Featured Original Articles Urdu Articles

کامریڈ شانتا بخاری کو سُرخ سلام – عامر حسینی

کارپوریٹ سرمایہ دار میڈیا کا لبرل سیکشن کا فوکس سرمایہ دار لبرل ناری وادی عورتیں رہتی ہیں اور اُن کی جدوجہد زیادہ سکرین پر اور اخبار کی سُرخیوں میں نظر آتی ہیں

جبکہ اس میڈیا کا دایاں بازو رجعت پرست، انتہاپسند اور قدامت پرست خواتین ایکٹوست پر فوکس رکھتا ہے- سکرین اور اخبار کی سرخیوں اور تصویری سیکشن بھی اُن کو زیادہ فوکس کرتا ہے

لیکن جو محنت کش طبقے کی عورتوں کے حقوق چاہے یہ عورتیں صعنتی، آئی ٹی یا ڈومیسٹک لیبر یا سروسز لیبر سیکٹر سے ہوں کے حقوق و مسائل پر فوکس کرنے والی خواتین ہوتی ہیں یہ دونوں سیکشن اُن پر بہت کم فوکس کرتے ہیں- سوشلسٹ ناری وادی ایکٹوسٹ اور اُن کے خیالات اور کام پر سرمایہ داری میڈیا کم توجہ کرتا ہے

اس لیے نام نہاد مین سٹریم بحث بھی طبقہ اشرافیہ اور پڑھی لکھی اَپر مڈل کلاس کے لبرل اور کنزرویٹو ویمن کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے اور ورکنگ کلاس ویمن کے مسائل اور اُن کا سرمایہ داری سے جو تعلق بنتا ہے اُس پر بحث مین سٹریم ہی نہیں ہوپاتی

پاکستانی سماج میں کتنے فیصد لوگ ہیں جو کامریڈ شانتا اور اُن کے کام کو جانتے ہوں گے؟

کامریڈ شانتا بخاری جو پاکستان میں کپڑے، بیٹری اور چوڑی بنانے کے کارخانوں میں جو زیادہ تر کراچی اور حیدرآباد میں تھے خدمتگار عورت یونین کی شاخیں بنانے اور اُن محنت کش خواتین کی جدوجہد کو منظم کرنے والی سب سے پہلی خاتون تھیں- انہوں نے گھروں میں دستکاری کرنے، بیڑی بنانے اور دیگر اشیاء بنانے کا کام کرنے والی خواتین کو خدمتگار ویمن یونین میں منظم کیا اور اُن کو کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے جڑنے میں مدد دی

وہ جب لاڑکانہ منتقل ہوئی تو انہوں نے لاڑکانہ میں محنت کش عورتوں کی یونین کو منظم کیا اور اُن کو اپنے حقوق کی لڑائی کے لیے تیار کیا

کراچی سمیت پاکستان کے اربن و کمرشل شہری مراکز میں آج بھی فیکڑیوں، کارخانوں، سروسز سیکٹر میں کام کرنے والی لاکھوں عورتوں کو یونین میں منظم کرنے کے لیے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپئن، ریڈ ورکرز فرنٹ، پیپلز لیبر بیورو میں بہت ہی زبردست کام کرنے والی خواتین ایکٹوسٹ موجود ہیں

جیسے میں کراچی میں کامریڈ زھرا خان اور اُن کی ساتھی خواتین کی ورکنگ ویمن میں جدوجہد دیکھتا ہوں جو روز ہزاروں محنت کش طبقے کی خواتین سے رابطے میں آتی ہیں لیکن ہمارا مین سٹریم میڈیا اُن کے کام کو کم فوکس کرتا ہے اور اُن کا جو عورتوں کے حقوق و مسائل بارے شعور ہے اسے سامنے لانے کے لیے کبھی بھی ہمارے ٹی وی اینکر اُن کو اپنے ٹاک شوز میں لیکر نہیں آتے

وہ لبرل فیمنسٹ یا کنزرویٹو مردوں کو لیکر آتے ہیں

ورکنگ کلاس کے مرد ایکٹوسٹ جو ورکنگ ویمن ایکٹوسٹ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اُن کو بھی ایک ساتھ سکرین پر نہیں لایا جاتا- اس لیے سرمایہ داری نظام میں عورت اور مرد محنت کشوں کے درمیان جو ہم آہنگی اور اُن کے شعور کے جو مشترکات ہیں اُن کا مظاہرہ بھی عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتا

