Featured Original Articles Urdu Articles

عورتوں کا عالمی دن : ایک سوشلسٹ نکتہ نظر- پہلا حصّہ – ترتیب و تدوین و ترجمہ – عامر حسینی

عصر حاضر میں مارکس کا ایک اشتراکی ناری وادی مطالعہ

Marx for Today: A Socialist-Feminist Reading – Johanna Brenner

کارل مارکس کے مجموعی کام کا اگر ہم جائزہ لیں تو اس نے عورتوں پر جبر یا پدرسریت کے سرمایہ داری کے ساتھ رشتے داری کے بارے میں براہ راست بہت ہی کم بات کی تھی

ایک: کچھ باتیں جو اس نے کہیں وہ تو بہت ہی گمراہ کن تھیں- پھر بھی مارکسی ناری وادیوں نے ان مسائل کو سمجھنے کے لیے ایک ممتاز فہم پیدا کرنے کی خاطر اس کی فکر پر توجہ مرکوز کی

دو: مارکسی ناری وادی/مارکسسٹ فیمنسٹ بھی وہیں سے اپنا کام شروع کرتے ہیں جہاں سے مارکس کرتا ہے- اور وہ ہے اجتماعی محنت

انسانوں کے لیے محنت کو سماجی طور پر منظم کرنا پیداوار کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے جس کی ہمیں زندہ رہنے کے لیے ضرورت ہوا کرتی ہے- سماجی طور پر محنت کیسے منظم ہوتی ہے، جواب میں کیسے یہ ساری سماجی زندگی کی تنظیم کی صورت گری کرتی ہے اس کا جواب جرمن آئیڈیالوجی میں مارکس نے جرمن آئیڈیالوجی میں اس طرح سے دیا ہے

“The fact is, therefore, that definite individuals who are productively active in a definite way enter into these definite social and political relations. Empirical observation must in each separate instance bring out empirically, and without any mystification and speculation, the connection of the social and political structure with production. The social structure and the State are continually evolving out of the life-process of definite individuals, but of individuals, not as they may appear in their own or other people’s imagination, but as they actually are; i.e. as they act, produce materially, and hence as they work under definite material limits, presuppositions and conditions independent of their will.” (MECW 5:37)

“حقیقت یہ ہے کہ متعین افراد جو کہ پیداواری اعتبار سے فعال ہوتے ہیں وہ متعین راستے سے متعین سماجی اور سیاسی تعلقات میں داخل ہوتے ہیں- تجرباتی مشاہدات کو لازمی طور پر ہر ایک جداگانہ مثال میں تجرباتی طور پر باہر لانا ضروری ہوتا ہے اور کسی قسم کی پراسراریت اور قیاس کے بغیر سماجی اور سیاسی ڈھانچے کا پیداوار سے تعلق سمجھنا ضروری ہوتا ہے-سماجی ڈھانچہ اور ریاست متعین افراد کی زندگی کے عمل سے مسلسل نمودار ہوتے ہیں، لیکن افراد جیسا کہ وہ ہوتے ہیں(ان کے لائف پروسس سے سماجی ڈھانچہ اور ریاست کی تشکیل ہوتی ہے-) ناکہ وہ افراد جو افراد کے خود اپنے یا دوسرے لوگوں کے تخیل کآ نتیجہ ہوتے ہیں- حقیقی افراد وہ ہوتے ہیں جو عمل کرتے ہیں،مادی طور پر جو پیدا کرتے ہیں،اور یہاں تک کہ جیسا کہ وہ متعین مادی حدود، پہلے سے لاگو شرائط اور حالات کے تحت کام کرتے ہیں جو ان کے اختیار اور مرضی سے ماورا ہوتے ہیں

(مجموعہ کارل مارکس و اینگلس جلد پنجم،صفحہ 37)

جب مارکس ان افراد کا حوالہ دیتا ہے جو متعین راستے سے پیداواری طور پر فعال ہوتے ہیں تو وہ مادی اشیاء کی ابتدائی طریقے سے پیداوار بارے سوچ رہا ہوتا ہے- مارکسی ناری وادی سماجی طور پر ضروری محنت کی اختراع کو توسیع دیتے ہوئے اس میں جہاں وہ بقائے فرد کے لیے ضرورتوں کو پورا کرنے کو اور اس کے زریعے روزانہ کی بنیاد پر اپنے آپ کو تازہ دم کرنا شامل کرتے ہیں وہیں وہ اس میں افزائش نسل اور اور نئی نسل کو پالنے پوسنے کے کام کو بھی شامل کرتے ہیں

‘سوشل ری پروڈکشن’ کی اصطلاح اسی طرح کی محنت کا حوالہ دینے کے لیے بنائی گئی ہے-(3) سوشل ری پروڈکشن کا مطلب سرگرمیاں، رویے، سلوک ، جذبات، ذمہ داریاں اور تعلقات ہیں جو براہ راست روزمرہ بنیادوں پر زندگی اور باہمی نسیلیات کو برقرار رکھنا ہے

