Featured Original Articles Urdu Articles

مدرسوں میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات – عامر ہاشم خاکوانی

مدارس میں بچوں ، طلبہ کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیں تو ان پر تنقید ہوتی ہے۔ یہ درست رویہ ہے، ہممیں ہر جگہ ایسا سسٹم بنانا چاہیے کہ بچوں ، لڑکوں کو اس زیادتی سے بچایا جا سکے۔ لیکن اس کا ایک پہلو اور بھی ہے۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ہاں شہری، قصباتی، دیہاتی تینوں قسم کے سماج میں بچوں، نوعمر لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے بے شمار واقعات ہوتے ہیں، شائد ہزاروں ممکن ہے سالانہ لاکھوں میں۔

کیا ہمیں معلوم نہیں ہے یا اتنی جرات نہیں کہ کھل کر بات کی جا سکے؟

کیا بعض مخصوص معاشروں میں خوبصورت نوعمر لڑکے بطور رکھیل رکھنے کا رواج ہے۔ یہ لختئی کس کیٹیگری میں آتے ہیں ؟
کیا بعض شہر خلاف وضع فطری عمل اور نوعمر خوب رو لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی وجہ سے بدنام نہیں؟ بنوں ، لکی ، ڈی آئی خان ، ٹانک وغیرہ اور بعض دیگر شہروں کے حوالے سے اتنے لطیفے کیوں مشہور ہوئے؟ پشاور خود بے شمار ایسے زومعنی لطائف کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس قدر مشہور کہ سٹیج ڈراموں میں تو عام اس حوالے سے جگتیں لگائی جاتی ہیں بلکہ کبھی ٹی وی ڈراموں، فلموں میں بھی یہ زومعنی حوالہ مل جاتا ہے۔ خود پنجاب کے بہت سے شہر بدنام ہیں۔ ہمارے تونسہ کے دوست خود اپنے شہر کے حوالے سے بہت سی ان کہی کہانیاں، لطائف بیان کرتے ہیں۔ یہ کیا ہیں؟

جبری، ترغیب کے ساتھ یا کسی بھی حیلے ، حربے کے ساتھ بچوں، لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے ان گنت واقعات ہوتے ہیں۔ نوے فیصد سے زیادہ رپورٹ نہیں ہوتے ۔ قصور کا سکینڈل اتفاق ہی سے سامنے آیا۔ ظلم تو یہ تھا کہ اس کیس میں جن بچوں سے زیادتی ہوئی اور ان کی ویڈیوز بنیں، بعد میں انہوں نے خود دوسروں بچوں سے زیادتی کی اور ان کی ویڈیوز بنائیں۔ ایسے بہت سے سکینڈل نجانے کتنے شہروں، قصبات، دیہات میں پنپ رہے ہیں، سامنے نہیں آتے۔

یہ معاملہ کسی خاص شہر ، لسانی قومیت یا برادری کے حوالے سے نہیں، اسے کسی عصبیت کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا۔ ہر صوبے، تقریبا ہر شہر میں کچھ نہ کچھ ایسا ہے۔ سنٹرل پنجاب ، ساوتھ پنجاب ہر جگہ یہ ہے۔ سرائیکی علاقے بھی اس حوالے سے بدنام ہیں اور اس میں سرائیکی ، پنجابی کسی کی کوئی قید نہیں۔

اپنے آبائی شہر کی بات کروں تو وہاں بھی اس قبیح فعل کرنے والوں کی کمی نہیں رہی، بہت سے ایسے بدنام لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کی شہرت یہی تھی اور ہم لڑکپن میں ایسے منحوسوں کو دور سے دیکھ کر ہی گھروں میں دبک جاتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں خوبصورت ، پیارے بچوں اور نوعمر لڑکوں (چودہ ، پندرہ سولہ سال تک کبھی اس سے بھی سال دو زیادہ تک) کی لڑکیوں کی طرح ہی حفاظت کرنا پڑتی ہے۔ ہمارے والد صاحب بے حد سخت تھے، مغرب کے بعد گھر سے نکلنے نہ دیتے اور سکول سے گھر کی روٹین موجود تھی۔ آج سوچتا ہوں کہ ہماری حفاظت کے لئے وہ اتنے سخت اور متردد رہتے۔

