Featured Original Articles Urdu Articles

شرجیل امام کی تقریر پر لبرل لیفٹ کا ردعمل کیسے بد دیانتی کا پول کھولتا ہے؟ – ایوتا داس، اشکت جین، شاہ رخ خطیب

ہندوستانی لبرل لیفٹ کا ایک بڑا سیکشن پاکستانی لبرل لیفٹ کے غالب سیکشن کی طرح اقلیتوں کے باب میں منافقت پرمبنی پالیسی پر عمل پیرا ہے- اس کا اندازہ ہندوستان میں مسلم ایکٹوسٹ شرجیل امام کے خیالات پر اس کےموقف سے ہوتا ہے- پاکستان میں لبرل لیفٹ کا ایک بڑا سیکشن وہ ہے جو مجبور و محکوم مذہبی گروہوں کی حمایت اپنی شرائط پر کرتا ہے

مثال کے طور پر پچھلے دنوں ایک سیکولر لبرل لیفٹ دانشور نے اپنی فیس بک پوسٹ میں یہ لکھا جس ملک کی فوج کو ایک زمانے تک ‘نعرہ حیدری-یاعلی’ پر رکھا ہو وہ ایسے نعرے مارنے والوں کے خلاف کیسے کاروائی کرے گی؟ یعنی موصوف کی نظر میں شیعہ برادری کا نعرہ ‘یا علی’ (جو اہلسنت بریلوی کا شعار بھي ہے۔) ایسا نعرہ ہے اس کا لگانے والا اپنے ملک کو تو چھوڑ سکتا ہے مگر ایسے نعرے مار کر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف نہیں لڑسکتا- یعنی ان کو ہندوستانی لبرل لیفٹ کی طرح نعرہ تکبیر یا نعرہ حیدری پر اعتراض ہے

اب شیعہ کمیونٹی یا بریلوی کمیونٹی میں سے کئی ایک گروپ پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کے خلاف کسی منظم احتجاج کا حصّہ بننے جائيں اور ان کو ‘یاعلی’ اور ‘یارسول اللہ ‘ نعرہ لگانے کے سبب احتجاج کا حصّہ نہ بنایا جائے تو کیسا لگے گا؟ ایسے پاکستان میں ایسے لبرل لیفٹ موجود ہیں جو شیعہ برادری اور بریلوی برادری کی طرف سے عزاداری اور میلاد کے جلوسوں کو چار دیواری میں بند کرنے کے حامی ہیں

وہ عزاداری اور میلاد کا مذاق بناتے ہیں- اور ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنے کے لیے نہ تو عزاداری میں شریک ہوتے ہیں اور نہ ہی میلاد مناتے ہیں جبکہ یہی لبرل لیفٹ سیکشن دیوالی، کرسمس، ہولی، نوروز، بیساکھی، لوڑی، ایسٹر مناتا ہے اور ہندؤ،سکھ، کرسچن کے تیوہاروں پر تنقید کرنے والوں اور اس میں روکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف لکھتے ہیں،احتجاج کرتے ہیں- پاکستان میں افسوس کی بات یہ ہے لیفٹ سیکشن کی اشرافیہ میں ایسے نام موجود نہیں ہیں جنھوں نے شیعہ،صوفی سنّی مسلمانوں کےساتھ اظہار یک جہتی کے لیے اپنی پیشگی شرائط مسلط کرنے کے رویوں کو قابل مذمت گردانا ہو یا اس کے خلاف لکھا ہو

بلکہ یہاں جو پشتون،سندھی ،بلوچ نیشلسٹ ترقی پسند ہیں ان میں سے ایک سیکشن جب علی شیر حیدری (سپاہ صحابہ سندھ کے صدر) کی سندھیالوجی ڈیپارٹمنٹ سندھ یونیورسٹی جامشورو کی گیلری میں پورٹریٹ آویزاں کیے جانے کی حمایت کرتا ہے یا سپاہ صحابہ کو سپورٹ دینے والے جے یو آئی ایف کے ڈاکٹر خالد سومرو کی زندگی میں اور وفات کے بعد اسے ترقی پسند سندھی قوم پرستوں کی صف میں کھڑا کرتا ہے

