Featured Original Articles Urdu Articles

محترمہ بے نظیر بھٹو جنم سے لحد تک – عامر حسینی

Former Pakistani prime minister Benazir Bhutto waves to the crowd during an election campaign meeting in Larkana, 23 December 2007. After one of the bloodiest attacks in Pakistan in memory, opponents of President Pervez Musharraf hit the campaign trail 23 December with just two weeks to go before pivotal elections for parliament. AFP PHOTO/Asif HASSAN / AFP PHOTO / ASIF HASSAN

 بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کے دن کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو سندھی سنّی خاندان اور والدہ بیگم نصرت ایرانی کرد نژاد شیعہ اصفہانی خاندان سے تھیں- ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو جونا گڑھ ریاست کے وزیراعظم رہے- وہ ممتاز سندھی زمیندار اشراف گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ بیگم نصرت بھٹو کے والد تجارت سے وابستہ تھے جن کا کاروبار ایران،عراق، ہندوستان تک پھیلا ہوا تھا۔ بیگم نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی شادی 1951ء میں ہوئی تھی- بے نظیر بھٹو ان کی پہلی اولا تھیں۔ ان سے چھوٹے مرتضی بھٹو تھے جو 1954ء میں پیدا ہوئے۔ پھر 1957ء میں صنم بھٹو کا جنم ہوا- 1958ء میں شاہنواز بھٹو پیدا ہوئے۔سر شاہنواز بھٹو کی وفات 1957ء میں ہوئی تو ذوالفقار علی بھٹو خاندان کے سربراہ بن گئے اور بھٹو اسٹیٹ بھی ان کے زیر نگرانی آگئیں۔

بے نظیر بھٹو کی اولین زبان انگریزی تھی- بچپن میں وہ بہت کم اردو بولا کرتی تھیں۔ سندھی بولنے کا موقعہ بھی ان کو شاذ و نادر ملا کرتا۔ بے نظیر بھٹو نے سب سے پہلے لیڈی جیننگز نرسری اسکول کراچی میں داخلا لیا۔ پھر وہ کانونٹ آف جیسس اینڈ میری کراچی اور پھر جیسس اینڈ میری کانونٹ مری میں پڑھنے گئیں۔ 1968ء میں انھوں نے او لیول امتحان پاس کیا۔

بے نظیر بھٹو کی عمر پانچ سال تھی جب ان کے والد اسکندر مرزا کی کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر بنے۔ اور ان کی عمر نو سال کی تھی جب ان کے والد ملک کے وزیر خارجہ بنے۔ بے نظیر بھٹو کو اوائل عمری سے فارن ڈپلومیٹ اور ممتاز غیر ملکی شخصیات سے ملنے کا موقعہ ملا۔ ان میں چین کے وزیراعظم چون این لائی، امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر اور ہیوبرٹ ہمفرے بھی شامل ہیں۔

بے نظیر بھٹو تعلیم حاصل کررہی تھیں جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے جون 1966ء میں استعفا دے ڈالا اور انھوں نے ایوب خان کے خلاف ملک بھر میں جلسے جلوس کرنا شروع کردیے۔ 30 نومبر 1967ء کو لاہور میں پی پی پی کی بنیاد رکھی گئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے اس کے پہلے چئیرمین منتخب ہوئے۔ نئی سیاسی جماعت کو عوامی حلقوں میں زبردست حمایت حاصل ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پی پی پی مغربی پاکستان میں سب سے بڑی مقبول سیاسی جماعت بنکر ابھری۔

ایوب خان کے خلاف 68ء کے آخر میں جلنے والی ملک گیر تحریک کے دوران ذوالفقار علی بھٹو گرفتار ہوئے اور جیل میں ڈال دیے گئے۔ اس دوران بیگم نصرت بھٹو نے نہ صرف پی پی پی کی ایوب کے خلاف سیاسی تحریک کو آگے بڑھایا بلکہ انہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال بھی رکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جیل سے بے نظیر بھٹو کو اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنے اور اسے مکمل کرنے پر زور دیا۔