آج اپنے بچوں کے حوالے سے بھی اتنے ہی محتاط اور خبردار رہتے ہیں، اللہ سے ان کی حفاظت کی دعا بھی مانگتے ہیں کیونکہ یہ خطرہ کہیں بھی موجود ہے۔ چند دن پہلے پرانے دوستوں کی ایک محفل میں شہر کے ایک فٹ بالر کے مرنے کی خبر ملی، مرحوم اس حوالے سے بہت بدنام تھا ، خود اس کے اپنے بیان کے مطابق درجنوں لڑکوں کے ساتھ اس سے زیادتی کی ، وہ کسی خاص تکنیک سے لڑکے کی گردن دباتا جس سے وہ بے ہوش ہوجاتا اور زیادتی کرنا آسان ہوجاتا۔ شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کی پہلی ملازمت احمد پورشرقیہ میں بطور اسٹنٹ کمشنر کے ہوئی، انہی دنوں ایک بلدیہ سکول کے ٹیچر کے بیٹے کے ساتھ اس بدبخت نے زیادتی کی، ڈاکٹر توقیر شاہ نے اس ٹیچر کو بلایا اور کہا کہ تم حوصلہ کرو، بعدمیں سمجھوتا نہ کر لینا تو میں اس بدمعاش کو کیفرکردار تک پہنچاتا ہوں۔ وہ شخص گرفتار ہوا، مقدمہ چلتا رہا، قید میں دو تین سال رہا، بعد میں توقیر شاہ کا تبادلہ ہوا اور وہ فٹ بالر باہر آگیا۔ اب دنیا سے چلا گیا ہے لیکن ان شااللہ اپنے کرتوتوں کی سزا بھگت رہا ہوگا۔ ایسے کیسز، ایسے لوگ جگہ جگہ ہیں۔

دعوے سے کہتا ہے کہ ہر خوبصورت لڑکے کو کسی نہ کسی جگہ پر ہراسمنٹ کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے۔ گھر والے سخت ہیں، وہ خود محتاط ہے ، اللہ کا کرم ہوا تو عزت محفوظ رہتی ہے مگر گھورتی بھوکی نظروں اور گاہے لفظی ہراسمنٹ کا سامنا اسے کرنا ہی پڑتا ہے۔

افسوس تو یہ کہ ہم ان ایشوز پر کبھی کھل کر بات نہیں کرتے ۔ ان کا سدباب کرنےکی کوشش نہیں کرتے۔ اس حوالے سے سزائوں کو مزید سخت بنانا ہوگا، جبریہ فعل کرنے والوں کو پھانسی سے کم سزا نہ ہو اور صرف چند ماہ میں فیصلہ ہونا چاہیے، جو ترغیب سے بھی یہ فعل کریں،انہیں بھی سخت ترین سزا ملنی چاہیے کہ بیشتر کیسز میں متاثر مائنر یعنی نابالغ ہی ہوتا ہے، ویسے تو بالغوں کا یہ فعل بھی قابل سزا ہے ۔ ڈی این اے لیبارٹریز کی تعداد بڑھنی چاہیے، یہی وہ طریقہ ہے جس سے اس ظالم کو پکڑا جا سکتا ہے، ورنہ ایسے کیسز کو ثابت کرنا مشکل ہے۔ ہمارے بعض پختون لکھنے والے بطور مزاح ان واقعات کا ذکر کرتے ہیں، اس سے بھی گریز کرنا چاہیے ۔ ایسے زیادتی کے واقعات غلط، ظلم اور خوفناک سزا کے قابل گناہ ہے۔ اس کے خلاف رائے عامہ بھی ہموار کرنی چاہیے۔

