Featured Original Articles Urdu Articles

شیعہ دشمنی بطورِ سیاسی نصب العین

تحقیق: ڈاکٹر سائمن وولف گینگ فکث

ترجمہ: مرتضی حسین

Simon Wolfgang Fuchs, “The Long Shadow of the State: The Iranian Revolution, Saudi Influence, and the Shifting Arguments of anti-Shi’a Sectarianism in Pakistan”, in: Pan-Islamic Connections: Transnational Networks Between South Asia and the Gulf, eds. Christophe Jaffrelot and Laurence Louer, Oxford University Press, pp. 217 – 232, (2018).

سعودی اثرات، ایرانی انقلاب اور پاکستان کی شیعہ مخالف فرقہ واریت  میں بدلاوٴ

کیا کسی ایسے موڑ کا تعین کرنا ممکن ہے جس کے بعد سے پاکستان کی سنی اکثریت اور شیعہ اقلیت کے درمیان فرقہ وارانہ تصادم اور تشدد میں اضافہ ہوتا چلا گیا؟(1) 1968ء کا سال یقیناً ایسا موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سال 1962ء میں سعودی عرب میں قائم ہونے والی مدینہ یونیورسٹی کے پہلے پاکستانی طالب علم، احسان الہٰی ظہیر، فارغ التحصیل ہو کر پاکستان واپس آئے(2)۔ احسان الہٰی ظہیر نے سعودی شاہی خاندان، وہاں کے علماء اور ناشران سے قریبی تعلقات قائم کئے تھے جو انکے پاکستان آنے کے بعد بھی قائم رہے۔ اگلے عشروں میں انہوں نے پہلے عربی میں چودہ نفرت انگیز کتابیں لکھیں۔ ان کا جلد ہی اردو ترجمہ بھی شائع ہوا اور ان کا اولین نشانہ شیعہ تھے۔

چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید دور کے جنوبی ایشیاء میں شیعہ سنی تعلقات کے بگاڑ اور فرقہ وارانہ تشدد میں انفرادی سطح پر احسان الہٰی ظہیر کا کردار سب سے نمایاں ہے (3)۔ پاکستان کے شیعہ سنی تصادم پر کئے گئے تحقیقی مطالعات میں عرب سلطنتوں سے آنے والے مذہبی لٹریچر کے اثرات کو فرقہ وارانہ رسہ کشی کی عالمگیریت کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے(4)۔ لیکن سعودی عرب وغیرہ پر توجہ مرکوز کر لینا خلیج فارس کے نفوذ کے پاکستانی فرقہ واریت کی مقامی جہت سے تعامل کو نظر سے اوجھل کر دیتا ہے۔ اس مقالے میں پاکستان کے تصورِ ریاست کی سیاسی اور مذہبی تشریحات کا متنازعہ ہونا موضوع ِبحث ہے۔

جیسا کہ ایک اور مطالعے میں بھی میں نے اس نکتے کو اٹھایا ہے، 1947ء میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے قائم ہونے والی ریاست کے تصور اور مفہوم پر 1940ء کے عشرے میں بڑی گرم بحث ہوئی تھی (5)۔ چنانچہ قیام کے بعد اس ملک نے اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کو معلق پایا۔ اس سیاسی ابہام کے تناظر میں 1979ء کا ایرانی انقلاب ایک رقابت کی شکل میں سامنے آیا۔ فرقہ پرست سنیوں (دیوبندی سیاسی کارکنان) نے اسکو اپنے سیاسی و سماجی تصورات کیلئے موت کا پیغام سمجھا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ ایران میں آنے والی سیاسی اور مذہبی تبدیلیاں پاکستان کیلئے قابلِ محسوس اثرات رکھتی تھیں۔

شیعہ مذہبی سیاسی حرکت بھی 1980ء کے عشرے میں تیز ہو گئی۔ نئی کرشماتی قیادت نے پاکستان میں ایران کی طرز پر ایک خالص اسلامی انقلاب کی اہمیت پر زور دینا شروع کر دیا (6)۔ اسکے نتیجے میں آیت اللہ خمینی کے شاہ کو شکست دینے اور ایک اسلامی جمہوریہ کے قیام نے پاکستان میں فرقہ وارانہ بیانئے کی تشکیلِ نو کی اور اس کو تقسیمِ ہند سے پہلے ہونے والی بحث کی طرف موڑ دیا جب تحریکِ پاکستان سے وابستہ دیوبندی علماء پاکستان کو سیاسی اسلام کی سنی تعبیر تک محدود رکھنے کی بات کیا کرتے تھے۔

