Featured Original Articles Urdu Articles

صوبہ خیبرپختون خوا میں افغان طالبان مساجد سے چندہ اکٹھا کررہے ہیں؟ – رپورٹ عامر حسینی

صوبہ خبیرپختون خوا کے شہر مردان کے نواحی علاقے گراگول میں گورنمنٹ پرائمری اسکول کے استاد کو تحریک طالبان افغانستان کے مبینہ حامیوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں- استاد نے اپنے آبائی گاؤں کی مسجد میں افغان طالبان کے لیے جہادی چندہ جمع کرنے والوں کو منع کیا تھا

توقیر ابشر مردان کے نواحی علاقے گورنمنٹ پرائمری اسکول گراگول میں پڑھاتے ہیں- انھوں نے مردان یونیورسٹی سے انگریزی لسانیات میں ماسٹرز کیا ہوا ہے- انھوں نے خبروالے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گاؤں میں 24 جنوری بروز جمعہ مسجد میں افغان امارت اسلامی طالبان کا ایک رکن آیا اور اس نے جمعہ کا خطبہ بھی دیا اور اس دوران افغانستان میں جہاد میں شرکت کرنے اور افغان جہاد کے لیے چندہ دینے کی درخواست بھی کی- توقیر ابشر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس افغان طالب کو چندہ جمع کرنے سے روکا اور امام مسجد سے مکالمہ کرتے ہوئے اسے بتایا کہ افغانستان میں جہاد نہیں بلکہ خانہ جنگی ہورہی ہے- اور افغان جہاد کے نام پر جمع ہونے والا چندہ نہ صرف افغانستان میں خانہ جنگی اور بڑھاتا ہے بلکہ پاکستانی علاقوں میں بھی اس سے خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی میں تیزی آتی ہے

” آبائی گاؤں کی مسجد میں امارت اسلامی افغان طالبان کے رکن کو جہادی چندہ مانگنے سے روکنے کے بعد سے مجھے اور گھر والوں کو قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں- گاؤں والوں تصفیہ کرانے کی کوشش کی لیکن کہا جارہا ہے کہ میں اپنے خیالات پر اعلانیہ معافی مانگوں- لیکن میں افغانستان میں جاری لڑائی کو جہاد نہیں کہہ سکتا”

توقیر ابشر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی وال پر ایک پوسٹ میں بھی اس واقعے کی خبر دی ہے اور کہا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے

توقیر ابشر اردو، انگریزی، پشتو زبانوں کے شعر و ادب اور لسانی تنقید کے ماہر جانے جاتے ہیں- وہ پشتو زبان میں شاعری بھی کرتے ہیں- جبکہ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انھوں نے اپنے تعارف میں خود کو ترقی پسند سامراج مخالف اور سیکولر انسان بتایا ہے- مردان میں وہ انسانی حقوق اور شہریوں آزادیوں کے سرگرم وکیل شمار کیے جاتے ہیں- سوشل میڈیا پر ان کو ملنے والی دھمکیوں پر ردعمل سامنے آرہا ہے- انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ توقیر ابشر کو ملنے والی دھمکیوں کا فی الفور نوٹس لیا جائے- کہیں ایسا نہ ہو کہ مشعال خان جیسا سلوک توقیر ابشر کے ساتھ ہوجائے