Original Articles Urdu Articles

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ٹویٹر پیغام

جب میں اسلام آباد پہنچا تو ن لیگ اور پی ٹی آئی آرمی ایکٹ کی غیرمشروط حمایت کرکے ایوانوں سے منظوری کا فیصلہ کرچکی تھیں، پی ٹی آئی اور ن لیگ فیصلہ کرچکی تھیں کہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کو نظرانداز کردیا جائے گا، پی ٹی آئی اور ن لیگ یہ بھی فیصلہ کرچکی تھیں کہ بل کو نہ تو تمام اراکین اسمبلی کو دیا جائے گا اور نہ ہی اسے کمیٹی کو دیکھنے کیلئے بھیجا جائیگا، میں خوش ہوں کہ تمام پارٹیاں بل کو واپس قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بھیجنے پر متفق ہوئے،دونوں ایوانوں کے قواعد و ضوابط کی پاسداری کے ساتھ یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی نظرثانی کے لئے جائیگا، یہ مثبت ہے کہ ایک سال سے زائد عرصہ غیرفعال رکھی جانے والی پارلیمان قانون سازی کے لئے تیار ہے، پارلیمان سے اختیارات لینے والے تمام ادارے پارلیمانی بالادستی کو قبول کرکے ہم سے قانون سازی کا کہہ رہے ہیں،یہ ان کے لئے اہم کامیابیاں ہیں کہ جو پارلیمانی بالادستی اور جمہوریت کے لئے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے ہیں

پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار بھی ناممکنات میں سے ممکن کے آرٹ کو کامیابی سے استعمال کیا اور پارلیمان کے اندر فیصلوں کو پھر سے کیے جانے کی ریت ڈالی ہے- اور میرے خیال میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل وزیراعظم کے اختیار کو مضبوط کرتا ہے اور کوئی سلیکٹڈ کب تک اس مُلک کا وزیراعظم رہ سکتا ہے آخر تو یہ فیصلہ عوام کے منتخب ناکہ آر ٹی سسٹم ڈاؤن ممبران نے کرنا ہے

ویسے ہمارے جو جیالے نوجوان ساتھی جذباتی ہورہے ہیں اور اُن کو پورا حق ہے اختلافی رائے دینے کا وہ یاد رکھیں بے نظیر بھٹو کو تو غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے 85ء کی غیرجماعتی اسمبلی سے باہر رہنے کا فیصلہ بھی بڑی غلطی لگا تھا-زرا سوچیں کہ اگر پی پی پی سمیت ام آر ڈی کی جماعتیں اگر غیر جماعتی الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرتیں تو کیا ضیاء الحق آٹھویں ترمیم جوں کی توں پاس کروالیتا اسمبلی سے؟ اور آج جن قوانین میں تبدیلی کا سوچنا بھی جُرم بن جاتا ہے وہ قوانین اپنی موجودہ حالت میں اس مُلک کے آئین کا حصہ بن پاتے؟