خاص طور پر 1979ء کے بعد ہم شیعوں کے خلاف مہم کو وہابی سلفیوں، جو شیعیت اور اسلام کو مذہبی طور پر ناسازگار قرار دیتے تھے، سے دیوبندی رہنماؤں کے ہاتھوں میں جاتا دیکھتے ہیں جو شیعیت کو سیاسی رقیب کے طور پر دیکھتے تھے (7)۔ اس تحول کے دوران خلیجِ فارس سے نمودار ہونے والے تصورات موجودہ پاکستان میں فرقہ واریت کا ایک اہم جزو بن گئے، لیکن ان کو مقامی اذہان نے اپنی سوچ اور مقاصد کے مطابق پیش کیا۔

اگلے صفحات میں ہم اس نکتے پر مزید روشنی ڈالیں گے اور اپنی کتاب (In a Pure Muslim Land) میں پیش کی گئی تحقیق میں جدید معلومات کا اضافہ کریں گے۔ چنانچہ اس مضمون میں سن 2000ء کے بعد کے فرقہ وارانہ مواد کے مطالعے پر زیادہ زور دیا گیا ہے(8)۔ میری توجہ پاکستان کی سب سے اہم شیعہ دشمن جماعت، سپاہِ صحابہ، پر ہو گی۔ اس کا قیام 1985ء میں ہوا تھا۔ متعدد بار کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد 2009ء سے اس جماعت نے اپنا نام ”اہلسنت والجماعت“ رکھ لیا ہے(9)۔ آجکل شاید یہ مستقیم طور پر شیعہ مخالف تشدد میں ملوث نہیں ہوتی لیکن تمام شیعہ دشمن تنظیموں میں سب سے زیادہ یہی تنظیم شیعوں کے خلاف حملوں کی فضا ہموار کرتی ہے۔ اسی جماعت کی تبلیغ کی بدولت عوام میں شیعوں کو کافر سمجھا جانا اب معمول کی بات بن چکی ہے۔

نیز بدنامِ زمانہ لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں کے اس جماعت کے کارکنان کے ساتھ گہرے روابط ہیں(10)۔ اس مضمون میں اس تنظیم کے ہفت روزہ اردو مجلے ”اہلسنت“ کے علاوہ اس جماعت کے رہنماؤں کی تقریروں اور تحریروں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ میری توجہ کا مرکز اس جماعت کے سابقہ سربراہ علی شیر حیدری متوفی 2009ء(11)، موجودہ چیئرمین محمد احمد لدھیانوی(12) اور موجودہ مرکزی صدر اورنگزیب فاروقی(13) ہیں۔ ان تینوں میں سے ہر ایک دیوبندی مسلک میں تربیت پانے والا مذہبی عالم ہے اور انہوں نے اپنی تمام تعلیم پاکستان میں ہی حاصل کی ہے۔

اس مقالے میں میں تین نکات پر بحث کرتا ہوں

اول تو یہ کہ میری کتاب کی طرح اس تحقیق میں بھی سعودی اور پاکستانی علماء کے فرقہ وارانہ استدلال میں فرق نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ سپاہِ صحابہ کیلئے فرقہ واریت کا سیاسی پہلو محض ایک مسلکی اختلاف نہیں بلکہ انکے استدلال کی اہم بنیاد ہے(14)۔ سپاہِ صحابہ کے رہنماؤں کی فکر محض بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات کا پرتو نہیں ہے بلکہ پاکستان کا ایک خاص نظریاتی فرقہ وارانہ تصورِ ریاست ہے۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ شیعی ثقافت کے عاشقانہ مظاہر کو اپنانے کو کیوں آمادہ ہیں اور شیعی تصورات اور نشانات کی نقل کیوں کرتے ہیں؟ یہ ایک ایسی چیز ہے جو سعودی عرب کے فرقہ پرست علماء کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو سکتی(15)۔

دوم یہ کہ ایران میں اسلامی انقلاب سے سیاسی نوعیت کی رقابت نے سپاہِ صحابہ کے رہنماؤں کو شیعہ مسلک پر روایتی اعتراضات کی تکرار کے بجائے خود سنی (دیوبندی) ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش پر مجبور کیا۔ ان فرقہ پرست کرداروں نے صحابہ ؓکے بارے میں غیر معمولی غلو کیا(16)۔ اس مبالغے کے نتیجے میں انہوں نے صحابہؓ کو شیعہ آئمہ ؑکے مقابلے کی متعالی اور منصوص منَ اللہ شخصیات کے طور پر پیش کیا(17)۔ صحابہؓ کو ایک منصوبے کے تحت دین اور امت کا دربان اور ضامن قرار دے کر سپاہِ صحابہ نے ایسی سیاسی تمثیلات تراشیں کہ جن کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ سپاہِ صحابہ کا کہنا تھا کہ خدا خود قرآنی آیات کے ذریعے ان لوگوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے جو صحابہؓ پر جرح کریں۔