یا مولوی اسماعیل دہلوی اور اس کی فرقہ پرست وہابیانہ تحریک جہاد کو ترقی پسند تحریک کا باب پشتون قوم پرست قرار دیتے ہیں یا ان کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو ہیرو بنایا جاتا ہے اور انہی کا ایک سیکشن پشتون تکفیری ملاؤں کی تعریف کرتا ہے یا لبرل لیفٹ کا ایک سیکشن محمد احمد لدھیانوی،طاہر اشرفی کو ماڈریٹ بناکر پیش کرتا ہے تو سب خاموش رہتے ہیں- اور مجھ جیسا رائٹر، ایکٹوسٹ جو زمانہ طالب علمی بائیں بازو کی روایت سے وابستہ ہے اس معاملے میں پاکستانی لیفٹ کی اجتماعی خاموشی پر تنقید کرتا اور اس پر مسلسل لکھتا ہے تو میرے دلائل پر کوئی سماج واد،مارکس واد یا بائیں بازو کے آدرش سے اعتراض کرنے کے میرے نام کے آخر میں لگے لاحقے’حسینی’ کو بنیاد بناکر مجھے ‘شیعہ’ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے- جبکہ میرے اپنے لیفٹ اور لبرل گروپوں اور جماعتوں کے اندر رہنے والے بڑے نام جو میرے سنّی بیک گراؤنڈ سے اچھے سے واقف تھے وہ اس اتہام اور جھوٹ پر خاموش رہے

یہی الزام کئی اور ترقی پسندوں پر بھی لگایا کیونکہ ان کا تو پس منظر بھی شیعہ سید گھرانوں کا تھا- لبرل اور لیفٹ کے ایک سیکشن نے اپنے آپ کو بے نقاب ہوتا دیکھ کر لیٹ اس بلڈ پاکستان کو لبرل ویب سائٹ ماننے سے انکار کردیا اور اسے شیعہ فرقہ پرست ویب سائٹ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا

پاکستانی لبرل اور لیفٹ کے غالب سیکشن کا یہ حال ہے کہ انھوں نے آج تک اینٹی سائبر کرائمز ایکٹ، بلاسفیمی لاءز کے تحت مقدمات میں پھنسائے جانے والے شیعہ مسلمانوں کی رہائی کا کبھی نام لیکر مطالبہ بھی نہیں کیا- اور نہ ہی توہین قوانین کے تحت عرصہ دراز سے بند یا ماتحت عدالتوں سے سزا پانے والے متاثر شیعہ مسلمانوں کی رہائی کے لیے کوئی مہم چلائی- جبکہ یہ سیکشن احمدی، مسیحی، ہندؤ اور سیکولر لبرل ایسے مسلمانوں کی رہائی کے لیے پرزور مہم چلتے رہے ہیں جن پر توہین رسالت کا الزام لگا ہو- کیا ایسے شیعہ مسلمان جن پر توہین صحابہ یا توہین ازواج کا جھوٹا الزام لگا ہو ان کی رہائی کے لیے مہم چلانا فرقہ پرستی کے زمرے میں آجاتا ہے؟

کیا شیعہ مسلمانوں سے لبرل لیفٹ،ترقی پسند ،نیشنلسٹ اس وقت اظہار یک جہتی کریں گے جب وہ اپنی شیعہ شناخت سے جڑے بنیادی عقائد اور تیوہار سے دست بردار ہوجائیں، عزاداری سے دست بردار ہوں؟ کیا وہ صوفی سنّی بریلوی مسلمانوں سے یک جہتی اس وقت کریں گے جب وہ میلاد،عرس منانا بند کردیں اور اپنے شعائر سے دست بردار ہوجائیں؟ یعنی یہاں کئی ایک لبرل لیفٹ سیکشن شیعہ اور صوفی سنّی مسلمانوں سے یک جہتی اور ان کی حمایت اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں ناکہ ان فرقوں کی شرائط پر

پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا معاملہ ہو یا صوفی مزارات اور میلاد کے جلوسوں پر حملوں کا سوال ہو تو پاکستانی لبرل اور لیفٹ کے سیکشن اس معاملے میں اظہار یک جہتی یا حمایت کو اگرچہ، چونکہ چناچہ ، یہ، وہ اور غلط بائنری کے بغیر نہیں کرتے- وہ سعودی- ایران، شیعہ- سنّی ، جہادی پراکسی اور اسی طرح کے کئی اور عذر لنگ تلاش کرکے لاتے ہیں- لیکن جب وہ ہندؤ، سکھ ، احمدی، سیکولر، لبرل، بلوچ، پشتون، سندھی کے خلاف وائلنس یا دہشت گردی پر بولتے ہیں تو وہ نائن الیون، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ، سامراجیت اور ایسے ہی کئی اور عوامل کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور ہندؤ، سکھ، احمدی، سیکولر لیفٹ مظلوموں پر حملوں کی کھلی مذمت کرتے ہیں- وہ کبھی راء، موساد، سی آئی اے، افعان ڈی این ایس، علاقائی یا عالمی پراکسی جنگوں کو معذرت خواہی کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔ کیوں؟

Why they become apologetic in the case of Shia-Genocide or attacks on Sufi Sunni Muslims in Pakistan?

Why they stress on (false) binaries while dealing or discussing Shia-Muslim Genocide? Why they skip ‘anti-Shia’ factor when they deal with genocide of Pashtun(Shias), Saraiki (Shia) in NWFP or ‘Anti-Sufi Sunni’ factors in case of Sufi Sunni(Pashtun)’s killing or Sufi Sunni(Saraki)’s Pashtun or Baluch. Same thing they do when they deal with killing of “Hazara” and often skip their ‘Shia’ Identity. Reality is that Liberal-lefts and liberal dominated sections in Pakistan always become apologetic in case of Takfiri extremism, terrorism and violence against Shia and Sufi Sunnis.

They never commemorate Azadari to show their solidarity with Shia-Muslims, neither they celebrate Eid-Milad to show solidarity with Sufi Sunnis but they mock Shia-Muslims for their practices during Ashura, or Sufi Sunnis during Milad Celebration, in the name of economic loses or of closure of routes they oppose Azadari in Public or Milad Procession on roads. Such apologies, obfuscation, justification we never see in case of commemorating or celebration of festivals of Christians, Hindus, Sikhs.

( Note written by M.Aamir Hussaini)

 

ہندوستان کی سالمیت اور ایکتا کے نام پر اقلیتوں کی خاموشی کو برقرار رکھنے کے لیے، اصل میں لبرل کرتے کیا ہیں؟ اپروانند چھا اور موحد عاصم کے مضامین جبکہ فیس بک پر شدھ بھارت سین گپتا خیال کا ایک نیا دریچہ وا کرتے ہیں- ایوتا داس، اکشت جین اور شاہ رخ خطیب مشترکہ طور پر اس دریچہ خیال پر بات کررہے ہیں

شرجیل امام ایک کمپیوٹر سائنس دان ہے- وہ ہمارے زمانے میں جدید تاریخ کے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل مسئلوں پر بولتا اورلکھتا ہے

