Featured Original Articles Urdu Articles

پیپلزپارٹی نے سیاست کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے اور جعلی انقلابی لفاظی نہیں کی – عامر حسینی

پی پی پی آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے میں بہت ہی مشکل پوزیشن میں کھڑی تھی-ایک طرف بنا مشاورت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قدم اٹھانے کے مسلم لیگ نواز نے پی ٹی آئی کو اپنے تمام ممبران کی تعداد پلیٹ میں رکھ کر پیش کی

مسلم لیگ نواز سے حکومت نے کیا وعدے وعید کیے اس بارے کوئی اطلاع نہیں اور نہ پاکستان کے قومی سلامتی کمیٹی کے اندر سویلین قیادت اور فوجی سربراہوں کے درمیان مبنیہ جہادی اثاثوں پر ہوئی گفتگو کو “ڈان لیکس” کے طور پر شایع کرنے والے تحقیقاتی سقراط و بقراط ‘نواز لیگ-پی ٹی آئی’ معاہدے کی تفصیل تلاش نہ کرسکے

اب پی پی پی کے سامنے ایک راستا تو یہ تھا کہ وہ ایک طرف تو اپوزیشن الائنس کو خیرباد کہے اور نواز لیگ کے خلاف محاذ کھول دے اور ساتھ ہی حکومت کے خلاف بھی لڑائی لڑے اور چکی کے دو پاٹوں میں پس جائے اور سیاسی میدان میں تنہا رہ جائے، اُس صورت میں سندھ حکومت کا خاتمہ، پی پی پی کے اندر توڑ پھوڑ اور دیگر اور امور ہوتے

دوسرا راستا یہ تھا کہ پی پی پی سارے مُلک کو یہ باور کرائے کہ نمبرز گیم پوری ہے اور کسی طرح سے آرمی ایکٹ کے مسودے میں ترمیم کی کوشش کرے لیکن اگر ناکامی ہو تو پُش بیک سلو موشن کے ساتھ آگے چلا جائے

پی پی پی نے اپوزیشن کے اندر جوتیوں میں دال بٹنے کا منظر نہیں پیدا ہونے دیا اور نہ ہی اداروں کے درمیان تصادم اور مکمل تباہی کو دعوت دینے والے راستے کا انتخاب بھی نہیں کیا

پی پی پی میں مثالیت پسند ایک چھوٹا سا سیکشن پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے پروپیگنڈے سے کچھ زیادہ چارج ہوگیا جبکہ وہ یہ دیکھنے سے قاصر رہا یہ لبرل اپنے آقا کے ڈھے جانے کی خبر پر مٹی ڈالنے کے لیے پی پی پی کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے

نواز شریف نے اپنی ذاتی سلطنت کی بحالی کے لیے ایک طرف تو فوج میں دوسرے درجے کی قیادت سے مدد مانگی، یہی حال عدلیہ کے ججوں میں تھا کہ چیف جسٹس لابی کے خلاف بغاوت کی کوشش اور ایسے ہی سول بیوروکریسی میں بھی بغاوت اور دوسری جانب اس سارے بغاوت کے عمل کو کمرشل لبرل مافیا جن کے سرخیل حسین حقانی نیٹ ورک اور نجم سیٹھی نیٹ ورک اور حمید ہارون نیٹ ورک تھا کے زریعے پاپولر بنانے کی کوشش کی

نواز شریف اینڈ کمپنی کو اس بست کی پرواہ نہیں تھی کہ اگر اُس کا فارمولا کامیابی کی طرف جاتا اور ریاستی اداروں کے اندر لڑائی کھلی لڑائی میں بدلتی تو پاکستان کی بلقانائزیشن کا خطرہ بڑھ جاتا- مسلم لیگ نواز نے ساتھ ساتھ پلان بی بھی رکھا ہوا تھا اور پلان بی شہباز شریف کے پاس تھا- یہ پلان بی اے کی ناکامی کی صورت سامنے آتا – اور جوں ہی پلان اے ناکام ہوا تو نواز شریف و مریم نواز بیک کرگئے اور شہباز سامنے آگیا

پی پی پی پہلے دن سے نہ تو اداروں کے اندر ذاتی وفاداریوں پر لڑائی چاہتی تھی اور نہ وہ بلیک میلنگ اسٹف کے زریعے سے انارکی پھیلانے کی خواہش مند تھی- اُس نے 2018ء کے بعد پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو بیٹھنے پر راضی کیا جبکہ نواز شریف نے اسے غلطی کہا تھا اور پی پی پی و آصف علی زرداری کو قصور وار ٹھہراکر مولانا کو زیر دام لائے تھے لیکن اس دوران وہ آرام سے بارگیننگ کرکے مُلک سے باہر چلے گئے

یہ پیپلزپارٹی تھی جس نے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے، پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ حالت سے باہر نکالنے اور پارلیمنٹ میں قوانین سازی کے عمل کو مستحکم کرنے جبکہ 2018ء میں جس طرح کے الیکشن ہوئے ویسے کبھی نہ کرانے کی ضمانت طلب کی

پیپلزپارٹی نے سیاست کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے اور جعلی انقلابی لفاظی نہیں کی