Featured Original Articles Urdu Articles

شرجیل امام کی تقریر کیسے ہندوستانی لبرل لیفٹ کا پول کھولتی ہے – آخری حصّہ – ایوتا داس ، اشکت جین، شاہ رخ خطیب

نوٹ: مضمون کا یہ دوسرا حصّہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے- اس حصّے میں بھی ہمیں ہندوستانی لبرل لیفٹ اور پاکستانی لبرل لیفٹ میں کافی کچھ مماثل نظر آتا ہے- ہندوستانی لبرل لیفٹ جیسے دلت اور مسلمانوں کے اپنی شناخت پر اصرار کو منفی معنی دیتا ہے ویسے ہی پاکستان میں کمیونل اور شناخت سیاست کو منفی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے- ہمارے ہاں تو عجیب بات ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے باب میں شناخت سیاست کو فرقہ واریت سے جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ کرسچن،احمدی، ہندؤ، بلوچ،پشتون،سرائیکی اور گلگتی بلتی اور کشمیری شناخت کی سیاست کو ایسا نہیں سمجھا جاتا- اور یہاں شناخت سیاست اور کمیونل کے معنی وہی سمجھے جاتے ہیں جو ہندوستان میں کانگریس اور لبرل لیفٹ کے ہاں رائج ہیں- ایوتا داس، اشکت جین اور شاہ رخ خطیب جیسے لوگ پاکستان میں اگر شیعہ شناخت کے اندر موجود مثبت معانی پر اصرار کرتے پائے گئے تو ان پر فوری فرقہ پرست ہونے کا الزام لگ گیا- اور یہاں جس نے شیعہ اور صوفی سنّی مسلمانوں کے ساتھ ان کی شرائط پر کھڑا ہونے کی بات بھی کی تو اسے یہاں سختی سے دبانے کی کوشش ہوئی

پاکستان میں مجھے ایل یو بی پی اور سجاگ نکتہ نظر ویب سائٹ سے ہٹ کر کوئی اور ویب سائٹ لبرل لیفٹ کی منافقت اور بددیانتی پر اس طریقے سے کھل کر بات کرنے والوں کو شایع کرتے نظر نہیں آئی- مین سٹریم میڈیا کی بات کو تو جانے ہی دیں- (اب بھی اس نوٹ کے ساتھ اسے خبروالے ویب سائٹ اور ایل یو بی پی نے ہی شایع کیا ہے باقی کسی نے اسے لفٹ نہیں کرائی- جس کا مجھے اس ترجمے کو کرتے ہوئے ہی پورا ادراک تھا)

اگلا مضمون عاصم موحد کا ہے- وہ شرجیل کے بارے میں دعوے دار ہے کہ وہ کہتا ہے

“یہ محض مسلمانوں کی لڑائی ہے- وہ سب کی شمولیت کے ساتھ ہونے والے احتجاج کے خیال کا مذاق اڑاتا ہے”

ہم پہلے ہی دکھا چکے کہ یہ دعوی بالکل جھوٹ ہے

شرجیل کی جامعہ کی رابطہ کمیٹی –جے سی سی کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ اس میں صرف مسلمان شامل نہیں ہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی ہیں

یہ اس قدر شرمناک جھوٹ ہے کہ شرجیل کے عزائم بارے اور اس کے صحافی ہونے کا مطلب جاننے کی قابلیت پر سوال اٹھانا پڑتا ہے – شرجیل کی جے سی سی کے ساتھ پرابلم کیا ہے؟ اگر عاصم موحد نے شرجیل کی تقریر سنی ہوتی تو اسے پتا ہوتا کہ وہ یہ نہیں ہے کہ اس میں ہندؤ اور مسلمان کیوں ہیں بلکہ یہ ہے اس کمیٹی سے وہ لوگ الگ کردیے گئے جو نعرہ تکبیر لگانے سے باز نہیں آتے- شرجیل کا مسئلہ جے سی سی کے ساتھ تنوع،تکثیریت کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ پوری طرح سے متروع اور تکثریتی نہیں ہے- خود شرجیل کے الفاظ میں

