Original Articles Urdu Articles

‏ایام فاطمیہ منانا ایک فاش غلطی ہے ۔ محمد حسین

نوٹ : ادارہ تعمیر پاکستان نے ہمیشہ فکر و نظر کے اختلاف کو شائستگی اور بلا اشتعال طریقے سے اظہار کو خوش آمدید کہا ہے- کوئی بھی اس تحریر کے جواب میں شائستگی کو مدنظر رکھ کر لکھ کر ادارے کو بھیجے گا، ادارہ خوشی سے اُسے شایع کرے گا

یہ شیعہ آئمہ میں سے کسی نے نہیں منائے۔ پچھلے چودہ سو سال میں شیعہ عوام نے بھی نہیں منائے۔ اب علمائے کرام نے محرم کے علاوہ بھی پیسے کمانے کا ایک اور سلسلہ شروع کیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سارا سال عزاداری کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ پہلے محرم کی عزاداری بھی دس دن تک محدود ہوتی تھی، اس کے بعد لوگ اور کام کرتے تھے۔ نوجوان نسل کی یہ حالت ہے کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں شیعہ بچوں کی تعداد دو سے تین فیصد تک ہے اور ان میں بھی لڑکیاں زیادہ ہیں، کیونکہ لڑکوں کا تو سارا سال منطق کش مجلسیں اور ماتمی انجمنیں کھا جاتی ہیں۔


ایام فاطمیہ کی بنیاد جس واقعے پر رکھی جاتی ہے وہ غیر ثابت شدہ ہے۔


‏حضرت عمر کا سیدہ فاطمہ کو شہید کرنا ایک ایسا واقعہ نہیں جس کو ایک روایت کی بنیاد پر مان کر تخیل سے باقی عمارت کھڑی کی جائے۔

جس تاریخ نے حضرت ابوذر کے مدینے سے نکالے جانے کی تفصیل محفوظ رکھی اس میں اس واقعے کی تفصیل کیوں نہیں؟ نہج البلاغہ سے بھی غائب، کسی امام نے ذکر نہ کیا۔


‏حضرت فاطمہ کو اگر شہید کیا جاتا تو یہ کربلا سے بڑا واقعہ ہے۔ کربلا جاتے وقت مدینے سے اہلبیت کے سوا کوئی امام حسین کے ساتھ نہ گیا لیکن جب کربلا ہو چکا تو مدینہ اٹھ کھڑا ہوا۔ رسول اکرم کے پچاس سال بعد مدینے کا یہ عالم تھا تو تین ماہ بعد مدینہ کیسے اس قتل کو برداشت کر سکتا ہے؟


‏اسلامی تاریخ نے امام حسن کو زہر دیئے جانے کا ذکر محفوظ رکھا ہے۔ کئی روایات میں اس قتل کے عوامل اور اس کے بعد کے متعلقہ واقعات کا ذکر ہے۔ ایسے میں دن دیہاڑے انکی والدہ کے قتل اور اس قتل کے اثرات کا ذکر بھی پورے اہتمام سے ہونا چاہیئے تھا۔ کوئی معمولی واقعہ نہیں جس کی بازگشت نہ ملے۔


‏ایام فاطمیہ منانے کا سلسلہ ایران کے مذہبی مرکز قم کے دو مراجع، آیت اللہ وحید خراسانی اور آیت اللہ جواد تبریزی نے تقریبا بیس سال پہلے شروع کیا۔ اس کا مقصد آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے اہلسنت علماء کے ساتھ قربتیں بڑھانے کی کوشش کو کمزور کرنا تھا۔ اگرچہ میں علماء میں اتحاد کو ‏مسلمان عوام کیلئے تباہ کن سمجھتا ہوں لیکن مسلمان عوام میں قربت پیدا کرنے اور ایک دوسرے کی محترم شخصیات کے بارے میں مبالغے پر مبنی تنقید کے خلاف آیت اللہ خامنہ ای کی کوششیں بہر حال قابل تعریف ہیں۔


ان دو آیت اللہ صاحبان نے ایسی مہم چلائی کہ آیت اللہ خامنہ ای کو بھی ایام فاطمیہ منانے پڑے۔


‏یہ سلسلہ جو ایک دن کی عزاداری سے شروع ہوا تھا اب تین دن تک پھیل چکا ہے اور عنقریب دس دن اور پھر چالیس دن تک چلے گا۔


جو علمائے کرام ہر عقل یا مقامی کلچر کی بات کو بدعت کہہ دیتے ہیں انہیں یہ بدعت نظر نہیں آ رہی۔


امام حسین پر رونے کی تو احادیث مل جاتی ہیں، کربلا کی یاد چودہ سو سال سے منا رہے ہیں۔


ایام فاطمیہ منانے کا نہ تاریخ میں، نہ دینی متون میں کوئی ذکر ہے نہ یہ عاقلانہ فعل ہے۔