Featured Original Articles Urdu Articles

کیا پی ٹی آئی پنجاب اور وفاق میں بیوروکریسی میں شریف برادران کے منظور نظر افسران کے زریعے “گڈ گورننس” لائے گی؟ – عامر حسینی

پنجاب میں شہباز شریف کے پرسنل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ قومی وزرات صحت کے سیکرٹری انچارج تعینات

پنجاب میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت ھوم سیکرٹری سلمان میجر(ر) اعظم سلمان خان چیف سیکرٹری پنجاب ہیں

نواز شریف کی عنایت خاص سے گریڈ 22 پانے والے چار افسران میں سے ایک اعجاز منیر وفاقی سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ہیں

فواد حسن اگرچہ ریٹائرڈ ہوگئے ہیں لیکن وہ بھی مبینہ طور پر نیب سے اس لیے رہا ہوئے ہیں کہ وفاق اور پنجاب کو چلانے میں افسران کی تعیناتی میں ان سے کام لیا جارہا ہے

پنجاب میں شہباز شریف نے میڈیا کو اپنے حق میں استوار کرنے کے لیے راجا جہانگیر انور کو سیکرٹری اطلاعات تعینات کیا اور ان کو خاصی آزادی دی اور وہ شہباز شریف کے پیارے سمجھے جاتے تھے پھر پی ٹی آئی کی حکومت میں وہ نیب یاترا کو گئے اور واپس آکر وہ چیف منسٹر پنجاب سمیت پی ٹی آئی کی حکومت کے سافٹ امیج کے لیے بہت سے منصوبوں کے انچارج ہیں- کہا جاتا ہے نیب کے لاک اپ میں ان کے سامنے دو آپشن رکھے گئے تھے یا تو لمبے عرصے کے نیب کی قید کاٹیں یا پھر جو کام شہباز کے لیے کررہے تھے وہ پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے کریں

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک جن پولیس افسران کا نام لیتی ہے جو ریٹائرڈ نہیں ہوئے ان کو بھی اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے

پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں نواز- شہباز پیاروں کی نوکر شاہی پر انحصار کررہی ہے اور یہ تک کہا جارہا ہے پنجاب میں سی ایم ہوں یا گورنر ہوں یا وزرا ہوں ان کی بجائے بیوروکریسی کے کنٹرول کی کئی چابیاں ہیں جو اسلام آباد اور لاہور میں کن کے پاس ہیں یہ بتانے کی اجازت ہمارے صحافتی سورس دیتے نہیں ہیں

ایک کٹھ پتلی حکومت اسلام آباد میں اور ایک کٹھ پتلی حکومت پنجاب میں ہے اور ان کٹھ پتلیوں کی کٹھ پتلی حثیت سے واقف پنجاب اور وفاق کی افسر شاہی ان کو خاطر میں ہی نہیں لاتی