سوم یہ کہ اگرچہ شیعہ شباہت والے ایسے نئے خیالات کی تبلیغ پر پورے زور و شور سے کام جاری ہے، شیعوں کو کافر قرار دینے پر پہلے جیسا زور نہیں دیا جا رہا۔ شاید انکے خیال میں احسان الہٰی ظہیر وغیرہ کی تحریروں اور سپاہِ صحابہ کی ملک گیر تکفیری مہم نے شیعوں کو کافر کہنے کی سوچ کو کافی حد تک پھیلا دیا ہے۔ شیعیت کو بدیہی طور پر کفر سمجھنے کی سوچ پاکستانی طالبان کے بیانات میں بھی نظر آتی ہے۔

سلفی، سعودی اور مسلکی فرقہ واریت

احسان الہٰی ظہیر کیلئے شیعیت ایک نظری اور اعتقادی مسئلہ تھا۔ انکی کتب، چاہے 1979ء کے ایرانی اسلامی انقلاب سے پہلے کی ہوں یا بعد کی، کوئی سیاسی پہلو نہیں رکھتیں۔ انہوں نے بیسویں صدی کے وسط میں بروجردی-شلتوت رابطے اور شیعہ سنی وحدت کی کوشش کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ ان دو مسالک میں کوئی مشترکہ فکری اساس موجود نہیں ہے۔ انکے مطابق شیعہ اصحابِ رسولؐ پر منفی تنقید کرتے ہیں، ان پر مفاد پرستی اور تحریفِ قرآن کا الزام لگاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ انہوں نے شیعہ آئمہؑ کی خلافت کا اعلان کرنے والی آیات مٹا دیں (18)۔ اسلامی انقلاب کے بعد کے چالیس سالوں میں سعودی علماء، اور حتی کہ داعش، کے شیعہ مخالف استدلالات انہی خطوط پر چلتے رہے ہیں۔ ان کی فرقہ وارانہ تبلیغات میں شیعوں کے اہلبیتؑ کو خدا کا شریک ٹھہرانے اور عبدالله ابنِ سبا یہودی کی سازش ہونے جیسے روایتی الزامات پر زیادہ زور دیا گیا ہے(19)۔

سعودی علماء نے ایران کے نظامِ حکومت، یعنی ولایتِ فقیہ، پر توجہ دینے سے گریز کیا ہے اور شیعہ مکتبِ فکر پر اپنے روایتی مذہبی حملوں پر توجہ مرکوز رکھی ہے، اور ایران کی حکومت کے غیر اسلامی ہونے کو شیعیت کے غیر اسلامی ہونے کا ثانوی نتیجہ قرار دیا ہے(20)۔ وہ خطے میں؛ اور بالخصوص سعودی عرب، شام، عراق اور بحرین کی شیعہ آبادیوں پر؛ ایرانی سیاسی اثرات کا انکار نہیں کرتے لیکن اس کی وجہ سے انہوں نے اپنے فرقہ وارانہ استدلال کے ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا(21)۔ ریحان اسماعیل کے بقول، سعودی عرب کی شیعہ مخالف نشریات میں ایرانی انقلاب کے بعد جو تبدیلی آئی وہ تقیہ کو نفاق قرار دینے پر زور دینا تھا۔ بالخصوص روایتی سعودی علماء، جو سعودی مذہبی ڈھانچے پر غلبہ رکھتے ہیں، نے سعودی شیعوں کو مکار اور سعودی قوم کا غدار کہنا شروع کیا۔

ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ مخالف نشریات میں صرف یہی نئی چیز تھی جس کا اضافہ ہوا(22)۔ یہاں میرے تجزیئے کیلئے اہم بات یہ ہے کہ ان علماء نے ایران کے متبادل ایک سیاسی منصوبہ وضع کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی جو ایرانی انقلاب کے اثرات کا مقابلہ کر سکے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس کو اہم نہ سمجھا ہو، لیکن اسکی ایک وجہ سعودی معاشرے میں سیاسی مکالمے پر عائد شدہ قدغن بھی ہو سکتی ہے۔ وہاں ریاست نظامِ بادشاہت کے متبادل کی سوچ تو کیا بادشاہت پر کسی قسم کی تنقید کا بھی موٴثر انداز میں قلع قمع کرتی ہے(23)۔ سلفی داعش چونکہ خلافۃ علی منہاج النبوۃکا دم بھرتی ہے، ہو سکتا تھا کہ وہ اپنے شیعہ مخالف استدلالات میں سعودی علماء کی غیر سیاسی روش سے انحراف کرتے۔ لیکن پھر بھی وہ اور سعودی علماء اس معاملے میں اکٹھے نظر آتے ہیں۔

