Original Articles Urdu Articles

قاسم سلیمانی کا قتل اور پاکستانی شیعہ اخوانی – محمد حسین

ادارتی نوٹ: ادارہ تعمیر پاکستان ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہوئی موت کے بعد پیدا صورت حال میں پاکستان کے اندر اور باہر پائی جانے والی خیالات کے مختلف ہونے کی صورت حال کو دکھانے کے لیے نیک نیتی سے موصول ہونے والے مضامین شایع کررہا ہے اور ضروری نہیں ہے وہ مضمون نگار کی رائے سے متفق بھی ہو- ایڈیٹر

ایران میں انقلاب کے پانچ سال بعد مولانا عارف حسین حسینی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صدر بنے۔ اس تحریک کا مقصد جنرل ضیاء الحق کے نفاذ اسلام میں شیعوں کیلئے انکی فقہ کے مطابق قوانین کا نفاذ کروانا تھا۔ یہ تحریک ان پاکستانی شیعہ علماء اور اس نیم خواندہ طبقے نے چلائی تھی جو قیام پاکستان کے بعد سے دیوبندی علماء کے مہرے کے طور پر کام کر رہا تھا جو پاکستان کو جناح کے رستے سے ہٹا کر شبیر احمد عثمانی کے تصورات کے مطابق طالبان طرز کی ایک دیوبندی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ عام شیعہ اور اعلی تعلیم یافتہ شیعہ اس کھیل سے دور رہے تھے۔


عارف حسین حسینی صاحب نے اس تحریک کو ایرانی تجربے سے ہم آہنگ کر کے اخوان المسلمون و جماعت اسلامی کی شیعہ کاپی بنا دیا۔ انہوں نے پاکستان میں ایک تیسری قسم کی شیعیت کی داغ بیل ڈالی جو روایتی عاشقانہ شیعیت اور مولویانہ شیعیت کے بجائے سیاسی شیعیت تھی۔ جس کو عوام میں پزیرائی تو نہ مل سکی مگر وہ جماعت اسلامی کی طرح میڈیا پر اپنی وقعت سے زیادہ کوریج حاصل کرتی رہی ہے۔


اس دور میں ایران میں جو لوگ انتظامیہ میں افسران بھرتی ہوئے تھے وہ نیم خواندہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے تمام اسلامی ممالک میں اخوان المسلمون کی سوچ کو پروان چڑھانا اسلام اور مسلمانوں کی خدمت سمجھا۔ وہ ان معاشروں کی تاریخ اور وہاں موجود گروہوں کے رجحانات اور ان معاشروں کی حرکیات سے ناواقف تھے۔ جدید سماجی علوم سے بے بہرہ ان لوگوں نے صدور انقلاب کے نام پر اخوان المسلمون کے استبداد پر مبنی اسلام، جو مذہب کے بجائے ایک فاشسٹ نیشن سٹیٹ تھا، کو تقویت دی۔


پاکستان میں مذہبی استبداد پر مبنی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی تاریخ دو سو سال پرانی ہے جب سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی نے پشاور اور گردونواح میں ایک داعشی طرز کی ریاست قائم کی تھی۔ یہ لوگ برصغیر میں عزاداری پر جھتے بنا کر حملہ آور ہونے کے سلسلے کے بانی بھی تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے شبیر احمد عثمانی ایسے ہی پاکستان کے قائل تھے جو سید احمد بریلوی کی ریاست کا عکس ہو۔


ایران میں انقلاب کے بعد جہاں ایسے عناصر کی نفسیاتی طور پر حوصلہ افزائی ہوئی جو جناح کے بجائے شبیر احمد عثمانی کی سوچ کے مطابق پاکستان کو ایک طالبانی دیوبندی ریاست بنانا چاہتے تھے، وہیں ایران نے پاکستان کے شیعوں میں ایک ایسا گروہ پیدا کر دیا جو اسلامی انقلاب نعرے لگا کر اتحاد بین المسلمین کے نام پر اتحاد بین العلما کی کوشش کرنے لگا۔


تاہم شیعہ عوام اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ ان کے حقوق اور آزادیاں صرف سیکولر سیاست میں ہی محفوظ رہ سکتی ہیں۔ اگرچہ ایران نے پاکستان میں مذہبی انقلاب کے ان شیعہ مہروں پر بہت پیسہ بہایا ہے اور یہ سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں پاکستانی شیعیت کے اندر موجود مقامی آوازوں سے کہیں زیادہ اونچا شور مچاتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان کی نمائندگی نہیں کرتے۔


جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے خلاف مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کی تصاویر کا محرم کے جلوسوں کی تصاویر کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستانی شیعوں میں سیاسی اسلام کے پیروکار گنے چنے افراد ہیں۔