Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان کے لبرل سرمایہ داروں کے خوف – عامر حسینی

پاکستان میں میرے خیال میں اس وقت جمہوریت نما آمریت کے خلاف ہر طرح کی تنقید موجود ہے- لیکن اس تنقید میں سرمایہ دارانہ لبرل تنقید کا سب سے زیادہ غلبہ ہے- یہ غلبہ اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان کے کارپوریٹ میڈیا میں جو سیکشن خود کو ترقی پسند اور روشن خیال کہتا ہے وہ بھی لبرل سرمایہ دار ہے اور سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی لوگوں کا غلبہ ہے

پاکستان میں اس وقت کیونکہ نہ تو کام کی جگہ پر اور نہ ہی تعلیم پانے والے اداروں میں عوام کی عوام دوست سیاسی تعلیم کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی عوام دوست دانشور ہیں جو طبقاتی بنیادوں پر عوام کی سیاسی تعلیم کررہے ہوں تو ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت نما اس آمرانہ نظام کے خلاف جو بھی احتجاج ہو یا آواز اٹھے عوام کا ایک سیکشن اسے معتبر احتجاج ماننے لگتا ہے- چاہے وہ احتجاج لبرل سرمایہ داروں کی جانب سے ہی کیوں نا سامنے آیا ہو

اب مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جب آپ آمرانہ نظام کے خلاف لبرل سرمایہ دارانہ آوازوں کو آئیڈیل خیال کرنا شروع کردیتے ہیں تو ایسی آوازیں اپنے موقف اور لائن کے طبقاتی تجزیے پر غضب ناک ہوجاتی ہیں- اور وہ اسے یا تو یوٹوپیا کہہ کر رد کرتی ہیں یا پھر اسے عوامی نجات کی تحریک کو تقسیم کرنے والی تنقید قرار دے ڈالتی ہیں- ہم اس طرح کا طرز عمل کئی ایک موقعوں پر دیکھ چکے ہیں- جیسے عورتوں کے عالمی دن کے موقعہ پر، ایسے ہی محنت کشوں کے عالمی دن کے موقعہ پر اور اسی طرح ملک بھر میں طلباء یونینز کی بحالی کے لیے احتجاج منانے کے حوالے سے- جس کسی نے ان ایام کے مواقع پر لبرل سرمایہ دارانہ رجحانات کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کی محنت کش طبقات سے دشمنی کا پردہ فاش کیا، اسے فرقہ پرست اور سیٹس کو کو امداد پہنچادینے والا تک کہا گیا

پاکستانی پریس کا جو سیکشن اپنے آپ کو جمہوریت پسند، اینٹی اسٹبلشمنٹ، ترقی پسند، روشن خیال کہتا ہے وہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے اور پاکستان کے سماجی منظرنامے پر کسی بھی احتجاج کی لہر میں ہمیشہ لبرل سرمایہ داری کے حامیوں کو سامنے رکھتا ہے اوران میں سے ہیروز ڈھوںڈ کر لاتا ہے- وہ اس احتجاجی لہر میں طبقاتی تقسیم کی روشنی میں موقف اپنانے اور جدوجہد کرنے والوں کو ہیرو بناکر کبھی پیش نہیں کرتا- ایسے ہیرو تو بالکل سامنے لیکر نہیں آتا جو لبرل سرمایہ داروں کی منافقت، موقعہ پرستی اور ان کے جمہوری اور سیکولر موقف کے اندر پائے جانے والے بددیانت عناصر کو بے نقاب کرتا ہو

