Original Articles Urdu Articles

لاکھوں ڈیلی ویج ورکنگ کلاس کیا بھوکوں مرجائیں؟ – عامر حسینی

یہ ایک نمونہ ہے جس سے پورے پنجاب میں لاک ڈاؤن کے دوران دیہاڑی دار/ڈیلی ویج مزدوروں کے بارے میں حکومت کے بے رحمان رویہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

اس وقت پورے پنجاب میں فوڈ پروڈکشن انڈسٹری کو چھوڑ کر ساری انڈسٹری، بڑے شاپنگ مال، چھوٹے بڑے ہوٹل اور درمیانے و بڑے درجے کے کاروبار بند ہیں، یہاں پر کام کرنے والے اکثر ملازمین ڈیلی ویج ہیں کیونکہ پنجاب میں پورے ملک کی طرح کل لیبر فورس کا 76 فیصد انفارمل سیکٹر میں کام کرتا ہے اور اس انفارمل لیبر کا اگر 50 فیصد بھی بے روزگار ہوگیا ہے کیونکہ ڈیلی ویج ورکنگ کلاس کے کوئی اعداد و شمار نہ تو پنجاب کے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہیں اور نہ ہی ڈسٹرکٹ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہیں، ایسے میں ڈیلی ویج مزدوروں کو کیسے ریلیف ملے گا؟ یہ میکنزم تو خود حکومت کے پاس اب تک نہیں ہے

اب زرا غور کریں پنجاب کے ضلع کا ہر ڈپٹی کمشنر اگر یہ اعلان کرے کہ ضلع حکومت کے پاس تین ماہ کی گندم کا سٹاک ہے اور نئی فصل تیار ہے اور وہ 22 ہزار سے گندم کا کوٹہ 29600 کرنے والی ہے تو یہ گندم سے آٹا فلور ملیں 400 روپے فی دس کلو بیگ فروخت کریں گی یعنی 40 روپے فی کلو آٹا، سبزیاں اور دیگر اشیائے خورد و نوش مفت تو آنی نہیں، سبسڈائزڈ بھی ہو تو پیسے درکار ہوں گے خریدنے کے لیے؟

ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع کے لوگوں کو یہی بھاشن دے جو خانیوال کے ضلع کے سید بادشاہ نے اپنی عوام کو دیا ہے ( میں زاتی طور پر جانتا ہوں کہ یہ شخص اپنی تنخواہ اور اپنی زمینوں کی آمدن سے غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتا ہے، شریف آدمی ہے لیکن یہ پنجاب بیوروکریسی کا ضلعی پرزہ ہونے کے کارن یہ سچ بولنا اس کے بس میں نہیں ہے کہ پنجاب حکومت اس صوبے کے ڈیلی ویج ورکرز کو فاقوں سے مرنے سے بچانے کے لیے تمام وسائل کا رخ لاک ڈاؤن کی معاشی تباہی کا شکار ورکنگ کلاس کی طرف موڑنے سے تاحال انکاری ہے.)

اس سے روزانہ اجرت پر زندہ رہنے والوں کے لیے آٹا اور اشیائے ضرورت خریدنا ممکن ہی نہیں ہوگا جب جیب میں پیسے نہیں ہوں گے

زاتی خیرات اور امداد کس قدر کارآمد ہوسکتی ہے اس کا اندازہ خانیوال شہر میں اب تک جمع ہونے والے چندے سے ہوسکتی ہے کہ ایک کروڑ روپے کا ہدف یہ سات دن میں اکٹھا نہیں کرپائے جبکہ اس ضلع میں ایشیا کا سب سے بڑا ملک پاؤڈر پلانٹ نیسلے نے لگا رکھا ہے جبکہ اس شہر میں کھرب پتی، ارب پتی، کروڑ پتی، لکھ پتیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے