکے بغیر نجات نہیں ملے گی

پنجاب میں آج لاک ڈاؤن کا چھٹا روز شروع ہوگیا- کل جمعرات دوپہر سے موسلادھار بارش شروع ہوئی تو ابتک اس کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور پورے شہر اور اس کے گرد و نواح کی اکثر سڑکیں زیر آب آگئی ہیں اور کئی نشیبی علاقوں کے اندر گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے اور کئی جگہوں پر سیوریج کا پانی باہر نکل آیا ہے- پورے شہر میں شام کے وقت سے بلدیہ کا عملہ غائب ہے- زیر زمین سیوریج ڈالنے کے ساتھ ساتھ شہر میں پانی کی نکاسی کے لیے بنے کھلے نالوں اور نالیوں کا سسٹم اکثر جگہوں پر بند کرنے کے سبب پانی سڑکوں پر کھڑا ہے

اندرون شہر کے 16 بلاک کی قریب قریب نوے سے زائد گلیوں میں سیوریج زیرزمین نہیں بلکہ نالیوں کے زریعے بازار سے گزرنے والی زیر زمین سیوریج میں گرتا ہے اس لیے نوے کے قریب گلیوں میں پانی اس طرح نہیں کھڑا جس طرح یہ مرکزی بازاروں اور آس پاس کے علاقوں میں کھڑا ہے- مستقل بنیادوں پر شہر کا سیوریج سسٹم درست کرنا اور نکاسی آب کو بہتر بنانے کی لانگ ٹرم پالیسی ٹاؤن پلاننگ کے شعبے کی اولین ترجیح ہونی چاہئیے لیکن یہ ترجیح کہیں بھی نظر نہیں آتی- انتظامیہ کے پاس آج ایک واضح عذر موجود ہے کہ ‘کورونا وائرس’ سے بچاؤ کے لیے وہ دن رات مصروف ہے لیکن جب یہ آفت سامنے نہیں تھی تب بھی اس طرف توجہ کم ہی تھی

کسی بھی ضلع اور اس کی تحصیلوں میں اگر ڈپٹی کمشنر، اے ڈی سی ز، اے سی ز، ڈی پی او، سیشن جج اور سول ججز اور ایم این ایز و ایم پی ایز کے اپنے گھروں کے اندر سیوریج کا پانی داخل ہوتا ہو اور ان کے سامنے سڑک زیر آب آکر ان کے گھروں کے اندر پانی جانے لگ جائے اور گندگی کے ڈھیر ان کے گھر کے سامنے لگے ہوں اور گندے پانی کے جوہڑ کے سامنے ان کو رہنا پڑے تو یقینا ایسے مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل نکالا جائے گا- لیکن جب ضلع کے ان صاحبان اختیار کو ایسے مسائل سے گزرنا ہی نہ پڑے تو پھر عام آدمی ان مسائل سے دوچار ہی رہتا ہے

شہر خانیوال میں لاک ڈاؤن کا آج پانچواں روز ہے- پہلے تین دن سول انتظامیہ اپنے طور پر لاک ڈاؤن کے لیے سرگرم رہی، اس دوران آٹے کی کنٹرول ریٹ پر سیل اور یوٹیلیٹی اسٹور سے آٹا غائب ہونے کی شکایات موصول ہوئیں، چوتھے روز پاک فوج کے جوانوں نے بریگیڈیئر صاحب کی قیادت میں ہر فلور مل اور آٹے کے کے سیل پوائنٹ پر نگرانی کے فرائض سرانجام دیے- شہر کے حلقہ پی پی 206 سے ایم پی اے نشاط احمد خان ڈاہا جن کی اپنی فلور مل ہے سے میری لاک ڈاؤن کے چوتھے روز ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ فوج کے نوجوان علی الصبح اُن کی فلور مل پر آئے اور 1300 بیگز ٹرالی پر لدھواکر اپنی نگرانی میں پرانی سبزی منڈی میں جامعہ عنایتیہ پارک میں لے گئے اور انھوں نے خریداری کرنے والوں کے درمیان جسمانی دوری قائم رکھتے ہوئے ڈسپلن سے آٹے کے کنٹرول ریٹ پر فروخت کو یقینی بنایا، اس موقعہ پر وہاں پر اے سی خانیوال، تحصیل دار اور دیگر سویلین عملہ فوجی جوانوں کی پیروی کرتا نظر آیا

نوٹ: فزیکل ڈسٹینس خود افسران کے درمیان نظر نہیں آیا اور نہ ہی کئی ایک موقعہ پر ماسک نظر آئے

لاک ڈاؤن کے پہلے روز بقول ایم پی اے نشاط احمد خان ڈاہا سول ایڈمنسٹریشن سے پولیس کی مدد سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن کیا تو صرف تھانہ سٹی خانیوال کی بیرک میں 30 سے زائد لوگوں کو لاکر بند کردیا گیا اور یوں چھے فٹ کی دوری پر رہنے کی حفاظتی تدبیر خود اپنے ہاتھوں سے پامال ہوگئی لیکن ایم پی اے نشاط ڈاہا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈی سی کی توجہ اس خرابی کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ ان کو یا تو جرمانے کریں یا ضمانت پر رہاکرکے چھوڑ دیں

لاک ڈاؤن کے چوتھے روز خانیوال کے ہر چوک اور بازار میں اہم مقامات پر فوجی جوان تعینات ہوئے جو ڈبل سواری کرنے والوں کو تنبیہ کرکے جانے دے رہے تھے اور ماسک و دستانے پہننے کی ترغیب دے رہے تھے، اُن کا رویہ بھی بہت شائستہ تھ

یہ مناظر دیکھ کر لوگوں کے زہنوں میں یہ سوال ضرور جنم لے رہا تھا کہ سول ایڈمنسٹریشن اپنے طور پر بھی یہ سب کام سنبھال سکتی تھی اور فوجی جوان بیک اپ اور ریزرو فورس کے طور پر موجود رہتے……. اس قدر گراس روٹ لیول پر سول ایڈمنسٹریشن کی عسکری ہئیت مقتدرہ کے سامنے کمزوری ہماری پوری سول نوکر شاہی کو لگے روگ کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہے- اور پنجاب میں تو کورونا وائرس کے خلاف لاک ڈاؤن کی تدبیر کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے لیے عملا عسکری ایڈمنسٹریشن کو ہی معاملات اپنے کنٹرول میں لینے پڑے ہیں

ویسے ایک تو انفارمیشن کی طرف سے ملنے والی فوٹیج اور تصویروں میں نہ تو

physical distance

نظر آیا اور نہ ہی چہرے پر ماسک نظر آئے

میری فیس بُک وال کے سکرین شاٹ لیکر جو مہربان دوست پنجاب حکومت کے افسران کو بھیج رہے ہیں، اُن سے گزارش بس اتنی سی ہے کہ میں آپ. وٹس ایپ پر فعال رہتا ہوں اور میرے بنائے ہوئے گروپس میں قریب قریب ہر قابل زکر سول و عسکری نوکر شاہی کا وٹس ایپ ہے اور اُن سے متعلق ہر پوسٹ خود بھیجتا رہتا ہوں تو خوامخواہ کی تکلیف مت اٹھایا کریں