Featured Original Articles Urdu Articles

عورتوں کا عالمی دن : ایک سوشلسٹ نکتہ نظر – دوسرا حصہ – عامر حسینی

عصر حاضر میں مارکس کا ایک اشتراکی ناری وادی مطالعہ

Marx for Today: A Socialist-Feminist Reading – Johanna Brenner

“But you communists would introduce community of women, screams the whole bourgeoisie in chorus. The bourgeois sees in his wife a mere instrument of production. He hears that the instruments of production are to be exploited in common, and, naturally can come to no other conclusion than that the lot of being common to all will likewise fall to the women. He has not even a suspicion that the real point aimed at is to do away with the status of women as mere instruments of production.” (MECW 6: 502)

“سارے بورژوازی / سرمایہ دار کورس میں چلاتے ہیں کہ تم کمیونسٹ عورتوں کی ایک برادری متعارف کراؤ گے- سرمایہ داری اپنی بیوی کو آلہ پیداوار کے طور پر دیکھتے ہیں- وہ سنتا ہے کہ آلات پیدارار کا عام طور پر استحصال ہوتا ہے اور وہ قدرتی طور پر اس کے سوا کسی اور نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے کہ سب میں مشترک ہونے والی بہت سی چیزیں اسی طرح سے عورتوں پر صادق آجائیں گی- وہ اس بارے میں کسی شک میں مبتلا نہیں ہوتا کہ اس طرح کی چیزوں کی نشان دہی کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ عورتوں کا مرتبہ محض آلات پیداوار ہونے کا نہ رہے

“It is, of course, just as absurd to hold the Teutonic-Christian form of the family to be absolute and final as it would be to apply that character to the ancient Roman, the ancient Greek, or the Eastern forms which, moreover, taken together form a series in historical development.” (MECW 35:492).

مارکس کا اصرار تھا کہ خاندان کی کوئی ‘قدرتی شکل’ یا زمانے سے ماورا کوئی شکل ہوتی ہے- اس طرح اس نے سرمائے کی پہلی جلد میں لکھا

“اس لیے بہرحال یہ ایک مہمل بات ہے کہ خاندان کی ٹیوٹنک- مسیحی شکل مطلق اور حتمی سمجھا جائے اور ایسے اس بات کا اطلاق قدیم رومن یا قدیم یونانی یا مشرقی خاندان کی اشکال پر ہوگا، ان سب کو تاریخ کے ارتقاء میں ایک سلسلہ وار اشکال کے طور پر اکٹھے لیا جائے گا

.” For example, Marx points to the simultaneous emergence of hierarchical rank and men’s collective control over women (as captives/slaves) in clan societies prior to the development of private property. (Brown 2013)

لیکن مارکے کبھی بھی ماقبل سرمایہ داری معاشروں کے بارے میں اپنے نوٹس اور اس تاریخی ارتقا کے بارے میں اپنے تجزیوں کو زیادہ ترقی یافتہ جدلیاتی فہم تک ترقی نہیں دے سکا تھا جتنا اسے پھر اینگلس نے ترقی دی، جس کے لیے نجی ملکیت کا تعارف ہی عورت کی عالمی تاریخی شکست کا سبب تھا

مثال کے طور پر “مارکس نجی ملکیت کے ارتقا سے پہلے کے قبائلی معاشروں میں درجہ بندی پر مبنی صفوں کے بے تحاشا ابھرنے اور مردوں کے عورتوں پر اجتماعی کنٹرول (بطور مقبوضہ /کنیزوں کی شکل میں) کی صرف اشارہ کرتا ہے

مارکس ایک زاویہ نگاہ سے پدرسری خاندانی رشتوں کو چیلنج کرنے کے دور رس امکانات بارے جو عورتوں کی اجرتی محنت تک رسائی رکھتے تھے کے بارے میں بالکل ٹھیک تھا- تاہم اس کی استحصالی ملازمت پر تنقید جبکہ وہ ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کی صحت کی تباہی اور ان کی بہتری کی بربادی کو بے نقاب کرتا ہے وہ اس نسائی نیکی کے آدرشوں پر توجہ مرکوز کردیتی ہے جو کے اس کے زمانے کی عورت اور مردوں کی الگ الگ جگہوں کے صنفی نظریے کا مرکزی خیال تھے- اور اس کے ہاں ہم سرمایہ داری نظام کے اندر فیکٹری ورک کے اثر کو بدعنوان بنانے کا حوالہ دیکھتے ہیں-(4)

مارکس انیسویں صدی میں کام کے حالات پر اپنی شدید ترین تنقید میں جسمانی اور اخلاقی صحت کو باہم ملانے کی طرف مڑتا نظر آتا ہے اور اپنی مذمت کو ایسی مثالوں کے لیے مختص کردیتا ہے جہاں پر صنفی اختلاف نظر انداز ہوگیا تھا، جیسے وہ سرمایہ کی پہلی جلد میں کمیشن کی رپورٹ سے یہ بات نقل کے لیے چنتا ہے