کیا ہی عجیب بات ہے کہ 1912ء کے روس میں جہاں پر زار شاہی کی آمریت کا دور دورہ تھا تو لینن کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا تھا- اس نے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ‘ لبرل سرمایہ دار کیا چاہتا ہے اور اسے خوف کس بات کا ہے’- لینن کے مطابق 1912ء کے روس میں عوام کی سیاسی تعلیم اور سیاسی دانشور مشکل سے وجود رکھتے تھے- صاف صاف سیاسی عقائد اور پختہ جماعتی خیالات کا ارتقا ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا- اسی لیے اس زمانے میں زار آمریت کے خلاف کوئی احتجاج ہوتا تو عوام اس کو معتبر سمجھ لیتے اور اس کے پیچھے ٹوٹ پڑتے- اور جو اس احتجاج کا کہیں تنقید جائزہ لیتا تو اس پر ‘عوام کی نجات’ کی تحریک کو بدنیتی سے تقسیم کرنے کا الزام لگادیا جاتا- لینن نے بتایا کہ اس زمانے کا ایک لبرل سرمایہ داری کا حامی اخبار تھا

Osvobozhdeniye

جس کا ایڈیٹر سرٹوف تھا- ماسکو سے نکلنے والا یہ لبرل سرمایہ دار اخبار بڑی اشاعت کا مالک تھا- آپ یوں سمجھیے کہ یہ اخبار آج کا جنگ/جیو، ڈان/ ڈان ٹی وی تھا- اس کے ایڈیٹر کو سمجھیں کہ وہ اپنے زمانے کا حمید ہارون/ میر شکیل الرحمان تھا- اور اس اخبار کے جو بڑے لبرل نام تھے وہ سمجھیے کہ نجم سیٹھی، رضا رومی، بینا سرور،فاروق ندیم پراچہ، مظہر عباس، عاصمہ شیرازی، چکنو محسن، حامد میر وغیرہ وغیرہ تھے- لینن ان کو

Sundry free-thinking intellectuals

کہتا ہے

“In Russia political education of the people and the intelligentsia hardly exists as yet. Clear political convictions and firm party opinions have as yet scarcely developed in our country. People in Russia are too ready to give credence to any protest against the autocracy and frown upon. any criticism of the character and substance of that protest, regarding such criticism as something that maliciously disunites the movement for emancipation. It is not surprising, therefore, that under this general flag of emancipation the Osvobozhdeniye[1] too, which is published under the editorship of Mr. Struve, has a wide circulation among all and sundry free-thinking intellectuals who resent any analysis of the class content of Osvobozhdeniye liberalism.”

یہ ایسے دانشور تھے جو اس زمانے کے ڈان/ جیو-جنگ جیسے اخبارات کے لبرل ازم کے طبقاتی اوصاف کے تجزیے پر غصّے میں آجاتے تھے- جس طرح ڈان میڈیا گروپ پاکستان کے سرمایہ دارانہ لبرل ازم کے بنیادی اوصاف کا سب سے بڑا منظم اور غیر سنسر شدہ اظہاریہ ہے ویسے ہی اس زمانے میں سرٹوف کا اخبار تھا- جیسے جیسے تبدیلی کی خواہش لوگوں کے اندر بڑھتی چلی جاتی ہے- اور نظام کا جبر شدید سے شدید تر ہوتا جاتا ہے اور انقلابی راستے ہموار ہونے لگتے ہیں ویسے ویسے اس طرح کے لبرل اخبارات اور لبرل سرمایہ دار آوازوں کا پول کھلنا شروع ہوجاتا ہے- ایسے لبرل سرمایہ داروں کو سب سے بڑا خوف ہی یہ ہوتا ہے کہ گہرائی میں جاکر ان کی جمہوریت پسندی، ترقی پسندی اور روشن خیالی کا پول کھول دیا جائے اور لوگوں کو یہ نہ پتا چل جائے کہ سرمایہ دارانہ لبرل ازم کا اصلی مطلب ہے کیا؟