سوشل ری پروڈکشن سماجی طور پر ضروری کام کی کئی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے۔ ذہنی، جسمانی اور جذباتی وغیرہ- اس کا مقصد تاریخی اور سماجی طور پر اور حیاتیاتی طور پر متعین ضرورتوں کو پورا کرنا ہوتا ہے- ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے زریعے آبادی کو برقرار رکھنا اور اس کی افزائش نو کرنا ہے۔

دوسری چیزوں کے علاوہ،سماجی ری پروڈکشن میں اور کئی باتیں بھی شامل ہوتی ہیں

جیسے خوراک، کپڑے اور رہائش کیسے فوری استعمال کے لیے دستیاب ہوسکتے ہیں ، بچوں کی دیکھ بھال اور معاشرتی زندگی بہتر کیسے کی جاسکتی ہے؟ بالغ عمر کے لوگ کیسے سماجی اور جذباتی حمایت وصول کرتے ہیں؟ اور کیسے سیکسچوئلٹی کا تجربہ کیسے کیا جاتا ہے؟ اس نکتہ آغاز سے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے جینڈر/صنف اور جینڈر ری لیشنز/صنفی تعلقات جیسے محنت کی صنفی تقسیم ہوتی ہے سماجی، تاریخی ساختیے ہیں اور سوشل ری پروڈکشن کے ڈھانچے کے ساتھ نتھی ہوتے ہیں

اصل میں موجودہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں سے ہر ایک کی اپنی تاریخیں اور تبدیلی کے اپنے راستے ہیں اور ایسے ہی ہر ایک کے ہاں صنفی تعلقات کا ڈھانچہ تشکیل کے دوران متنوع راستوں سے گزرا ہے- اس پیچیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے اشتراکی ناری وادی مارکس کے کام پر توجہ دیتے ہیں تاکہ وہ پدرسری تعلقات پر مبنی کام کا سرمایہ دارانہ معاشروں تجزیہ کرسکیں

سوشل ری پروڈکشن اور محنت کی صنفی تقسیم

ہم ایک طرف تو پروڈکشن/ پیداوار کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم سوشل پروڈکش کی بات کرتے ہیں- یہ جزوی طور پر مردانہ مارکس واد نظریہ کی ترقی اور سرمایہ دارانہ طریق پیداوار دونوں کا نمونہ ہے- سرمایہ دارانہ نظام میں جو کام گھر میں کیا جاتا ہے، اگرچہ وہ انسانوں کی ری پروڈکشن کے لیے بہت اہم ہوتا ہے لیکن اسے اسے پیداوار اور اجناس/ کاموڈیٹیز کی گردش سے الگ کردیا جاتا ہے- غلام داری دور کو چھوڑ کر سرمایہ دارانہ معاشروں سے پہلے جو ماقبل سرمایہ دارانہ معاشروں میں گھر گھرہستی کو شادیوں، کنبہ داریکے زریعے سے منظم کیا جاتا اور یہ مادی پیداوار کے ساتھ ساتھ انسان کی دیکھ بھال کے بنیادی یوںٹ تھے

جیسا کہ مارکس نے نشان دہی کی ہے ، سرمایہ داری پیداوار سے بننے والی اجناس اور خریدنی و فروختنی بنائی جانے والی خدمات / کاموڈوفائیڈ سروسز دونوں قدر صرف اور قدر تبادلہ دونوں ہیں

مارکس اینگلس مکمل مجموعہ تصانیف

پھر یہ کہ وہ پیداواری اجناس اور جنس بنادی گئی سروسز/خدمات کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرتی ہیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو بنانے کی کوئی وجہ نہیں بنتی لیکن ان کو ضرورتیں پورا کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی پیداوار کا مقصد ‘قدر زائد ‘ یا منافع کا حصول ہوا کرتا ہے

قدر استعمال کی پیداوار کے نکتہ نظر سے اجرتی اور غیر اجرتی محنت ایک متحدہ پروسس کی تشکیل کرتی ہیں جس کا انجام کار نتیجہ انسانوں کی ری پروڈکشن نکلتا ہے- قدر تبادلہ کی پیداوار کے نکتہ نظر سے ایک مربوط پروسس کو جو چیز دو مختلف ٹائپ کی محنت میں جدا کرتی ہے یعنی قابل خرید و فروخت محنت اور ناقابل خرید و فروخت محنت / جنس محنت اور غیر جنس محنت وہ پیداوار کے طبقاتی رشتوں کا نتیجہ ہے ناکہ وہ انسانی سماجی زندگی کا عالمگیر سچ ہے۔

یہ علیحدگی عوامی و نجی سطحں کے درمیان، خاندان اور کام کے درومیان، ریاست اور معشیت کے درمیان تقسیم کے ظہور کے متوازی ہوتی ہے اور یہ سرمایہ دارانہ معاشروں کا سب سے بڑا امتیازی نشان بھی ہیں- ان دوہری علیحدگیوں یعنی معشیت / گھر گرہستی اور معشیت/ریاست نے صنفی رشتوں اور عورتوں کی جدوجہد کی تحریکوں کی صورت گری کی ہے جن کا مقصد ان کو سرمایہ داری معاشروں کۓ اندر بدلنا ہے