یہ جے سی سی جو انھوں نے بنائی ہے،وہ کہتے ہیں بہت زیادہ تکثریتی ہے، ان کے کہنے کے مطابق گروپ میں سوائے ‘اللہ اکبر’ کا نعرہ لگانے والوں کے سب شامل ہیں- یہ ہے ان کی تکثریتی نوعیت- اللہ اکبر والوں کے سوا یعنی ایک ایسا گروپ جو چار سو سے زائد طلباء پر مشتمل ہے کے علاوہ جے سی سی میں ہر کوئی شامل ہے- یہ کس قسم کی تکثیریتی ہے؟ یہ تکثیریتی ہوتی اگر اس میں اللہ اکبر گروپ بھی شامل ہوتا- وہ اللہ اکبر گروپ سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو تکثريتی حلقہ کہتے ہیں

عاصم کہتا ہے کہ شرجیل احتجاج کو “جے بھیم” اور “جے سمیدھان” کی بازگشت سے جوڑ کر نہیں دیکھتے۔” یہ ایک اور جھوٹ ہے- شرجیل جے سمیدھان سے احتجاج کو جوڑنے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن جے بھیم کی نہیں کرتے- عاصم جب ان دونوں کو اکٹھا کرتے ہیں تو وہ شرجیل کے منہ میں الفاظ ڈالتے ہیں، اس طرح سے وہ خود اپنے مقدمے کو بگآڑکر پیش کرتے ہیں

عاصم نتیجہ یہ نکالتا ہے، ” اس قسم کے شر سے فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ آپ کا قیاس اتنا ہی اچھا ہے جتنا میرا۔” ہم صرف یہ فرض کرسکتے ہیں کہ عاصمم ہمیں یقین دلانا چاہتا ہے کہ شرجیل کی تقریر سے بی جے پی کو فائدہ ملتا ہے- یہ کیسے ہندوتواپارٹی کو فائدہ پہنچاتی ہے؟ ” یہ رجیم کے مقصد کو پورا کرتی ہے اور وہ اس کی تقریر سے غیر معمولی ٹکڑے اٹھالیتا ہے

کیا عاصم کی تجویز یہ ہے کہ کسی کو ایسی بات کہنی نہیں چاہیے جس کو سیاق و سابق سے ہٹ کر لیا جاسکتا ہو اور مذموم ارادوں کے ساتھ اسے استعمال کیا جاسکتا ہو- گویا جیسے بی جے پی کو شرجیل کی ضرورت ہو اپنے ایجنڈے کو آگے دھکیلنے کے لیے- اور ااگر شرجیل کے دلائل بی جے پی کے فائدے میں جاتے بھی ہوں تو کیا اس سے وہ غلط قرار پا جائیں گے؟ اگر تو دلائل غلط ہیں تو ان کے لیے کوئی بھی عذر بنانے کی ضرورت نہیں ہیں- عاصم یہ تجویز کرتا نظر آتا ہے کہ ایسے دلائل جو بی جے پی کی مدد کرتے ہوں نہ صرف غلط ہیں بلکل ان کو کسی بھی طرح سے پیش نہیں کرنا چاہئیے- ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات کا قائل ہے کہ بحث کے دوران وہی دلائل قابل اجازت ہوں جو ہندوتوا لیفٹ لـبرل کے خلاف استعمال نہ کرسکے

اس منطق کے حساب سے تو لیفٹ لبرل پر کبھی تنقید کی ہی نہیں جاسکتی کیونکہ وہ بی جے پی کے دشمن ہونے کے دعوے دار ہیں- انہوں از خود یہ فرض کرلیا ہے کہ وہ بس وہی بی جے پی کے واحد مخالف ہیں جبکہ دوسری آوازوں کو انہوں نے متنازعہ بنادیا ہے- جب کبھی متنازعہ آوازیں اٹھتی ہیں، ان کو یہ کہہ کر خاموش کردادیا جاتا ہے کہ فاشزم کے خلاف لبرل لیفٹ ہی امید کی آخری کرن ہیں- جب لیفٹ لبرل فسطائی طریقوں میں خود کو ملوث کرتے ہیں تب ہی وہ بی جے پی کے دوسرے درجے کے فاشزم کے زریعے اپنے مخالفوں کو خاموش کراتے ہیں