“The greatest evil of the system that employs young girls on this sort of work consists in this…They become rough, foul-mouthed boys, before Nature has taught them that they are women…they learn to treat all feelings of decency and of shame with contempt…Their heavy day’s work at length completed, they put on better clothes and accompany the men to the public houses.” (MECW 35: 467)

“نظام کی سب سے بڑی برائی اس طرح کے کام کے لیے جو اس میں مشتمل ہے۔۔۔۔ نوجوان لڑکیوں کو ملازم رکھنا ہے- وہ کھرردے ، بدخوئی کرنے والے لڑکے بن جاتی ہیں ، اس سے پہلے کے فطرت ان کو سکھائے کہ وہ عورتیں ہیں۔۔۔۔ ان کو نفیس ہونے کے جذبات پر مبنی سلوک کرنا اور توہین کرنے سے حیا کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ان کا دن بھر کا بھاری بھر کم کام مکمل ہوا تو انہوں نے بہتر کپڑے پہننے ہیں اور سرکاری گھروں میں مردوں کی محفل میں بیٹھنا ہے

مارکس کے تجزیے کے ساتھ اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسانی بقا کے لیے درکار دیکھ بھال کی محنت کی پوری مقدار کو شامل نہیں کرتا اور جہاں تک وہ اس پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو ول یہ فرض کرنے کی طرف رخ کرلیتا ہے کہ فطری طور پر یہ عورتوں کے کرنے کے کام ہیں- مارکس کبھی کبھار عورتوں کے گھریلو کام کی اہمیت کا اشارہ دے دیتا ہے۔ جیسے مثال کے طور پر سرمائے کی پہلی جلد میں مالکان سرمایہ کی طرف سے اپنے منافع میں اضافے کے لیے عورتوں اور بچوں کو مردوں کے ساتھ ملازمت کرنے کے خاندان کے لیے تباہ کن نتائج کا بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے

“Compulsory work for the capitalist usurped the place, not only of the children’s play, but also of free labour at home within moderate limits for the support of the family. The value of labour-power was determined, not only by the labour time necessary to maintain the individual adult labourer but also by that necessary to maintain his family. Machinery, by throwing every member of that family on to the labour-market, spreads the value of the man’s labour-power over his whole family.” (MECW 35:398-399)

” سرمایہ داری کے لازمی کام نے صرف بچوں کے کھیلنے کے مقام کو ہی اکھاڑ نہیں پھینکا بلکہ اس نے خاندان کی مدد کے لیے اعتدال پسندانہ حد میں گھر کے اندر مفت محنت پر حملہ کیا ہے- قوت محنت کی قدر کا معیار نہ صرف بالغ مزدور فرد کو باقی رکھنے والے لیبر ٹائم سے طے کیا جاتا ہے بلکہ یہ اس کے خاندان کو باقی رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے- میشنری اس خاندان کے ہر فرد کو لیبر مارکیٹ میں پھینک کر آدمی کی قوت محنت کو اس کے سارے خاندان پر پھیلادیتی ہے

مارکس مزید آگے کا استدلال کرتا ہے کیونکہ خاندان گھریلو کام کے مقابلے میں اجناس کو خریدنے پر زیادہ انحصار کرتا ہے- خاندان برقرار رکھنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اس سے زیادہ آمدنی بھی بیلنس ہوجاتی ہے

” اجرتی کام کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ خاندان کے معیار زندگی کو بلند نہیں کرتا بلکہ کم کرتا ہے کیونکہ معشیت ، کھپت میں فیصلہ اور اشیائے ضرورت کے زرایع کی تیاری ناممکن ہوجاتی ہے

دوسرے لفظوں میں، عورتوں کی گھریلو مہارتوں میں جو پنہاں قدر ہوتی ہے وہ کھوجاتی ہے۔

امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران، جس نے کاٹن کی تجارت کو برباد کیا، برطانیہ میں ٹیکسٹائل ورکرز بڑے پیمانے پر بے کار ہوگئے- یہاں مارکس استدلال کرتا ہے کہ عورتوں کی کوآپریٹو کے پاس کھانا پکانے کا وقت ہاتھ آگیا- بدقسمتی سے یہ ہنر ایسے وقت ہاتھ آیا جب ان کے پاس پکانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں- لیکن اس سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے سرمایہ خود اپنے ذاتی پھیلاؤ کے مقصد کے لیے خاندان کے گھر میں ضروری محنت کو اچک لیتا ہے

