Featured Original Articles Urdu Articles

اچھی کتاب کے مقابل اچھا لکھاری – عباس زیدی

کچھ عرصہ پہلے کچھ امریکی انسانی حقوق کے رضاکاروں نے پاکستان میں شیعہ نسل کُشی کی دستاویز تیار کرنے کا فیصلہ کیا- ایک ای میل گروپ بنایا گیا- ایک گروپ ممبر نے میرا نام بھی شامل کردیا- اس کے بعد تجاویز زیر غور آئیں کافی غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ مسیلہ جس نوعیت ہے اس پر کتاب لکھنے کی ضرورت ہے – اس کے بعد مزید غور و فکر ہوا اور فیصلہ ہوا کہ کتاب ریسرچ ورک پر مبنی ہوگی – جس شریف آدمی نے میرا نام گروپ میں شامل کیا تھا اُس نے میرا نام پیش کیا جسے باقی سب نے مسترد کردیا، وجہ میرا گمنام ہونا اور میری بہت بڑی ساکھ کا نہ ہونا تھا
 
چند بین الاقوامی سطح پر مانے تانے معروف پاکستانی اسکالرز کے نام شارٹ لسٹ کیے گئے
 
باہمی مشاورت کے بعد اُن شارٹ لسٹ کردہ ناموں میں سے ایک سے رابطہ کا فیصلہ کیا گیا جن کی بے عیب ادارتی اور علمی ساکھ تھی- اس بات پر اتفاق تھا کہ اُن کا نام واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں چل جائے گا
 
اُس اسکالر کے بارے میں میری تشکیک کو فی الفور مسترد کردیا گیا- میں تو بالکل ہی شکست خوردہ تھا تو مجھ پہ کس نے توجہ دینی تھی؟
مختصر یہ کہ اس اسکالر سے رابطہ کیا گیا تو اُس نے ڈھالی لاکھ ڈالر(اُس وقت ڈالر سو روپے کا تھا مطلب ڈھائی کروڑ) کتاب لکھنے کے مانگے – میرے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے کیونکہ میں اُن لوگوں میں شامل نہ تھا جن کے پاس پیسہ تھا یا جنھوں نے اُس کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن بات یہی بتائی گئی تھی
 
سپانسر کو بھی ادائیگی کرکے خوشی ہونی تھی – لیکن اُس میں ایک رکاوٹ آگئی – اسکالر نے صاف کہا کہ وہ شیعہ قتل کرنے والوں کے لیے ایک تو لفظ ‘دہشت گرد’ استعمال نہیں کریں گے بلکہ ‘انتہاپسند’ استعمال کریں گے- کسی ہمسایہ برادر ملک پر الزام سپانسر کرنے کا نہیں لگائیں گے، تیسرا قتل کرنے والوں کی فرقہ وارانہ شناخت نہیں بتائیں گے، چوتھا لفظ ‘نسل کُشی’ استعمال نہیں کریں گے، کیونکہ اُن کے خیال میں عالمی سطح پر یہ لفظ ایک خاص تعداد میں کسی کمیونٹی کے لوگوں کے مارے جانے پر استعمال ہوتی ہے (اور مرنے والے شیعہ ابھی اس تعداد تک نہیں پہنچے) – اسکالر نے یہ اشارہ دیا کہ وہ انگریزی لفظ
Persecution
استعمال کرلیں گے
یہ معاہدہ نہ ہوسکا اور ایک دوسرے کو الزام دینے والا جھگڑا شروع ہوگیا- میرا نام پھر تجویز کیا گہ، لیکن تب تک گروپ منتشر ہوچکا تھا- کچھ عرصہ بعد گروپ کے ایک شخص نے مجھ سے پھر رابطہ کیا اور مجھے اسکالر کے مقابلے میں محض دس فیصد رقم کی پیشکش کی گئی جسے میں نے صبر وشکر کے ساتھ قبول کرلیا- میں نے نسل کشی پر کام شروع کیا تو مجھے پتا چلا کہ اس کا اگر کثیر نہیں تو ایک حصّہ دانشورانہ تحقیق کا سب سے بوگس اور جعلی ہے- اس بارے میں، مستقبل میں، میں ایک اور تحریر لکھوں گا
 
مجھے تین ماہ میں اپنی ریسرچ بھی مکمل کرنا تھی اور ریسرچ کا حاصل مسودہ بھی اپنے سپانسر کے حوالے کرنا تھا- کوئی بھی میری حالت کا اندازہ لگاسکتا ہے۔ ایسا کام جو دو سال کی محنت مانگتا تھا، مجھے ہفتوں میں مکمل کرنا تھا- کئی راتوں کو شدید دباؤ کے ساتھ کام کرنے کے بعد میں سپانسر کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن پر اسے مسودہ دینے کے قابل ہوا- اب مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کام کے لیے مجھے دی جانے والی رقم کا دس فیصد تو میں نے سڈنی کے نیم روشن فلیٹ میں آدھی رات کو سگریٹیں پھونکنے اور کافی پینے پر خرچ کر ڈالا تھا
 
وہ مسودہ کبھی شایع نہ ہوا- میرا اندازہ ہے کہ میری گمنامی کا اس میں بڑا دخل تھا- بعد میں، میں ایک پاکستانی اسکالر سے رابطے میں آیا جو پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر ایک کتاب شایع کرنا چاہتا تھا- وہ انتہائی قابل اور بڑی شہرت کے حامل اسکالرز کو اس کام میں شامل کرنے کے قابل تھا- اس کے نتیجے میں کتاب ‘ مذہبی تشدد اور پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسندی’ پلگریو میکملن اشاعت گھر سے انگریزی زبان میں شایع ہوئی- یہ ایک تاریخی کتاب ہے جو پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے اور اعلی ترین تعلیمی معیار پر پورا اترتی ہے۔
کتاب کے توثیق کرنے والوں میں نوم چومسکی اور پروفیسر عائشہ جلال شامل ہی۔