عاصم کے بلند آہنگ سوالات کا آئیں ایک حقیقی جواب دیتے ہیں- شرجیل کی تقریر ان سب کو فائدہ پہنچاتی ہے جو اس جھوٹ اور غداری سے بیزار ہوچکے ہیں جو ہندوستانی ریاست اور آئین کا ورثہ ہیں- یہ ان تمام لوگوں کی مدد کرتی ہے جو تقسیم سے پہلے اقلیتوں سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کو پہچانتے ہیں اور اپنے دشمنوں سے اتحادیوں کو الگ کرسکتے ہیں- وہ جو اب شرجیل کو غداری کے الزام سے مبرا ہی نہیں سمجھتے بلکہ ان کے اتحادی بھی ہیں

شرجیل کی تقریر اچھے سے تیار کی گئی ہے لیکن ہندوستانی لیفٹ لبرل کے بارے میں یہ غیر معمولی الزام ہرگز نہیں ہے جو آخرکار عوام کے دلوں اور دماغ پر اپنے غلبے کو کھوتے جارہے ہیں- شرجیل کی تقریر اکثریت کی جمہوریت میں لبرل لیفٹ کے تباہ کن کلامیہ /ڈسکورس کی آزادی کو توڑنے میں کمزور اقلیتیوں کی مدد کرتی ہے- یہ اقلیتوں کو یہ ادراک پانے میں مدد کرتی ہیں کہ کیسے وہ لبرل لیفٹ سے “ایجنسی/ عامل” سے چھین کر خود اپنے لیے بول سکتے اور عمل کرسکتے ہیں- اس کے برعکس عاصم کا مضمون شرجیل کے خلاف کس کی مدد کرتا ہے؟ آپ کا اندازہ اتنا ہی اچھا ہے جتنا کہ ہمارا

آخر میں آئیں ہم شدھبراتا سین گپتا جو کہ آرٹسٹ، کیورٹر اور لکھاری ہیں کی فیس بک پر پوسٹ کو لیتے ہیں- وہ اس بات پر زور دینے کے ساتھ بات شروع کرتے ہیں کہ وہ شرجیل کو ہلہ شیری دینا نہیں چاہتے بلکہ وہ شرجیل پرسودائی پن، حماقت اور مکمل غائب دماغی کا الزام لگانے تک چلے جاتے ہیں- شدھبراتا نہ کریں سرپرستی لیکن ان کی اپنی بے دماغی انتہائی تکلیف دہ حد تک سامنے آتی ہے جب وہ مضحکہ خیز بات کہتے ہیں کہ ‘اللہ اکبر’ کا نعرہ لگانے سے وہ مسلمان ہوجائیں گے

” شرجیل امام اصل میں یہ کہہ رہے کہ وہ مجھے اپنی طرف صرف اور صرف اس وقت مانیں گے اگر میں مسلمانوں کا عقیدہ ‘نعرہ تکبیر’ مان لوں گا

یہ وہ بات ہے جسے وہ کسی کی یک جہتی لیے اپنی پیشگی شرط کہتے ہیں- اس کا مطلب ہے وہ مجھے اپنی جانب اس وقت تسلیم کریں گے جب میں مسلمان ہوجاؤں

شدھبراتا نے اسقدر بے باکی سے مضحکہ خیز بات کرنے سے پہلے گوگول سرچ کرنے کی تکلیف بھی نہیں کی جو ہمیں آج کے ہندوستان کے فنون کے براہمن وادی ہونے بارے حیران کرتا ہے- غیر ارادی طور پر یہ ایسے کیسے آپ کنورٹ ہوکر مسلمان ہوجاتے ہیں؟

