Featured Original Articles Urdu Articles

شیعہ عورتیں – مستجاب حیدر

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شیعان آل محمد کا جو گروہ کوفہ اور اس کے گرد و نواح میں رہتا تھا اس گروہ کے مردوں میں سے اگر کچھ پر کبھی دشمنوں کا خوف اور ڈر طاری بھی ہوجاتا تو ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ان خوفزدہ اور ڈر جانے والے مردوں کی عورتوں میں وہ جرآت اور ہمت ظاہر ہوتی ہے کہ مردوں کا ڈر اور خوف بھی جاتا رہتا

شیعان آل محمد میں عورتوں کی بہادری کا ایک واقعہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ کی گورنری کے زمانے میں ملتا ہے- جب مغیرہ بن شعبہ کی فوج کا ایک دستہ قبیلہ طئے جو کہ شیعان آل محمد تھے کے محلے میں عبداللہ الخلیفہ طائی کے تعاقب میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک گلی میں عبداللہ الخلیفہ طائی کو گھیر لیتے ہیں اور قریب تھا کہ وہ فوجی دستہ ان کو قتل کردیتا جبکہ محلے میں اس وقت جو مرد موجود تھے وہ خوف اور ڈر کے مارے گھروں میں چھپے بیٹھے تھے اور کوئی عبداللہ خلیفہ طائی کو بچانے والا نہیں تھا

ایسے میں محلہ قبیلہ طئے کی عورتیں گھروں سے باہر نکل آئیں اور انھوں نے فوجی دستے کے سپاہیوں کو دھکے مار کر پیچھے دھکیلا اور عبداللہ کے گرد گھیرا ڈال کر انھیں اپنے ساتھ لے گئیں اور وہاں سے ان کو فرار کرایا اور وہ بھاگ کر یمن کی پہاڑیوں میں جاکر چھپ گئے جہاں پہلے ہی قبیلہ طئے اور قبیلہ ہمدان کی بہت بڑی تعداد آباد تھی

یہ عبداللہ خلیفہ الطائی حجر بن عدی اور مالک اشتر جیسے حضرت علی علیہ السلام کے سچے اور جانباز صحابیوں میں سے تھے- حجر بن عدی سے ان کی بہت گہری دوستی تھی اور جب ان تک حجر بن عدی کی شہادت کی خبر پہنچی تھی تو انھوں نے اس پر ایک مرثیہ بھی لکھا تھا

طبری نے نہایت تفصیل سے کوفہ میں محلہ طئے کی عورتوں کی بہادری کا یہ قصّہ تفصیل سے درج کیا ہے

ایسا ہی ایک اور واقعہ قبیلہ بنو اسد کی عورتوں کے بارے میں ملتا ہے- جب واقعہ کربلا کو تین دن گزر گئے تب بھی قبیلہ بنو اسد کے مردوں کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ باہر نکل کر دریائے فرات سے پانی مشکیزوں میں بھر کر لے آئیں- انھوں نے اپنی عورتوں کو دریائے فرات پانی لینے بھیجا- یہ عورتیں گھروں سے نکل کر جب دریائے فرات کے کنارے پہنچیں تو انھوں نے جگہ جگہ شہدائے کربلا کے بے گور و کفن لاشے پڑے ہیں جبکہ یزیدی فوج اپنے مقتلوں کو دفنا کر کب کی جاچکی تھی- بنو اسد کی عورتوں نے شہدا کربلا کو اس حالت میں دیکھ کر گھر آکر اپنے مشکیزے زمین پر پھینک دیے اور گریہ و ماتم شروع کردیا- بنو اسد کے مرد اکٹھے ہوگئے

