Featured Original Articles Urdu Articles

زندگی تماشہ – عامر حسینی

پنجاب حکومت نے سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ‘زندگی تماشہ’ کی نمائش کو اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری سے مشروط قرار دے دیا ہے- فلم کا موضوع ایک پراپرٹی ڈیلر کی زندگی کے گرد گھومتا ہے جو شوقیہ نعت خوانی کرتا ہے- اور پھر وہ الزامات کی زد میں آجاتا ہے- اور اس پر یہاں تک کہ توہین کا الزام بھی لگادیا جاتا ہے- اس پر زندگی کا دائرہ تنگ نہیں ہوتا بلکہ سائبرسپیس کا دائرہ بھی تنگ پڑجاتا ہے- اس فلم میں ایک منظر عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی ہے جس میں بیک گراؤنڈ میں ‘لبیک یارسول اللہ’ کا نعرہ بھی سنائی دیتا ہے- یہی سین سب سے زیادہ متنازعہ بن گیا ہے

سرمد سلطان کھوسٹ کہتے ہیں

“اس فلم میں عید میلاد النبی کی ایک محفل کو دکھایا گیا تھا ’جس کی عکس بندی کے دوران میں نے ایک دستاویزی فلم کے انداز جو کچھ بھی ہو رہا تھا، اس کو ایک فیسٹیول اور جشن کے طور پر عکس بند کیا۔ وہاں جو جو مناظر اور جو جو آوازیں تھیں، وہ میں نے شوٹ کیں تو اس کے آخر میں ایک نعرہ لگ رہا تھا لبیک یا رسول اللہ وہ بھی میں نے ریکارڈ کیا اور بعد میں نے ٹریلر میں بھی استعمال بھی کر لیااب کسی طرح یہ تعلق بن گیا کہ میں ان کی بات کر رہا ہوں

سرمد نے یہ فلم کیوں بنائی، اس حوالے سے ٹوئٹر پر انھوں نے ایک کھلے خط میں لکھا ہے

 


“I started Zindagi Tamasha two years ago excited to make a contribution to the evolution of the cinema in Pakistan to cater my need for artistic expression”.

“My team and I explored themes around gender constructs, class divisions and complex human experiences.”

 


ان دو جملوں کا حاصل یہ بنتا ہے کہ سرمد اس فلم کے زریعے پاکستان میں سینما کے احیاء کی کوششوں میں اپنا حصّہ ڈالنا چاہتے تھے- وہ اپنے فنکارانہ اظہار کی تسکین چاہتے تھے- اور انہوں نے اور ان کی ٹیم نے صنفی تشکیلات، طبقاتی تقسیم اور پیچیدہ انسانی تجربات کے گرد موجود تھیم/تصورات کو دریافت کرکے ‘زندگی تماشہ’ بنائی- ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فلم بنانے سے ان کا مقصد کسی فرقے /مسلک کی توہین نہیں تھا اور جو لبیک یارسول اللہ نعرہ آیا وہ لاشعوری تھا ناکہ اس کا مقصد کسی خاص تنظیم کو نشانہ بنانا نہیں تھا

اس فلم میں ضمنی طور پر یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کیسے ذاتی اور نفسانی جھگڑوں میں توہین کے الزام کو استعمال کرلیا جاتا ہے

تحریک لبیک یارسول اللہ جو اہلسنت بریلوی کی ایک ریڈیکل انتہا پسند تنظیم ہے اور مذہبی سیاسی جماعتوں میں دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں میں قدرے میں نیا نام ہے- اس نے ‘زندگی تماشہ’ پر سب سے زیادہ معاندانہ کردار ادا کیا ہے

اور اس نے اسے توہین کا ارتکاب کرنے والی فلم قرار دیا ہے

پنجاب فلم سنسر بورڈ نے پہلے اس فلم کی سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت دی اور پھر اسے منسوخ کرکے اجازت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش سے مشروط کردیا

