Original Articles Urdu Articles

سندھو سے وفاداری – جمیل خان

سندھ کی مٹی میں کچھ ایسی خاص بات ہے کہ یہاں لٹیرے محمد بن قاسم سے لے کر کانے دجال زیاں الحق جیسے ظالموں کی ہرممکن کوششوں کے باوجود آزاد روی، رندانہ مزاجی اور اعلیٰ ظرفی جیسی صفات کو مٹایا نہیں جاسکا۔

یہاں کی فضا میں ہزاروں برسوں کی وہ ساونڈ ویوز آج بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں، جو حساس دلوں میں جذب کی سی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔

یہ سندھ ہی تھا، جہاں پیغمبر اِسلام  ص کے خانوادہ عبداللہ شاہ غازی کو اُس وقت پناہ ملی، جب پیغمبر اسلام ص کے چچا امیرحمزہ کا کلیجہ چبانے والی ہندہ کی نسل عرب پر حکمران تھی۔

جب اسماعیلی شیعہ پر مسلم سلطنت کی زمین تنگ کردی گئی تھی تو سید عثمان مروندی نے سندھ کو اپنے لیے جائے امن پایا، اور پھر سندھ نے انہیں شہباز قلندر کے مقام پر فائز کیا۔

آج بھی الباکستان میں جہاں مذہبی غنڈوں کا راج ہے، سندھ میں آزاد روی، رندانہ مزاجی اور اعلیٰ ظرفی کی روایت موجود ہے، گوکہ کرپشن کے ذریعے حاصل ہونے والی دولت، بیرونی آبادگاروں کی مسلسل آمد اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذہبی غنڈوں کی سرپرستی کی وجہ سے سندھ کے لوگوں میں بھی مذہبی غنڈوں کی دُم پکڑ کر چلنے کی روایت بھی مضبوط ہوگئی ہے۔ کراچی میں بھی تبلیغیوں کی گشت کے دوران سندھی بولنے والے بھی نمونہ بنے ساتھ ساتھ پھرتے دکھائی دینے لگے ہیں، پہلے زیادہ تر پشتون اور ہزارہ ڈویژن کے لوگ ہی گشت کرتے تھے۔

سندھی بولنے والے گھرانے کی خواتین تقریبات میں نماز کی تلقین کرنے لگی ہیں، جو نماز نہ پڑھے اسے بُری نظر سے دیکھتی ہیں۔ سندھی گائے کی قربانی کرنے میں اب ایسے اردو بولنے والے سندھیوں کی نقل کررہے ہیں، جن کے دین کا ستون سچ پر استوار ہونے کے بجائے گائے کے گوشت کھانے پر استوار ہوتا ہے۔ لیکن اب بھی بڑی تعداد سندھ کی ایسی ہے، جو گائے کا گوشت نہیں کھاتی، یہ روایت سندھ میں نسل در نسل چلی آرہی ہے۔

سندھ کے چھوٹے چھوٹے گاؤں دیہات میں ہزاروں گھروں میں ایک گھر آج بھی ایسا ضرور ہوتا ہے، جس میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کتابیں ہوں، اور ہر دوسرے یا تیسرے گھر میں کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں جو موضوعات ہوتے ہیں، وہ نسیم حجازی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، عمیرہ احمد، وصی شاہ جیسے بونسائی دانشوروں سے کہیں بلند ہوتے ہیں۔

مجھے سندھی زبان کے ایک پبلشر نے بتایا تھا کہ وہ چند برسوں میں پانچ سو سے زیادہ کتابیں شایع کرچکے ہیں، اور کئی کتابوں کے ایک سے زیادہ ایڈیشن شایع ہوئے ہیں۔ انہوں نے رازدارانہ انداز میں مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ ایسی کتابیں بھی سندھی زبان میں ترجمہ کروا کے چھاپ چکے ہیں، جن پر زیاں الحق مردود نے پابندی لگا دی تھی۔

لیکن طارق جمیل کا ذہنی بواسیر بھی کسی وباء کی مانند تیزی سے پھیل رہا ہے۔

سندھ کے اردو بولنے والوں کا ماضی بہت شاندار تھا، قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی کئی دہائیوں تک سندھ کے دائیں بازو اور ترقی پسندوں کی قیادت اردو بولنے والوں کے پاس رہی یا پھر دائیں بازو و ترقی پسندوں کی تربیت میں ان کا ہی کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

اس زمانے میں سندھ میں ایک ہی نکتہ نظر نمایا ں تھا، کہ یا تو کوئی ظالم ہے یا مظلوم، یا پھر ظالم کا پشت پناہ اور حمایتی
ان دہائیوں کے دوران دائیں بازو کی صفِ اوّل میں حسن ناصر، ڈاکٹر اعزاز سید، امام علی نازش، جمال نقوی، حسن حمیدی، پروفیسر نصیر احمد، ڈاکٹر اعزاز سید کے بڑے بیٹے ڈاکٹر حسن ناصر، معراج محمد خان، انیس ہاشمی، فتح یاب علی خاں، منہاج برنا، عابد زبیری، کامریڈ یامین، کنیز فاطمہ، ایس بی لودھی، عزیز اﷲشیخ، بیگم اختر سلیمان، ڈاکٹر سرور عبدالحمید چھابرا، ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر ہارون احمد، انیس ہارون، خالد علیگ، جوہر حسین، اور حسین نقی شامل ہیں، یہ نام وہ ہیں جو میری یادداشت میں موجود ہیں، لیکن یہ فہرست بہت طویل ہے، آپ کو یاد آئے تو تبصرے میں مزید نام ضرور پیش کیجیے۔

