Featured Original Articles Urdu Articles

عورتوں کا عالمی دن ایک سوشلسٹ نکتہ نظر – آخری حصّہ – عامر حسینی

عصر حاضر میں مارکس کا ایک اشتراکی ناری وادی مطالعہ

Marx for Today: A Socialist-Feminist Reading – Johanna Brenner

اسی وقت جدوجہد کی جو صورتیں بنتی ہیں وہ یہ بھی طے کرتی ہیں کہ کیسے محنت کش طبقہ کے مرد اور عورتیں اپنے مقاصد متعین کرتے ہیں

کیسے اپنی قوتوں کو منظم کرتے ہیں اور کیسے اپنی حکمت عملیوں کو ترقی دیتے ہیں- اور یہ طاقت/ اور مراعات کے ادارہ جاتی تعلقات کی صورت گری بھی کرتی ہیں جو نسل، صنف، سیکسچوئلٹی اور قومیت کے گرد تشکیل پائے ہوتے ہیں- خاص طور پر محنت کش طبقہ کی عورتوں کی ‘دیکھ بھال کرنے’ کی ذمہ داریوں اور جن حالات کے اندر وہ کام کرتی ہیں اکثر مردوں کے ساتھ ان کے تعلق کے اعتبار سے سیاسی مسابقت اور فیصلہ کرنے کے میدانوں میں ان کے نقصان میں جاتی ہیں

دوسری طرف، عورتیں اپنی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں میں عزت، اتھارٹی اور طاقت کے لیے زمین ہموار پاتی ہیں- اور جہاں عورتیں سوشل ری پروڈکشن میں اپنے کام کو پورا کرنے کے لیے گھروں کے لیے تعاون کرتی ہیں تو وہ اجتماعی عمل/ ایکشن کے لیے سماجی بنیاد کو جنم دیتی ہیں- عورتوں کی سماجی ری پروڈکشن میں جگہ جہاں مزاحمت کا سرچشمہ ہوتی ہے وہیں پر بے اختیاری کا زریعہ بھی ہوتی ہے

گھروں کے اندر عورتوں کی محنت پر پدر سری فرد کے کنٹرول کی پرانی صورتوں کو کمتر بناتے ہوئے، سرمایہ دارانہ پھیلاؤ عورتوں کے لیے اپنی خود کی سیاسی تنظیم کاری کے امکانات تو کھولتی ہے لیکن سوشل ری پروڈکشن کی تنظیم عورتوں پر جبر کی نئی شکلوں کی بنیاد بن جاتی ہے جبکہ ایک سرمایہ دارانہ معشیت میں سرمایہ دارانہ مالک کے نکتہ نظر سے لاکھوں عورتیں سوشل ری پروڈکشن کی تنظیم میں وہ سوائے سرپلس آبادی کے سوا کچھ نہیں ہوتیں

کچھ ناری وادی/فیمنسٹ اس بدلاؤ/شفٹ کو نجی / پرائیویٹ سے پبلک پدرسری کی طرف بدلاؤ/ شفٹ کا نام دیتے ہیں کیونکہ پہلی نظر میں یہ اس کی بنیاد مردوں کی پبلک پاور تک رسائی پر ہوتی ہے ناکہ گھر کے ممبران پر ان کے ملکیت کا مالک ہونے کے سبب براہ راست کنٹرول پر- سوال تاہم یہ رہ جاتا ہے کہ مرد پبلک پاور تک زیادہ رسائی ایک سرمایہ دارانہ جمہوریت میں کئی عشروں تک ناری وادیوں کی جدوجہد کے باوجود کیوں رکھتے ہیں جبکہ یہ سرمایہ دارانہ جمہوریت تو مردوں اور عورتوں کے شہری حقوق کی برابری کی پرچارک ہوتی ہے؟