انھوں نے عورتوں سے گریہ و فراق و ماتم کی وجہ دریافت کی تو عورتوں نے ان کو شرم و عار دلائی اور کہا کہ تم نے امام حسین سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کرتے کیوں نہیں ہو؟ بنو اسد کے مردوں نے کہا ، چپ کرو، ابن زیاد کا دور ہے، کس قدر ظالم ہیں وہ–یہ سن کر بنو اسد کی عورتوں نے مشترکہ طور پر وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کیا کہ مرد نہیں جاتے نہ جائیں وہ جائیں گی اور شہدائے کربلا کو دفنائیں گے- یہ فیصلہ لینے کے بعد بنو اسد کی عورتوں نے بیلچے اور دیگر اوازار اٹھالیے اور کئی عورتوں نے ہاتھوں میں تلواریں لیں باہر نکلنے لگیں تو بنو اسد کے مردوں کی غیرت جاگ گئی، ان کا خوف اور ڈر کم ہوگیا اور وہ کہنے لگے ٹھہرو ہم جاتے ہیں- لیکن بنو اسد کی عورتوں نے کہا کہ وہ ساتھ چلیں گی اور یوں بنو اسد کی عورتیں اور مرد اجتماعی طور پر میدان کربلا کی طرف چلے اور باقی داستان تاریخ کا حصّہ ہے کہ کیسے اعجاز امامت کے ساتھ امام زین العابدین نے وہاں پر فرشتوں کے ساتھ آکر شہدائے کربلا کو دفن کیا

کربلا کے میدان میں جب امام حسین کی شہادت ہوگئی تو شمر نے خیمے میں آکر بیمار علی بن حسین علیہ السلام کو نیچے گرالیا اور وہ آپ کو قتل کرنا ہی چاہتا تھا کہ زینب بنت علی سلام اللہ علیھا نے شمر کو دھکا اور امام سجاد کے ساتھ اپنے آپ کو لپٹالیا اور کہا، ‘شمر! تو میرے بھتیجے کو اس وقت تک نہیں پاسکے گا جب تک مجھ پر نہ تلوار چلالے- اتنے میں عمر بن سعد خیمے میں داخل ہوگیا، اس نے آنکھ کے اشارے سے شمر کو روک دیا، شمر وہاں سے چلا گیا- يوں بی بی زینب بنت حسین سلام اللہ علیھا کی بہادری اور جرآت نے جناب امام سجاد کی جان بچالی

پاکستان میں، میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے مناظر دیکھے ہیں کہ جب عزاداری اور مجالس عزا پر ناصبیوں کی دہشت گردی کی وارداتیں انتہائی سخت ہوگئیں اور انھوں نے خوف اور ڈر کا بازار گرم کیا تو شیعہ عورتوں نے مجالس عزاداری کو آگے بڑھانے کا کام اپنے ذمہ لے لیا- گھر گھر مجلس عزا کا اہتمام کرنے میں عورتوں کا کردار بڑا اہم رہا اور تو اور کئی شہروں میں ہم نے عزاداری کے جلوسوں میں نوجوان شیعہ عورتوں کو حفاظتی انتظامات میں حصّہ لیتے دیکھا ہے

سوشل میڈیا پر میں نے انتہائی پرآشوب دور میں شیعہ نوجوان عورتوں کو اپنی اصل آئی ڈیز اور شناخت کے ساتھ خارجیت اور ناصبیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دفاع مذہب اہل بیت کرتے دیکھا- بلکہ انھوں نے سپاہ یزید کی للکارا اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کی- بعض دفعہ ان کی بہادری اور جرآت نے مجھ جیسے آدمی کو بھی اندر سے شرمندہ کردیا،کاش ایسی ہمت اور جرآت کا مظاہرہ ہم بھی کرپاتے

میں پشاور میں تھا اور قصّہ خوانی بازار میں ایک کتابوں کی دکان میں تھا اور میرا میزبان دوست کسی کام سے زرا دیر کو وہ مجھ سے الگ ہوکر باہر گیا-آدھے گھنٹے بعد وہ واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں وحشت تھی اور اس سے بات نہیں ہورہی تھی- میں دکاندار سے پانی کا گلاس مانگ کر اسے پلایا- پانی پی کر جب وہ تھوڑا ہوش میں آيا اور طبعیت سنبھلی تو میں نے اس سے پوچھنے کی کوشش کی تو کہنے لگا کہ بس یہاں سے واپس گھر چلتے ہیں- ہم نے رکشا کروایا اور حیات آباد اس کے گھر آگئے- ہم ایک کمرے میں بیٹھے تھے تو میں نے دیکھا کہ اس کے جسم میں کپکپکی ابتک نہیں رکی تھی- میں نے پھر پوچھا ، خدارا، کچھ تو کہو، ایسا کیا دیکھ لیا تم نے ؟

