Original Articles Urdu Articles

PPP’s decision to withdraw amendments was a party decision and not a unilateral one by Bilawal

 

 

PML N had capitulated to the establishment by the night of 6th January. This capitulation was done directly by Nawaz Sharif whose public surrender is a matter of record. After PML N’s surrender, PPP simply did not have the numbers to present any amendments to parliament.

After another capitulation by Nawaz Sharif, this Act was a Fait Accompli.

Blaming Bilawal Bhutto Zardari for this, is plain dishonesty. Today’s detailed report by Aizaz Syed, published in Jang unpacks this in detail.

– that it was PML N who surrendered.
– that PPP withdrew its proposed amendments after PML N surrendered. At which point, PPP simply did not have the numbers in parliament
– that PPP’s decision to withdraw amendments was a party decision and not a unilateral one by BBZ.

Aizaz’s report today raises a number of questions.

Why was this report (by Azaz) published today?
Shouldn’t Aizaz/Jang have published this earlier?
Why was the blame shifted from PML N onto PPP?
Why did DAWN publish the unsubstantiated allegations by Farhatullah Babar against the PPP?

We always knew About the media bias against PPP.

In this particular instance (as in the past) elements within PPP also left their leader, Bilawal, vulnerable to political hit jobs from a rabidly pro PML N media.

This also raises the question of those within PPP who are responsible for working and communicating the party stance to the media.

Where were these media managers in PPP??

Shame on those incompetent media managers in PPP for leaving Bilawal vulnerable and for creating a misunderstanding between Bilawal and party supportors and Jiyalas.

————-

6 جنوری کی رات کا قصہ میں نے 7جنوری کے دن ہی بیان کردیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ نواز لیگ تھی جس کی قیادت ڈھیر ہوگئی تھی لیکن اعزاز سید سمیت پارلیمنٹ کی بیٹ کے کسی رپورٹر میں اتنی ہمت نہیں تھی وہ 7 جنوری یا 8 جنوری کو یہ رپورٹ اپنے اخبار یا چینل کو فائل کرتا یا اگر کسی نے کی بھی تھی تو کسی چینل یا اخبار کی انتظامیہ نے اُسے نشر/شایع نہیں کیا- اُس دن تو سارا میڈیا، اینکرز، تجزیہ نگار اور اینٹی اسٹبلشمنٹ چی گیورا صحافی موم کی ناک ثابت ہوئے تھے – پیپلزپارٹی، بلاول بھٹو اور اس کے پارلیمانی نمائندے تو چاہتے تھے متحدہ اپوزیشن جرآت مند فیصلہ کرے لیکن نمبر گیم تو نواز لیگ نے پوری کردی اور گالیاں، طعنے اور دشنام پی پی پی کے حصے میں آئے اور حالات سے بےخبر یا سب جانتے بوجھتے صرف سرخیوں میں رہنے کے لیے فرحت اللہ بابر نے اپنے چئیرمین کو غیر جمہوری رویے اور اقدام کا مرتکب ٹھہرا گئے

جب بلاول بھٹو زرداری کو ہر طرف سے طعنے اور الزام دیے جارہے تھے تو اُس وقت پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر ٹی وی چینل پر اپنے آپ کو اصول پسند بتاتے ہوئے چئیرمین کا دفاع کرنے سے قاصر تھے، جنوبی پنجاب، کے پی کے اور سندھ پی پی پی کے صدر، جنرل سیکرٹری، انفارمیشن بیورو بھی سب کے سب خاموش تھے

میں نے نیوز اسٹوری کے لیے جب رابطہ کیا تو پی پی پی پارلیمنٹرین کے جنرل سیکرٹری نئیر بخاری، راجا پرویز اشرف، نوید قمر نے جرآت دکھائی اور کہا سب فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوئے اور سی سی سی یا مذاکراتی کمیٹی کو بائی پاس نہیں کیا گیا، شیری رحمان اُس دن کئی میڈیا پرسنز سے بات کرتی رہیں لیکن اُس دوران ایک بار بھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آرمی ایکٹ کے معاملے میں پارٹی چئیرمین نے پارٹی کو بائی پاس نہ کیا میں نے کالز کیں، وٹس ایپ میسجز چھوڑے لیکن جواب نہیں آیا شفیق سولنگی اُن کے میڈیا کوارڈینٹر نے کہا ‘میڈیم بیمار ہیں گھر سے آفس نہیں آئیں’

میں نے آرمی ایکٹ کے معاملے میں پیپلزپارٹی کے عہدے داروں کے پریس میں بلاول کے حق میں بھیجی گئی کوئی پریس ریلیز تک نہیں دیکھی

جس طرح نفیسہ شاہ نے، سعید غنی نے اپنے اوپر لگے الزامات کے جواب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کی اگر پی ی پی پی کے مرکزی و صوبائی عہدے دار سات جنوری کی رات کو یا اگلے دن ایسی پریس کانفرنس بلاول بھٹو کے حق میں کرتے اور یہ بتاتے کہ تمام فیصلے مشاورت سے ہوئے تو بلاول بھٹو کو پارٹی کے کارکنوں کی مشاورت کے بغیر بل پاس کرانے کے الزام لگانا آسان نہ ہوتا