یہ جہادی تنظیم ماضی کے (مثبت شیعہ کرداروں کو چھپا کر) منفی شیعہ کرداروں کو نمایاں کرتی ہے، ان پر مسلمانوں کے خلاف خفیہ جنگ کا الزام لگاتی ہے، لیکن اسکی توجہ بھی، سعودی علماء کی طرح، شرک پر ہے۔ داعش کا انگریزی مجلہ ”دابق “قدیم سنی علماء کے حوالے سے شیعوں پر صحابہ دشمنی کا الزام لگاتا ہے اور اس سے اگے نہیں جاتا۔ سعودی علماء اور داعش کی شیعہ مخالف تبلیغات میں واحد فرق یہ ہے کہ داعش شیعوں کے بے دریغ قتل عام کی دعوت دیتی ہے:”جہاں بھی وہ ملیں“ انہیں قتل کیا جائے، یہاں تک کہ ”روئے زمین پر ایک بھی شیعہ باقی نہ رہے“(24)۔

پاکستان میں فرقہ واریت کا سیاسی پہلو

دوسروں کے برعکس پاکستانی سپاہِ صحابہ کے علماء مسلکی اختلاف کو  شیعہ عوام پر کئے جانے والے حملوں کیلئے سیاسی نصب العین کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اور اپنے مسلکی مخالفین کو یہ الزام دیتے ہیں کہ وہ ریاستِ پاکستان کی مذہبی اساس (جو علامہ شبیر احمد عثمانی کے نظریہء پاکستان کے مطابق دیوبندی ہے) کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نویں اور دسویں محرم کو پاکستان عزاداری میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے جو اسکے تشخص کے خلاف ہے۔ انکے فرقہ پرست رسالے کہتے ہیں کہ ان ایام میں پاکستان کے سرکاری اورنجی ٹی وی چینلز، ریڈیو سٹیشن اور سوشل میڈیا عزاداری کی خبریں نشر کرتے ہوئے امام بارگاہ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اہلِ تشیع کے جلوسوں کی حفاظت کیلئے قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔

سنی تاجروں کو مالی نقصان ہوتا ہے کیونکہ ان دو ایام میں شہروں کے بڑے حصے میں نقل و حرکت روک دی جاتی ہے۔ قصہ مختصر، پاکستان مکمل طور پر ایک شیعہ ریاست کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا ہے، اور اس وقتی غلبے کے بچوں پر برے اثرات پڑتے ہیں(25)۔ سپاہِ صحابہ کے مطابق شیعوں کی اس سرکشی کا کوئی تاریخی جواز نہیں کیونکہ مملکتِ خدادادِ پاکستان کے بنانے میں شیعوں کا کوئی کردار نہیں۔ ان فرقہ پرست مفکرین کا دعویٰ ہے کہ بابائے قوم محمد علی جناحؒ، جو کہ 1904ء میں اسماعیلی سے اثنا عشری شیعہ ہو گئے تھے(26)، اصل میں ایک متعصب سنی تھے، جبکہ وہ عزاداری کے خلاف دیوبندی مفتی تقی عثمانی کے کچھ بے وزن اشعار علامہ اقبالؒ سے منسوب کر کے کہتے ہیں کہ پاکستان کے روحانی پیشواٴ بھی شیعوں کے مخالف تھے:

‏کہہ دو غمِ حسینؑ منانے والوں کو

مومن کبھی شہداء کا ماتم نہیں کرتے

ہے عشق اپنی جان سے بھی زیادہ آلِ رسول ؐسے

یوں سر ِعام ہم انکا تماشہ نہیں کرتے

روئیں وہ جو منکر ہیں شہادتِ حسینؑ کے

ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے

سپاہ ِصحابہ کے مطابق عصرِ حاضر کے پاکستان میں سنی اکثریت اسی قسم کے امتیازی سلوک کا نشانہ بنی ہوئی ہے جو کفارِ مکہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھتے تھے(27)۔ ان کے بقول وہ ریاستِ پاکستان کی دہشتگردی کا شکار ہیں جو ایران کی پشت پناہی سے یہ کام کر رہی ہے(28)۔ پاکستانی ریاست نے خلافتِ راشدہ کا نظام قائم کرنے کے وعدے سے انحراف کر لیا ہے، جو اسکو موجودہ خرابیوں سے نجات دے سکتا تھا اور دنیا پر اسلام کے غلبے کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا(29)۔ انکے مطابق صاحبانِ حل و عقد الٹا ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں جو صحابہؓ کو ایسے نظام کا نمونہ بتاتے صحابہؓ پر تنقید کا رد کرتے ہیں جو اس نظام کو مشکوک بناتی ہے (30)۔ اہلسنت والجماعت کا ہفتہ وار رسالہ موٴثر انداز میں یہ تاٴثر پیدا کرتا ہے کہ ہر ہفتے ایک دیوبندی (پولیس مقابلے میں) قتل کیا جاتا ہے، اگرچہ وہ جن لوگوں کی برسی مناتے ہیں وہ سب پچھلے عشروں میں قتل کئے گئے(31)۔ یہ تنظیم خود کو فرقہ واریت کا سب سے بڑا شکار قرار دیتی ہے(32)۔ لدھیانوی کے بقول ریاست کے خلاف کوئی مسلحانہ اقدام نہ کرنے وجہ صرف یہ ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں۔ انکا اپنے گھر کو آگ لگانے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ وہ پاکستان کے اصلی وارث ہیں(33)۔

