Featured Original Articles Urdu Articles

کیا قاسم سلیمانی سینکڑوں امریکیوں کے قتل کے ذمہ دار تھے؟ – سفارتکار کریگ مرے

ایک بہت بڑا جھوٹ جو بار بار پھیلایا جا رہا ہے اور اس کا منبہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں وہ یہ ہے کہ قاسم سلیمانی ‘اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں امریکیوں کے قتل میں ملوث تھے۔’ یہ جھوٹ مسلسل ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کی جانب سے طوطوں کی طرح دہرایا جا رہا ہے۔

ٹرمپ اور ان کے ساتھی الزام عائد کر رہے ہیں کہ چھ سو امریکیوں سے زائد کو سلیمانی نے قتل کروایا۔ کیا ایسا ہی ہے؟ وہ امریکی کون تھے؟ وہ کہاں اور کیوں قتل ہوئے؟ بیت الحم ڈاکٹرئن آپ کو اجازت دیتی ہے کہ آُپ کسی کو قتل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کہیں نہیں کہیں، کبھی نہ کبھی کس کو قتل کرنے جا رہا ہے لیکن ایک مناسب جواب یہ ہو گا کہ آپ بتا سکیں کہ قتل ہونے والے کہاں اور کیوں قتل ہوئے؟

حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ دیکھیں کہ نو گیارہ کے حملوں کے بعد مرنے والے امریکی چاہے وہ مشرق وسطی جنگ، تنازعات یا دہشتگردی میں ہلاک ہوئے ہوں ان میں سے نوے فیصد سے زائد سلفی، وہابی یا دیوبندی مسلمانوں کے حملوں میں قتل ہوئے ہیں جنہیں سعودی عرب کی مالی اور معاونت اور حمایت حاصل ہے۔ ہلاک ہونے والے امریکیوں میں سے دس فی صد سے بھی کم ایرانی حمایت یافتہ شیعہ گروہوں کے حملوں میں ہلاک ہوئے ہوں گے۔

یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو سعودی دولت کے ہاتھوں یرغمال بنی امریکی انتظامیہ چھپانا چاہتی ہے۔ امریکہ کو یقین ہے کہ سلفی وہابی ہمارے اتحادی جب کہ شیعہ ہمارے دشمن ہیں۔ اس کے باوجود جو بھی صحافی یا امدادی کارکن اغوا ہونے کے بعد قتل کیا گیا یا اس کا سر قلم کیا گیا اس کے ذمہ دار سلفی وہابی اور دیوبندی ہی رہے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے جہادی حملے بشمول نائن الیون ، بن غازی اور باقی حملوں میں جو تکفیری دہشتگرد ملوث رہے ہیں چاہے ان کا تعلق القاعدہ سے ہو، طالبان سے یا داعش سے یا النصرہ سے وہ تمام سلفی وہابی اور دویوبندی ہیں اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد انہیں کے حملوں میں ہلاک ہوئی ہے۔

ان میں سے کون سی سینکڑوں ہلاکتیں ہیں جن کا ذمہ دار سلیمانی کے شیعہ گروہوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے؟ کیا کوئی فہرست موجود ہے؟ یقینی طور پر یہ بات مکمل جھوٹ ہے۔ اور اس جھوٹ کی مقدار میں پینٹاگون کی جانب سے اس وقت سے بھرپور اضافہ کیا گیا ہے جب سے ایران کو دشمن قرار دیا گیا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب عراق پر حملہ کیا گیا۔ عراق پر حملے کے بعد 83 فیصد امریکی فوجی سنی یا سلفی مزاحمت کے حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ صرف 17 فیصد شیعہ مزاحمت کار گروہوں کے حملوں کا نشانہ بنے۔ یہ کل تعداد چھ سو تین بنتی ہے۔ حیران کن طور پر ان تمام کی ذمہ داری قاسم سلیمانی پر ڈالی جا رہی ہے۔

 یہ وہ امریکی فوجی ہیں جو حملے کے دوران اور بعد میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ عراقی شیعہ ملیشیا گروہ چاہے انہیں ایران کی مدد حاصل رہی ہو یا نہیں انہیں اس حملے کے خلاف لڑنے کا مکمل حق حاصل تھا۔ یہ کہنا کہ حملہ آور امریکی فوجیوں کو قتل کرنا غیر قانونی یا ناجائز تھا ایک بہت ہی بھونڈا خیال ہے۔ امریکہ کا یہ پروپیگینڈا کے سلیمانی ‘سینکڑوں امریکی اموات کا ذمہ دار تھا’ دراصل ان کے قتل کو جسٹفائی کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ دہشتگردی میں ملوث تھے اور حملہ آور افواج کے خلاف ہونے والے ناجائز حملوں کا حصہ تھے۔ یہ کہنا کہ امریکہ کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی حملہ کر کے ہلاک کر سکتا ہے جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ سلیمانی امریکی حملے کے دوران ہونے والی شیعہ گروہوں کی کارروائی کے دوران فعال تھے۔ ان کو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دینا سراسر بکواس ہے۔ لیکن اگر سلیمانی ان تمام کارروائیوں میں شامل بھی تھے تو یہ جنگ میں کیے جانے والے جائز اقدامات تھے۔ آپ کسی مخالف جنرل کو اپنے حملے کے سالوں بعد محض اس لیے نہیں قتل کر سکتے کہ اس نے آپ کے خلاف جنگ لڑی ہو۔

سب سے بےوقوفانہ اور بڑا جھوٹ جو کہ بولا جا رہا ہے وہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کی جانب سے سامنے آیا ہے جس میں سلیمانی کا تعلق نائن الیون سے جوڑا جا رہا ہے۔ سلیمانی اور نائن الیون کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ بش انتظامیہ کی جانب سے ایران اور عراق کو نائن الیون حملوں سے جوڑنے کی ہر کوشش مکمل طور پر ناکام ہوئی تھی۔ ان کوششوں کا مقصد اپنے سعودی اتحادیوں سے توجہ ہٹانا تھا جو اس سازش کا حصہ تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک یا دو ہائی جیکر شاید ایران کے راستے افغانستان گئے ہوں لیکن نائن الیون رپورٹ کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایران کو کسی بھی وقت اس بات کا علم ہو کہ یہ افراد نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے یا سلیمانی اس معاملے کا حصہ رہے ہوں۔ نائب صدر کا بیان مکمل لغو اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ نائن الیون حملے سلفی وہابی دہشتگردوں نے کیے جنہیں سعودی حمایت حاصل تھی اور ان کا ایران یا سلیمانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