مسلمان ہونے کے لیے اقرار ‘ نعرہ تکبیر’ نہیں ہے- یہاں تک کہ بنا نیت کے کوئی یونہی کلمہ پڑھنے سے مسلمان نہیں ہوجاتا- ایک جین یا دلت بادشاہت کے آنے پر کلمہ کہہ سکتا ہے لیکن اسلام کو اپنا مذہب تسلیم کیے بغیر مسلمان نہیں بن سکتے- بھدرا لوک بنگالی/بنگآلی مڈل کلاس ابھدرا/ نچلے طبقہ نہیں بن جاتا جب وہ محض “جے بھیم” دلت کے ساتھ پکاریں، تو ایسے ہی سین گپتا کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے- شرجیل غیرمسلموں کو اپنے مذہب(اسلام) کو قبول کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا- بلکہ وہ جو کہتا ہے وہ اوپر نقل ہوچکا ہے

شدھبراتا شرجیل کی تقریر کو بی جے پی کی حمایت کرنے والی کہتا ہے

” اگر شرجیل امام نہ ہوتا ، بے جی پی کو اسے ایجاد کرنا پڑتا

سین گپتا لگتا ہے کہ وہ کسی بھی فرانسیسی فلسفی کی دانشورانہ سالمیت کے ساتھ جڑے بغیر والتئیر کے مداح لگتے ہیں۔ ان کے مذاق کے جواب میں ہم کہتے ہیں: جبکہ شرجیل موجود ہے، اب شدھبراتا جیسے لوگوں کے لیے اپنے آپ کوفسطائیوں بارے خوف کو پھیلاتے خاموش کرانا ضروری ہے۔” کچھ بھی مت کہا جائے جبکہ وہ فسطائیوں کی مت کرنے والی ہو- لے دے کر یہی شدھبراتا کے استدلال کا جوہر ہے۔

اپنے ساتھی براہمن جھا کی طرح شدھبراتا کو شرجیل کی ‘ملیچھا’ ایجنسی کی جگہ ‘خالص تر ایجنسی’ کو فرض کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے- وہ اس طرح کے داؤ کھیلنے کے ماہر ہیں، اپنی ساری زندگی میں وہ ہر ایک کےسساتھ فرض شناسی سے اس کی مشق کرتے ہوئے ان کے لیے مسلسل بولنے کے دعوے دار رہے ہیں- شرجیل اپنی تقریر میں صاف کہتا ہے کہ کوئی بھی جو اس کے ساتھ کھڑا ہے اسے نعرہ تکبیر لگانا ہے- کوئی بھی جو ایسا کرنے پر راضی نہیں ہے وہ اس کے ساتھ نہیں ہے- شدھبراتا نعرہ تکبیر لگانے پر راضی نہیں ہے کیونکہ وہ تو شرجیل پر اپنی حمایت ویسے مسلط کرنا چاہتا ہے جیسے وہ کشمیریوں پر اپنی حمایت مسلط کرنا چاہتا ہے- آپ کسی کے ساتھ بھی کھڑے ہونے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کرپاتے جب تک آپ یہ نہ جان لیں کہ وہ کیسے آپ کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتا ہے- اگر کوئی آپ سے کھانا مانگے، آپ اسے کرسی دیکر کہتے ہیں کہ بس یہی ہے جو وہ آپ کے لیے کرسکتے ہیں- انہوں نے آپ سے کرسی تو نہیں مانگی تھی- اس سے کسی کی مدد تو نہیں ہوتی لیکن ہاں آپ کے اپنے ضمیر کی خلش کچھ کم ہوجاتی ہے- شدھبراتا کی شرجیل کے لیے حمایت کی بس یہی قدر و قیمت ہے- اور یہی وہ قدر و قیمت ہے جو اس ملک میں اقلیتوں سے کی جاسکتی ہے