اکثریت پر مبنی جمہوریتوں میں اقلیتوں کا مقام؛ عوام کو چوکنا کرنے پر بائیں بازو کے بیانيہ کی اجارہ داری؛ تاریخ نگاری میں اختلافی آوازوں کو خاموش کرانا؛ نیشن سٹیٹس کی سالمیت/ایکتا جو کہ اپنے قرار دیے جانے والے علاقوں کو ظالمانہ فوجی طاقت کے زریعے سے قابو میں رکھتے ہیں؛ اور روایتی فرقہ وارانہ یک جہتیاں، خاص طور پر اسلام، سامراج مخالف اور نوآبادیاتی مخالف آج کی جدوجہد- وہ اس ملک کے نوجوانوں کو ایسی سمت کی پیشکش کرتا ہے جو چند لوگ ہی کرپاتے ہیں- اس نے ایسے مضامین لکھے ہیں جو نہ صرف بلند خیالات کی بازگشت ہیں بلکہ وہ ایک متبادل کی تشکیل کرتا ہے جس کے ساتھ جابرانہ کارپوریٹ ریاست گردی کے خلاف لڑا جاسکتا ہے- شرجیل ساری دنیا کی اقلیتوں کی جدوجہد کے لیے بہت زیادہ فیض رساں ثابت ہوسکتے ہیں اگر ان کو زندہ رہنے دیا جائے- وہ اس لڑائی میں دوام بخش طریقے سے اپنا حصّہ ڈالیں گے

اوائل جنوری میں شرجیل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تقریر کی- اس میں انھوں نے سیٹیزن شپ امینڈمینٹ ایکٹ- سی اے اے کی مذمت کی- ان کی تقریر کی ویڈیو یو ٹیوب پر 17 جنوری کو اپ لوڈ کی گئی- چھے روز کے بعد ان پر غداری کا الزام لگایا گیا، بعد ازاڑ ان کو بہار کے شہر جہان آباد سے گرفتار کرلیا گیا- تب سے اب تک بہت سے مضامین اور پوسٹیں شرجیل کے بارے میں آچکی ہیں جو کہ جو وہ خود وہ لکھتا ہے کی عکاس ہیں- اب “شرجیل امام” کے نام سے گوگل سرچ اس کی تحریروں کی بجائے اس کے بارے میں چھپے مضامین کی طرف لیکر چلی جاتی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق شرجیل ایک دیش دروہی/غدار ہے- پارٹی کا موقف بہت واضح ہے: شرجیل ہندوستان کا دشمن ہے اور اس سے دیش دروہی کا سا سلوک کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ جو ہندوستان کے لبرل لیفٹ کا موقف ہے اس کو ضرور کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی جہالت اور منافقت کو بے نقاب کیا جاسکے- شرجیل صاف صاف کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو نام نہاد ہندوستان کی سالمیت اور اس کے آئین پر یقین رکھتا ہے اس کا دشمن ہے- بی جے پی ایک دشمن کے طور پر قدم اٹھاتی ہے، خود اپنے آپ کو دشمن کہتی ہے- لبرل لیفٹ بھی ہندوستانی قوم کی قربان گاہ کی پوجا کرتے ہیں لیکن ان میں اپنے آپ دشمن ماننے کا حوصلہ نہیں ہے- شاہین باغ میں ایک نقشہ ہے جس میں سارا کشمیر دکھایا گیا ہے،وہ بھی جو چین اور پاکستان کے قبضے میں ہے- لیکن احتجاج منظم کرنے والے پھر بھی تسلیم نہیں کرتے کہ وہ کشمیریوں کے دشمن ہیں جنھوں نے اس قسم کی جنگجویانہ فنتاسی کو کب کا مسترد کررکھا ہے

لبرل لیفٹ نے شرجیل امام بارے جو موقف اختیار کیا ہے وہ یہ ہے: ہم اس کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے لیکن اس پر غداری کا الزام نہیں لگانا چاہئیے تھا- غداری کی جکہ اس کے خلاف یہ الزام لگائے جاسکتے ہیں

شرجیل غیرمسلموں سے کہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی شرائط کے ساتھ کھڑے ہوں- یہ کمیونل ازم/فرقہ پرستی ہے۔