بے نظیر بھٹو کی عمر 16 سال کی تھی جب انھیں حیرت انگیز طور پر ریڈکلف کالج ہاورڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا کیونکہ ابھی ان کی عمر داخلے کی شرط سے کچھ کم تھی- لیکن جان کینتھ گلبریتھ جو ہاورڈ میں پروفیسر تھے اور کبھی ہندوستان میں امریکہ کے سفیر رہے تھے کی سفارش پر داخلہ مل گیا- جان کینتھ گلبریتھ ذوالفقار علی بھٹو کے گہرے دوست تھے۔ بے نطیر بھٹو نے 1973ء میں ہاورڈ سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری لی۔

ہاورڈ یونیورسٹی کے زمانے میں بے نظیر بھٹو کیمپس ٹور گائیڈ اور اپنی ڈورمیٹری کی سوشل سیکرٹری بنیں۔ انھوں نے ویت نام کے خلاف امریکی جنگ کے خلاف تحریک میں حصّہ لیا اور تحریک نسواں کی دوسری بڑی احتجاجی لہر کا حصّہ بھی بنیں۔

انیس سو اکہتر کو انھوں نے نیویارک میں اپنے والد کے ہمراہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی جہاں پر پاک- بھارت جنگ پر بحث ہوئی اور اس دوران بھٹو صاحب نے پولینڈ کی پیش کردہ قرارداد پھاڑ دی اور اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ 1972ء میں بے نظیر بھٹو اپنے والد کے ہمراہ شملہ مذاکرات و معاہدے کے وقت موجود تھیں۔

1973ء میں انھوں نے برطانیہ کا رخ کیا اور آکسفورڈ میں فلسفہ، سیاست اور معشیت کے ساتھ دوسری گریجویٹ ڈگری کورس کو پڑھنا شروع کریا۔ آکسفورڈ میں پڑھائی کے زمانے میں وہ آکسفورڈ یونین ڈیبٹنگ سوسائٹی کی صدر بنیں۔ وہ پہلی ایشیائی خاتون تھیں جن کے پاس یہ عہدہ آیا۔

بے نظیر بھٹو 1977ء میں آکسفورڈ سے دوسری گریجویشن ڈگری حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آئیں تو پاکستان میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس کے نام سے اپوزیشن جماعتوں نے پرتشدد تحریک چلا رکھی تھی جسے تحریک نفاذ نظام مصطفی کا نام دیا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو مشترکہ مفادات کونسل اور پرائم منسٹر ہاؤس میں انٹرن شپ کرنے کا پروگرام بنارہی تھیں۔ لیکن ان کو ایسا کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملا- پاکستان میں ان کی آمد کے مشکل سے تین ماہ بعد ہی 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے آپریشن فئیر پلے کے نام سے رات کی تاریکی میں مارشل لاء لگا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو اگست 77ء کے شروع میں رہا کردیے گئے۔ کراچی ائرپورٹ پر لاکھوں افراد نے بھٹو کا استقبال کیا- ایسے ہی مناظر لاہور ائرپورٹ اور پھر ملتان میں دیکھنے کو ملے۔ ستمبر 77ء میں ان کو نواب احمد قصوری کے مقدمہ قتل میں گرفتار کرلیا گیا۔ اور اس دوران ان کا مقدمہ قتل لاہور ہائیکورٹ میں چلا جہاں ان کو سزائے موت سنادی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جس کو بعد از سماعت رد کرکے سزائے موت برقرار رکھی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہوا- ضیاء الحق نے بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرکے سزائے موت پر عمل درآمد کیا اور 4 اپریل 1979ء کو علی الصبح ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور انتہائی خاموشی سے ان کو گڑھی خدا بخش میں جنازہ پڑھاکر دفن کردیا گیا- جبکہ ان کے اہل خانہ کو آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی نہ ملی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو کو 1981ء میں طیارہ ہائی جیکنگ واقعہ پیش آنے سے پہلے کراچی میں گھر پر نظر بند کیا گیا اور پھر یہ نظر بندی ختم ہی ہوئی تھی کہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا ہوگیا اور اس کیس میں بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو گرفتار کرلیا گیا- مارچ 1981ء میں بیگم نصرت بھٹو کو کینسر کے علاج کے لیے رہا کردیا گیا لیکن بے نظیر بھٹو کو رہا نہیں کیا گیا- انھیں پہلے کراچی سنٹرل جیل اور پھرسکھر جیل اور اس کے بعد دوبارہ کراچی سنٹرل چیل منتقل کردیا گیا- بے نظیر بھٹو 1984ء تک جیل میں رہیں اور اس دوران وہ قید تنہائی میں رہیں اور کئی بیماریوں کا شکار بھی ہوئیں- ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کے پیش نظر لندن سے سرجری کی تجویز دی لیکن دو سال تک جنرل ضیاء نے کسی کی بات نہ مانی اور بے پناہ بین الاقوامی دباؤ اور اندرون ملک بڑھتے ہوئے احتجاج کے پیش نظر 1984ء میں بے نظیر بھٹو کو رہا کیا گیا اور وہ لندن پہنچ گئیں۔

