Featured Original Articles Urdu Articles

بدعنوان کارپوریٹ میڈیا مالکان آزادی صحافت کے علمبردار نہیں ہیں – ریاض ملک

 

دو دن سے ہم سے سوال ہورہا ہے کہ ہم میر شکیل الرحمان جیسے بدعنوان میڈیا مالکان کی حفاظت کے لیے صف بندی کیوں نہیں کررہے؟

کئی ایک لوگ کہتے ہیں، شکیل کی گرفتاری پر احتجاج کریں ورنہ کوئی آپ کے حقوق کی حفاظت کرنے والا نہیں ہوگا

آپ اسے مسخرے پن اور منافقت سے لتھڑی دلیل کے طور پر دیکھ سکتے ہیں اور اسے اٹھاکر پھینک سکتے ہیں-اور یہ بات تجربے سے غلط ثابت ہوچکی ہے

نیب پی پی پی اور اس کی قیادت کو نواز شریف کی طرف سے بنائے گئے کئی جھوٹے کیسز میں ہدف بناچُکا ہے

اور کارپوریٹ میڈیا جیسے میر شکیل کا جیو – جنگ گروپ اور حمید ہارون و سہگل کا ڈان گروپ نیب کے اس شکار کرنے کے کھیل میں اُن کے آلہ کار بنے رہے ہیں

اگر شکیل اور اُس کے تنخواہ دار حامی آزادی صحافت کے محافظ تھے تو جب جنگ و ڈان پی پی پی کے خلاف فیصلے صادر کررہے تھے تو وہ کہاں تھے؟

شکیل اور حمید ہارون جیسے اُس وقت کہاں تھے جب پی پی پی کو نیب خودساختہ کارروائیوں کے زریعے ختم کرنے کی کوشش کررہا تھا؟

اوہ زرا ٹھہریے یہ سب تو نیب کے بلوائی حملے کا حصہ تھے

یہ وہی شکیل الرحمان ہے جس نے بے روزگار ہونے والے درجنوں صحافیوں کی برطرفی پر احتجاج کرنے پر اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا

‘یہ کاروبار ہے، کوئی خیرات خانہ نہیں’

شکیل الرحمان 42 لاکھ روپے کا پیکج حامد میر کو دے سکتا ہے لیکن وہ 45 لاکھ سے روزنامہ انقلاب فیصل آباد چلانے والے سٹاف کی نوکریاں نہیں بچاسکتا جیسے امبر سہگل نے ھیرالڈ نہیں چلایا

میر شکیل وہ صاحب ہیں جو اپنے اخبار اور چینل کی سرخیوں اور بلیٹن سے حکومتیں گرانے یا بنانے کا دعویٰ کیا کرتے تھے-(حالانکہ یہ سب اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ملنے والے اشاروں پر پیشن گوئیاں کرتے رہتے ہیں)

اب شکیل اور اس کا کمرشل لبرل بکاؤجتھہ نواز شریف کے دیے گئے رشوت کے پلاٹوں کی کہانی بے نقاب ہونے پر دوسرے طاقتور گروپ کے داؤ چل جانے پر اپنے لیے ہمدردیاں سمیٹنا چاہتا ہے

شکیل، ہارون،سہگل اور شریف اُس بُری اسٹبلشمنٹ کے خلاف لانگ مارچ کیوں نہیں کرتے؟ جس کی کئی عشروں تک انھوں نے خدمت کی اور اُس نے جواب میں اُن کو معاشی، سیاسی و سماجی طاقتور بنایا

باقی ہم سب کو شکیل جیسے کرپٹ میڈیا مالکان کے لیے ڈھول پیٹنے سے کہیں زیادہ بڑے اہم کام درپیش تھے