یہ صرف کسی خاص مولوی، قاری یا سکول ٹیچر کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے سماج کا اہم سلگتا ایشو ہے۔ اس پر جرات سے لکھنا چاہیے ۔

ایک پہلو رہ گیا، بعد میں خیال آیا۔ ایک طبقہ غربت، محرومی کی بنیاد پر اس مسئلے کا شکاربنتا ہے۔ ورکشاپوں میں کام کرنے والے لڑکے، ہوٹلوں میں کام کرنے والے چھوٹے یعنی دس بارہ چودہ سال کے بچے۔ بہت سے ایسے جن کے وارث بھی کوئی نہیں، وہ ہوٹلوں ہی میں سوتے ہیں۔ اسی طرح بعض اخبارات میں بلوچستان کے کان کنی مزدوروں کے بھی خوفناک واقعات شائع ہوے۔ مزارات پر چرس، افیون پینے والے ملنگوں کا جنسی استحصال اپنی جگہ۔ غرض اس کی بہت سی پرتیں بے شمار پہلو ہیں۔ ہر ایک پر بات ہونی چاہیے

میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ دینی مدارس میں سب برے نہیں، اچھے لوگ یقیناً کثرت سے ہوں گے، بعض دوستوں کا دعویٰ ہے کہ مدارس میں بڑے پاکباز اور نہایت نیک لوگ موجود ہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہوگا۔ اچھے لوگ ہرشعبہ زندگی میں پائے جاتے ہیں۔

یہ شکوہ البتہ مجھے ضرور ہے کہ دینی مدارس اور روایتی مذہبی فکر والے، جے یوآئی اور اس جیسی دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکن ، حامی ان سب نے کبھی مدارس، مساجد میں بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات کی کھل کر مذمت نہیں کی۔ اکثر بیشتر مساجد کے قاری حضرات، امام مسجد صاحبان ایسے واقعات میں ملوث پائے جاتے ہیں،کبھی کسی مدرسے سے بھی یہ خبر آ جاتی ہے، ہمیشہ ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ کبھی تاویل تو کبھی دفاع کی کوشش ہوئی۔ اس کے بجائے انہیں اپنے داخلی نظام کو بہتر بنانا چاہیے تھا، مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تھی۔ اپنے اس کمزور رویہ کی بنا پر ہی یہ کسی فرد پر لگنے والے الزام کو پورے طبقے پر مسلط کر لیتے ہیں۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا میں بدگمان نہیں، منفی طرز فکر بھی نہیں، مگر خود کبھی کسی مدرسے میں پڑھا ہوں اور نہ ہی اپنی اولاد کو مدرسے یا مسجد میں بھیجنے کا کبھی سوچا۔ ایک زمانے میں یہ خیال تھا کہ بیٹوں میں سے کسی کو حافظ قرآن بنایا جائے، پھر حالات دیکھے تو یہی بہتر سمجھا کہ اس خیال سے دستبردار ہوا جائے اور کسی قاری صاحب سے درخواست کر کے انہیں گھر بلوا کر ہی قرآن پاک پڑھوایا جائے۔

خدا نہ کرے مگر ایسے واقعات سکول ٹیچرز سے بھی سرزد ہوسکتے ہیں، مگر سکولوں کا نظام ایسا ہے کہ وہاں اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ مساجد، حجرے، مدارس خاص کر چھوٹے گلی محلےکے مدارس کا نظام ایسا ہے کہ وہاں اس طرح کا کوئی قبیح واقعہ آسانی سے ہوسکتا ہے ۔ وہاں ان پر چیک نہیں، سکولوں کی طرح اوپن ماحول نہیں، طلبہ میں خوف اور استاد کی ہیبت بہت زیادہ ہے، اساتذہ کو مطلق کنٹرول حاصل ہے۔ اس وجہ سے خرابیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ بڑے مدارس کی بات نہیں ہو رہی، وہاں حالات اور ماحول بہت ہی بہتر ہے، اسی وجہ سے ایسی شکایات بھی کبھی نہیں سنی گئیں۔