کان کی سرجری اور دیگر علاج کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپس جانے کی بجائے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی اور یورپ و امریکہ میں جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف بھرپور کمپئن شروع کردی۔ بے نظیر بھٹو کی زبردست مہم کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق ملک سے مارشل لاء اٹھانے پر مجبور ہوئے اور 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کا انعقاد کروایا جس کا ایم آر ڈی نے بائیکاٹ کردیا۔
دو سال جلاوطنی کاٹ کر بے نظیر بھٹو اپریل 1986ء میں وطن واپس آئیں اور انھوں نے لاہور ائرپورٹ پر اترنے کا فیصلہ کیا- لاہور میں 20 لاکھ سے زائد پی پی پی کے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور داتا دربار کے سامنے انھوں نے تاریخی خطاب کیا۔

17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء کا طیارہ خیر پور ٹامیانوالی کے نزدیک بستی ملوگ میں گر کر تباہ ہوگیا- جنرل اسلم بیگ چیف آف آرمی اسٹاف بنے اور اسحاق خان قائم مقام صدر بنے۔ اس موقعہ پر نومبر 1988ء کو ملک میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ضیاء کی باقیات نے نومبر 1988ء کو عام انتخابات کروانے کا فیصلہ بے نظیر بھٹو کے ہاں پہلے بچے کی متوقع پیدائش کی اطلاغ پر کیا اور مقصد بے نظیر بھٹو کو الیکشن مہم چلانے سے محروم کرنا تھا۔ نومبر 1988ء میں الیکشن سے پہلے دو ماہ میں بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے خلاف اسٹبلشمنٹ نے کئی ایک اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرکے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ اور اسٹبلشمنٹ کی مدد سے بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی بدترین کردار کشی کی گئی۔ ان کی واہیات جعلی تصاویر بناکر ہیلی کاپٹر کے زریعے سے ملک بھر میں تقسیم کی گئیں۔ اردو پریس ہو یا انگریزی پریس دونوں میں پیڈ پروپیگنڈا شروع کروایا گیا- پی پی پی کا منظم میڈیا ٹرائل ہوا۔ لیکن پی پی پی نے پھر بھی قومی اسمبلی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل کیا- بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر 1988ء کو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کے اعزاز کے ساتھ پاکستان کی پہلی وزیراعظم ہونے کا حلف اٹھایا۔

بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم بنی تو پہلے دن سے ہی انھیں ایوان صدر، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر، عدلیہ اور پنجاب کی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے انتہائی معاندانہ فضا کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران پاکستانی پریس کا غالب سیکشن بھی بے نظیر بھٹو کے خلاف اسکینڈلائز صحافت کا بدترین نمونہ پیش کرتا رہا۔ جنرل اسلم بیگ آرمی چیف، اسحاق خان صدر پاکستان،آئی ایس آئی چیف حنرل حمید گل اور وزیر اعلا پنحاب میاں محمد نواز شریف نے بے نظیر حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا اور اپریل 1989ء میں بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی جو 12 ووٹوں سے ناکام ہوگئی۔

اس عدم اعتماد کو کامیاب کرنے کے لیے آئی ایس آئی کے چیف حمید گل اور نواز شریف نے القائدہ کے چیف اسامہ بن لادن سے مکّہ مکرمہ میں جاکر پیسے حاصل کیے۔ بے نظیر بھٹو کی اس پورے دور میں افغانستان اور بھارت سے پرامن طریقے سے معاملات حل کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا اور نواز شریف کے زریعے سے ان کو سیکورٹی رسک تک قرار دلوایا گیا- آئی ایس آئی کے چیف نے آپریشن مڈنائٹ جیکال کے نام سے اراکین قومی اسمبلی کو رشوت دیکر اور ڈرا دھمکاکر پی پی پی کو ووٹ دینے سے روکنے کی کوشش بھی کی- ان ساری کوششوں میں ناکامی کے بعد صدر اسحاق خان نے اگست 1990ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت پر کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات لگاکر ختم کردیا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں بے نظیر بھٹو کی اپیل بھی مسترد کردی گئی۔

بے نظیر بھٹو کا پہلا دور حکومت بمشکل دو سال قائم رہا۔ اس دوران ان کے پاس ایم کیو ایم کے اتحاد کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل تھی۔ اس تعداد کے ساتھ وہ جنرل ضیاء الحق کی آٹھویں ترمیم کے زریعے آئین کا حصّہ بنادی جانے والی اقلیتوں کے خلاف ترامیم کو ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔ ان کو ایوان صدر، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی چیف سے جس بدترین مخالفت اور کردارکشی کا سامنا تھا ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے اس زمانے کی فیمنسٹ، لبرل، این جی و نائزڈ لبرل اشرافیہ اور لیفٹ کے کئی ایک سیکشن بھی ان کے خلاف پروپیگنڈے کا حصّہ بن گئے۔ رائٹ ونگ، لبرل و لیفٹ کیمپ نے بے نظیر بھٹو پر کرپشن، بدانتظامی اور ترقی پسند اصلاحات کی دشمن ہونے کے الزامات عائد کیے۔

ان کے شوہر آصف علی زرداری کی کردار کشی بھی اسی زمانے میں بے نظیر بھٹو کے خلاف چلنے والی پروپیگنڈا مہم کا مرکزی حصّہ بننا شروع ہوئی۔ مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی پہلی بار ان ہی دنوں میں سننے کو ملا۔ ایم کیو ایم سے پی پی پی کے اتحاد کو توڑنے کے لیے اسٹبلشمنٹ نے سندھ میں لسانی- نسلی تضاد کو تیز کیا اور پنجابی شاؤنزم کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ 1990ء میں پی پی پی کی حکومت کو برخواست کیے جانے کے بعد آصف علی زرداری، بے نظیر بھٹو سمیت کئی وزراء و رہنماؤں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔ آصف علی زرداری گرفتار ہوئے۔ اسٹبلشمنٹ نے اس مرتبہ ایک تو پی پی پی کی الیکشن کمپئن میں روڑے اٹکائے تو ساتھ ہی الیکشن میں دھاندلی کا اور منظم طریقے سے انتظام کیا-