اس سوال کا جواب ان ناری وادیوں کو ضرور دینا بنتا ہے جو اس مشاہدے سے شروع کرتے ہیں کہ صنفی تفریف کے کلامیے / ڈسکورس سیاسی طاقت / پولیٹکل پاور کے جواز اور تشکیل کا مرکز ہیں-(5)اگرچہ صنفی تفریق کے کلامیے یقینی طور پر ایک اثر تو رکھتے ہیں ، ایک مارکسی نارک واد کے نکتہ نظر سے ، ہم یہ اضافہ کریں گے خیالات خود کو روزمرہ کے تجربے میں داخل ہوئے بغیر اپنے آپ کو باقی نہیں رکھ سکتے

بہرحال یہی تو مارکس کی عظیم بصیرتوں میں سے ایک تھی جب وہ ‘ اجناس کی پرستش/ فیٹش ازم کا زکر کرتا ہے

.” That relationships between people come to be seen as relationships between things is a reflection of the wage relation in commodity production. This is not a “false consciousness” in the sense of ideas imposed by cultural and social forces; rather, it is a world­view that expresses, or is consonant with, actual experience under the relations imposed by the commodity form.

” لوگوں کے درمیان تعلقات کو چیزوں کے درمیان تعلق دکھائی دیتا ہے اور اجناس کی پیداوار میں اجرت کے رشتے کی عکاسی ہوتی ہے- اس معنی میں غلط شعور نہیں ہے کہ خیالات ثقافتی اور سماجی قوتیں مسلط کرتی ہیں- بلکہ یہ ایک عالمی نکتہ نظر ہے جس کا اصل تجربے کے ساتھ جنس کی شکل میں مسلط کیے گئے تعلقات کے تحت اظہار ہوتا ہے یا اس کے ساتھ مطابقت میں ہوتا ہے

اسی طریقے سے سمجھنے کے لیے کہ کیسے مردانہ غلبہ اپنے آپ کو کسی بھی معلوم لمحے میں مستحکم رکھتا ہے،ہمیں زیر تہہ سماجی تعلقات کی تلاش کرنا پڑتی ہے جو صنفی تفریق کے کلامیوں کی ایک منطق بیان کرتے ہیں یا اسے قابل تفہیم یہاں تک کہ ان کو پیداواری کلامیے تک بنا ڈالتے ہیں

سرمایہ دارانہ مالکان کی لیبر پاور کی ری پروڈکشن میں سرمایہ کاری کرنے کے خلاف مزاحمت ، ورکروں کے درمیان مسابقت،اجرت کی شکل کو بذات خود انفرادی دباؤ بناتے ہوئے، ساری طاقت گھریلو دیکھ بھال کے کام کو سوشلائز کرنے کی بجائے اسے نجی / پرائیوٹائز بنانے میں صرف ہوتی ہے- لیکن جتنی دیر تک گھر داری کی نجی ذمہ داری رہتی ہے جس کے ممبران کئی گھنٹے جاہے وہ اجرتی ہوں یا بنا کسی اجرت کے ہوں اس میں صرف کرتے ہیں اور اس وقت تک محنت کی طنفی تقسیم ایک لازمی منطق کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھے گی

محنت کی صنفی تقسیم کے اندر بہرحال فرد اور خاندان کی بقا کی حکمت عملیاں سادہ طور پر مردوں اور عورتوں کے مادی مشکلات کی طرف محض عقلی ردعمل ہی نہیں ہیں- وہ عورتوں اور مردوں کے مفادات اور خواہشات کی عکاسی بھی کرتی ہیں جو کہ سماجی و ثقافتی اور معاشی طور پر صورت اختیار کرتی ہیں-(6)

طبقاتی رشتے اور سوشل ری پروڈکشن

Class Relations and Social Reproduction

سرمایہ دارانہ نظام کے تین دوسرے پہلو جو مارکس نے دریافت کیے جو ہمیں سوشل ری پروڈکشن کے بارے میں سوچنے میں مدد دیتے ہیں اور اس نظام کے اندر محنت کی صنفی تقسیم کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں- ان تینوں پہلوؤں نے کیسے اپنی تنظیم کی اور وقت کے کے ساتھ یہ کیسے بدلے بھی

