Featured Original Articles Urdu Articles

دوستوفسکی کا خط اپنے بھائی کے نام – عامر حسینی

یہ عظیم روسی ادیب دوستوفسکی کے اس خط کے مکمل متن کا اردو ترجمہ ہے جو اس نے اپنے آپ کو سزا سنائے جانے کے دن لکھا تھا

یہ 22 دسمبر 1849ء کا دن تھا- خط کا مخاطب اس کا بھائی میخائل میخائیلووچ دوستفسکی تھا۔ یہ خط بڑی اہم دستاویز ہے- اس کی اصل آج تک دریافت نہ ہوسکی جبکہ اس ایک نقل میڈم دوستوفسکی نے بنائی تھی جو اب سنٹرل آرکائیو میں رکھی ہوئی ہے- اسے اب پبلک کردیا گیا ہے- میخائیل دوستوفسکی آخرکار اپنے بھائی دوستوفسکی سے مل ہی لیا تھا جب اسے سائبیریا جانا تھا- اے پی ملیکوف نے اپنی کتاب ‘یادیں’ مطبوعہ 1881 میں لکھا ہے کہ فیودر نے وقت رخصت اپنے بھائی سے کہا۔”

” ان تین مہینوں میں ،میں نے بہت سفر کیا ہے؛ میرا مطلب ہے،میں نے خود اپنے اندر بہت سفر کیا ہے؛ اور اب میں بہت ساری چیزیں ہیں وہاں جنھیں دیکھنے جارہا ہوں- اور ان کو گہرائی میں جاکر دیکھوں گا- بہت سارا لکھنے کے لیے اکٹھا ہوجائے گا”

قلعہ پیٹر و پال

دسمبر 24،1849

پیارے میخائل

برادرمن، میرے عزیز ترین دوست! سب طے ہوگیا! مجھے چار سال سخت قید بامشقت قلعہ میں کاٹنے ہوں گے-(مجھے یقین ہے کہ اورنگ برگ میں) اور اس کے بعد قید تنہائی کاٹنا ہوگی- آج 22 دسمبر ہے اور ہم سیمونوف ڈرل گراؤنڈ لیجائے گئے۔ وہاں پر ہم سب کو موت کی سزا کا پروانہ سنایا گیا، ہمیں صلیب کو چومنے کو کہا گیا اور ہماری تلواروں کو ہمارے سروں پر توڑ دیا گیا- ہمیں ہمارا آخری لباس سفید چوغے پہنادیے گئے- پھر ہم سے تین کو ستونوں سے باندھ دیا گیا- میرا نمبر چھے تھا۔ تینوں کو پکارا گیا

میں دوسری صف میں تھا اور زندگی کا بس اب ایک منٹ ہی باقی بچا تھا۔ میں نے بھائی تمہیں ، تم سے جڑی سب باتوں کو یاد کیا، آخری منٹ میں تم بس تم ہی فقط میرے ذہن میں تھے- وہی لمحہ تھا جب مجھے پتا چلا کہ میں تمہیں کتنا پیار کرتا ہوں- میرے پیارے بھائی! میں نے پلیشیوف اور دروف کو ساتھ لپٹالیا جو میرے قریب کھڑے تھے اور ان کو گڈ بائے کہنا تھا۔ آخرکار پسپائی کا اعلان کردیا گیا اور جن کو ستونوں سے باندھا گیا تھا ان کو واپس بللیا گیا- ہمیں سنایا گیا کہ ھزمیجسٹی بادشاہ سلامت نے زندگی بخشنے کا پروانہ جاری کردیا ہے، اور پھر درجہ ذیل فیصلے سنائے گئے: تنہا پال کر معاف کردیا گیا اور اسے فوج میں اس کا پرانا رینک لوٹا دیا گیا تھا