پنجاب حکومت کا یہ اقدام پاکستان کی فلم کی تاریخ میں شاید پہلا اور اپنی نوعیت کا منفرد اقدام ہے جس نے کافی خدشات پیدا کردیے ہیں

فکشن، آرٹ اور کلا کی تخلیقوں کو نمائش سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی مںظوری سے مشروط کرنے سے ادب،فکشن، آرٹ، تھیڑ جس حبس کا شکار ہیں وہ اور زیادہ حبس زدہ ہوجائیں گے

پاکستان میں اسیّ ،نوے اور دوہزار کی دہائیوں میں ہابی ازم (جس کی بہت گہری جڑیں دیوبندی، سلفی ، مودودی ازم کے اندر پیوست ہیں) کے زیر اثر عسکریت پسندانہ اور تکفیری فسطائیت کے زبردست ابھار نے پاکستان کی عوامی صوفیانہ،صلح کل اور تکثیریت پسند روایت کو جسمانی اور ذہنی زبردست نقصان پہنچايا اور اس فکر و عمل نے پاکستان کی اقلیتوں کی آہستہ رو مگر مربوط و منظم نسل کشی کی طرف راستے کھولے- لیکن پاکستان کے کسی فلم ساز نے تکفیری دیوبندی فسطائیت کو لیکر اس کے کسی متاثرہ فرد یا گروہ کو اپنی کسی فلم کا موضوع نہیں بنایا- یہ بات اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہے

لاہور میں ایشیا کے سب سے بڑے ماہر امراض چشم و آئی سرجن ڈاکٹر علی حیدر اور ان کا بچہ مرتضی حیدر کا قتل ہو یا ڈاکٹر شبیہ الحسن رضوی جیسے محقق کا قتل ہو یا پھر کراچی میں سبط جعفر کا قتل ہو کسی کی زندگی پر فلم نہیں بنی

سینکڑوں ڈاکٹر، استاد، ادیب، دانشور، تاجر قتل ہوئے- طیبہ خانم جیسی اسکالر عورتیں لال مسجد کے ملّا سمیت تکفیری فسطائیت کی علمبردار تنظیموں کی طرف سے دھمکائی گئیں- کرسچن، ہندؤ، احمدی، سیکولر، لبرل ، عقلیت پسند فلسفی استاد تکفیری فسطائیت کا نشانہ بنے

اس فسطائیت نے جن

Gender Constructs

Class Divisions

Complex Human experiences

کے گرد تھیم/تصورات کو جنم دیا اور اس میں جو مذہبی،نسلی شناختوں کے گرد کلیشے بنے گئے ان کو دریافت کرنے کی ضرورت کو ہمارے فلم ڈائریکٹرز، اسکرپٹ رائٹرز نے کبھی محسوس کیا؟

آپ کو شناخت کے نام پر نسل کشی کا شکار ہونے والے کسی فرد کی زندگی کو فلم کا موضوع بنانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟

تین دہائیوں سے چند شناختوں (جو اس ملک کے کروڑوں لوگوں کی شناخت ہے) کو لیکر جو

Chaos

Bigotry

Bloodshed

Slow Genocide

Marginalization

تکفیری فسطائیت اور اس سے پیدا ہونے والی عسکریت پسندی نے پھیلائی اس نے ہمارے فکشن کو کتنے افسانے، کتنی کہانیاں، کتنے ناول دیے؟

کتنی فلمیں اس موضوع پر بنائی گئیں؟

یہ سوال کریں گے تو جواب ملے گا ایک مسعود اشعر کا افسانہ ، ایک ساجد رشید کی کہانی اور شاید ایک شاہد حمید کا افسانہ(وہ بلوچ کے بارے میں) اور ایک محمد حنیف کی کہانی(ہزارہ کے بارے میں اور اس میں بھی ان کی شیعہ شناخت کو چھپالیا گیا)- لیکن فلم کوئی نہیں ملے گی