شرجیل کی تقریر بی جے پی کی مددگار ہے کیونکہ ” وقت ٹھیک نہیں ہے” – یہ سیاسی حماقت ہے

لبرل لیفٹ جن کے بارے میں لگتا ہے کہ یا تو انھوں نے تقریر سنی نہیں یا اسے سمجھ نہیں پائے، اس موقف میں اس لب و لہجے کی گھمبیرتا کی یاد آتی ہے جو آزادی سے پہلے کانگریس اور اس کے حامیوں اور دیوبندی علما نے بریلوی علما کے خلاف ایسے ہی الزامات لگاتے ہوئے اختیار کیا تھا- شرجیل ہمیں بریلویوں کے ناقابل تلافی گناہ یعنی کانگریس کی مخالفت کرنے کی یاد دلات ہے- آج شرجیل کا ناقبال معافی گناہ بھی ایسا ہے اور وہ ہے لبرل لیفٹ کی مخالفت کرنا

وہ اس کے موقف کی افادیت تب ہی تسلیم کریں گے جب وہ لبرل لیفٹ کے بی جے پی کے خلاف موقف کی حمایت کرے گا- دوسری صورت میں وہ خاموش کردیا جائے گا اور ان مسلمانوں کی حمایت میں ایک طرف کردیا جائے گا جو لبرل لیفٹ ورائٹی کے ہندؤ نیشنلزم کے زیادہ حق میں ہیں- شرجیل دیکھتا ہے ، مسلمانوں کے درمیان دیوبندی- بریلوی بحث اب بھی جاری ہے- کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کی انتھک کوششوں کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں نے دیوبندیوں کا اپنے واحد ‘اجداد’ تسلیم نہیں کیا- انہوں نے ہندؤ-لیفٹ لبرل کے تصور اسلام کی مخالفت کرکے بریلوی روایت کو زندہ رکھا ہے

ہم دو مضامین اور دو فیس بک پوسٹوں کو یہاں یہ دکھانے کے لیے استعمال کریں گے کہ وہ کیسے لبرل لیفٹ موقف کے کھوکھلے پن اور دانشورانہ بددیانتی کا نمائندہ نمونہ ہیں- یہ مضامین اور فیس بک پوسٹیں شرجیل کی گرفتاری کے بعد لکھی گئی ہیں- ان میں ایک مضمون نگار برہمن سماجی انصاف کا علمبردار ہے۔ دوسرا ایک مسلمان نیشنلسٹ ہے جو ہندوستان کو ایک سیکولر و سوشلسٹ دیش کے طور پر دیکھتا ہے- تیسرا ایک معاصر برہمن آرٹسٹ ہے- ایک گاندھی واد ، ایک لیفٹسٹ اور ایک لبرل ہے۔

پہلا مضمون پروفیسر اپورآنند جھا کا ہے جو دہلی یونیورسٹی میں ہندی پڑھاتے ہیں- وہ قوم کے روزمرہ امور بارے لکھنے والے ایک مہا لکھاری ہیں- وائر پر ان کا مضمون چھپا اور مضمون کا عنوان ہے، ” شرجیل امام کی تقریر تھی وحشت انگیز اور غیر ذمہ دارانہ”، لیکن کیا یہ غداری تھی؟” جھا جو اپنے آپ کو انتھک اقلیتوں کے حقوق کا محافظ کہتے ہیں شرجیل کے آزادی اظہار کے حق کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں

” وہ غلط ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ غیرمسلموں کو شہریت کے قانون کے خلاف جدوجہد میں اسی صورت شامل ہوجانا چاہئیے جب وہ ہماری شرائط سے اتفاق کرتے ہوں- ایک سادہ اصول ہے جو لوگوں کو متحد کرتا ہے چاہے وہ مسلمان ہون یا غیر مسلم اور وہ ہے برابری کی شہریت کا حق- برابری کی شہریت کے لیے لڑائی لڑنے کے لیے کوئی دوسری شرط نہیں ہوسکتی- اس سے ہٹ کر کوئی دوسری بات کہنا یک جہتی کے ممکن ہونے سے انکار کرنا ہے- اور جو مجبوروں و محکموں کی لڑائی سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ اس جنگ کو تنہا مجبور و محکوم لڑکر نہیں جیت سکتے