مبینہ شیعہ سازشوں کی نقاب کشائی

اپنے سعودی رفقاء کی طرح پاکستانی فرقہ پرست علماء بھی شیعوں کے غدار ہونے پر زور دیتے ہیں۔ البتہ چونکہ پاکستان میں شیعہ علماء نے بہت سے اہم مذہبی اہداف کے حصول میں دیوبندی علماء کا ساتھ دیا ہے، لہذا یہاں ان کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کرنا مشکل کام ہے۔ چنانچہ ایسے تمام کاموں کو تقیہ قرار دیا جاتا ہے، چاہے وہ تحریکِ پاکستان میں کردار ہو یا تحریکِ ختم نبوت ہو یا ذوالفقار علی بھٹو کی بائیں بازو کی سیاست کی مخالفت ہو(34)۔ دیوبندی اکابر کے اس مکارانہ چال میں پھنسنے کا کفارہ ایران کے انقلاب کے بعد اسکے خلاف مہم چلانے کو قرار دیا جاتا ہے۔ انکے مطابق تمام امتِ مسلمہ، یہاں تک کہ سعودی عرب بھی، آیت اللہ خمینی کی چال کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ سپاہِ صحابہ کی نشریات ان وفود کا ذکر کرتی ہیں جو 1979ء کے موسمِ بہار میں ایرانی قیادت کو شاہ کو شکست دے کر ایک اسلامی جمہوریہ قائم کرنے پر مبارکباد دینے تہران گئے۔ ایرانیوں نے ”لا شرقیہ و لا غربیہ، لا شیعیہ و لا سنیہ، اسلامیہ اسلامیہ“ کا نعرہ لگا کر سب کو مسحور کر دیا تھا۔ سپاہِ صحابہ کے رسالے کے مطابق: ”ملحد حکمران، بے بہرہ دانشور، نام ور اہلِ قلم اور بڑے اہلِ علم نے عقائدِ شیعہ کا پورا باب فراموش کر کے خمینی کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیئے“۔

اہلِ فکر و نظر خانہٴ فرہنگِ ایران اور ایرانی سفارت خانے سے ملنے والے پیسوں کے عوض ایران کے حق میں بولنے لگے(35)۔ شیعوں نے انقلابی جوش میں آ کر اپنی متعدد کتب کا ترجمہ کر کے ان کو عالمی سطح پر شائع کیا۔ اس طرح انہوں نے خود ہی اپنے چودہ سو سالہ تقیہ کے نقاب کو اتارپھینکا(36)۔ نتیجتاً 360 کے قریب کتب اردو میں ترجمہ ہو گئیں جن میں صحابہ ؓپر تنقید شامل تھی(37)۔ لبنان، مصر، ہندوستان اور پاکستان کے با بصیرت سنی علماء نے صورتحال کو جلد بھانپ لیا اور شیعوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ان کی مذمت میں کتب لکھیں۔ البتہ محض کتب لکھنا آیت اللہ خمینی کی پیدا کردہ موج کا سامنا نہیں کر سکتا تھا، اور پاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ بڑا تھا۔ یہاں ایران 1980ء میں چلنے والی (جنرل ضیاء کے نفاذِ اسلام کے منصوبے میں شیعوں کیلئے) فقہٴ جعفریہ کے نفاذ کی تحریک کو استعمال کر سکتا تھا جسے مبینہ طور پر آیت اللہ خمینی کے نظریات کے پرچار کیلئے قائم کیا گیا تھا اور جو نظریہء پاکستان اور اکثریتی سنی ملک کے عقائد کے خلاف تھی(38)۔

ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی فرقہ پرستی کے سرخیل

سپاہِ صحابہ اپنے بانی رہنما حق نواز جھنگوی کو اس سازشی چال کے خلاف عالمی سطح پر اقدام اٹھانے والا پہلا شخص قرار دیتی ہے۔ اس کے مطابق اس جوان اور بہادر جہادی نے اسلام کے خلاف ایران کی بغاوت اور کفریہ نظریئے کا مقابلہ کرنے کی نیت سے پاکستان بھر میں جلسے منعقد کئے اور ایک مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا۔ اسکے پیشرو ابنِ تیمیہ (متوفی 1328ء)، شاہ ولی اللہ (متوفی 1762ء) اور عبدالشکور فاروقی لکھنوی ( متوفی 1942ء) تو صرف اپنے ہم عصر شیعہ علماء کا سامنا کرتے تھے جبکہ جھنگوی کو مبینہ طور پر ایک شیعہ ریاست کے تمام وسائل اور طاقت کے ہمہ جہتی دباو کا سامنا تھا۔ اسکے ساتھ ساتھ باقی مسلمان حکومتیں آیت اللہ خمینی کی مخالفت کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر جھنگوی کے خلاف سازش کر رہی تھیں(40)۔ جھنگوی نے دہری حکمت عملی اپنائی۔ پہلے تو اس نے 1986ء میں ہی اپنے دائرہٴ اثر کو ملک بھر میں پھیلایا۔ دوم اس نے اہلسنت کے تمام فرقوں کو دفاعِ صحابہ اور نفاذِ خلافت کے نام پر متحد کیا اور اس کامیابی کو باقی مسلمان ممالک تک پھیلانے کی امید ظاہر کی۔

سپاہِ صحابہ کے مطابق موجودہ پاکستان کے اکثر بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث اس جماعت کے اہداف پر متفق ہیں(41)۔ تاہم یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اس ضمن میں سپاہِ صحابہ نے (سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والی) داعش کے خلافت قائم کرنے کو قبول نہیں کیا، جو 2014ء میں سرعت کے ساتھ ایک کاغذی حکومت سے ارتقاء کر کے عراق اور شام کے وسیع علاقے پر ایک باقاعدہ سیاسی وجود میں بدل گئی(42)۔ اسکے برعکس یہ طرفدارانِ صحابہ صرف خود کو ہی ایسے خداداد سیاسی نظام کے قیام کی جدوجہد کے بین الاقوامی قائد قرار دیتے رہے۔ انکے مطابق داعش ایک وقتی ابال تھا جسے ایک سال پہلے تک کوئی جانتا نہ تھا۔ البتہ نومبر 2014ء میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے محکمہٴ داخلہ کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق داعش نے پاکستان میں جڑیں مضبوط کر لی تھیں۔ بظاہر اس نے سپاہِ صحابہ سے رابطہ کر کے اپنی شیعہ مخالف سرگرمیاں لشکرِ جھنگوی کے ذمے لگا کر خود پاک فوج پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کی تھی(43)۔ تاہم سپاہِ صحابہ نے اس بات میں پوری احتیاط برتی کہ صرف داعش کے طریقہٴ کار سے اختلاف کرے۔ اس نے داعش کے نظریات پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ محض اسلحے اور طاقت کے زور پر خلافت قائم نہیں کی جا سکتی(44)۔ اس طرح سوچے سمجھے انداز میں داعش کی تکفیر نہ کر کے سپاہِ صحابہ خود کو تمام اہلسنت کی جماعت کے طور پر پیش کرنا چاہتی تھی۔

اپنے کارناموں اور وجود کی تاریخ کے بارے میں سپاہِ صحابہ کی اس منفرد عینک سے دکھائی دینے والا شیعیت کا یہ خوفناک غلبہ ناقابل شکست نہیں تھا۔ سپاہِ صحابہ نے خود کو فخر سے پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی جماعت قرار دیا، جو ہر حکومتی پابندی کے بعد دوبارہ ابھر آئی ہے(45)۔ یہ پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے جس کا اظہار اسکی متنوع قیادت سے ہوتا ہے(46)۔ سن 2000ء سے اسکے مقررین کشف و الہام کی باتیں بھی کر رہے ہیں تاکہ یہ تاثر پیدا کر سکیں کہ خدا اسکے اہداف کی تائید کرتا ہے: پاکستان اور مکہ و مدینہ میں رہنے والے افراد ایسے خواب بیان کر رہے ہیں کہ سپاہِ صحابہ کے سابقہ قائدین حضرت عائشہؓ کے زیرِ نظر جنت کے باغات میں رہ رہے ہیں اور وہ انکی خوش حالی میں ذاتی دلچسبی لیتی ہیں(47)۔

ماضی کے دنیاوی کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے احمد لدھیانوی نے مخاطبین کو بتایا کہ کس طرح اس گروہ کے سابقہ رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی اعظم طارق(متوفی 2003ء) نے خود کو سپیکر کی کرسی تک پہنچایا اور ناموسِ صحابہ بل کی منظوری کا اعلان کیا جس کے مطابق صحابہؓ پر تنقید کی سزا موت ہو گی۔ اینڈریاس رائک کے مطابق یہ اس وقت ہوا جب اسمبلی کے اکثر ارکان حزبِ اختلاف کے ”غیر دستوری طرزِ عمل“کے خلاف واک آوٹ کر چکے تھے(48)۔ لدھیانوی کا کہنا تھا کہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ باقی ارکانِ قومی اسمبلی کی طرف سے تالیاں بجائی گئیں اور حمایت کا اظہار کیا گیا ،جس سے پتا چلتا ہے کہ قومی اسمبلی میں سپاہِ صحابہ کے فرقہ وارانہ اہداف کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے، اگرچہ وہ ابہام اور تنازعہ کے پردوں میں چھپی ہے(49)۔