مجھے ابھی بتایا گیا، پیارے بھائی ، آج یا کل ہمیں روانہ کردیا جائے گا- میں نے تمہیں ملنے کی خواہش کا اظہار کیا- لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ ناممکن ہے۔اور میں بس تمہیں یہ خط لکھ سکتا ہوں: جلدی کرنا اور جتنی جلد جواب دے سکو،مجھے جواب دینا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ہوسکتا ہے تم میں سے کچھ کو ہمیں سزائے موت سنانے کا پتا چل چکا ہو-جب ہمیں سیمنیوف ڈرل گراؤنڈ لیجایا جارہا تھا تو میں جیل گاڑی کی کھڑکی سے بہت سارے لوگوں کو دیکھا تھا۔ شاید خبریں تم تک پہنچی ہوں اور تمہیں میرا سنکر تکلیف ہوئی ہوگی- اب تم میری داستان سن کر شانت ہوئے ہوں گے- برادر،میں نہ نہ تو ہمت ہارا اور نہ ہی حوصلہ چھوڑامیں وہاں بھی نہیں گرا وہاں جہاں تقدیر مجھے گراسکتی تھي- اسی کا نام زندگی ہے-زندگی تو ہرجگہ زندگی ہوتی ہے، وہ جو ہمارے اپنے اندر ہوتی ہے۔نہ کہ جو ہمارے سے باہر ہوتی ہے- لوگوں کے درمیان آدمی جب ہوتا ہے تب بھی آدمی ہی رہتا ہے ہمیشہ

یہی زندگی کا وظیفہ ہے- میں اسے سمجھ گیا ہوں- یہ خیال میرے بدن اور روح کے اندر سرایت کرگیا ہے۔ ہاں یہ درست ہے! سر جو تخلیق کررہا تھا، فن کی اعلا ترین زندگی کے ساتھ جی رہا تھا،جو سمجھ چکا تھا اور اتنا بالغ ہوا تھا کہ جو روح کی بلند ترین احتیاج ہوتی ہے ان کے ساتھ رہا تھا، وہ سر تو پہلے ہی میرے تن سے جدا کیا جاچکا ہے۔ اب تو وہاں بس حافظہ اور تخلیق شدہ تمثال بچی ہیں اور ان تمثال کی تجسیم میں نے تو نہیں کی ہے۔ وہ مجھے نوچ ڈالیں گی، یہ سچ ہے! لیکن میرے اندر ابھی تو میرا دل، وہی گوشت اور خون رہتا ہے جو پیار بھی کرسکتا ہے تو ہجر برداشت کرسکتا ہے،وہ آرزومند بھی ہوتا ہے اور یاد بھی کرتا ہے، اور یہ ہی سب کچھ تو آخر زندگی ہے۔

On voit le soleil !

ہم صبح کا سورج دیکھیں

اب، گڈ بائی ،برادرعزیز

میرے لیے دکھی مت ہونا- اب (کچھ) مادی چیزوں بارے: میری کتابیں(بائبل تو اب بھی میرے پاس ہے) اور میرے مسودات پر مشتمل بہت سارے کاغذ، ڈرامہ اور ناول کے ابتدائی سے خام خاکے( ایک مکمل کہانی ‘ایک بچے کی کہانی’) سب چيزیں مجھ سے لے لی گئیں تھیں – اور امکان ہے کہ تمہیں مل گئی ہوں گی- میں اپنا اوورکوٹ اور پرانۓ کپڑے چھوڑ آیا تھا، اگر تم ان کو بھیج سکو تو بھیج دو- میرے بھائی، ہوسکتا ہے مجھے کافی لمبا فاصلہ طے کرنا پڑے- رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے برادر عزیز! جب یہ خط تمہیں موصول ہو اور تمہارے پاس کچھ پیسے ہوں تو فوری بھیج دینا

مجھے پیسوں کی ہوا سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ کسی خاص مقصد کے لیے- مجھے چند سطریں لکھ کر بھیج کر دو- پھر چاہے رقم ماسکو سے آئے،مجھے یاد رکھنا اور مجھے تنہا مت چھوڑنا- اچھا تو یہی سب کچھ ہے! میں نے لوگوں کا قرض دینا ہے

مجھے چند سطروں میں اپنا احوال بھی لکھ بھیجو- تب اگر ماسکو سے پیسے آجائیں تو مجھے یاد رکھنا اور مجھے چھوڑ نہ دینا- ہاں بس یہی کچھ ہے کہنے کو! مجھ پر قرض چڑھے ہیں،لیکن میں کیا کرسکتا ہوں؟ اپنے بیوی اور بچوں کو میری طرف سے شفقت و پیار دینا- ان کو میرے بارے میں مسلسل یاد دلاتے رہنا؛ دیکھو کہیں وہ مجھے بھول نہ جائیں- شاید ہم ابھی پھر کسی اور وقت ملیں! بھائی، اپنا اور اپنے خاندان کا خیال رکھنا، خاموشی سے اور احتیاط سے زندگی بسر کرنا