کہنے لگا

“میں نے تمہارے لیے چترالی ٹوپی اور گرم چادر لینے کا قصد کیا تھا – میں یہاں سے دوسرے بازار کی طرف گیا تو وہاں سڑک کے ایک طرف ایک کار آکر رکی- میں نے سڑک پار سے دیکھا کہ آگے ڈرائیونگ سیٹ پر ایک مرد بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ والی سیٹ پر ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی- ابھی ایک منٹ گزرا ہوگا کہ موٹرسائیکل پر سوار دو لڑکے کارکی ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے چادراوڑھ رکھی تھی اس نے چادر کھولی اور اندر سے کلاشنکوف نکالی اور دیکھتے ہی دیکھتے برسٹ مار دیا- میں نے دیکھا کہ عورت اچانک ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص پر لیٹ گئی ،لڑکے نے دو اور برسٹ مارے اور فرار ہوگئے- ان کے فرار ہونے کے بعد کچھ لوگ کار کی طرف بڑھے میں بھی ان کے ساتھ قریب گیا تو ہم نے دونوں مرد و عورت کو خون کے تالاب میں ڈوبے دیکھا- عورت مرد کے اوپر پڑی ہوئی تھی اس کا جسم تڑپ رہا تھا اور اس کے ہونٹوں سے آواز ‘یا غازی عباس ، یا غازی عباس’ کی آواز نکل رہی تھی- درجن بھر کے قریب لوگ کار کے پاس کھڑے تھے، میں نے ان میں سے کسی کو کہتے سنا،’اوہ شیعہ تھے’ اتنے میں ایف سی والے آگئے انہوں نےسب کو وہاں سے دور ہٹنے کو کہہ دیا

” حسینی بھائی، میں نے آس پاس کھڑے کچھ لوگوں کی آنکھوں میں اس وقت رحم کی بجائے بے حسی بلکہ نفرت دیکھی  مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا

میرا یہ دوست صوابی کا رہنے والا وزیر قبیلے سے تھا اور اس کا خاندان دیوبندی تھا لیکن وہ خود فرقہ وارانہ تعصب سے کہیں بلند ہوچکا تھا- اس نے دو انسانوں کے بے گناہ مرنے پر ان کی شناخت کا پتا چلنے پر تماشا دیکھنے والوں میں سے کچھ کی آنکھوں میں نفرت ، بے حسی دیکھی تو اس کا جیسے انسانیت سے اعتماد ہی اٹھ گیا تھا- وہ آج بھی کہتا ہے کہ راتوں کو وہ نیند میں یہ منظردیکھتا ہے تو ڈر کر اٹھ جاتا ہے – حالانکہ اس نے قبائلی سماج میں آنکھ کھولی ہے اور مارا ماری بہت دیکھی ہے لیکن کہتا ہے کہ یہ منظر وہ بھلا نہیں پاتا

میں نے چشم تصور سے دیکھا کہ کیسے وہ کنیز زھرا اپنے مجازی خدا غلام مرتضی علیہ السلام کی جان بچانے کے لیے اس کے اوپر لیٹ گئی اور پہلے اپنے جسم پر خود گولیاں کھارہی ہے اور اس جانکنی کے عالم میں بھی اس زبان پر کوئی کلمہ خوف یا شکوہ نہیں بلکہ ‘یا غازی عباس علمدار’ کا ورد تھا اور اس ورد کو سنتے ہی پاس کھڑے لوگوں میں ناصبی پہچان گئے یہ تو علی والے ہیں۔ یہ 2005ء تھا اور ابھی میں سوشل میڈیا پر نہیں آیا تھا- اس واقعے نے مجھے ہلاکر رکھ دیا تھا اور شیعہ نسل کشی بارے پہلی بار ہلکا ہلکا سا امیج میرے ذہن میں بننا شروع ہوا تھا- میں نے نوے کی دہائی میں پنجاب میں لشکر جھنگوی /سپاہ صحابہ کی شیعہ ٹارگٹ کلنگ لہر کو ایسے دیکھا ہی نہیں تھا- میرے اندر کا انوسٹی گیٹو صحافی کبھی عقیدے و شناخت پر ایسے آہستہ رو نسل کشی بارے سوچ ہی نہیں پایا تھا اور نہ ہی تاریخ کے پنّے میں نے اس نظر سے پڑھے تھے۔ اس سب نے مجھے بھی اندر سے ہلادیا تھا- مجھے اپنے سماج کے اندر جنم لینے والے تکفیری عفریت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اسی وقت سے ہونا شروع ہوا تھا