Featured Original Articles Urdu Articles

پشتون حقوق کی تحریک کا مستقبل کیا ہے؟ – عامر حسینی

پشتون تحفظ موومنٹ-پی ٹی ایم کے سربراہ منظور احمد پشتین کو پشاور کی ایک عدالت نے 14 روزہ ڈیمانڈ پر جیل بھجوادیا ہے- ان کی گرفتاری پشاور کے علاقے تہکال شاہین ٹاؤن سے عمل میں لائی گئی تھی- ان کو ڈیرہ اسماعیل خان میں 21 جنوری 2020ء کو درج ہونے والی ایک ایف آئی آر میں نامزد ہونے کے سبب گرفتار کیا گیا جس میں ان پر پاکستان کی تخلیق کے خلاف بات کرنے یعنی پی پی 123 اے، بغاوت پر مبنی تقریر یعنی 124 اے ، مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی بھڑکانے یعنی 153 اے سمیت دیگر الزامات پر مبنی تعزیرات پاکستان کی دفعات لگائی گئی تھیں

منظور احمد پشتین کی گرفتاری کے اگلے روز اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے وزیرستان سے منتخب ہونے والے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں درجن بھر افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تو پولیس نے ان کو گرفتار کرلیا جبکہ بعد ازاں محسن داوڑ رکن قومی اسمبلی کو چھوڑ دیا گیا لیکن دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا- مقدمے میں 123 اے اور 124 اے کی دفعات بھی شامل ہیں

منظور پشتین کی گرفتاری کی گونج جمعرات کو قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں سنائی دی- محسن داورڈ رکن قومی اسمبلی نے انتہائی جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حقوق کی مانگ کرنے والوں پر غداری کے الزامات نئی بات نہیں ہے- یہ الزامات باچہ خان سے لیکر جی ایم سید اور ذوالفقار علی بھٹو تک پر لگائے گئے- آج ایک بار پھر جب پشتون قوم اپنے حقوق کی مانگ کررہی ہے تو ان پر غداری کے فتوے لگائے جارہے ہیں- ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ملک میں کوئی عدالتی سند یافتہ غدار ہے تو وہ جنرل پرویز مشرف ہے اور جو بھی آئین پاکستان سے روگردانی کرتا ہے یا کرے گا وہ غدار کہلائے گا

پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا کے باہر پریس کانفرنس کے دوران منظور پشتین پر ایف آئی آر کاٹے جانے کی مذمت کی- ان کا کہنا تھا کہ بیانات کا جواب بیانات سے ہوتا ہے ناکہ ایف آئی آر کاٹنے کے زریعے سے جواب دیا جاتا ہے

پی ٹی ایم اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ حکومت کے دباؤ میں اس کی سرگرمیوں کی کوریج نہیں کررہا- پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس وقت پی ٹی ایم کے حوالے سے جو خبریں نشر ہورہی ہیں وہ یا تو حکومتی وزراء اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے بیانات ہیں یا پھر منظور پشتین، محسن داوڑ، علی وزیر اور پی ٹی ایم کے حامیوں کے بارے میں ایسی خبریں ہیں جن کو پروپیگنڈا خبریں کہا جاسکتا ہے

پی ٹی ایم کی سرگرمیوں یا ان کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی زیادہ تر کوریج سوشل میڈیا اور بین الاقوامی نشریات و ابلاغ کے اداروں کی ویب سائٹس پر کی جارہی ہے- حکومت اور آئی ایس پی آر اس کوریج سے خوش نظر نہیں آتے- منظور پشتین گی گرفتاری پر افغانستان کے صدر اشرف غنی کا ٹیوٹ آنا بھی حکومتی ناراضگی کا سبب بنا ہے- اگرچہ حکومت پاکستان نے اس بیان پر افغانستان سے باقاعدہ کوئی احتجاج نہیں کیا لیکن حکومت کے ایک وزیر مراد سعید نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران ایک بار پھر یہ الزام دھرایا کہ پی ٹی ایم کی قیادت کے افغان انٹیلی جنس ڈی این ایس، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء کے ساتھ روابط ہیں اور یہ دونوں انٹیلی ایجنسیاں پی ٹی ایم کے زریعے سے پشتون علاقوں میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں

پی ٹی ایم کی سرگرمیاں کئی ماہ سے زرا سرد پڑی ہوئی تھیں- منظور احمد پشتین بھی اتنے سرگرم نہ تھے- لیکن جنوری کے پورے مہینے میں پی ٹی ایم ایک بار پھر سرگرم ہوئی اور اس کے سربراہ منظور احمد پشتین نے پشتون عوام کے اتحاد کے لیے پشتونوں کے تمام بڑے سیاسی گروپوں اور جماعتوں کے سربراہوں کے پاس جرگہ لیجانے اور ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کی دعوت کا اعلان کیا تو اس اعلان کے ایک روز بعد ان کو گرفتار کرلیا گیا

پشتون تحفظ موومنٹ کا کہنا ہے کہ فاٹا میں ان سے جن اقدامات کو اٹھانے کے وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے- فوجی آپریشنوں سے بے دخل ہونے والوں کی مکمل آبادکاری نہیں ہوسکی ہے- لاپتا افراد کی بازیابی نہیں ہوئی- ماورائے عدالت قتل ہونے اور دیگر زیادتیوں پر جو سچائی کمیشن بنایا جانا تھا وہ بھی نہیں بنایا گیا

پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے دو ممبران اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ انہوں نے پاکستان آرمی ایکٹ کے اندر ترامیم کے تین قانونی بلوں کی اعلانیہ مخالفت کی اور قومی اسمبلی میں خلاف ووٹ بھی دیا

پی ٹی ایم پاک- افغان سرحد پر باڑ لگائے جانے کی مسلسل مخالفت کررہی ہے- فاٹا کے کے پی کے کا حصّہ بن جانے کے بعد فاٹا کی معدنیات سمیت زیر زمین وسائل آئینی و قانونی طور پر صوبہ کے پی کے کی ملکیت ہوگئے ہیں اور یہ اب قبائل یا کسی فرد کی ملکیت نہیں ہیں- پی ٹی ایم اس عمل کی مخالفت بھی کررہی ہے- پی ٹی ایم کا مطالبہ ہے کہ فاٹا سے پاکستان فوج کے دستے واپس بلائيں جائیں اور وہاں کا کنٹرول سول انتظامیہ سنبھالے- پی ٹی ایم پختونوں کی پروفائلنگ اور ان کے خلاف سٹیریو ٹائپ پروپیگنڈا کیے جانے کے خلاف بھی احتجاج کررہی ہے

پشتون تحفظ موومنٹ کو پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے اندر پہلے دن سے شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے- پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سیکورٹی ادارے کے مجاز حکام اس حوالے سے پبلک میں تو اپنی شناخت کے ساتھ کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن پردے کے پیچھے وہ بہت سی باتیں کرتے ہیں- ایسے ہی ایک سیکورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کے افغان انٹیلی جنس ایجنسی ڈی این ایس سے روابط ہیں اور ڈی این ایس ایسے عناصر اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء کے درمیان رابطے کا کردار ادا کررہی ہے- اور یہ عناصر پی ٹی ایم کے نام پر پاکستان فوج،انٹیلی جنس ایجنسیوں، ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلاتے ہیں- پاکستان فوج کو پنجابی فوج کہہ کر پشتون نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ پاکستان میں پشتونوں کی نسل کشی اور ان کی تباہی کی ذمہ دار پاکستان فوج، پنجاب اور پنجابی عوام ہیں