ہمارے ہاں ادیب محسن حامد کا ‘ری لک ٹینٹ فنڈامینٹلسٹ’ اور اس کی ڈرامائی تشکیل ، شعیب منصور کی فلم ‘ خدا کے لیے’ ضرور بنیں- جن کا موضوع تھا مغرب کی نسل پرستی، اسلاموفوبیا جو نائن الیون کے تناظر میں ابھرا اور مغرب میں رہنے والے مسلمان اس کا نشانہ بنے اور اس ردعمل میں کوئی دہشت گرد بن گیا یا بنیاد پرست- نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے ردعمل کو کیا پاکستان میں تکفیری فسطائیت سے ابھرنے والی دہشت گردی، اقلیتوں کی نسل کشی اور شیعہ، صوفی سنّی، احمدی، ہندؤ،کرسچن شناختوں کو کمتربنائے جانے کو ردعمل قرار دیا جاسکتا ہے اسلاموفوبیا اس کی تشریخ بن سکتا ہے ؟

اگر جواب نہیں ہے تو اس موضوع پر کسی کو اپنی فنکارانہ تسکین اور پاکستانی سینما کے احیا میں مدد دینے کے لیے فلم بنانے کا خیال کیوں نہیں آیا؟

سرمد سلطان کھوسٹ،شعیب منصور سمیت پاکستان کے لبرل پروگریسو بورژوازی فلم ڈائریکٹرز، فریال گوھر، ندیم شاہد جیسے تھیڑ ڈرامہ ڈائریکٹر، اسکرپٹ رائٹرز ایک ایسے موضوع پر فلم بنانے کا خیال کیوں نہ آیا جس میں تین دہائیوں میں 75 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانیں گئیں- جن میں 25 ہزار کے قریب شیعہ مسلمان ہیں- ہزاروں وہ سنّی مسلمان ہیں جو صوفیانہ روایات پر عمل پیرا تھے- جس میں سینکڑوں مزارات بم دھماکوں سے اڑا دیے گئے- درجنوں امام بارگاہیں بموں اور گولیوں کی زد میں آئیں- اور تین علاقے یعنی ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ کے ہزارہ آبادی کی اکثریت کے علاقے اور کراچی کئی طرح سے متاثر ہوئے- یہاں متاثر ہونے والے کسی مرد، عورت، بچے کی کہانی پر فلم بنانا کتنا مشکل کام تھا؟ کیا ایسے کسی کردار سے صنفی تشکیلات، طبقاتی تقسیم اور پیچیدہ انسانی تجربات سے جڑے تھیم دریافت کرنا ناممکنات میں سے تھا؟

کیا سید خرم ذکی کی زندگی، اس کی سماجی خدمات اور اس کا تکفیری فاشزم کے خلاف لڑنا اور پھر اپنی جان دینا کسی فلم اسکرپٹ میں سما نہیں سکتا تھا؟

لاہور میں تکفیری فاشزم کا نشانہ بننے والے سلمان تاثیر، اسلام آباد میں ملک شہباز بھٹی اور 1988ء میں جان جوزف کی مسیحی برادری سے ظالمانہ سلوک کے خلاف خودکشی (ان پر تین شاندار کتابیں لکھی اور ایک دستاویزی فلم وسیم انتھونی نے ‘دا سن سیٹ’ بنائی گئی ہیں) پر کوئی ایک فلم نہیں بن سکی- کیوں؟

اس موضوع سے متعلقہ حقائق کو لبرل پریس نے بھی ہمیشہ غلط بائنریوں کی گرد میں دبایا ہے- بلکہ لبرل پریس کے ایک سیکشن نے تو قاتلوں کو امن کا سفیر اور اعتدال پسند، ماڈریٹ ملاں بناکر پیش کیا اور آج تک اس پر شرمندہ بھی نہیں ہیں

اس سب کے باوجود میں سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم کی نمائش کی اجازت دیکر واپس لینے اور اسے اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری سے مشروط قرار دیںے کی شدید مذمت کرتا ہوں- اور سرمد سلطان کھوسٹ سے اظہار یک جہتی کرتا ہوں