پی پی پی 217 کے ایوان میں صرف 47 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرپائی۔ نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت قائم ہوئی اور نواز شریف وزیراعظم بنے۔ پی پی پی کے خلاف عدالتی احتساب جاری رہا- ایف آئی اے، پنجاب پولیس اور دیگر ادارے اور زیادہ دشمنی کے ساتھ استعمال ہوئے۔ بطور اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے نواز حکومت کی بینکنگ سیکٹر سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف سخت موقف اپنایا اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں ابتری پر بھی سخت تنقید کی۔ جبکہ بے نظیر بھٹو نے اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف بھی موقف اپنایا۔ بے نظیر بھٹو نے 1993ء میں نواز شریف کے خلاف لانگ مارچ کیا جس کے نتیجے میں نواز حکومت چلی گئی۔ اور اسی سال پہلے آصف علی زرداری رہا ہوئے اور پھر الیکشن ہوئے جس میں پاکستان پیپلزپارٹی سادہ اکثریت سے کامیاب ہوئی-

محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری بار ملک کی وزیراعظم بنیں۔ پی پی پی کا دوسرا دور حکومت تین سال قائم رہا اور آخری دو سال میں ایک بار پھر ایوان صدر، جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی اور نواز شریف کے گٹھ جوڑ سے حکومت برخاست ہوئی۔ آصف علی زرداری گرفتار ہوئے۔ الزامات وہی بدعنوانی، اقربا پروری اور نا اہلی کے تھے اور ساتھ ساتھ اس مرتبہ بے نظیر بھٹو اپنے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل کی ذمہ دار بھی ٹھہرائی گئیں۔1997ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک کا دورانیہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جملہ قیادت اور رہنماؤں کے بدترین عدالتی و میڈیا ٹرائل کا زمانہ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی احتساب کمیشن کے نام سے قائم ایک ادارے کے بدترین انتقام کا زمانہ بھی کہا جاسکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو جیل میں ڈالے جانے سے پہلے ہی بیرون ملک چلی گئیں۔ پیچھے ان کے شوہر کو بدترین تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ کئی سابق وزراء نیب کی حوالات میں تشدد کا نشانہ بنے اور جیل بھجوادیے گئے۔15 ویں ترمیم کے زریعے نواز شریف امیر المومنین بننے کی کوشش کررہے تھے کہ جنرل مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا کر مآرشل لاء لگادیا۔

بے نظیر بھٹو کا اس پر ابتدائی ردعمل نواز شریف مخالف تھا لیکن اس کے بعد وہ بحالی جمہوریت کا بڑا اتحاد اے آر ڈی تشکیل دینے اور اس میں نواز لیگ کو شامل کرنے پر رضامند ہوگئیں۔ 2002ء کے قومی انتخابات میں پی پی پی کے پاس ق لیگ کے بعد سب سے زیادہ نشستیں تھیں لیکن ایم ایم اے اور نواز لیگ نے آخری موقعہ پر دغا کیا جس سے ایک ووٹ کی اکثریت سے جمالی حکومت قائم ہوئی۔ بے نظیر بھٹو نے مشرف کے دور میں اپنی سیاست کا مرکز مشرف کی وردی اتروانے اور صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کو رکھا- نواز لیگ سے میثاق جمہوریت کیا- اور عالمی قوتوں کو جنرل مشرف پر دباؤ ڈالنے پر راضی کیا-

انھوں نے مشرف کی وردی اتروائی اور ملک میں 2002ء سے زیادہ شفاف انتحابات کے لیے دباؤ بڑھایا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں مشرف نے وردی اتاری- ملک میں نئے انتخابات کی تاریخ دی اور نہ صرف بے نظیر بھٹو واپس آئیں بلکہ نواز شریف بھی واپس آئے۔ انھوں نے نواز شریف کو انتخابات کا بائیکاٹ ختم کرنے پر راضی کیا۔ لیکن الیکشن کمپئن کے دوران 27 سمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے بعد جب وہ واپس لوٹ رہی تھیں توعین لیاقت باغ کے سامنے ان کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور خودکش بم دھماکہ کیا گیا۔اور وہ شہید ہوگئیں۔ اس طرح سے پاکستان کی ایک عظیم سیاسی رہنماء کے سیاسی باب کا خاتمہ ہوگیا۔