یوئی کے بچوں کے مستقبل بارے سوچو مثبت طریقے سے جیون بسر کرو- میرے اندر اب بھی پیدائشی نشان کام کررہا ہے جو کہ صحت مند روحانی زندگی کو شاندار بنائے ہوئے ہے- لیکن کیا میری روح بھی اتنی ہی شاندار ہے؟مجھے نہیں پتا- میں بیمار ہورہا ہوں،مجھے تپ دق ہے- لیکن بھائی! پرواہ مت کرنا، میں زندگی میں اتنا کچھ سہہ چکا ہوں کہ مشکل سے اب کوئی چیز مجھے ڈرا سکتی ہے۔ آنے دو جو پیش آنے والا ہے- پہلی فرصت میں،میں تمہیں خود اپنے بارے میں جاننے کی اجازت دوں گا- مائیکوف خاندان کو میرا آخری سلام دینا اور میری طرف سے آخری نیک خواہشات بھی- ان بتانا کہ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری تقدیر بارے جاننے میں مستقل دلچسپی رکھی- میری طرف سے چند الفاظ جتنی گرم جوشی سے ممکن ہوسکے ، جیسا کہ تمہارا دل بھی تمہیں ترغیب دے گا یوجینیا پیٹرونا کو بھی عنایت کردینا- میری طرف سے اس کے لیے خوشی و مسرت کی دعائیں، اور میں ہمیشہ اس کی جانب سے نہایت عزت دیے جانے کو ہمیشہ یاد رکھتا ہوں

نیکولائے اپولوونویچ اور اپولون میکوف کے ساتھ ساتھ ، اور دوسرے سبھی کے ہاتھ بھی محبت سے دبانا- یانووسکی کو تلاش کرنا- اس کا گرم جوشی سے ہاتھ دبانا- آخرکار ان سب کے ہاتھوں کو دبانا جو مجھے نہیں بھولے- اور ان کے بھی جو مجھے بھول چکے ہیں- ان کو میری یاد بھی دلانا- ہمارے بھائی کولیا کو بوسہ دینا- ہمارے بھائی آندرے کو ایک خط لکھنا اور اسے میرے بارے میں یاد کرانا- ہمارے انکل اور آنٹی کو بھی خط لکھنا- میں تم سے کہتا ہوں یہ میرے اپنے نام سے لکھنا اور میری طرف سے ان کو نیک خواہشات بھیجنا- ہماری بہنوں کو بھی لکھنا: میں ان کو خوش و خرم دیکھنا چاہتا ہوں- اور ہوسکتا ہے ہم پھر کبھی ملیں بھائی! خود اپنا خیال رکھنا۔ خدا کی محبت میں جینا جاری رکھنا، یہاں تک کہ ہمارا ملن ہو- شاید کبھی ہم ایک دوسرے کے گل لگ کر ملیں اور اپنی جوانی کے دنوں کو یاد کریں- ہمارا وہ زمانہ سنہری زمانہ تھا جو ہماری جوانی اور ہماری امیدوں کا زمانہ تھا

جن کو اسی لمحے میں اپنے دل سے لہو کے ساتھ پھاڑ رہا ہوں تاکہ ان کو دفن کرسکوں- کیا واقعتا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں اپنا قلم پھر کبھی اپنے ہاتھوں میں تھام نہیں سکوں گا؟ میں سوچتا ہوں شاید چار سالوں بعد ایسا ممکن ہوجائے۔ میں تمیں ہر وہ چیز بھیجوں گا جو میں لکھ پایا، کیا میں کوئی شئے لکھ پاؤں گا؟ میرے خدایا! کتنے تصورات جو میں باندھے ، کتنے جو میں نے پھر سے تروتازہ کیے، فنا ہوجائیں گے ، میرے دماغ ہی میں وہ مرجائیں گے یا میرے خون میں ایسے تحلیل ہوجائیں گے جیسے زھر! ہاں، اگن مجھے لکھنے کی اجازت نہیں ملتی تو میں ختم ہوجاؤں گا- میرے ہاتھوں میں قلم ہو تو پندرہ سال کی جیل بھی مجھے قبول ہے- مجھے زیادہ سے زیادہ لکھنا، زیادہ تفصیل سے لکھنا، زیادہ سے زیادہ حقائق بارے لکھنا