اگرچہ اب بھی ”گستاخانِ صحابہ“کیلئے اتنی شدید سزا اس جماعت کے بنیادی مطالبات میں سے ہے، اس کی موجودہ قیادت نے متعلقہ قانون کی منطوری اور ریاستِ پاکستان کو حقیقی خلافت میں بدلنے کیلئے ایک مختلف حکمتِ عملی اپنا لی ہے(50)۔ اب وہ پبلک لاء اور پرائیویٹ لاء کے فرق کا سہارا لے کر بات کر رہے ہیں، جو کہ جدید دنیا میں رواج پا گیا ہے۔ وہ (مبالغہ آمیزی کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ چونکہ پاکستان کی 97% آبادی حنفی فقہ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتی ہے لہذا اس کو مجوزہ سنی ریاست کی بنیاد ہونا چاہیئے۔ حنفی فقہ کی مہمل اصطلاح کو قابلِ عمل آئین کی شکل میں کیسے مدون کیا جا سکتا ہے، اس سوال کا سپاہِ صحابہ کے پاس کوئی جواب نہیں(51)۔ سپاہِ صحابہ کے مطابق پاکستان کی سماجی زندگی کو حنفی مذہب کا پابند کرنا جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گا کیونکہ کسی ملک میں اقلیتوں کو آئین سازی میں اہمیت نہیں دی جاتی۔

وہ یہ فرض کرتے ہیں کہ برطانیہ کا آئین مسیحیت کی پروٹسٹنٹ تفسیر کے مطابق بنایا گیا ہے جہاں، ان کے مطابق، کیتھولک مسلک کی ملکہ الزبتھ دوم پر بھی ان کے عقیدے کے برعکس قوانین تھونپے گئے ہیں۔ اسی طرح، سپاہِ صحابہ کے مطابق، ایران کے سنی مسلمان آبادی کا 35 فیصد ہونے کے باوجود اپنے لئے ایک مسجد بھی نہیں بنا سکتے۔ حقیقت میں ایران کی سنی آبادی پانچ سے دس فیصد تک ہے اور ان کی متعدد مساجد اور مدارس ہیں اور وہ مذہبی اجتماعات منعقد کرنے میں آزاد ہیں(52)۔ سپاہِ صحابہ کی طرف سے ان مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ آئین میں مذہبی آزادی کی یقین دہانی سے مراد الگ پبلک لاء نہیں کیونکہ اس سے ملک کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ لہذا اقلیتوں کو صرف پرسنل لاء کی حد تک آزادی دی جانی چاہیئے(53)۔

شیعہ تمثیلات کی نقالی

پاکستانی فرقہ واریت کے سیاسی پہلو کو زیرِ بحث لاتے ہوئے یہ نکتہ اجاگر کرنا ناگزیر ہے کہ سپاہِ صحابہ شیعوں اور ایرانی انقلاب کے تصورات اور علامتوں کو اپنے مقاصد کیلئے اپناتی رہی ہے تاکہ انکا متبادل پیش کیا جا سکے(54)۔ جس طرح ایران میں آیت اللہ خمینی کے انقلابی لائحہٴ عمل سے مضبوطی سے جڑنے والے خطِ امام کے پیرو کہلاتے ہیں، سپاہِ صحابہ بھی اپنے کارکنوں کو باقیوں سے کٹ کر مشنِ جھنگوی سے جڑے رہنے کی تلقین کرتی ہے (55)۔ وہ لوگ جو اپنی آمدنی کا تیسرا حصہ سپاہِ صحابہ کو دیں، ان کو خصوصی طور پر سراہا جاتا ہے۔ اس غیر معمولی سخاوت کی شباہت شیعوں کے ہاں اپنی سالانہ بچت کا پانچواں حصہ بطورِ خمس اپنے مرجعِ تقلید یا اس کے نمائندے کو دینے کی روایت کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے(56)۔