پہلا پہلو تو اس نظام کی کاموڈیفیکشن / اجناس کی تجارت کی طرف بڑھنا ہے جو کہ سرمایہ دارانہ مسابقت اور منافع کمانے کے نئے میدانوں کی تلاش ابھرتا ہے- یہاں دوبارہ، ہم سرمایہ دارانہ پھیلاؤ کی دو طرفہ فطرت دیکھتے ہیں- پدر سری اشکال کے چیلنچز کا سامنا کرنے کے قابل بننا اور ساتھ ہی وہ چیلنچز کیا حاصل کرسکتے ہیں ان کو محدود کرنا

جیسے ہی سرمایہ داری انسانی سرگرمی کے تمام علاقوں میں داخل ہوتا ہے، قدر استعمال اجناس/ کاموڈیٹی میں بدل جاتی ہیں- وہ ساری چیزیں جن کو خریدا جاسکتا ہو، بیچا جاسکتا ہو ناکہ ان کو ادلہ بدلا جاسکے یا ان کو اپنے استعمال کے لیے پیدا کیا جائے- قدر استعمال کا قدر تبادلہ میں بدل جانا لوگوں کو اور زیادہ مضبوطی سے سرمایہ دارانہ معشیت سے باندھ دیتا ہے کیونکہ استعمال کرنے کے لیے کمانا پڑتا ہے

دوسری طرف، کھپت کے ہمیشہ سے پھیلتے ہوئے امکانات نئی انفرادی پہچان اور اظہار ذات کی نئی اشکال کی اجازت دیتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں- جیسے روزمیری ہینز نے 20ویں صدی میں نشان دہی کی تھی

“(S)tructural changes in capitalist production that involved technological developments, the mechanization and consequent deskilling of work, the production boom brought on by technological efficiency, the opening of new consumer markets, and the eventual development of a widespread consumer culture…displaced unmet needs into new desires and offered the promise of compensatory pleasure, or a least the promise of pleasure in the form of commodity consumption…This process took place on multiple fronts and involved the formation of newly desiring subjects, forms of agency, intensities of sensation, and economies of pleasure that were consistent with the requirements of a more mobile workforce and a growing consumer culture.” (Hennessy 2000: 99)

“سرمایہ دارانہ پیداوار میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں جن میں ٹیکنالوجیکل پیش رفت بھی شامل ہیں، میکنائزیشن/میکانیکیت ،بتدریج کام کے لیے مہارتوں کی کمی، پیداوار میں عروج ٹیکنالوجیکل ایفی شینسی کے زریعے آئی، نئی صارف منڈیوں کا کھلنا اور بتدریج ایک وسیع و عریض صارف ثقافت کی طرف پیش رفت نے بے دخل نہ پوری ہونے والی ضرورتوں کو خواہشات اور پیش کیے گئے تشف بخش مسرت یا کم از کم جنس کی کھپت کی شکل میں مسرت کے وعدے میں بدل ڈالا- یہ عمل مختلف محاذوں پر جگہ سنبھالتا ہے اور نئی آرزومند رعایا، ایجنسی کی اشکال ، سنسناہٹ کی شدتزں اور مسرت کی معشیتوں کو ملوث کرتا ہے جوکہ ایک زیادہ متحرک محنت کی افرادی قوت کی ضرورتوں اور ایک بڑھتے ہوئے صارف کلچر کے مطابق تھے

صارفیت، اجرتی محنت، اربن نائزیشن کے پھیلاؤ، چھوٹے کارباروں کے زوال اور نئے پروفیشن کے متعلقہ ابھار جس سے وابستہ افراد اداروں کی سٹیٹ ریگولیشن کی طرف قوت متحرکہ تھے (جیسے ادویات، پبلک ہیلتھ، سوشل ورک، سائیکالوجی وغیرہ) نے سیکسچوئلٹی اور خانگی زندگی (خاص طور پر مڈل کلاس میں) کی تںظیم نو کی بنیاد رکھی- زچکی، شادی اور سیکسچوئلٹی کے پرانے پدر سری ضابطے بدل گئے بلکہ ایک کثیر المعیاری رجیم نے ان کی جگہ لے لی جس نے محنت کی صنفی تقسیم کو دوبارہ سے لکھا-(7)