اب تک سوشل ری پروڈکشن کے جتنے بھی جانے پہچانے نظام ہیں ان کی بنیاد محنت کی صنفی تقسیم ( اگرچہ بعض اوقات یہ تقسیم غیر لچک دار اور کبھی زیادہ لچک دار رہی ہے) – محنت کی تقسیم کا یہ پیٹرن بظاہر تو تولیدی عمل کی ضروریات اور شیر خوار بچوں کے تقاضوں کے اعتبار سے ناگزیر طور پر حیاتیاتی لگتا ہے- اور اسی طرح سوشل ری پروڈکشن کے کام کی خاندانوں، برادریوں، منڈیوں ریاستوں اور عورتوں و مردوں کے درمیان تقسیم تاریخی اعتبار سے مختلف رہی ہے- یہ تغیر جزوی طور پر طبقہ اور صنف کے گرد ہونے والی جدوجہد کے نتیجے کے زریعے سے ماپی جاسکتی ہے۔ وہ جدوہائے جہد جو اکثر سیکسچوئلٹی اور جذباتی رشتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی طاقت اور معاشی زرایع کے متعلق بھی ہوتی ہے

وہ معاشرے جو سرمایہ داری سے پہلے ہوگزرے ان میں مرد گھروں کے سربراہ ہوتے تھے اور وہی پدر سری اتھارٹی کی بنیاد بھی تھے- واقعی یہ باپوں کی حکمرانی تھی-طبقاتی سرمایہ دارانہ تعلقات کو ابھرنے کے لیے، اس نظام کے ملکیتی حقوق کو اکھاڑ کر پھینکنا پڑا تھا- زبردستی سے نافذ کیے گئے قانونی اور ماورا قانونی پروسس کے زریعے سے جو مردوں کو ان کی ملکیت سے محروم کرتے تھے نے ان کو اجرتی مزدوروں میں بدل دیا اور اس سے پدرسری نظام کے کمتر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا—- کم از کم ورکنگ کلاس / محنت کش طبقہ کے لیے اس خطرے نے حقیقی شکل اختیار کی- انیسویں صدی کے کارخانوں اور فیکڑیوں میں عورتوں اور بچوں کے بدترین استحصال کا مشاہدہ کرتے ہوئے مارکس نے اپنی کتاب سرمایہ کی پہلی جلد میں لکھا

“However terrible and disgusting the dissolution, under the capitalist system, of the old family ties may appear, nevertheless, modern industry, by assigning as it does an important part in the process of production, outside the domestic sphere, to women, to young persons and to children of both sexes, creates a new economic foundation for a higher form of the family and of the relations between the sexes.

Moreover, it is obvious that the fact of the collective working group being composed of individuals of both sexes and all ages, must necessarily, under suitable conditions, become a source of humane development; although in its spontaneously developed, brutal, capitalistic form, where the labourer exists for the process of production, and not the process of production for the labourer, that fact is a pestiferous source of corruption and slavery.” (MECW vol. 35:492-493)

“تاہم پرانے خاندانی بندھنوں کی سرمایہ داری نظام کے تحت خوفناک اور غلیظ ترین تحلیل ظاہر ہوتی ہے،مزید جدید صنعت گھریلو دائرے سے باہر عورتوں ،نوجوانوں اور دونوں جنسوں کے بچوں کو پیداوار کے عمل میں ایک اہم کردار سونپتی ہے جو خاندان کی ایک بلند شکل کی نئی معاشی بنیاد کو جنم دیتی ہے اور مرد و عورت کے رشتوں/ تعلقات کی نئی معاشی بنیاد کی جنم داتا بھی بنتی ہے—– مزید اس سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہے اجتماعی محنت کرنے والے گروپ جو مرد اور عورتیں دونوں قسم کے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں اور ہر عمر کے ہوتے ہیں ان کے لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ سازگار حالات میں انسانی ترقی کا سرچشمہ بن جائیں- اگرچہ اپنی انتہائی تیزی سے بے ڈھب اور ظالمانہ سرمایہ دارانہ شکل میں مزدور پیداوار کے عمل کے لیے جیتا ہے نہ کہ پیداوار کا عمل مزدور کے لیے ہوتا ہے تو وہاں یہ حقیقت ہے کہ یہ پروسس کرپشن/بدعنوانی اور غلامی کا مہلک زریعہ ہوا کرتا ہے

اگرچہ مارکس اس بارے میں ابہام کا شکار تھا کہ خاندان کی ایسی بلند شکل اور صنفوں میں تعلقات کی صورت کیسے تشکیل پائے گی ، لیکن وہ سرمایہ دارانہ خاندان پر تنقید میں بہت واضح تھا جہاں پر مرد مالکان جائیداد اپنے بیوی اور بچوں کو اس ملکیت سے دور رکھنے کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے