Featured Original Articles Urdu Articles

سرمایہ داری اور عورت پر جبر – عامر حسینی

سرمایہ دار ناری وادی/ لبرل فیمنسٹ پدر سریت/مردانہ غلبے والا سماجی نظام کے سرمایہ داری سے رشتے کے بارے میں بحث کو بار بار چھپانے اور اس سے توجہ کو ہٹاکر اور طرف لیجانے کی کوشش کرتے ہیں- یہ دایاں بازو کی اصل طاقت یعنی خود کو مقدس قرار دینے والے روپ کے پیچھے سرمائے کی طاقت کو بے نقاب کرنے کی بجائے اس کے ظاہری روپ بہروپ اور بیانیوں کو اپنے سرمایہ نواز بیانیوں کے مدمقابل لاتے ہیں اور یوں سرمائے کی ماں(لبرل) اور بیٹی(ملّاں) کے درمیان اصل مسئلہ غتربود ہوجاتا ہے

لیکن کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ یہ جو سوشلسٹ ہیں وہ پدر سریت اور عورتوں پر جبر کے سوال کو سرے سے قابل بحث ہی نہیں سمجھتے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے

سوشلسٹ عورتوں پر جبر، پدرسریت کی درجہ بندی کو زیادہ بڑے کینویس میں دیکھتے ہیں اور یہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے اندر صنفی تقسیم محنت کے سوال کو زیر بحث لاتے ہیں جس کی طرف سرمایہ دار ناری وادی/ لبرل فیمنسٹ بھولے سے اشارہ بھی نہیں کرتے

انقلابی بایاں بازو کا ناری وادی/فیمنسٹ عورتوں پر جبر کے سوال کو وہاں سے شروع کرتا ہے جہاں سے کارل مارکس نے اپنا کام شروع کیا تھا – اور وہ ہے

اجتماعی محنت / Collective Labor

اجتماعی محنت کی تشکیل میں جو افراد حصّہ لیتے ہیں وہی سماجی اور سیاسی رشتوں میں داخل ہوتے ہیں- تجرباتی مشاہدہ ہی سماجی اور سیاسی ڈھانچے کا سماجی پیداوار سے عملی رشتہ ظاہر کرتا ہے- حقیقی فرد وہ ہوتے ہیں جو مادی طور پر عمل کرتے ہیں، محنت سے پیداواری عمل میں شریک ہوتے ہیں اور وہ معلوم حدود کے ساتھ مادی حالات و شرائط کے تحت کام کرتے ہیں جو ان کی مرضی اور ارادے سے آزاد ہوتے ہیں

انقلابی بایاں بازو کا ناری واد/ سوشلسٹ فیمنسٹ اجتماعی محنت میں سماجی پیداوار کے عمل کے ساتھ افزائش نسل اور پالنے پوسنے کے کام یعنی سوشل ری پروڈکشن کو بھی شامل کرتا ہے- اور وہ کاموڈیفیکشن / سرمايہ داری کی جانب سے قدر استعمال کو قدر تبادلہ بنانے کے عمل میں ری پروڈکشن کے عمل کی کاموڈیفیکشن کو بھی شامل کرتا ہے اور اس کے خیال میں سرمایہ دار جہاں محنت کش کی قوت محنت کی ری پروڈکشن میں سرمایہ کاری کرنے کے خلاف مزاحمت کرتا ہے ، ورکرز کے درمیان مسابقت بازی کے رجحان کو بڑھاتا ہے اور اجرت کی شکل کو انفرادی شکل میں برقرار رکھنے کے لیے زور لگاتا ہے وہیں وہ اپنی ساری قوت گھریلو دیکھ بھال کی ذمہ داری کی نجی حثیت برقرار رکھنے میں صرف کرتا ہے

جب تک گھریلو دیکھ بھال نجی ذمہ داری رہے گی تب تک ایک گھر کے ممبران کے کئی اہم گھنٹے اجرتی بنیاد پر یا غیر اجرتی بنیادوں پر گھریلو دیکھ بھال

(Caregiving)

میں صرف ہوں گے اور صنفی تقسیم محنت

(Gender division of Labor)

کا (سرمایہ دارانہ) منطق کے ساتھ جواز فراہم ہوتا رہے گا- اور دایاں بازو بھی پدرسری خانگی نظام

میں عورتوں پر جبر کو عورتوں کا مقدس فریضہ بتاتا رہے گا

لبرل ناری وادی/ کارپوریٹ فیمنسٹ اس بات کا جواب دیں کہ وہ جس لبرل بورژوازی /لبرل سرمایہ دارانہ جمہوریت کے حامی ہیں جس کا اصول شہری حقوق میں عورتوں اور مردوں کی برابری ہے اس لبرل سرمایہ داری جمہوریت میں میں صنفی بنیادوں پر محنت کی تقسیم کیوں برقرار ہے؟ یہ سوال بھی لبرل فیمنسٹوں سے بنتا ہے کہ دنیا کی بہترین بورژوازی لبرل ڈیموکریٹک ریاستوں میں سیاسی اقتدار/ پولیٹکل پاور تک مردانہ رسائی عورتوں کی پولیٹکل پاور تک رسائی سے کہیں زیادہ کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب سرمایہ داری ناری وادی اس لیے نہیں دے پاتے کیونکہ اس سوال کا جواب کاموڈیٹی پروڈکشن کی پوجا کی حد تک پہنچ جانے والے معاشی نظام کی ڈی کنسٹرکشن میں چھپا ہے جو اگر سرمایہ دار ناری وادی دانشور کرنے لگے گا تو پھر وہ سرمایہ داری کا خود کو حامی کیسے رکھ پائے گا؟

سرمایہ داری کے حامی لبرل فیمنسٹ عوام کو یہ سچ بتانے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام کے پیداواری میکنزم نے پرانے پدرسری خاندانی نظام اور اس خاندان کے افراد کے پرانے رشتوں کو جبری اور ظالمانہ اعتبار سے اقدامات اٹھاکر نئی شکل دینے کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک لیبر کو کاموڈیٹی لیبر سے الگ بھی کیا ہے اور اس طرح سے پدرسری نظام کی نئی درجہ بندی کی ہے جس سے عورت کو نجی ملکیت کے آغاز سے جس شکست کا سامنا ہوا تھا اسے پلٹایا نہیں جاسکا بلکہ اس نے مردوں کی قوت محنت کے ساتھ ساتھ عورتوں کی قوت محنت کو جہاں کاموڈیٹی لیبر میں بدلا وہیں ڈومیسٹک لیبر کو پرائیوٹائز کرنے میں اپنے نظام کی ساری طاقت صرف کردی

کیا عجب تماشا ہے کہ رجعت پرست دایاں بازو جو جاگیرداری/غلام داری/قبائلی دور کی اخلاقیات کو لیکر سرمایہ دارانہ نجی ملکیتی رشتوں کا مذہبی دلیلوں سے جواز لاتا ہے اور محنت کی صنفی تقسیم کے پیچھے سرمایہ دارانہ میکنزم کے کارفرما ہونے سے انکار کرتا ہے اور لبرل فیمنسٹ سرمایہ دارانہ میکنزم سے پھوٹنے والے عورت پر جبر اور صنفی تقسیم محنت کو عورت کے بارے میں عام توہمات و تعصبات اور کلیشوں کے سر تھونپ کر ان توہمات و تعصبات و کلیشوں کے پیچھے موجود میکنزم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے- وہ اسے لبرل بمقابلہ ملّا جنگ یا جدوجہد بنادیتا ہے اور سرمایہ داری کی قوتیں پس پردہ بیٹھ کر خوب تماشا دیکھتی ہیں- آخر میں عورتوں پر جبر کا سوال صرف اور صرف ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤنز ، لگژری آسائشی کالونیوں اور ہاؤسنگ اسکیموں میں رہنے والے مذہبی دایاں بازو اور لبرل فیمنسٹوں کے درمیان زبانی کلامی جنگ کی صورت رہ جاتا ہے یا اپر مڈل کلاس کی جنگ بن جاتا ہے جبکہ کروڑوں محنت کش مرد اور عورتیں اس ساری جنگ میں اپنی نجات کا سوال کہیں سرے سے نہیں پاتے

“The fact is, therefore, that definite individuals who are productively active in a definite way enter into these definite social and political relations. Empirical observation must in each separate instance bring out empirically, and without any mystification and speculation, the connection of the social and political structure with production. The social structure and the State are continually evolving out of the life-process of definite individuals, but of individuals, not as they may appear in their own or other people’s imagination, but as they actually are; i.e. as they act, produce materially, and hence as they work under definite material limits, presuppositions and conditions independent of their will.” (MECW 5:37)
#AuratMarch2020