Featured Original Articles

کون سی طاقت تھی وہ جس نے مبشر حسن کو پی ایم اے کی تحریک کے دوران مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تھا؟ – محمد ضرار یوسف

ڈاکٹر مبشر حسن ننانوے سال کی عمر پا کے وفات پا گئے ۔ وہ پاکستان کی سیاست کے عینی شاھد تھے

ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ھوئے اور 30۔ نومبر 1967 کو پیپلز پارٹی کا تاسیسی اجلاس ان کے مکان واقعہ گلبرگ پہ منعقد ھوا ۔ پارٹی کی تنظیم سازی کے سلسلے میں ان کو لاھور کا صدر تعینات کیا گیا ۔ مرکزی حکومت کی تشکیل کے بعد انہوں نے وزارت خزانہ اور پلاننگ ڈویلیپمنٹ کی وزارت پہ مورخہ 24۔ دسمبر 1971 سے 22۔ اکتوبر تک اس عہدے پہ فائز رھے

اکتوبر 1974 کو وزارتوں سے علیحدہ ھوگئے اور پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا

ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے اپنی وزارت کے دوران صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کے لئے بڑی جرات ایمانداری ۔ دیانتداری ۔ قابلیت ۔ اور بہادری سے فرائض ادا کئے

وہ ایک نظریاتی راھنماء تھے اور پارٹی جنرل سیکریٹری کے طور پر ایک موزوں انتخاب بھی تھے مگر ان کا مزاج جلد برھم ھوجاتا تھا ۔ اس لئے کارکنان کے ساتھ قریبی تعلق قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ھوئے ۔ ان کو جے اے رحیم کی پارٹی سے علیحدگی کے بعد جنرل سیکریٹری بنایا گیا تھا ۔ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کو ایوبی آمریت کے خلاف تحریک کے دوران ان کو شاھی قلعہ لاھور میں نظر بند رکھا گیا

مارچ 1977 کو پی این اے کی تحریک کے بعد اچانک پارٹی کی جنرل سیکریٹری شپ سے مستعفی ھونے کا فیصلہ کیا تو ڈاکٹر مبشر حسن کو سمجھانے بجھانے کے لئے شیخ محمد رشید مرحوم کو ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھیجا ۔ شیخ محمد رشید صاحب نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کی بہت منت سماجت کی کہ وہ استعفی نہ دیں ان کا مستعفی ھونا پی این اے کی تحریک کو جلا بخشے گا ۔

اسی سلسلے میں ایک دفعہ شیخ محمد رشید صاحب , ڈاکٹر مبشر صاحب کے پاس گئے تو ان کے پاس رفیع رضا صاحب بھی تشریف فرما تھے

وہ 1971 کے بننے والی کابینہ میں بھٹو صاحب کے وزیر بھی رہ چکے تھے ۔ شیخ محمد رشید صاحب جب ڈاکٹر مبشر حسن کو مستعفی نہ ھونے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کر رھے تھے تو رفیع رضا صاحب نے مداخلت کرتے ھوئے کہا ” اس حکومت میں ڈاکٹر صاحب کیسے گزارہ کر سکتے ھیں ۔ جہاں جاگیرداروں کی اکثریت ھے ۔ ڈاکٹر صاحب ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ۔ ” رفیع رضا صاحب نے شائد یہ الفاظ شیخ محمد رشید صاحب کے جذبات ابھارنے کے لئے کہے تھے ۔ لیکن شیخ صاحب گویا ھوئے ۔ ” جبکہ ڈاکٹر صاحب وزارت اور بحثیت سیکریٹری جنرل ساڑھے پانچ سال بھٹو صاحب کے ساتھ جاگیرداروں کے ھم نشین رھے ھیں تو پی این اے کی موومنٹ کے دوران ان کو کیوں یاد آیا کہ اب میں بھٹو صاحب کے ساتھ نہیں چل سکتا

 
ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے ایک نیا موقف پیش کیا کہ میرا بھائی مصر میں بیمار ھے میں اس کی عیادت کرنے مصر جانا چاھتا ھوں ۔ اس ساری گفتگو پر مبنی رپورٹ جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی خدمت میں پیش کی تو بھٹو صاحب نے کہا کہ مبشر چھٹی لے کر مصر چلا جائے ۔ مگر ڈاکٹر مبشر حسن نہ مانے اور مستعفی ھوگئے ۔ گو کہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ان کا استعفی منظور نہ کیا اور وہ پانچ جولائی 1977 تک وزیراعظم کے معاون براے سائنس و ٹیکنالوجی رھے

ڈاکٹر مبشر حسن اپنے سینے میں یہ راز لئے آج زمین میں دفن ھو جائیں گے کہ ان کو کس طاقت نے اپنے دوست سیاسی لیڈر سے بے وفائی پہ مجبور کیا