اپنے ہر خط میں ہر طرح کی خاندان بارے تفصیل لکھنا،غیراہم،چھوٹی چھوٹی باتوں بارے لکھنا، بھول مت جانا- یہ مجھے امید اور زندگی دے گی- کاش تم جان پاتے کہ تمہارے خطوط یہاں مجھے اس قلعے میں زندہ بحال رکھنے میں کسقدر مددگار ثابت ہوں گے- یہ آخری ڈھائی مہینے جب میرے لکھنے پر پابندی تھی اور خط وصول کرنا ممنوع تھا تو یہ مجھ پر بہت بھاری گزرے تھے۔ میں بیمار پڑگیا تھا- یہ حقیقت ہے کہ اب کی بار تم نے مجھے پیسے نہیں بھیجے اور میں تمہارے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتا رہا- اس کا مطلب تھا کہ تم خود اس وقت کافی ضرورت مند تھے- بچوں کو ایک بار پھر پیار دینا- ان کے پیارے ننھے سے چہرے مجھے نہیں بھولتے- آہ، کاش وہ خوش ہزں! تم بھی خوش رہو، بھائی، خوش رہو! لیکن دکھی مت ہونا، خدا کی محبت کی قسم تمہیں، میرے لیے دکھی مت ہونا- مجھ پر یقین رکھو میں نے دل چھوٹا نہیں کیا ہے- یار رکھنا کہ امید کا دامن میں نے ترک نہیں کیا ہے- اگر چار سال میری تقدیر سے تخفیف ہوں گے تو میں سمجھنا میں ایک کرائے کی سپاہی کی طرح رہوں گا مزید قیدی نہیں رہوں گا، اور یاد رکھنا کہ ایک وقت آئے گا جب میں تمہیں گلے لگ کر ملوں گا

آج میں ایک گھنٹے کی تین چوتھائی گھڑیوں میں موتکی گرفت میں تھا- میں نے اس لمحے کو اسی خیال کے ساتھ گزار دیا- میں آخری لمحے میں تھا اور اب میں دوبارہ زندہ ہوگیا ہوں- اگر کوئی میرے بارے میں بری یادیں رکھتا ہو، اگر میں نے کسی کے ساتھ لڑائی کی ، اگر میں نے کسی کی نظر میں اپنا برا تاثر چھوڑا ہو تو اگر ان سے مل پاؤ تو ان کو بتادو کہ انھیں اسے بھول جانا چاہئیے- میری روح میں کوئی سختی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تپش ہے- مجھے اس لمحے پر اپنے پرانے دوستوں میں سے ایک کے پاس جاکر اسے پیار سے گلے لگانا چاہیے- یہ باعٹ سکون ہے، میں نے اس کا تجربہ آج کے دن کیا جب اسے موت سے پہلے گڈبائی کہا- میں نے اس لمحے سوچا تھا کہ موت کی سزا دیے جانے کی خبر تمہیں مار ڈالے گی- لیکن اب شانت ہوجاؤ- میں ابھی تک زندہ ہوں اور اس وقت جیتا رہوں گا جب تک تم سے گلے مل نہ لوں- اب بس یہی میرے دماغ ہے- آپ کیا کررہے ہو؟ آج تم کیا سوچ رہے ہو؟ کیا تمہیں ہمارے بارے میں پتا ہے- آج کے دن کتنی سردی تھی- کاش میرا لکھا خط تم تک آسانی سے پہنچ ہوتا

دوسری صورت میں، میں چار مہینے تمہاری خیر خبر سے محروم رہوں گا- میں نے لفافے دیکھے جس میں تم نے پچھلے دو ماہ کی رقم بھیجی تھی- پتا تمہارےی لکھائی میں تھا-اور میں اس بات پر خوش تھا کہ تم کافی بہتر ہوگئے تھے- میں پيچھے جاکر ماضی پر نظر ڈالتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کتنا وقت رائیگاں چلا گیا ہے،کتنا وقت فریب،غلطیوں ، بے کاری اور جہالت کی نذر ہوگیا- کیسے جیا جائے سوچنے میں کٹ گیا، کیسے میں نے وقت کی قدر نہ کی، کیسے میں نے اکثر اپنے دل اور روح کے خلاف جاکر گناہ کیے- میرا دل خون کے آنسو روتا ہے- زندگی تو تحفہ ہوتی ہے، زندگی تو خوشی ہوتی ہے، ہر لمحہ خوشی کا زمانہ ہوتا ہے