(مجموعہ مارکس و اینگلس جلد 35 صفحہ 399)

مارکس سرمایہ داری کے مرکزی تضاد کی پہچان کرواتا ہے- وہ یہ کہ اگرچہ سرمایہ قوت محنت کی ری پروڈکشن پر انحصار کرتا اور منافع کا مطالبہ خود محنت کشوں کی ری پروڈکشن کو کمتر بنانے کا خطرہ پیدا کرتا ہے- مارکس نے اس پہیلی کوسرمائے کی پہلی جلد میں مشہور ستم ظریف تبصرے میں قابو کیا ہے

“The maintenance and reproduction of the working-class is, and must ever be, a necessary condition to the reproduction of capital. But the capitalist may safely leave its fulfillment to the labourer’s instincts of self-preservation and of propagation.” (MECW 35:572).

” محنت کش طبقے کی دیکھ بھال اور ری پروڈکشن سرمائے کی ری پروڈکشن کے لیے ایک لازمی شرط ہے اور ہونی بھی چاہئیے- لیکن سرمایہ دار محفوظ طریقے سے اس کے پورا کرنے کو محنت کش کی خود کی حفاظت کی جبلتوں اور پروپیگنڈے پر چھوڑ سکتا ہے

قوت محنت/لیبر پاور ایک بنیادی طریقے سے پیداوار کے دوسرے عوامل سے مختلف ہوتی ہے- سرمایہ دار جو مشینری پر سرمایہ لگاتا ہے معقول طور تر اپنے سرمائے کا ثمر حاصل کرنے بارے یقین رکھ سکتا ہے- درحقیقت ایک ضابطے کے طور پر، سرمایہ دار لاگت اور مسابقت میں کمی کے لیے پیداواریت کو بڑھانے میں سرمایہ کاری لازمی کرتے ہیں- جبکہ سرمایہ داروں کا اپنے موجودہ ملازمین کے بچوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا تو وہ ایسی اجرت دینے سے گریزاں ہوتا ہے جو (بچوں کی بابت میں) ان کو سپورٹ دے سکے- اس لیے اجرتوں کو کم سے کم رکھنے کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے

”In the chapters on the production of surplus-value it was constantly pre-supposed that wages are at least equal to the value of labour-power. Forcible reduction of wages below this value plays, however, in practice too important a part, for us not to pause upon it for a moment. It, in fact, transforms, within certain limits, the labourer’s necessary consumption-fund into a fund for the accumulation of capital …If labourers could live on air they could not be bought at any price. The zero of their cost is therefore a limit in a mathematical sense, always beyond reach, although we can always approximate more and more nearly to it. The constant tendency of capital is to force the cost of labour back towards zero.” (Capital Vol. I, MECW 35:595-596)

” قدر زائد کی پیداوار کے ابواب میں یہ مستقل فرض کیا گیا کہ اجرتیں کم از کم قوت محنت کی قدر کے برابر ہوتی ہیں- اجرتوں میں زبردستی کمی اس قدر کو کم کرنے کا کردار ادا کرتی ہے، تاہم عمل میں ایک جزو ہمارے لیے اہم یہ ہے کہ ہم ایک لمحے کے لیے بھی اس پر توقف نہ کریں- اصل میں یہ چند خاص حدود میں محنت کش کی ضروری کھپت پر مبنی فنڈ کو سرمائے کے ارتکاز کے فنڈ میں بدل ڈالتی ہے—- اگر محنت کش ہوا کھا کر زندہ رہ سکتے ہوں تو اس کی قوت محنت کو کسی قیمت پر بھی نہ خریدیں- ان کی لاگت کا صفر ہونا ایک ریاضیاتی سینس میں ہمیشہ ناقابل رسائی ہوتا ہے- اگرچہ ہم ہمیشہ زیادہ سے زیادہ اس کے قریب ہونے کا اندازہ لگا سکتے ہیں- سرمائے کا مستقل رجحان محنت کی لاگت کو صفر کی طرف پھیرنا ہوتا ہے

اس تناظر سے، محنت کش طبقے کی اپنے آپ کو ری پروڈیوس کرنے کی صلاحیت خود محنت کش طبقے پر منحصر ہوتی ہے-یعنی اس صلاحیت کا انحصار طبقاتی جدوجہد کی سطح اور حدود پر ہوتا ہے- ایک دن میں کام کے گھنٹوں کے کم سے کم رکھنے، اجرتوں کے زیادہ سے زیادہ ہونے ، کام کے حالات کو سازگار بنانے ، فلاحی ریاست کی حدود کو بڑھانے اور دوسری عوامی خدمات کے لیے جدوجہد کے زریعے محنت کش طبقہ کی عوام اپنی اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سرمایہ دار مالک سے وسائل کھینچتے ہیں