وزرات خارجہ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یورپ اور امریکہ میں کئی ایسے تھنک ٹینک موجود ہیں جن کی زیادہ تر فنڈنگ بھارتی امریکن کرتے ہیں اور ان کے پیچھے بھارتی انٹیلی جنس راء ہے اور یہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو پروان چڑھاتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مخالف پراکسی وار کا ایک بڑا ہتھیار پاکستان فوج کے خلاف پروپیگنڈا اور پاکستان میں نسلی و مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلانا ہے- پاکستان میں مڈل ایسٹ کی طرز پر مداخلت اور خانہ جنگی پاکستان کے مبینہ دشمنوں کا خاص ہتھیار ہے

ادھر پی ٹی ایم کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں عدم تشدد پر مبنی ہے- ہمارے احتجاج مکمل پرامن رہے ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا- ہمارا چارٹر آف ڈیمانڈ بھی سب کے سامنے ہے- باقی جو الزامات ہیں وہ آج تک کہیں ثابت نہیں ہوئے- پی ٹی ایم کے جو آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیں ان پر آج تک کوئی ایک ایسی چیز نہیں دکھائی جاسکتی ہے جسے آئین اور ملک کے خلاف قرار دیا جاسکے- ہمارے حقوق جو آئین نے متعین کیے ہیں وہ ہمیں دینے ہوں گے اور اس سے انکار اصل میں آئین سے انحراف ہے

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غداری کے تحت مقدمات کے اندراج میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے- پہلے اختلافی آوازوں کو غائب کیا جاتا رہا- پھر بلاسفیمی کارڈ کھیلا گيا اور اب یہ بغاوت، غداری کے الزامات کے تحت مقدمات کا اندراج کیا جارہا ہے- صحافی،وکیل،سیاسی کارکن، طالب علم ایکٹوسٹ، انسانی حقوق کے رضا کار، ادیب و مترجم ، شاعر جو بھی اختلاف کرتا ہے اسے اب ایسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

میرے خیال میں پی ٹی آئی کی حکومت اور اس کے ادارے جس طرح سے چند ایک ایشوز پر حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غداری، بغاوت، نفرت انگیزی جیسے الزامات کو لیکر پی ٹی ایم جیسی تحریکوں کے سرکردہ رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کررہے ہیں اور ساتھ ساتھ مبینہ طور پر جبری گمشدگیاں، نامعلوم کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جانا اور میڈیا سنسر شپ، فیس بک سمیت سوشل میڈیا تنظیموں سے سرگرم مخالفین کا ڈیٹا مانگنا اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں و صحافیوں کے خلاف استعمال کرنا ملک میں جمہوری حکومت ہونے کے تاثر کی نفی کرنے والے عمل ہیں- اگر سوشل میڈیا پر اور مین سٹریم میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا ہے تو اس کے مقابلے میں حکومتی اداروں کو اپنا سوشل اور انفارمیشن سیل بہتر بنانے کی ضرورت ہے- لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ وزیراعظم خود اپنی پارٹی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو ٹرولنگ کی بھرمار کرنے کو کہتے دکھائی دیتے ہیں

پاکستان دہشت گردی کی جنگ کا متاثر ہے- اور اس جنگ کا زخم خوردہ ہے- جنگوں اور پراکسی جنگوں کے متاثرہ فریق کو اپنا مقدمہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے- پی ٹی آئی کی حکومت اگر فاٹا اور بلوچستان میں موجود مسائل کو حل کرنے کی خواہاں ہے تو اسے پارلیمنٹ کی سب جماعتوں کو اعتماد میں لیکر پالیسی بنانا ہوگی ناکہ وہ اس معاملے پر ‘کہیں’ اور سے ہدایات لیکر ان کا نفاذ کرتی رہے- ‘کہیں’ اور سے مشورے لینا اور ان کو اتفاق رائے میں شریک کرنا جرم نہیں بلکہ دانائی ہوگی لیکن اتفاق رائے کے بغیر یہ مسائل حل نہیں ہوں گے