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہمارا لبرل بورژوازی پریس کچھ ایسے نوجوانوں کو ‘تبدیلی’ کے نشان بناکر ہمارے سامنے پیش کررہا تھا جن سے جب کوئی سماجی تبدیلی سے ان کی کیا مراد ہے بیان کرنے کو کہتے ہیں تو وہ جان بوجھ کر طبقاتی تجزیہ سے گریز کرتے ہوئے صاف صاف سوشلسٹ راستا بتانے کی بجائے الجھنیں ڈالنے لگتے ہیں- ایسے ایک طالب علم رہنما جسے لبرل پریس نے اپنی ڈارلنگ بنایا ہوا ہے کے ایک ایسے ہی گول مول سے سماجی تبدیلی کے تجزیے کو لیکر جب اس کا طبقاتی تجزیہ ایک سوشلسٹ گروپ نے پیش کیا تو یہ جو شتر بے مہار دانشور تھے یہ اس گروپ پر پل پڑے- لینن کے زمانے میں لبرل سرمایہ داری کا سب سے بڑا خوف ہی یہ ہوا کرتا تھا کہ کہیں عوامی سیاسی تحریک 1789ء کے فرانسیسی انقلاب کا راستا اختیار نہ کرلے- دوسرے لفظوں میں پورے طبقاتی سرمایہ دارانہ نظام کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات نہ کرنے لگ جائے

“I do not know whether Russia will succeed in reaching the new system along a road close to that taken by Germany in 1848, but I have no doubt that every effort must be exerted to enter upon this road, and not upon the one chosen by France in 1789.”

ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بورژوا لبرل سیاسی جماعتوں کی قیادتوں سے یہ بات اکثر سنتے ہیں کہ مہنگائی کا سیلاب اگر یونہی بڑھتا رہا تو پورے نظام کا بوریا بستر بھی گول ہوسکتا ہے- ابھی یہ جو اراکین قومی اسمبلی،سینٹرز اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور نوکر شاہی کی تنخواہوں میں اضافے کے بل پر جو اختلاف رونما ہوا،وہ بھی اسی قسم کا ہے کہ اس سے عوامی غصّہ اور بڑھے گا اور پورے ملک میں ایسی تحریک چل سکتی ہے جو اس سارے نظام کو گرانے کی بات کرے گی- سارے نظام کو گرانے کی بات کیا ہوسکتی ہے اور وہ ہے سوشلسٹ انقلاب کی بات اور غیر طبقاتی سماج کی تشکیل کی بات

سرمایہ داروں کو ایسی تحریک سے کوئی خطرہ اور خوف نہیں ہوتا جو ایسی حکومت کی طرف لیکر جائے جو منڈی کی معشیت کو برقرار رکھے- جو بچت کے نام پر اور ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھانے کے نام پر عام آدمی کو نشانہ بنائے جائے اور وہ سرمایہ داروں کے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے- وہ چینی، سیمنٹ، تیل، گیس،آئرن، بجلی ہر طرح کے سرمایہ دار کارٹیل کا تحفظ کرے، سرمایہ یا سویلین کارپوریٹ ہو یا عسکری کارپوریٹ سیکٹر میں ہو وہ اس کا ہر قیمت پر تحفظ کرے اور سرمایہ داروں کو باہم مل بیٹھ کر کھانے کی ترغیب دے

پاکستان میں 68ء اور 69ء کے سال ایسے سال تھے جن سالوں میں پاکستان کی عوام نے کسی حد سترہ سو نواسی /1789ء کے فرانسیسی انقلاب کا راستا اختیار کیا تھا- اس راستے میں کسی حد تک اس ملک کے کسانوں، مزدوروں اور مظلوم و محکوم طبقات نے جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو ایک طرف دھکیل کر خود قائدانہ رول سنبھال لیا تھا- لیکن بعد ازاں پاکستانی عوام کے اسی انقلابی کردار کی بدترین سزا اس ملک کے رجعتی طبقات نے دی جو آج تک جاری ہے۔

لینن نے اس زمانے میں بھی لکھا تھا کہ

“سرمایہ داری کے پڑھے لکھے تاریخ دان عوام کے اٹھ کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے- بلکہ ان کو عوام کی فتح سے ڈر لگتا ہے- ان کو اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ عوام رجعت پرستوں اور نوکر شاہی کو ہلکا سا سبق سکھائیں، نوکر شاہی جس سے وہ بہت ہی نفرت کرتا ہے- ان کو تو ڈر اس بات کا ہے کہ عوام کہیں رجعتی حکومت کو اٹھاکر ہی نہ پھینک دیں- لبرل بورژوازی آمریت سے تو نفرت کرتی ہے اور اس کا دل سے خاتمہ بھی چاہتی ہے لیکن اسے عوام کی مکمل فتح سے ڈر لگتا ہے

