Featured Original Articles Urdu Articles

معروف شاعر محسن نقوی کی آج 23ویں برسی ہے – عامر حسینی

معروف شاعر محسن نقوی کی آج 23ویں برسی ہے۔

اردو کے معروف شاعر محسن نقوی کو ہم سے جدا ہوئے 23 سال گزر گئے- محسن نقوی نے 5 مئی 1947ء کو تقسیم ہندوستان سے قبل ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- ان کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا- ان کے والد سید چراغ حسین شاہ گھوڑوں کی نعل بنانے کا کام کرتے تھے اور بعد میں وہ کھانے کا ٹھیلا لگاتے رہے- انھوں نے گریجویشن گورنمنٹ کالج ملتان بوسن روڈ سے کی اور ماسٹرز پنجاب یونیورسٹی سے کیا- انھوں نے جب شاعری شروع کی تو اپنا نام غلام عباس محسن نقوی کرلیا اور وہ محسن نقوی کے نام سے مشہور ہوگئے- محسن نقوی کے شعری کلام کے دس مجموعے شایع ہوئے – جن کے نام درج ذیل ہیں

عذابِ دید

خَیمۂِ جاں

برگِ صِحرا

بندِ قبا

مَوجِ ادراک

طُلُوعِ اشک

فُراتِ فکر

ریزۂِ حرف

رختِ شب

رِدائے خواب

حقِ ایلیا

محسن نقوی کا قتل

جنوری 15،1996ء کو اردو کے معروف شاعر محسن نقوی کو مون مارکیٹ لاہور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا- ان کے قتل کے مقدمے میں لشکر جھنگوی کے بانی ریاض بسرا کو نامزد گیا گیا تھا- پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم میں پنتالیس گولیاں لگی تھیں

محسن نقوی کی شیعہ شناخت ان کے قتل کا سبب بنی- نوے کی دہائی میں پورے پاکستان میں تکفیری دہشت گرد گروپ لشکر جھنگوی جو کالعدم اینٹی شیعہ تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کا ڈیتھ اسکواڈ سمجھا جاتا ہے نے شیعہ مسلمان فرقے کے لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کیا جو منظم نسل کشی کی صورت اختیار کرگیا- اسی زمانے میں ردعمل میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والی ایک دہشت گرد تنظیم سپاہ محمد سامنے آئي جس نے سپاہ صحابہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا- نواز شریف کے آخری دور میں سپاہ محمد پاکستان کے خلاف منظم آپریشن کیا گیا اور اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا- شیعہ کمیونٹی پاکستان اور افغانستان میں طالبانائزیشن کے ابھار کے دوران ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی کا نشانہ بنی- لیٹ اس بلڈ پاکستان کے اکٹھے کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد شیعہ شناخت کے سبب قتل ہوئے ہیں جن میں سے محسن نقوی ایک تھے

محسن نقوی کے بیٹے سید عقیل محسن نقوی کے مطابق 45 گولیوں سے گھائل ان کے والد نے اپنی موت سے چند لمحے پہلے جو شعر کہا وہ یوں تھا

سفر تو خیر کٹ گیا

میں کرچیوں میں بٹ گیا