کامریڈ شانتا بخاری نے 1948ء سے لیکر مرتے دم تک جن مرد محنت کشوں کے ساتھ ملکر سرمائے کی غلامی سے نجات پانے کی جدوجہد کی جن میں اُن کے شوہر کامریڈ جمال بخاری بھی شامل تھے یہ تفصیل ہمارے سماج کی اکثریت کے شعور کا حصہ بنی ہوتی تو صورت حال ویسی نہ رہتی جیسی آج ہے

اپنے اردگرد اک نظر ڈالیں بہت سے ایسے کردار ملیں گے جو سرمائے کی غلامی سے نجات کی جدوجہد میں طبقاتی شعور سے لیس ہیں اور بہترین سیاسی سماجی جدوجہد کررہے ہیں لیکن ہمارے سماج کا سرمایہ دارانہ کلچرل آپریٹس لبرل فیمنسٹ تسلط اور اس کے مقابلے میں رجعت پسندانہ کلچرل تسلط کو ہی برقرار رکھے ہوئے ہے جو ہماری اکثریت کے شعور کو متاثر کرتا ہے

عورت مارچ 2019ء میں سرمایہ دار کارپوریٹ میڈیا کے لبرل اور کنزرویٹو دونوں سیکشن نے حمایت یا مخالفت میں لبرل فیمنسٹ نعروں کو ہی بنیادی فوکس میں رکھا

جس کا تعلق زیادہ تر پڑھی لکھی درمیانے طبقے کی بالائی خواتین سے تھا اور اسی مارچ یا اُن سے ہٹ کر ورکنگ ویمن ایسوسی ایشنز کے جو جلوس اور مارچ میں لگنے والے نعرے اور پوسٹرز میں لکھے مطالبات تھے اُن پر سرے سے بحث ہی نہیں ہوئی- اور اُن پوسٹرز کو تھام کر چلنے والی یا عورتوں کی قوت محنت کے دوہرے استحصال اور اُن پر جبر کے خلاف نعرے لگانے والی عورتوں کی طرف میڈیا کے نہ تو کیمرے گئے اور نہ کسی اینکر کو اُن کو بلاکر اُن سے پوچھنے کی توفیق ہوئی

کامریڈ انعم ہوں یا کامریڈ زھرا خان ہو یا کامریڈ صدف زھرا ہوں یا کامریڈ زیب بشیر ہوں اس طرح کے سینکڑوں خواتین ورکنگ ویمن ایکٹوسٹ کے نام لیے جاسکتے ہیں جو عورتوں کے استحصال اور جبر کے اُن بنیادی ڈھانچوں کے خلاف لڑ رہی ہیں جو سوشل ری پروڈکشن کی پرائیوٹائزیشن پوری قوت سے برقرار رکھتا ہے اور کام کی جگہ پر مرد اور عورت دونوں کی پیدا کردہ قدر زائد پر قبضہ جماتا ہے- جو محنت کش عورتوں اور محنت مردوں کے درمیان استحصال اور جبر کی بنیاد کے خلاف باہمی اتحاد اور جڑت کو لبرل فیمنزم یا پرانے پدرسری نظام کی اخلاقیات کے نام پر اُن کے درمیان فاصلوں کی وکالت کرتا ہے

جیسے یورپ اور امریکہ میں روزالکسمبرگ، کروپسکایا، کلارازیٹکن سمیت محنت کی قوت کو سرمائے کی غلامی سے نجات کے راز کو سمجھ کر اس کے لیے کام کرنے والی خواتین کے مقابلے میں لبرل فیمنسٹ چہرے زیادہ نمایاں رکھے جاتے ہیں ایسے ہی ہمارے سماج میں بھی شانتا بخاری جیسے چہروں کو پس منظر میں رکھ کر لبرل فیمنسٹ چہروں کو زیادہ فوکس رکھا جاتا ہے

سرمایہ داری کا میکنزم اس بات کو ممکن بلکہ یقینی بناتا ہے کہ ورکنگ کلاس کی عورتیں اور مرد اپنے اوپر استحصال اور جبر کو محنت کی سرمایہ دارانہ تقسیم جس کا محنت کی صنفی تقسیم بھی حصہ ہے کا نتیجہ سمجھ کر اس تقسیم کے خلاف جدوجہد نہ کرنے لگ جائیں بلکہ محنت کش مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کی آزادی کا دشمن ثابت کردیا جائے اور وہ آپس میں لڑمریں اور سرمایہ دار طبقہ آرام سے اُن کی لڑائی کا مزہ لے