Featured Original Articles Urdu Articles

افواج پاکستان کے سربراہان کی ملازمت میں توسیع کا قانون: پی پی پی بچھائے دام سے بچ نکلی – ریاض ملک

پاکستان پیپلزپارٹی کی 52 سالہ سیاسی تاریخ کو اٹھاکر دیکھا جائے تو جب کبھی پارلیمانی سیاست یا بغاوت کا سوال سامنے آیا تو اس کی اکثریت نے پارلیمانی راستے کا انتخاب کیا- پارلیمانی جمہوری سیاست کا راستا کیا ہے؟ قانون سازی ، اختیارات کی تقسیم، صوبائی خودمختاری اور مزید بہتر سے بہتر بنانے کے لیے بحث و مباحثے کی آزادی کا راستا- یہ وفاق پاکستان کو مضبوط بنانے اور اداروں کو آئین میں دیے گئے اختیارات کے اندر رہنے کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے رہنے کا راستا ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز ہے- جو بات تو ‘ووٹ کو عزت دو’ کی کرتی ہے لیکن اس کے جو گندے حربے ہیں جن کا مقصد سلطنت شریفیہ اور ان کے اقربا کے لیے طاقت کا حصول ہے۔ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ جس میں غالب عسکری اسٹبلشمنٹ ہے کے اندر بھی طاقت کا سرچشمہ اپنے آپ کو بنائے رکھنے کے لیے نت نئے حربے اختیار کیے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے- پاکستان پیپلزپارٹی 72 سالوں سے ایک طاقتور فریق کے طور پر چلی آنے والی اسٹبلشمنٹ کو آئین کے دائرے کے اندر لانے کے لیے کسی مسلح بغاوت اور کسی غیر پارلیمانی راستے کو ترجیح نہیں دیتی اور وہ یہ بھی کبھی نہیں سوچتی کہ اگر اسے پارلیمان کی زبردستی سب سے چھوٹی جماعت بنانے کی کوشش کی گئی تو جواب میں وہ وفاق پاکستان کو ہی آگ لگانے کا سوچ لے۔ نہ وہ آمروں کی حکومت کا حصّہ بنتی اور بات چیت سے الیکشن میں سپیس لیکر جیت جائے اور محدود اکثریت کی بنیاد پر وہ اپنے بنیادی آدرش کو ایک دم سے حاصل نہ کرپائے تو جو باقی ثمرات ہوتے ہیں ان کو گنوانے والا اقدام بھی نہیں کرتی

پاکستان کی 40 سالہ سیاسی تاریخ میں نواز/شہباز شریف اور ان کے بچے جمورے ہر بونا پارٹ مطلق العنان جنرل ، بدباطن قاضی، شیطانی فرقہ پرست ملّا، بد دیانت میڈیا غلام اور بکاؤ مال لبرل کی گرفت میں رہے ہیں۔

حال ہی میں پی ٹی آئی کی حکومت کی طرف سے جنرل باوجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوشش سے جو بحران پیدا ہوا،پاکستان مسلم لیگ نواز نے پہلے تو اس قانونی بحرکن کو پاکستان کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال کیا- انھوں نے دوسری صف کے جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹس تک رسائی کی تاکہ اس انتشار کو پھیلایا جاسکے- وہ ناکام ہوگئے- تب پلان بی یعنی سرنڈر کرنے کا روایتی ڑاستا جو ایک بار پھر نواز شریف اور ان کے مقربین سیکورٹی اسٹبلشمنٹ کے قدموں میں گر کر اپنالیا۔

اپنے سرنڈر کرجانے کے ساتھ ہی نواز ليگ نے مذاکرات کے جتنے پہلو ہوسکتے تھے ان کوختم کردیا جن کو پی پی پی حکومت سے مذاکرات میں زیربحث لاکر کچھ پہلوؤں کو روک اور کچھ کو شامل کراسکتی تھی- سب سے بدترین بات یہ ہے کہ اپنے انتہائی افسوسناک سرنڈر سے توجہ ہٹانے کے لیے نواز لیگ نے اپنے میڈیا ونگ کو سرگرم کیا تاکہ پی پی پی کو مشتعل کیا جاسکےاور اسے دام میں پھنسایا جائے۔

پلاٹ صرف پی پی پی کے لیے مذاکرات کی گنجائش ختم کرنے کا نہیں تھا- یہ تو پی پی پی کو مشتعل کرکے اسے حکومت ، حزب اختلاف کے ساتھ باقاعدہ ٹکراؤ میں لیکر آنا تھا اور پھر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ پی پی پی کی جنگ کرانا تھا تاکہ اسٹبلشمنٹ نے پی ٹی آئی اور نواز لیگ کی ڈوریاں جو تنگ کی جارہی ہیں وہ ڈھیلی چھوڑ دی جائیں

اس مسئلے پر پی پی پی کی لڑائی سے حاصل کچھ نہ ہتا لیکن داؤ پر سب کچھ لگ جاتا- یہ سندھ حکومت پر دوسرے خطرناک حملے کی طرف بات کو لیکر چلی جاتی ہے۔ یہ پی پی پی کی پارلیمنٹ میں جگہ کو نہ صرف سیکڑتی بلکہ ایک کمزور پی پی پی کے سبب خود پارلیمنٹ کی جگہ بھی کم ہوجاتی