بیسویں صدی کے آخر میں، شدید ہوگئی کاموڈیفیکشن نے جیسا کہ الان سیئرز کہتا ہے کھلے لیزبی این اور گے وجود کے لیے جگہ بنائی بلکہ طبقہ اور نسل کے گرد موجود خاص شناخت کے ساتھ گے کے نظر آنے کو مستحکم کیاجس کا انحصار کھپت کرنے کی صلاحیت پر ہے۔

(Sears 2005: 92-112)

زندگی جتنی اجناس کی پیداوار اور کھپت کے گرد منظم ہوتی جاتی ہے اتنا ہی لوگوں کی اپنی انسانیت کے ہر ایک پہلو سے رقم بنانے کے امکان / پوٹنشل کا لحاظ کرنے کی اجازت اور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے- ملکیتی فردیت اور قوت محنت کو جنس خویدنی و فروختنی بنانا/ کاموڈیفیکشن یہ اس کی بنیاد ہے جوکہ لگاؤ، سیکسچوئلٹی اور یہاں تک کہ حیاتیاتی افزائش کی طلاحیتوں کو اجناس بنانے کی طاقتور مہم ہے جوکہ خریدی اور بیچی جاسکتی ہے

جیسا کہ مارکس اور اینگلس نے ‘کمیونسٹ مینی فیسٹو ميں سرمایہ داری کے سماجی رشتوں کا پھیلاؤ بیان کرتے ہوئے لکھا

“All fixed, fast-frozen relations, with their train of ancient and venerable prejudices and opinions are swept away, all new-formed ones become antiquated before they can ossify.” (MECW 6: 487)

“تمام متعین- منجمد رشتے اپنے قدیم اور ناپائیدار تعصبات اور آراء کا صفایا ہوجاتا ہے- تمام بننے والی نئی چیز دریابرد ہونے سے پہلے ایک دفعہ نوادر بن جاتی ہیں

معاصر سیاسی کلامیوں(ڈسکورس) میں غیرمحدود طور پر بار بار جدیدیت،روایت، ثقافت اور فطرت،مقدس اور گستاخی کے متنازعہ موقف قدرتبادلہ اور قدر استعمال کی ثنویت کے گرد کھومتے رہتے ہیں- اس درمیان کون سا سیاسی کلامیہ پیچا جاسکتا ہے یا بیچا جانا چاہیے یا نہیں بیچا جاسکتا یا نہیں بیچا جانا چاہیے کے درمیان بحث چلتی رہتی ہے

اس ثنویت سے نکلنے کا راستا نہیں ہوتا اور اس وقت تک یہ بحث سے باہر رہے گا جب تک لوگ اپنی جن جسمانی صلاحتیوں کے مالک ہیں ان کو سرمایہ داری نظام کے تحت زندگی کی کمیابی اور عدم تحفظ کے زریعے سے کنٹرول کیا جاتا رہے گا- جبر کے تناظر میں، جو کہ ہمیشہ اس وقت تک موجود رہتا ہے جب تک لوگوں کو ان کی بقا کے زرایع سے جدا کیا جاتا رہتا ہے، اس محنت کو ممتاز کرنا مشکل ہے جو بامعنی ہو اور اس چیز سے آزادی کے ساتھ الگ کرکے چنی گئی ہو جو آزاد نہ ہو

تولیدی عمل کو جنس خریدنی و فروختنی بنانے کا عمل ( جن میں نئی توہیدی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے) منافع بنانے کے نئے میدان کی پیشکش کرتا ہے جبکہ نئے سماجی گروہوں کی حیاتیاتی والدین تک رسائی کا دائرہ بھی وسیع کرتا ہے جیسے گئے کے لیے بیضہ کا عطیہ/سروگیسی، لے زی بین کے لیے سپرم بینک کی فراہمی اور بانجھ ہیٹروسیکچوئل جوڑوں کے لیے سروگیسی اور وٹرو فرٹیلائزیشن کی فراہمی- تولیدی عمل کو خریدنی و فروختنی جنس بنانے کا عمل زچگی کے آدرشوں کو کمتر بناتا ہے جو قدرتی طور پر لازمی شناخت سے جڑے ہوتے ہیں اور یہ پدرسری خاندانی رشتوں کی مذہبی اور حیاتیاتی بنیادوں پر مبنی جواز کو چیلنچ کرتے ہوئے ان کی جگہ چوائس/انتخاب اور مرضی کے معاہدہ جاتی معیاروں کو دیتے ہیں

