Featured Original Articles Urdu Articles

میڈیا گروپوں کی جعل سازیاں – عامر حسینی

میڈیا گروپ بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرح جعلی آؤٹ سورس کمپنیاں بناتے اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کرتے ہیں تاکہ صحافی ویج بورڈ ایوارڈ کے حقدار نہ بن سکیں اور برطرفی پر براہ راست میڈیا مالک پر مقدمہ نہ دائر کرسکیں

جنگ – جیو میڈیا گروپ میں شکیل الرحمان کے زیادہ تر ملازم صحافی ‘صحافی’ کی کیٹگری میں اسی وجہ سے شمار نہیں ہوتے کہ وہ براہ راست شکیل الرحمان کے میڈیا گروپ کی بجائے جعلی آؤٹ سورس کمپنیوں کے ملازم ہیں

اب زرا اُن نام نہاد بائیں بازو کے صحافیوں، سیاسی کارکنوں سے پوچھا جائے جو میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو حکمران طبقات کی باہمی سرپھٹول کا نتیجہ بتانے کی بجائے اسے میر شکیل کی آزادی صحافت کے لیے جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں کہ ایک جعل ساز میڈیا مالک جو اپنے ملازم مزدور صحافیوں کو اجرتی غلام بنائے اور جو معاوضہ اور مراعات اسے ویج بورڈ ایوا رڈ سے ملنے ہیں اُس سے محروم رکھنے کے لیے جعل سازی کرتا ہو تو اُس کے جلوس نکالنا اور اُسے ھیرو بنانا کون سی ترقی پسندی اور کون سی انسان دوستی اور لیفٹ کے کس اصول کے مطابق ہے؟

کمرشل لبرل اور بوتیک لیفٹ جن میں سرفہرست لاہور میں امتیاز عالم ہے، کراچی میں مظہر عباس ہے، ایسے ہی ڈان میڈیا گروپ کا وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو، مبشر زیدی ہیں اور پھر ایسے ہی کالعدم تنظیموں کا یار اور بے پیندے کا لوٹا حامد میر اور آج ٹی وی کی اینکر عاصمہ شیرازی ہے

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے لاہور میں کہ بائیں بازو کے ایکٹوسٹ فاروق طارق، لندن میں ہمارے استادوں کے استاد پروفیسر محمد امین مغل سمیت کئی درجن بھر ایسے لیفٹ ایکٹوسٹ ہیں جنھوں نے بجائے میڈیا مالکان کے خلاف تحریک منظم کرنے کے میڈیا مالک کے حق میں احتجاج کررہے ہیں

لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، رحیم یار خان، سکھر، حیدرآباد میں میڈیا گروپوں میں جو صحافی آؤٹ سورس کمپنیوں کے ملازم ظاہر کیے جاتے ہیں اُن کو براہ راست میڈیا کمپنیوں کا ملازم صحافی ہونے کا لیٹر جاری ہو، برطرف صحافی واپس نوکری پر لیے جائیں اور جن کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اُن کی تنخواہ جاری ہو