سین گپتا کے مطابق، شرجیل کی شخصیت ایک طرح کے اعصابی شکل میں ایک انتہاپسند مرد کی سی ہے اور وہ اپنۓ آپ کو اپنے تئیں بہت بڑا باغی دانشور خیال کرتا ہے- وہ اپنے آپ کو عالم فاضل زاہد خیال کرتا ہے جس کو قدرتی طور پر ‘قائد’ کا خطاب ودیعت ہوتا ہے- یہ وہ “معروضی فیصلہ” ہے جو وہ یہ دعوا کرنے کے بعد صادر کرتا ہے کہ وہ شرجیل پر اشتہاری حملے نہیں کرے گا بلکہ اس کے استدلال کی قدر و اہمیت کی جانچ کرے گا- وہ اصل میں شرجیل کے استدلال پر اس قدر کم توجہ دیتا ہے کہ وہ اسے ایک جگہ پر لیفٹ سے جوڑ دیتا ہے۔

شدھبراتا سین گپتا کہتا ہے

” اس صورت حال میں، رجعتی سیاست پر تنقید پر جو ان کا اصرار ہے صرف و صرف وہی اصولی اور اخلاقی موقف ہے- اور اسی وقت وہ بغاوت کے قانون کی مخالفت پر زور دیتا ہے- حاص طور پر جب اس کا اطلاق کسی اس شخص پر کیا جاتا ہے وہ جو اپنے آپ کو تنقید کے لیے چن لیتا ہے”

وہ شرجیل کی سیاست کو رجعت پسندی کہتا ہے- اور صرف اس پر یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو واحد اصولی اور اخلاقی موقف کا حامل قرار دیتا ہے- اس پر سارے ‘عقلمند’ براہمن اس کی تعریف کرتے ہیں- کہاں سے شرجیل کی سیاست رجعت پرستانہ ہے؟ کیونکہ سین گپتا کہتا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ/کمیونل ہے اور شناخت کی سیاست کو آگ لگاتی ہے- اس کے لیے، شرجیل نے پہلے ہی تسلی بخش جواب دے رکھا ہے

” کمیونل ایک ایسی شئے ہے جو کمیونٹی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، اور یہ وہ معنی ہے جس میں اس اصطلاح کو بہت سارے مفکرین اور سیاست دان نوآبادیاتی زمانوں میں استعمال کرتے رہے ہیں- اس لفظ کے کانگریس کے استعمال کے سبب ہم اس لفظ کو منفی پہلو کے طور پر دیکھتے ہیں- ‘کمیونل’ کا لازمی مطلب کسی دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانا یا تعصب کو بھڑکانا نہیں ہوا کرتا- اس کا مطلب ایک کمیونٹی کی شناخت کروانا بھی ہوتا ہے- اس میں آگے جاکر ‘ شناخت کی سیاست’ کا جملہ جڑتا ہے جو اس حقیقت کو نظر انداز کردیتا ہے کہ دلت کی طرح مسلمان بھی ایک محاصرے میں آئی ہوئی اقلیت ہیں- یہ ان کا حق ہے وہ متحرک ہونے کے لیے اپنی شناخت کو استعمال کریں- جب دلت اپنی ذات کی شناخت کے گرد جمع ہوتے ہیں تو ہمارے لبرل ایک دم سے ‘ ذات پات’ سے پاک ہوجاتے ہیں- بالکل ایسے ہی جب مسلمان تقسیم نو کی تلاش کرتے ہیں تو لبرل ایک دم سے ‘سیکولر’ ہوجاتے ہیں اور ہم پر ‘شناخت کی سیاست’ کا الزام لگانے لگتے ہیں

ان ساری باتوں سے سوال یہ جنم لیتا ہے: اس طرح سے شرجیل کو غلط انداز میں نقل کرنے، غلط انداز سے پیش کرنے اور بدنام کرنے سے ان لوگوں کو حاصل کیا ہوتا ہے؟ جبکہ انہوں نے نہ تو توجہ سے شرجیل کی تقریر کو سنا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی پبلک میں دستیاب مضامین کو پڑھا ہوتا ہے- شرجیل نے پہلے ہی ہمیں اس کا جواب دے دیا ہے:

” ہوسکتا ہے کہ کچھ سیاسی طاقت حاصل کرنا یا کانگریس سے اشیرباد کا ملنا۔”