اسی وقت، تولیدی عمل کو جنس برائے خرید و فروخت بنانے کا عمل عورتوں کی تولیدی صلاحیتوں کے استححصال کے زریعے سے منافع پیدا کرنے کے نئے امکانات کو پیدا کرتا ہے-(جیسے ساروگیٹ پریگننسی اور ايگ ڈونیشن) جبکہ عورت کے آمدنی کمانے کی نئی اشکال کو ان کے ‘آزادانہ’ اجرت کمانے والیوں کے حق تک رسائی کے طور پر بھی متعارف کراتا ہے۔(8)

سرمایہ داری پیداوار کے دوسرے پہلو کے طور پر جو ری پروڈکشن اور محنت کی صنفی تقسیم کی تنظیم کی صورت گری کرتا ہے کام کے عمل پر سرمایہ دارانہ کنٹرول ہی ہے- جیسا کہ مارکس نشاندہی کرتا ہے جہاں تک پیداوار کے عمل کے اہم پہلوؤں کو ورکرز کنٹرول کرتے ہیں وہ مزاحمت کی بنیاد رکھتے ہیں- اس لیے سرمایہ دار مالکان ورکرز کا کنٹرول جہاں انسانی مہارتوں پر انحصار کو کم سے کم کرنے کے زریعے کرتے ہیں وہیں ان کی نگرانی کے نظام کو بڑھاکر بھی کرتے ہیں

سرمایہ کی جلد اول میں مارکس ایک پیچیدہ کوآپریٹو لیبر پروسس اور اس پروسس کے سرمایہ داری کردار کے زریعے سے مختلف کام کو کنٹرول کرنے کو ضرورت بنانے کے درمیان امتیاز کی نشان دہی کرتا ہے جو کہ ایک ناقابل گریز کشمکش/ تضاد استحصال کرنے والے، زندگی اور محنت کا وہ خام مواد جس کا وہ استحصال کرتا کے درمیان پیدا کرتا ہے

MECW 35: 336

وہ اس سے آگے جاتا ہے

“If then the control of the capitalist is in substance two-fold by reason of the two-fold nature of the process of production itself — which on the one hand is a social process for producing use values, on the other a process for creating surplus value — in form that control is despotic.”’ (MECW 35: 337)

“اگر ٹھوس شکل میں سرمایہ دارانہ کنٹرول پیداوار کے عمل کی دو پہلو فطرت کی دو وجوہات کا حامل ہو تو تب یہ ایک طرف قدر استعمال کو پیدا کرنے والا سماجی عمل ہوتا ہے تو دوسری طرف قدر زائد کو تخلیق کرنے والا عمل ہوتا ہے اور یہ دوہرا عمل ہئیت کے اعتبار سے جابرانہ عمل ہوتا ہے

لیبر کو قابو میں رکھنے کے لیے جو انتظامی/مینجریل حکمت عملیاں ہوتی ہیں وہ طاقت اور مراعات کے رشتوں کو تخلیق کرتیں، ان کو ان کارپوریٹ کرتیں، ان کو ری پروڈیوس کرتیں ہیں جو نسل، صنف، قومیت اور سیکسچوئلٹی کے زریعے سے منظم کیے جاتے ہیں

(Burawoy 1979; Munoz 2008)