جھا کے مضمون میں حو حقائق کے منافی واضح چیز ہے اس سے بات شروع کرتے ہیں جو کہ شرجیل کی تقریر کے اصل مشمولات میں اس کی دلچسپی میں کمی کا پول کھولتا ہے: شرجیل کبھی یہ نہیں کہتا کہ مجبوروں و محکوموں کی لڑائی وہ خود تنہا لڑسکتے ہیں- بلکہ وہ تو اس کے برعکس بات کہتا ہے

بطور اسکالر کم از کم ہم ایک غیر مسلم کو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں- یہ دہلی میں اسکالرز کی ذمہ داری ہے- ہم 500 مسلمان اہل دانش کی ایک ٹیم بنائیں اور اس بات کو وہ یقینی بنائیں کہ وہ 500 ہندؤ اپنی حمایت کے ساتھ نکلیں گے جب فوری ضرورت ہوگی- ہم نے وہاں اپنی زندگیاں وہاں گزاری ہیں، ہم نے اس کے لیے بہت زیادہ کام کیا ہے- ہماری کوشش 500 مسلمانوں اور ایسے ہی 500 ہندؤں کو اپنی شرائط پر گلیوں میں ساتھ ملانے کی کوشش کرنی چاہئیے جو ہمارے کاز کے حامی ہوں- کیا ہم سب ایک ہندؤ بھی اپنی شرائط پر ساتھ ملا سکتے ہیں؟ تو ہمیں کسی مدد کی حمایت کی ضرورت نہیں ہوگی- اگر ہم اپنے اوپر فرقہ پرست ہونے کا ٹیگ لگنے سے بچانا چاہتے ہیں ، اور حقیقت میں یہ ٹیگ مسئلہ نہیں ہے، حو مسئلہ ہے وہ بربویت ہے، جو مسئلہ ہے وہ تنہا ہوجانا اور پولیس کی طرف سے بری طرح سے مارپیٹ ہے- میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ کمیونل/فرقہ پرست ہونے کا ٹیگ حیسی چیز کا دہلی میں بڑا تذکرہ ہوتا ہے

دہلی میں ہماری کوشش ایسے مجمع کو اکٹھا کرنا ہے جس میں غیرمسلم نعرہ تکبیر ہمارے ساتھ لگائیں اور ہماری شرائط پر ہمارے ساتھ کھڑے ہوں- اگر وہ ہماری شرائط قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں ، تب وہ ہمیں اور ہمارے مجمع کو استعمال کررہے ہیں- اور یہ کام تو وہ ہے جو گزشتہ 70 سالوں سے ہورہا ہے- اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب غیر مسلموں کو یہ بتادیا جائے صاف صاف کہ اگر وہ ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہماری شرائط کے ساتھ آئیں- اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو وہ ہمارے ہمدرد نہیں ہیں

یہ بات تو صاف ہے کہ شرجیل غیر مسلموں کو مسلمانوں کے ساتھ کھڑا کرنا چاہتا ہے- اب اپورآنند جو یہ کہتے ہیں کہ برابر کی شہریت کی لڑائی کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی جاسکتی- کیوں نہیں؟ جھا اس بات کو مزید کھول کر بیان کرنا ضروری نہیں سمجھتے- وہ برابر کی شہریت کی اپنی خاص گاندھی واد تعبیر بیان کرتا ہے جیسے وہ کوئی قانون فطرت ہو- آئیں برابر کی شہریت بارے ایک اور تعبیر دیکھتے ہیں،وہ ہے محمد علی جناح کی