پس نوشت : پوسٹ پر آئے کمنٹس کے جواب میں لکھے گئے کمنٹس ۔

ایک صاحب نے لکھا کہ مدارس کے خلاف مہم دراصل اسلامی نظریے کے خلاف مہم ہے اور مدارس عصری تعلیمی اداروں یعنی کالج یونیورسٹیوں سے بہتر ہیں۔ اس کا جواب دیا: ’’یہی تو وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کی وجہ سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے یونیورسٹیوں ہی میں تعلیم حاصل کی، ہمارے بچے بھی یونیورسٹیوں ہی میں پڑھ رہے ہیں۔ وہاں ایسا کوئی جبریہ ماحول نہیں جس میں بچے نشانہ بن سکیں۔ کوئی ٹیچر اس کی جرات نہیں کرتا، اگر کوئی اشارتاً بھی کرے تو وہ بدنام ہوجاتا ہے، اس کے خلاف تحریک چل جاتی ہے۔ کبھی مدارس میں بھی طلبہ نے کسی استاد یا انتظامیہ کے خلاف کوئی تحریک چلائی؟ نہیں۔ چلا بھی کیسے سکتے ہیں؟ جب قیام وطعام کی ذمہ داری مدرسے کی انتظامیہ کی ہو توکون اس کی جرات کرے گا؟ عصری تعلیمی اداروں میں یہ ایڈوانٹیج ہے۔ دوسرا یہ غلط بات ہے کہ مدارس کی باتیں دین کو بدنام کرنے کے لئے پھیلائی جاتی ہیں ۔ کسی عصری تعلیمی ادارے کا کوئی سکینڈل آئے تو وہ بھی میڈیا پر بھرپور توجہ لیتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسا نہیں کہ کالج یونیورسٹی کے واقعات پر خاموشی ہوتی ہے اور صرف مدارس کے خلاف وہ بولتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔

ایک دوست نے لکھا کہ ہمارے شہر میں یونیورسٹیوں کے کئی سکینڈلز بنتے ہیں جو والدین شرمندگی کے خوف سے چھپا جاتے ہیں۔ اس کے جواب میں لکھا کہ آپ دو چیزوں کو مکس کر رہے ہیں۔ جدید تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم ہے، اسکی اپنی خامیاں ہیں، کئی زیادہ ماڈرن ہیں، زیادہ مکس اپ ہونے کے مسائل ہیں،ان سے کچھ سکینڈلز بھی جنم لیتے ہوں گے۔ مگر جبریہ فضا نہیں۔ کالج یونیورسٹی کی فضا اوپن ہے، وہاں ٹیچر آسانی سے طالب علم کو بلیک میل نہیں کر سکتا، طلبہ یونینز ہیں، طلبہ منظم ہو کر احتجاج کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔ ایسے استاد نکالے بھی جاتے ہیں۔ جبکہ مدارس میں یہ ممکن نہیں۔ کبھی کسی مدرسہ میں طلبہ منظم ہو کر احتجاج نہیں کر سکتے، استاد کے غلط رویے پر احتجاج نہیں کر سکتے، وہاں طلبہ تنظیمیں نہیں۔ وہاں جبر کی فضا موجود ہے، کبھی اس کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے، ویسا استعمال نہ بھی ہو، تب بھی آزادانہ سوچ کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

 

Link:

مدارس میں بچوں ، طلبہ کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیں تو ان پر تنقید ہوتی ہے۔ یہ درست رویہ ہے، ہممیں ہر جگہ ایسا…

Posted by M Aamir Hashim Khakwani on Wednesday, January 1, 2020