جسموں اور شناختوں کے صنفیائے جانے، سیکسجولائز کرنے کے عمل سرمایہ دارانہ منیجمنٹ کے اندر ہی پنہاں ہوتا ہے- صنفی ثنویت کے غالب ساختیوں کو لینا اور اس کو پھر سے مسلط کرنا یہ سوشل ری پروڈکشن میں محنت کی صنفی تقسیم کا مرکز ہوتے ہیں- اسی وقت محنت کشوں کا کام کی جگہ پر مینجریل طاقت کے خلاف مزاحمت کرنا اور ایک وسیع معاشرے میں بھی نسل،صنف اور سیکسچوئلٹی سے منظم ہونے والی طاقت اور مراعات کے رشتوں کا عکس ہوتی ہے-مثال کے طور پر مقامی لیبر منڈیاں اور اسی طرح مختلف گروپوں کی اجرتوں کی صورت گری بھی صرف معاشی پروسس کے زریعے ہی نہیں بلکہ سیاسی پروسس کے زریعے بھی ہوتی ہیں

جس طریقے سے لیبر سے کوآرڈینیشن کی جاتی ہے پر ورکر کے کنٹرول کے کھوجانے کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی ضرورتوں کی مکمل رینج کو پروڈکشن/ پیداوار کو جیسے منظم کیا جاتا ہے کے متعلق فیصلوں میں جوڑا نہیں جاسکتا

کسی بھی سرمایہ دارانہ معاشرے میں پیداوار اس لیے نہیں کی جاتی کہ اس سے سماجی طور پر ضروری بچوں اور خانگی دیکھ بھال کی محنت کی سرگرم ہوکر سپورٹ کی جائے- جبکہ یہ کام انتہائی اور بلند ترین ہنرمندی کا ہوتا ہے اگرچہ اکثر وبیشتر اسے نسائی فطرت لیے ہوئے غیرہنرمند اور وراثتی سمجھا جاتا ہے- یہاں تک کہ اکثر خاندان دوست فلاحی ریاستوں کی حکومتیں جیسے سویڈن کی ہے پرائیویٹ فرموں کی ایمپلائمنٹ پالیسیوں میں مداخلت نہیں کرتیں

سرمایہ دارانہ نظام کا تیسرا پہلو استحصال ہے جو اجرتی معاہدے کے زریعے کیا جاتا ہے اور اس لیے اسے سیاسی اور معاشی طاقت کی علیحدگی کی ضرورت پڑتی ہے- گزشتہ صدی میں سرمایہ دارانہ معاشروں میں سوشل ری پروڈکشن کی تنظیم میں اہم بدلاؤ/شفٹ فلاحی ریاست کے جنم کی شکل میں آیا تھا

جس میں تعلیم ، صحت اور بچوں کے پالنے پوسنے کی حکومتی ذمہ داری میں توسیع کے ساتھ ساتھ خاندانوں کے لیے ریاستی ضابطوں میں اضافے خاص طور پر محنت کشوں کے زیادہ کمزور حصوں پر ریاست کی طرف سے خاندان کی تشکیل کے لیے ریاستی ضابطوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا ہے- ان کمزور حصوں میں تارکین وطن،مجبور و محکوم نسلی و ایتھنک گروہ ، غریب اور سنگل مدر شامل ہیں

اگرچہ ان پیش رفت کو سمجھنا قابل ترغیب لگتا ہے جب ریاستی مینجرز طویل مدت کے سرمایہ داری طبقہ کے مفادات میں مداخلت کرتے ہوئے لیبر فورس کی ری پروڈکشن کی ضمانب دینے کے لیے آگے آتے ہیں جب سرمایہ دار مالکان آگے نہیں بڑھ رہے ہوتے لیکن ہم اس ترغیب کا شکار ہونے کی بجائے مارکس کی لیڈ کے تعاقب میں اپنی توجہ محنت کش طبقہ کی از خود اپنی تنظیم پر رکھ سکتے ہیں

سرمائے کی پہلی جلد میں قابل نفاذ کام کے اوقات کی قانونی حدود کے کی فتح کو بیان کرتے ہوئے مارکس فیکٹری مالکان اور ان کے نظریات کے بدلاؤ کو ريگولیشن کے آئیڈیل میں بدل جانے اور اس کے پیچھے محنت کشوں کے ہاتھوں ان کی شکست کو یوں بیان کرتا ہے