” And so, the learned historian of the bourgeoisie does not fear an uprising of the people. He fears the victory of the people. He is not afraid of the people administering a slight lesson to the reactionaries and the bureaucracy, the bureaucracy which he hates so much. He is afraid of the people overthrowing the reactionary government. He hates the autocracy and desires its overthrow with all his heart; it is not from the preservation of the autocracy, not from the poisoning of the people’s organism by the slow putrefaction of the still living parasite of monarchist rule that he expects the doom of Russia, but from the complete victory of the people.”

لبرل بورژوازی/سرمایہ داری اسی لیے 68/69 کی ایوب شاہی کے خلاف عوامی تحریک کے نتیجے میں بھٹو حکومت کی نیشنلائزیشن(جو حقیقی طور پر اگر محنت کشوں کے کنٹرول میں ہوتی تو حالات ہی کچھ اور ہوتے) ، بھٹو کی زرعی اصلاحات، بھٹو کے لیبر کے لیے بنائے گئے قوانین اور بھٹو کے سوشلزم کے نعرے کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو ڈراؤنا خواب سمجھتی ہے- یہ اس لیے نواز شریف، مریم نواز کے اندر عوامی لیڈر تلاش کرتی ہے- اسے مسیحا بناکر پیش کرتی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر بھی اس وقت بنیادی طور پر لبرل بورژوازی کا غلبہ ہے جو خود اپنی پارٹی کی تاسیسی دستاویز سے ڈرتی اور شرماتی ہے- اس کا نوجوان چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریروں اور بیانات میں ‘سوشلزم ہماری معشیت’ کہنے سے گریزاں رہتا ہے- کیونکہ عوام طاقت کا سرچشمہ کہنے سے کچھ نہیں بنتا اگر سوشلزم کو معشیت نہ قرار دیا جائے- اور اگر سوشلزم کو معشیت قرار دے دیا گیا تو پھر ملک ریاض، مجید انور جیسے سرمایہ داروں کے ساتھ وینچر کرنے اور بحریہ ٹاؤنز میں بلاول ہاؤس کے تحائف لینے کی گنجائش ختم ہوجائے گی- اور ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی میں لبرل بیانیے کے ساتھ کھڑے شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، نفیسہ شاہ جیسوں کے لبرل سرمایہ دار بیانیوں کی گنجائش بھی نہیں رہے گی

پاکستان کی عوام تیل،گیس، بجلی سمیت بنیادی سہولتوں کے زرایع کی نجکاری اور ان کی لبرلائزیشن کا خمیازہ بھگت رہی ہے- کراچی الیکٹرک کی نجکاری نے عوام کو کیا دیا ہے؟ بجلی کی نجی شعبے میں پیداوار نے عوام کو کیا دیا ہے؟ ایسے ہی تیل اور گیس کی نجی کمپنیوں نے عوام کو کیا دیا ہے؟ پی ٹی سی ایل کی نجکاری نے اس کے ملازمین اور عوام کو کیا دیا ہے؟ ان اداروں سے عوام کی خدمت تب ہی ہوسکتی ہے جب ان اداروں کو واپس ریاستی اختیار میں لیا جائے اور محنت کش ان اداروں کا انتظامی کنٹرول سنبھالیں کیونکہ ان کو چلا تو پہلے بھی وہی رہے ہیں- یہ وہ بات ہے جس سے پاکستان کے لبرل سرمایہ داروں کو خوف آتا ہے اور وہ دن میں بھی ڈراؤنے خواب دیکھنے لگتے ہیں

https://www.marxists.org/archive/lenin/works/1905/sep/14.htm