مزید، ان کی ‘ہندوستانی نیشن سٹیٹ’ منصوبے کی اعلانیہ حمایت ان کو ایسے استدلالی گوشوں میں دھکیلے جانے پر مجبور کرتی ہے جہاں پر ان کے پاس سوائے ایسے نیچ حملوں اور جانی بوجھی جہالت میں مبتلا ہونے کے کوئی اور شئے اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی

اپنے آپ کو ایک طرح کے شخصی تجزیے میں مصروف کرنا، ان کا جھوٹ ایک ایسی شخصیت کی ٹائپ کو آشکار کرتا ہے جو کہ ایک غیرمحفوظ شکل کے راستے میں منافق اور غیر مخلص ہوتی ہے اور اپنے آپ کے ہیومنسٹ/انسان پسندانہ اخلاقی باغی اور تمام برائیوں کے مخالف موڈ ہونے کے امیج طور دیکھتا ہے جو سب کے بارے میں فیصلہ کرنے کے منصب قضا پر بھی اسے فائز کردیتا ہے

لیفٹ- لبرل نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ شرجیل کے دلائل غلط ہیں لیکن اسے غداری کے الزام کے تحت گرفتار نہیں ہونا چاہئیے- کیونکہ وہ ‘غداری( کی دقعہ) کے خلاف ہیں، ایسا دکھائی دے سکتا ہے کہ وہ شرجیل کے کی حمایت میں لکھ رہے ہیں- لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے- وہ ہمیشہ اس کے خلاف تھے، ہیں اور رہیں گے- شرجیل کے خلاف ایک موقف اپناکن انہوں نے اپنا وہ اصل رنگ دکھادیا ہے جس کے ساتھ شرجیل نے ان کو رنگا تھا- کوئی کہہ سکتا تھا کہ شرجیل نے مکمل طور پر اپنی طرف ان کے ردعمل کی پیشن گوئی کردی تھی- وہ اسے کمیونل اور بی جے پی کا ایجنٹ کہتے ہیں چاہے وہ نادانستگی میں ہی ایسا بنا ہو- یہ وہ بات ہے جس کی اس نے پیشن گوئی کی تھی کہ وہ اسے ایسا کہیں گے اور ایسا انھوں نے شرجیل جیسے ہر شخص کو ہمیشہ کہا تھا

وہ ان کا شجرہ تقسیم سے قبل کی انتہاپسند ہندؤ کانگریس پارٹی کے اندر سے تلاش کر لاتا ہے- اور وہ درست ہے کیونکہ وہ آج ویسا ہی بنیادی موقف رکھتے ہیں جو کبھی انتہا پسند ہندؤ کانگریس نے اختیار کیا تھا- وہ ان تمام مسلمان اہل علم اور رہنماؤں پرغلط الزامات کی بوچھاڑ کرتے اور ان کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں جو ان کے موقف کے درست ہونے پر آوازبلند کرنے کی جرات کرتے ہیں – جنھوں نے مسلمانوں سے یہ کہنے کی جرآت کی کہ وہ ایک برادری کے طور پر سوچیں- جنھوں نے کسی بھی قسم کے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے لیے تاکہ سیاسی طاقت میں شراکت داری کے بغیر ان کی طرف سے اچھے رویے کے وعدے کو قبول نہ کیا- ایسی جرآت اور بے باکی تھی جناج کی اور اب شرجیل کی- انھوں نے مسلمانوں کی سوچ کو ایک گوشے میں دھکیل دیا جہاں سے ریڈیکل مطالبات کرنے پر ان کو مجبور کیا اور پھر یہ مسلمانوں پر ہی ایسے مطالبات کرنے کا الزام دھردیا