“The masters from whom the legal limitation and regulation had been wrung step by step after a civil war of half a century, themselves referred ostentatiously to the contrast with the branches of exploitation still ‘free'[of regulation]. The Pharisees of ‘political economy’ now proclaimed the discernment of the necessity of a legally fixed working-day as a characteristic new discovery of their ‘science.’” (MECW 35: 300)

“وہ مالکان جن سے قانونی حدبندیاں اور ضوابط نصف صدی کی خانہ جنگی کے بعد درجہ بدرجہ منوائے گئے خود کنایوں اشاروں سے ایسی شاخوں کے موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہیں جہاں استحصال کی آزادی ہے اور اب بھی ضابطوں سے آزاد ہیں- سیاسی معشیت کے ملّاں اب دعوا کرتے ہیں کہ قانونی طور پر کام کے وقت کے تعین کی ضرورت کی تشخیص ان کی ‘سائنس’ کی مخصوص دریافت ہے

سوشل ری پروڈکشن کے اندر حکومت کی حد اور پھیلاؤ اصلاح کی ان جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں مڈل کلاس اور ورکنگ کلاس کے مرد اور عورتوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ دار مالکان اور ریاستی مینیجرز نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے- جدوجہدکے ثمر کے طور پر ریاستی پالیسسیاں عورتوں کے خود کو سیاسی طور پر منظم کرنے کی سطح اور مقاصد کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ یہ مختلف طبقات اور نسلی و ثقافتی گروہ کی عورتوں اور مردون کو دستیاب ریسورسز اور طاقت کی عکاسی بھی کرتی ہیں

مزید راستا جس پر ان گروپوں نے خود کو چلایا وہ مشکل سے غیر جانبدار رہا ہے- سرمایہ دارانہ معشیت میں پیش رفت نے سیاسی شروعات اور سیاسی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا- مثال کے طور پر عورتوں کو اجرتی مزدور بناتے ہوئے سرمایہ دارا طبقے کے مفادات نے ان پر ایسی قدغن لگائیں کہوہ کس حد تک اور کیا حاصل کرسکتیں ہیں؟

یہ روکاوٹیں دو طریقوں سے روبہ عمل لائی جاتی ہیں- ایک خاص طور پر لبرل منڈی کی معشیتوں میں ، سرمایہ دار مالکان نے مستقل طور پر اور اکثر جگہ پر کامیابی سے اپنے کاروباری پریکٹس اور اپنے منافعوں پر نمایاں ٹیکس لگانے کی حکومتی مداخلتوں کے خلاف مزاحمت کی ہے- زیادہ بنیادی طور پر ریاستی مینجرز اور قانون ساز آخرکار معاشی گروتھ اور خوشحالی پر انحصار کرتے ہیںاور بدلے میں ان کو سرمایہ دار انویسٹرز کنٹرول کرتے ہیں-(9)

لیکن ان روکاوٹوں کا اعتراف کرتے ہوئے، ہم بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ کیسے اور کیوں فلاحی ریاستوں کیپالیسیاں صنفی تقسیم محنت کو چیلنج کرنے کی بجائے ان کو ادارہ جاتی شکل دے ڈالتی ہیں- مثال کے طور پر 20ویں صدی کے اوائل میں امریکہ پہلا ملک تھا جس کی حکومت نے سنگل ماؤں کو سپورٹ دینے والے پروگرام شروع کیس جو کہ بہت شدید قسم کی ورکنگ کلاس موبلائزیشن اور ان کے سیاسی ہونے کے بعد ہی ممکن ہوسکا تھا لیکن اس کے زیادہ تر ایکٹوسٹ اور رہنما غالب سفید فام اور مڈل کلاس/بالائی طبقہ کی عورتیں تھیں اور اس کا سبب نئے پروفیشنل گروپوں کی مداخلت تھی جنھوں نے حکمرانی کے تحت نہ آنے والے طبقات کو مینج کرنے، اوپر اٹھانے اور جذب کرنے کے لیے اپنی مہارتوں کو صرف کرنے کی پیشکش کی تھی

مالکان سرمایہ داروں کی طرف سے طاقتور مخالفت کے تناظر اور اس کے نسلی/طبقاتی قوتوں کی کہکشاں کی عکاسی کرنے والی تحریک کا غالب کلامیوں نے نے حکومت کو یہ اختیار دینے کی حمایت کی کہ وہ اس سنگل ماں کو تنخواہ پر کام دے جو اچھی ماں کا کردار ادا کررہی ہو

(Mink 1995; Brenner 2000)

حاصل کلام

بہت سے معاصر فیمنسٹ ایکٹوسٹ اور دانشور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ صنفی رشتوں کو دوسرے سماجی رشتوں جیسے طبقہ، سیکسچوئلٹی ، قومیت وغیرہ سے الگ کرکے تجرید میں دیکھا نہیں جاسکتا- مارکے نے اس سوال کو مشکل ہی حل کیا کہ ان سماج رشتوں کی کلیت پر مبنی ایک نظریہ کیسے بنایا جائے-(10) لیکن اب بھی سرمایہ داری کو ایک طریق پیداوار کے طور دیکھنے کا اس کا تجزیہ ایک فیمنسٹ/ناری واد نظریہ اور عمل کے لیے ثمرآور نکتہ آغاز ہے جو نہ صرف اس کی کلیت کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ان تحریکوں سے بھی اسے جوڑ سکتا ہے جو آخرکار اس نظام کو بدل سکتی ہیں

Glossary

Marxist –مارکس وادی
‏Marxism – مارکس واد
Feminist- ناری وادی
Feminism- ناری واد
Socialist – سماج وادی
Socialism- سماج واد
Gender- صنف
Gendered division of labor: محنت کی صنفیاتی تقسیم

References

1-I am very grateful to Nancy Holmstrom, Barbara Laslett, and Marcello Musto for their comments on earlier drafts of this essay and Heather Brown for her critical excavation and examination of Marx’s writing on gender and the family.
2• As with any political/intellectual endeavor, Marxist feminism contains a range of approaches. Beyond writers who locate themselves explicitly in Marxist theory, a broader group of socialist feminists draw on Marxist ideas. See, e.g., Nancy Holmstrom (2002); Hennessy (2000); Vogel and Gimenez (2005); Hennessy and Ingraham (1997); Federici (2004); Ferguson (1989), Arruzza (2014).
3• C.f. Brenner (2000); Armstrong and Armstrong (1983); Ferguson (1999); Vogel (2000); Gimenez (2005), Bhattacharya (2017).
4• As Terrell Carver points out, given Marx’s antagonism to Victorian social values, he might also be read here as in line with some strains of Victorian feminism (Carver 1998: 229-230).
4• Cf. Scott (1986); drawing on Marx, Teresa Ebert (2005) offers a critique of the “post-modern turn” in feminism.
5• Debates about the origin and reproduction of the household gender division of labor in capitalism have figured largely in Marxist and socialist feminist theorization of women’s oppression. For a range of approaches, see Delphy (1984); Mies (1986); Costa and James (1975); Barrett (1980); Federici (2004).
6• In addition to Hennessy, see Laslett and Brenner (1989).
7• Like other industries facing government regulation, high wages (or both), the surrogate pregnancy business is going global (Gentleman 2008).
8• For a classic statement of this argument, see Fred Block’s (1980) “Beyond Relative Autonomy: State Managers as Historical Subjects.”
9• For a feminist reading of Marx and theorization of the ensemble of social relations see Himani Bannerji (2005) “Building from Marx: Reflections on Race and Class,” and see also Cinzia Arruzza, (2014) “Remarks on Gender.”
10-For a feminist reading of Marx and theorization of the ensemble of social relations see Himani Bannerji (2005) “Building from Marx: Reflections on Race and Class,” and see also Cinzia Arruzza, (2014) “Remarks on Gender.”