پی پی پی کبھی پلٹ کر کاٹنے والی نہیں ہے- یہ نظارہ ہم نے تب دیکھا جب نواز لیگ کے سیاسی یتیم، کمرشل لبرل اور پٹواری میڈیا ونگ نے گمشدہ صورت حال کو پھر سے واپس لانے کی کوشش کی- ان کا چی گیورا ‘نواز شریف’ ایک بار پھر دھڑام سے گرپڑا- ان کے ریڑھ کی ہڈی سے محروم شریف تو جرآت مندانہ موقف اپنانے کے لیے درکار ہمت نہ جوڑ سکے

پٹواری میڈیا جو مطیع اللہ جان، حامد میر، عاصمہ شیرازی ، عمر چیمہ ، نجم سیھٹی نے بکاؤ ہوکر پی پی پی کو امتیازی سلوک نشانہ بنانا شروع کیا

جبکہ یہ پاکستان پیپلزپارٹی تھی صرف جس نے پارلیمانی اور اور دستوری راستا چن لیا-بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کھلی اور شفاف قانون سازی پر زور دیا اور وہی راستا ہے جس کے زریعے سے ایک مداخلت کار عدلیہ کو اپنے قانونی دائرے سے باہر قدم نکالنے سے روکا جاسکتا ہے۔

تاہم پٹواری میڈیا ہمیشہ سے دیانت داری اور پختہ سچے عزم بارے کنفیوژ ہی رہا ہے۔ انھوں نے ایک پرکشش جاب اور شراب کی ایک بوتل عوض اپنا آپ فروخت کردیا- اسی طرح سے حسین حقانی نیٹ ورک، نجم سیٹھی نیٹ ورک نے ایک ہی طرح کا منتر پی پی پی کے خلاف ادا کرنا شروع کردیا

زرداری اور پی پی پی نے اس بکاؤمال پٹواری میڈیا کو منہ نہ لگایا اور کمرشل لبرل کو مالی طور پر فائدہ بھی نہ پہنچایا- یہی وجہ ہے کہ واحد پی پي پی ان کے حملوں کا امتیازی نشانہ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ میڈیا- لبرل- لابی نواز لیگ کو مفت پاس فراہم کرتی ہے تاکہ یہ پارلیمانی راستے کی گنجائش یہ ایک بار پھر ختم کرواسکے۔

اپنے خلافت عزائم سے کافی پہلے بھی، نواز شریف پاکستان کے مفادات کو قربان کرکے بھی طاقت و اختیارات حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا تھا-علاقائی اور عالمی بحرانوں کے درمیان نواز شریف کے چور دروازے سے داخل ہونا پاکستان کی بلقانائزیشن کرنے کا ارادہ تھا۔اس طرح کی کوشش کا حتمی مقصد پاکستان کو ایک کمزور ریاست تک محدود کرنا ہے جو بس وسطی پنجاب کے شہری علاقوں پر ہی مشتمل ہو۔

نواز شریف کا ‘اسٹبلمنٹ مخالف ‘ موقف کبھی بھی سویلین بالادستی کا نہیں رہا بلکہ اس سے ان کی مراد خود اپنے گھٹیا آمرانہ عزائم ہوتے ہیں جسے وہ کئی موقعوں پر خود آشکار کرچکا ہے۔ سب سے زیادہ یہ 15 ویں ترمیم منظور کرانے کی ناکام کوشش کے دوران بے نقاب ہوا

اس کے باوجود خصّی لبرل اور میڈیا کا ایک سیکشن پی پی پی پر خصوصی حملہ کرتا ہے۔ بعض پی پی پی کے جذباتی حامی بھی اس جال میں پھنسے – ان کو پارلیمانی بالادستی کو ممکن بنانے کے لیے پی پی پی کی جدوجہد،صبر اور عملیت پسندی پر مبنی سیاست کی تاریخ بارے باخبر بنانا چاہئیے۔

انیس سو پچاسی میں بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کے منعقدہ غیرجماعتی انتخاب میں حصّہ نہ لینے کے فیصلے کو غلطی قرار دیکر اس پر ملال کیا کرتی تھیں- وہ الیکشن پی پی پی کی قیادت میں ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا ثمر تھے- ایم آر ڈی کی تحریک میں بيگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے پی این اے میں شامل جماعتوں کی قیادت کے ساتھ مل کر جدوجہد کی- انھوں نے پی پی پی کے خلاف 77ء میں پی این اے کے تخریبی کردار کی مایوسی کو غالب نہ ہونے دیا بلکہ عظیم تر جمہوریت کے لیے اسے نظر انداز کردیا

جب جنرل کاکڑ بدعنوان بیوروکریٹ غلام اسحاق خان اور نواز شریف سے استعفے کے لیے مذاکرات کیے تو بے نظیر بھٹو لانگ مارچ سے دستبردار ہوگئی

یہی پالیسی سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنائی جب نواز شریف کو انہوں نے اے پی ڈی ایم کو چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا- یہ سیاسی یتیموں اور جنونی قوم پرستوں کا مجموعہ تھی۔

پارلیمنٹ کو طاقتور کرنے کی اس طرح کی روایت بلاول بھٹو زرداری نے بھی اختیار کی: وہ جو اس کا نقشہ نہیں کھینچ پاتے اور فریب کو کھینچنے کو ترحیج دیتے ہیں ان سے بحث کا فائدہ کوئی نہیں کیونکہ سیاست بارے ان کا فہم ہی ملفوف نہیں بلکہ یہ بالکل بدیانت ہے۔

ان کو جنوبی ایشیائی لوگوں کے فورم برائے انسداد دہشت گردی کانفرنس لندن میں شامل ہونے کے ليے خوش آمدید کہا جاتا ہے- اس فورم میں کچھ اے این پی اور پی پی پی سے نکالے گئے بھی شامل تھے۔ یہا تک کہ فضلو نے عمارت کو چھوڑ دیا