یاد رہے کہ ان میں سے زیادہ تر سندھی زبان روانی کے ساتھ بول لیتے تھے، اور کئی تو سندھ کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں جلسوں اور فکری نشستوں کے دوران سندھی زبان میں خطاب کیا کرتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں دائیں بازو کے بہت سے دوست مذکورہ تمام رہنماؤں کا نام آج بھی بہت احترام سے لیتے ہیں، لیکن کراچی و حیدرآباد کے اردو بولنے والی کمیونٹی میں ان ہی دوستوں کے ہم عمر افراد کی اکثریت ان ناموں سے ہی لاعلم ہےتو اُن کی جدوجہد کا خاک اِنہیں علم ہوگا۔

یہ وہ خلاء ہے، جو اسٹیبلشمنٹ نے ریاستی جبر اور مذہبی غنڈوں کی سرپرستی کے ذریعے پیدا کیا ہے، جس کی بنیاد تو بہت پہلے رکھ دی گئی تھی، لیکن پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد سے یہ بنیاد مستحکم ہوتی چلی گئی۔

پھر اردو بولنے والے سندھیوں کی قیادت مذہب پرستوں کے ہاتھ لگ گئی، جماعت اسلامی اور نورانی میاں کا سندھ کے دو بڑے شہروں پر قبضہ ہوگیا۔بعد کے حالات کی تفصیل اس وقت تحریر کرنا زائد از ہوگا، کہ آج اردو کمیونٹی کی زبوں حالی کا عالم یہ ہے کہ کراچی کی سرکاری یونیورسٹیوں میں اس کمیونٹی کے طالبعلموں کی تعداد شاید اوسطاً تیس فیصد ہی ہو، یا پھر اس سے بھی کم۔یہ اس کمیونٹی کا حال ہے کہ تعلیم، تہذیب اور رکھ رکھاؤ جس کا کبھی زیور ہوا کرتا تھا۔

میں یہ بات بارہا تحریر کرچکا ہوں، لیکن دوہرانے میں کوئی حرج نہیں، کہ میری نسل کے وہ تمام سندھی جن کی مادری زبان ہندوستانی(اردو) ہے، میری طرح انہوں نے سندھ میں جنما ہے، میرے دادا، دادی، نانا، نانی، والد، تایا، تائی، پھوپھی، پھوپھا، خالہ، خالوسندھ میں دفن ہیں، ان کی بھی پچھلی دو نسلیں سندھ کی دھرتی میں ابدی نیند سو رہی ہیں۔تیسری نسل جوان ہے، ان میں سے بھی کئی شادیوں کے بعد صاحب اولاد ہوچکی ہیں، یعنی تین نسلیں اور بعض جگہ تو چار نسلیں سندھ کی دھرتی پر جنم لے کر سندھو دریا کا پانی پی کر پروان چڑھی ہیں۔

اب اگر کوئی انہیں کہےکہ تم سندھی نہیں ہو، یا وہ خود اپنے لیے سندھی کے علاوہ کوئی شناخت اختیار کریں تو اس سے بڑی جہالت اور جہالت سے بڑھ کر حماقت کیا ہوگی؟

رہ گئی بات ثقافتی فرق کی جس کا رٹّا بہت لگایا جاتا ہے، تو وہ بھی ایک احمقانہ دلیل ہے۔

اس لیے کہ میری تحقیق کے مطابق سندھی، پنجابی، ہریانوی، راجستھانی، مارواڑی، گجراتی، بھوجپوری اور کشمیری زبانوں سے ہندوستانی زبان کا جنم ہوا، اور ہندوستانی زبان، جسے آپ یہاں الباکستان میں اردو کہتے ہیں، تقسیم سے قبل ہندوی، ہندوستانی یا ہندی کے نام سے موسوم تھی۔

ثقافت کی ایک بہت بڑی بنیاد زبان ہے، اور سندھی و ہندوستانی زبانوں کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔

ہندوستان، انڈیا یا ہند دراصل سندھ کا بگڑا ہوا نام ہی ہے، انڈس سے ہی انڈیا نام بنایا گیا۔ سندھ درحقیقت کراچی سے کشمیر تک پھیلا ہوا ہے، یہاں پر ہی وید تحریر کیے گئے، یہیں صفر کی ایجاد ہوئی، یہیں پانچ ہزار برس پہلے ترقی یافتہ تہذیب و تمدن موجود تھا، یہیں شطرنج کا کھیل ایجاد ہوا، یہیں اشوکا نے دنیا کی عظیم الشان یونیورسٹی قائم کی، یہیں بدھا کے تصورات کو بطور مذہب اپنایا گیا، یہیں پیغمبر اسلام  ص کے خاندان کے افراد کو پناہ ملی، یہیں گرونانک نے ذات پات کی تفریق کے خاتمے کی تبلیغ کی، یہیں میاں میر کے چیلے شہزادہ دارہ شکوہ نے اپنشد کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا، یہیں بلھے شاہ کا جنم ہوا، جنہوں نے مذہبی غنڈوں اور ظالم جاگیرداروں کو اپنے اشعار کے ذریعے ننگا کردیا، یہیں شاہ عنایت نے مارکس سے قبل معاشی مساوات کے لیے عملی جدوجہد کی، یہیں ہفت زبان شاعر سچل سرمست نے ہندوستانی (اردو) زبان میں بھی اشعار کہے۔

سندھو دریا سے وفاداری کا درس جس کسی نے بھی لیا، اس نے آزاد روی، رندانہ مزاجی اور اعلیٰ ظرفی کی صفات پائیں، چاہے وہ سندھو کے منبع پر پیدا ہوا، چاہے اس کا جنم ڈیلٹا پر ہوا ہو