دلت، ادی واس، کشمیری، آسامی، برمی ، نگا، منی پوری ایسی ہی دلیلیں دیتے ہیں جیسے شرجیل نے دی- آپ ان دلائل میں مسلمان کو ہٹاکر ان کی شناخت رکھ کر ان کی اپنی شناختیں رکھ دیں تو ہر ایک لیفٹ لبرل کی جانب سے ایسے ہی سلوک کا شکار ہوں گی- شرجیل مسلمان برادری سے اقلیتی حقوق کا اسکالر ہے نہ کہ ایک مسلم اسکالر- اس کی مثال ہمیں دکھاتی ہے کہ ہندوستان میں ساری اقلیتوں کو نیشن-سٹیٹ کے پچاری لیفٹ لبرل کے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھنا چاہئیے جو چاہتے ہیں کہ اقلیتیں بھی اس کی پوچا کریں ورنہ ان کو طنز،طعن کا سامنا اور انتہا پسندی و حماقت کے الزامات کے لیے تیار رہنا ہوگا- لیفٹ لبرل ان تمام گروپوں کی نمائندگی کرنے اور ان سے ہمدردی رکھنے کے دعوے دار ہیں- اگرچہ یہ گروپ لبرل لیفٹ کی کرداری خاصیتسے متفق نہ ہوں- سوال یہ ہے: لبرل لیفٹ اصل میں کس کی نمائندگی کرتے ہیں اور کس کے ہمدرد ہیں؟ ہندوستان کی سالمیت کے نام پر اقلیتوں کی آوازوں کو اپنے مقاصد کے لیے خودساختہ معانی دینے یا خاموش کرنے سے وہ اصل میں کرتے کیا ہیں؟

اچھے سے جاننے کے لیے کہ شرجیل کون ہے اور وہ کس مقصد کے لیے کھڑا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کی تقریر مکمل متن پڑھیں-ابتدائی 20ویں صدی کی اردو شاعری میں ہندوستان کا تصور بارے جو اس نے اپنے ساتھی سے ملکر مضمون لکھا ہے اسے اس کے باقی مضامیں کے ساتھ پڑھیں، جناح کے کردار بارے اس کا مضمون پڑھیں جسے کانگریس نے بہت مسخ کیا ہے- گزشتہ سو سال میں گائے سے متعلق نفرت پر مبنی جرائم پر جو اعلا نظر ہے اسے دیکھیں-اردو شاعروں کے کام میں کرشن کی جو تعریف اس بارے تحریر کو پڑھیں- 1980ء میں مراد آباد میں قتل عام بارے مضمون پڑھیں، جو کہ لیفٹ اور سیکولر سیاست کے لیے ایک فرد جرم کی حثیت رکھتا ہے- اس نے بنگال کی بائیں بازو کی جماعتوں کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کرنے پر بھی لکھا ہے- اس نے لیفٹ ونگ گروپوں میں مردوں کے غلبے پر بھی لکھا جو کہ عورتوں کے بااختیار ہونے پر منہ زبانی باتیں کرنے کے سوا کجھ نہیں کرتے- اے این این یو کی مسلم لیفٹ ونگ مخالفت بارے اور کیسے مغربی میڈیا میں حلب بارے کوریج بنیاد پرستی- سامراجیت کے باہمی گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتی ہے بارے بھی شرجیل کے لکھے کو پڑھنے کی ضرورت ہے

We, a Jain, a Dalit and a Muslim support what Sharjeel has said and written, and agree to stand with him on his own terms.

Nara-e-Takbeer. Allahu Akbar.

ہم(اس مضمون کے مصنفین جن میں) ایک جین، ایک دلت اور ایک مسلمان ہے شرجیل نے جو کہا اور لکھا ہے اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے اس خود اس کی شرائط پر کھڑے ہیں

نعرہ تکبیر- اللہ اکبر

مترجم: عامر حسینی

Evita Das is an urban researcher who works on issues of caste and housing. She’s also associated with the National Alliance for People’s Movement and National Coalition for Inclusive and Sustainable Urbanization.

Akshat Jain uses the debate methodology of Syādvāda to piss people off. Like a good Syādvādist, he claims all his claims fall within the ambit of fallibility.

Shahrukh Khatib is a research scholar at Hyderabad Central University, currently working on minority rights in India.