Si jeunesse savait

زندگی میں کوئی چیز بھی اپنے ٹھیک وقت پر واقع نہیں ہوتی

اب میری زندگی بدل رہی ہے- میں ایک نئی شکل میں پھر سے جنم لے رہا ہوں- برادر! میں تمہارے سامنے حلف دیتا ہون کہ میں کبھی امید کو کھونے نہیں دوں گا اور اپنی روح اور دل کو ان کی پاکیزہ شکل میں محفوظ رکھوں گا- میں نیا جنم لیکر پہلے سے بہتر ہوجاؤں گا- یہی میری ساری امید اور یہی میرا تمام تر چین ہے- زندان میں زندگی پہلے ہی کافی حد تک میرے بدن کے مطالبات کو قتل کرچکی ہے جو کہ مکمل پاک نہ تھے- میں پہلے سے اپنے بارے کم توجہ دیا کرتا تھا۔ لیکن اب محرومیاں میرے لیے کچھ نہیں ہیں- یہ نہیں ہوسکتا-آہ! صحت مند رہو! گڈ بائے، گڈ بائے،میرے بھائی! میں دوبارہ تمہیں کب لکھوں؟

تمہیں بہت جلد جہاں تک ممکن ہوا میرے سفر کی تفصیلی داستان ملے گی- اگر میں اپنی صحت برقرار رکھ پایا تب ہر چیز ٹھیک ہوجائے گی- اچھا، گڈ بائے، گڈ بائے، برادر! میں تمہیں شدت سے گلے لگاتا ہوں- تمیں بہت پاس سے بوسہ دیتا ہوں- اپنے دل میں کسی تکلیف کے بغیر مجھے یاد رکھنا-غم زدہ نہ ہونا- میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں- میرے لیے دکھی نہ ہونا- اگلے خط میں ، تمہیں میں بتاؤں گا کہ میں نے کیسے آگے چلنے کا فیصلہ کیا ہے- جو میں نے تمہیں بتایا ہے اس کو یاد رکھنا: اپنی زندگی کو منصوبہ بند بنانا،اسے ضائع مت کردینا- اپنا مقدر ترتیب دینا- اپنے بچوں کا سوچنا- اوہ، تمہیں پھر سے ملنے کے لیے، تم سے پھر سے ملنے کے لیے گڈبائے- اب میں ہر اس شئے سے دور کرتا ہوں جو عزیز تھی- اسے چھوڑنا تکلیف دہ ہے- اپنے آپ کو دو حصوں میں بانٹنا ، اپنے دل کو دو ٹکڑوں میں بانٹنا بہت تکلیف دہ ہے- گڈ بائے! گڈ بائے!لیکن میں تمہیں پھر دیکھ پاؤں گا- مجھے یقین ہے- مجھے امید ہے- بدلنا مت- مجھے پیار کرتے رہنا- اپنے حافظے کو سرد نہ ہونے دینا- اور تمہارے پیار کا خیال میری زندگی کا بہترین حصّہ ہے۔

گڈبائے، گڈ بائے، ایک بار پھر! تم سب کو گڈ بائے

تمہارا بھائی فیودر دستوفسکی

دسمبر 22،1849ء

میری گرفتاری کے موقعہ پر کئی کتابیں مجھ سے ضبط کرلی گئیں تھیں- صرف ان میں سے دو ممنوعہ کتابیں تھیں- کیا باقی تم اپنے لیے نہیں حاصل کرسکتے؟ لیکن ایک درخواست ہے: ایک کتاب تھی ‘ مجموعہ ویلرین مائکوف: اس کے تنقیدی مضامین –یوجینیا پیٹرونا کا نسخہ- یہ اس کا خزانہ ہے اور اس نے مجھے مستعار دیا تھا- اپنی گرفتاری کے موقعہ پر میں نے پولیس افسر کو کتاب اسے لوٹانے کو کہا تھا اور اسے مطلوبہ ایڈریس اسے تھمادیا- مجھے نہیں پتا اس نے کتاب کا نسخہ اسے واپس لوٹایا یا نہیں- پتا کرنا!میں یہ یاد اس سے دور نہیں لیجانا چاہتا- گڈ بائے، گڈ بائے، ایک بار پھر- تمہارا فیودر دوستوفسکی

1 یوجینیا پیٹروونا ، شاعر اپولون میکوف کی والدہ تھیں ،

دوستوفسکی کا دوست۔

2 این. اے مائیکوف ، اے این این میکائکوف کے والد