” سیاسی حقوق سیاسی طاقت سے نکلتے ہیں-” جیسے شرجیل جناح پر اپنے مضمون میں لکھتا ہے،”اگر دو برادریاں ایک دوسرے کی عزت کرنا نہ سکھیں اور ایک دوسرے سے خوف کھائیں تو کوئی بھی معاہدہ کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہوگا

برابر کی شہریت سیاسی طاقت کی ضمانت سے اس طرح سے مشروط کی جاسکتی ہے: جس قسم کی حمایت کی مانگ کی جارہی ہے ویسے قسم کی مدد دی بھی جانی ہے- فوج، پولیس، ایڈمنسٹریشن اور عدلیہ میں کوٹہ ایسی ماقبل شرط ہے جو اقلیتیں برابر شہریت کی لڑائی میں تلاش کرتی ہیں- جھا سوچتا ہے کہ جھا کا خیال ہے کہ اپنے ”سرنیم” گراکر وہ برابر شہریت کی ضمانت دیتا ہے- یہ بات حیران کن ہوسکتی ہے جب یہ کہا جائے کہ برابر کی شہریت علامتی اشاروں سے کہیں زیادہ کی مانگ کرتی ہے- جس کے بارے میں بولتے ہوئے ہندوستان کی اونچی جاتوں کو اس وقت تک ‘ جات پات سے پاک’ ہونے کو فرض کرنے سے دور رہنا ہوگا جب تک سماجی-معاشی حالات واقعی ان کو جات پات سے پاک نہ کردیں

جھا شرجیل کی حمایت کرنا چاہتا ہے مگر خود جھا اپنی شرائط پر ایسا چاہتا ہے- اور اس میں وہ کوئی مسئلہ نہیں دیکھتا ہے- اگرچہ شرجیل صاف صاف کہتا ہے کہ غیرمسلموں کی حمایت وہ اپنی شرائط پر چاہتا تھا- ایک غیر مسلم اس کی شرائط پر رضامند ہوئے بغیر اپنی حمایت اس پر مسلط کررہا ہے

یہ بہت پرانی روایت ہے کہ اظہار یک جہتی کے طور پر ایک دوسرے کے تیوہار مناتی ہیں- ایک ہندؤ دیوالی کا تیوہار منانا مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کی خاطر چھوڑ نہیں سکتا- مسلمان برادری کے ساتھ وہ عید مناتا ہے- یک جہتی کی بنیادی نوعیت کو اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار جھا جب نظر انداز کرتے ہیں تو وہ دکھاتے ہیں کہ وہ خود ایسی یک جہتی دکھانے سے کس قد دور ہیں- اس کے برعکس شرجیل ، ثاقب سلیم کے ساتھ مل کر لکھے گئے ایک مضمون میں کہتے کہ مسلمانوں اور ہندؤں کو ایک دوسرے کے تیوہار ایسے ہی منانے چاہیں جیسے وہ تقسیم سے پہلے مناتے تھے

اس جنم اشٹمی پر، ہم امید کرتے ہیں کہ ہندوستانی اپنی مہان شخصیتوں کو ہندؤ اور مسلم کے طور پر الگ الگ برانڈ بناکر پیش کرنا بند کردیں گے- ہمیں ضرورت ہے اپنے آباء کی اچھی تعلیمات کو اپنانے کی جبکہ ہم اس عمل میں جدید خیالات کی طرف بھی پیش رفت کررہے ہوں- افکار اور فلسفوں کو فرقہ وارانہ آئینے میں دیکھنے نے اس ملک کو کسی بھی شئے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے- یہاں اقبال کا ایک شعر ہے جس کے ساتھ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اس جنم اشٹمی پر ہمارے سماج سے مذہبی تعصب ختم ہوجائے گا

یہ آیہ نو جیل سے نازل ہوئی مجھ پر

گیتا میں ہے قرآن تو قرآن میں گیتا

 

(جاری ہے)

 

https://www.newslaundry.com/…/how-indian-liberals-reaction