Featured Original Articles Urdu Articles

آزادی صحافت مگر کونسی؟ – عامر حسینی

پاکستان میں آزادی سے صحافت کرنے کی راہ میں سب سے پہلی روکاوٹ اخبارات اور ٹی وی چینل کے مالکان ڈالتے ہیں جو پاکستان کے حکمران طبقات کے درمیان پاور اور غلبے کی لڑائی میں تقسیم فریقوں میں کسی ایک فریق کا حصّہ بن کر ‘آزادی صحافت’ کی ایسی تعریف وضع کرتے ہیں جس کا حقیقی آزادی صحافت سے دور پار کا رشتہ نہیں ہوتا-

آزادی صحافت کے راستے کی دوسری بڑی دیوار ان مالکان کی وضع کردہ تعریف کے مطابق آنے والے صحافتی مواد کو ایڈیٹ کرنے والے گروپ ایڈیٹرز، ایڈیٹرز، رپورٹرز، اینکرز، تجزیہ نگار اور کالم نگار ہوتے ہیں

اس وقت پاکستان میں آزادی صحافت کی دو تعریفیں غالب ہیں

ایک تعریف کی رو سے ہر وہ صحافی آزادی صحافت کا علمبردار ہے جو سلطنت شریفیہ کی بحالی چاہتا ہے- یہ تعریف میر شکیل الرحمان، امبر سہگل، حمید ہارون, وامق زبیری,رمیزہ مجید نظامی جیسے میڈیا مالکان کی مرتب کردہ ہے

دوسری تعریف کی رو سے آزادی صحافت کا علمبردار ہر وہ صحافی ہے جو سلطنت شریفیہ کی بحالی کے خلاف سرگرم اسٹبلشمنٹ کے طاقتور بلاک اور اس کے موجودہ لاڈلوں کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ گروہ ‘حب الوطنی’ کے نام پر محکمہ زراعت کے ہر اقدام کی حمایت کو فرض کو خیال کرتا ہے- یہ تعریف ميڈیا مالکان سلمان اقبال، شعیب، میآں محمد رشید،محمد نواز چھٹہ ، سلطانہ صدیقی، مومنہ ڈیوریڈ, مختار عباس، سلطان لاکھانی،میاں عامر،ضیاء شاہد وغیرہ کی وضع کردہ ہے

لیکن یہ سارے میڈیا مالکان اپنی آزادی صحافت سے ہر اس صحافی کو خارج کردیتے ہیں جو ان دو تعریفوں کے پردے میں چھپے ان کے مفادات کی کہانی کو باہر لیکر آتا ہے اور ان مالکان کی موقعہ پرستیوں کا پردہ چاک کرتا ہے- ان کے لبرل ازم، لیفٹ ازم، رائٹ ازم کے نام پر کمرشل ازم کو بے نقاب کرتا ہے

یہ سارے میڈیا مالکان ‘آزاد صحافتی ٹریڈ یونین’ اور صحافیوں کے ٹریڈ یونین رائٹس کے سب سے بڑے دشمن ہیں- اور ان میڈیا مالکان نے اپنے اپنے اداروں کے اندر ‘آزاد ٹریڈ یونین سی بی ایز’ کا وجود عملی طور پر ناممکن بنا رکھا ہے

یہ جبری برطرفیوں، چھانٹیوں، ڈاؤن سائزنگ، پورے پورے اداروں کے خاتمے کو ناقابل چیلنج حق سمجھتے ہیں

میڈیا مالکان نے پاکستان میں صحافتی ٹریڈ یونین سیاست کی درخشاں روایت رکھنے والی پاکستان فیڈرل یونینز آف جرنلسٹس کو دو بڑے حصوں میں اپنے مفادات کے تحت تقسیم کیا ہے

کونسل آف آل پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز – سی پی این ای پر بھی میڈیا مالکان کا قبضہ ہے کیونکہ باپ اگر اے پی این ایس- مالکان اخبارات کی سوسائٹی کا ممبر ہے تو بیٹا یا بھائی یا بھتیجا یا کوئی غلام صحافی سی پی این ای کا ممبر ہے- ایسے ہی آل پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن اورپاکستان الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز و نیوز ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن پر بھی میڈیا مالکان ہی کا کنٹرول ہے۔

اس لیے پاکستان میں ‘ آزاد صحافت’ ‘آزادی صحافت’ کا دوسرا نام میڈیا مالکان کے غلبے اور تسلط کی آزادی کا دوسرا نام ہے- اس آزادی کا مطلب حقیقی عامل آزاد صحافیوں اور ان کی آزاد صحافت ہرگز نہیں ہے

یہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے زریعے آزاد صحافت کے امکانات کا گلہ گھونٹنے اور سوشل میڈیا پر بھی صحافت کو کنٹرول کرنے کے بڑے منظم منصوبے پر کام کرنے میں مصروف ہیں- اگر آپ سوشل میڈیا پر نیوز ویب سائٹس اور فیس بک و ٹوئٹر پر ریٹنگ میں پہلے پچاس نمبرز کی گنتی کریں گے تو انہی میڈیا مالکان کا تسلط نظر آئے گا

ایسے میں جب ہم اس نام نہاد ‘آزادی صحافت’ کا پول کھولتے ہیں اور پہلے یا دوسرے گروپ کے میڈیا مالک کے زیرعتاب آنے پر ان کی ‘آزادی’ کی مہم کا حصّہ بننے سے انکاری ہوتے ہیں تو یا تو ہمیں ‘آزادی صحافت’ کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر غیر محب وطن ہونے کی سند مل جاتی ہے- لیکن ایسی باتوں سے حقیقت تو چھپ نہیں سکتی

ہمیں معلوم ہے حقیقی صحافتی ٹریڈ یونین کی بحالی کا مشن آسان نہیں ہے- یہ راستا کانٹوں سے بھرا ہوا ہے- خبروالے ڈاٹ کوم،ایل یوبی پی، قلمکار ڈاٹ کوم پی کے ،مکالمہ ڈاٹ کوم،روحزن، ایسٹرن ٹائمز پی کے، روزنامہ بدلتا زمانہ، مکس ٹی وی،سجاگ میڈیا،پاک نیوز یہ آسان راستا ہرگز نہیں ہے- یہ گلیمر،مشہوری، شہرت اور مین سٹریم کی لالچوں سے بہت دور ہونے کا راستا ہے- روزگار کے دروازے بند ہونے کے امکانات بڑھ جانے کا راستا ہے- لیکن اگر واقعی آزاد صحافت کرنی ہے تو پھریہی راستا ہے چلنے کا اور کوئی راستا نہیں ہے۔