اسی طرح ایرانی جمہوریہ کی طرف سے مسحور کن شیعی تمثیلات کی تشہیر کو کم رنگ کرنے کیلئے سپاہِ صحابہ کی طرف سے اپنے شہیدوں کی عزاداری کرنے کا رواج دیکھا جا سکتا ہے، ایک ایسا عمل جو بعض اوقات بڑے بھونڈے طریقے سے انجام پاتا ہے(57)۔ یہاں جس مثال کا ذکر بڑا برمحل ہے وہ جولائی 2007ء میں پاکستانی ریاست اور فوج کی اسلام آباد کی بدنامِ زمانہ لال مسجد میں موجود مسلح افراد، طلبہ اور علماء کے خلاف کاروائی کی یاد منانا ہے۔ سپاہِ صحابہ کو اس مدرسے اور اس کی قیادت کو، جو ہمیشہ شیعہ دشمن موقف اپناتی رہی تھی، اپناقرار دینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی (58)۔ اس واقعے، کہ جس میں سو کے قریب مسلح افراد مارے گئے تھے، کی برسی سے خطاب کرتے ہوئے علی شیر حیدری نے کہا کہ واقعہٴ کربلا، جو شیعی شناخت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے، بھی اس کے مقابلے میں دھندلا گیا تھا۔ کربلا میں اموی لشکر کے امام حسینؑ اور انکے ساتھیوں پر کئے جانے والے حملے سے زیادہ بچے اور عورتیں اسلام آباد میں قتل ہوئیں، جبکہ کربلا کے برعکس یہاں فرار کا راستہ بھی نہیں دیا گیا۔

جو لوگ لال مسجد میں محصور تھے ان کے پاس خوراک مہیا کرنے کا کوئی راستہ نہ تھا اور وہ امرود کے پتوں پر گذارا کر رہے تھے(59)۔ اگرچہ کربلا میں امام حسینؑ اور انکے ساتھیوں پر تین دن کیلئے پانی بند کیا گیا، لال مسجد میں سات دن پانی بند رہا۔ امام حسینؑ کے برعکس لال مسجد والے شہادت سے پہلے غسل نہ کر سکے(60)۔ کربلا میں حملہ ایک کھلے میدان میں ہوا جبکہ اسلام آباد میں لوگوں کو عبادت گاہ میں مارا گیا۔ چنانچہ اسلام آباد میں ہونے والا محاصرہ سختی، دکھ، پریشانی، قربانی اور ظلم و ستم کے اعتبار سے الگ کیفیت کا تھا(61)۔ ان خطوط پر بات کر کے علی شیر حیدری نے نہ صرف پاکستان میں ایک بنیادی سیاسی تبدیلی پر زور دیا بلکہ اس نے اپنے ساتھیوں کو بلند تر مرتبے کے حامل شہید قرار دے کر شیعوں کے دل پر حملہ کیا۔

صحابہؓ کی شان میں غلو اور اسکے سیاسی مضمرات

ایک سنی (دیوبندی) ریاست کے مطالبے کو تقویت پہنچانے کیلئے سپاہِ صحابہ سے منسلک علماء نے صحابہ ؓکے بارے میں غلو کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ بعض اوقات انکو رسولِ پاک محمدﷺ سے بھی بڑھا دیا۔ ان فرقہ پرست علماء نے خود کو صحابہؓ کے غلام (عبد) قرار دیا، ایک ایسی اصطلاح جو وہابی علماء کیلئے ناقابلِ برداشت ہوتی(62)۔ سپاہِ صحابہ کے رہنماؤں کے لئے صحابہؓ کی مثال محض ایک منفعل شیشے کی نہیں جو آندھی سے شمعِ رسالت کی حفاظت کرتا ہو اور اسکے نور کو باقی دنیا تک منتقل کرتا ہو۔ بلکہ یہ منتخب کردہ افراد خدا کے پیغام کے نور کی چمک میں اضافہ بھی کرتے ہیں(63)۔ صحابہؓ رسول اللہؐ تک جانے کیلئے پل کا کام کرتے ہیں کیونکہ کوئی مسلمان رسول اللہؐ سے ان کے واسطے کے بغیر اور مستقیم تعلق پیدا نہیں کر سکتا(64)۔ یہی اصول ان کیلئے کسی حدیث کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کا معیار ہے۔ سپاہِ صحابہ کے لئے صرف وہی حدیث قابلِ قبول ہے جس پر صحابہؓ کا عمل کرنا ثابت ہو۔ اگر تاریخ میں آنے والے صحابہؓ کے اعمال کسی حدیث کے خلاف ہوں تو وہ حدیث ضعیف یا من گھڑت ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحابہؓ کی اپنی روایت کردہ احادیث کے بجائے انکے عمل کو دیکھنا ہے تو کیا وہ بھی انکی اپنی بیان کردہ روایات سے ہی معلوم ہو گا؟ اسطرح یہ استدلال دائرے میں گھوم جاتا ہے(65)۔ ایک بڑی مصیبت وہ حدیث ہے جو سنی صحاح کتب میں بھی پائی جاتی ہے اور اس پر شیعہ بہت زور دیتے ہیں۔ اس کے مطابق رسول اللہؐ نے اپنے بعد مسلمانوں کو ثقلین، یعنی قرآن اور اہلبیتؑ، سے متمسک رہنے کی وصیت کی تھی۔ اس روایت کی بنیاد پر شیعہ یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ قرآن کی صحیح تفسیر جاننے کیلئے آئمہٴ اہلبیت ؑسے رجوع کرنا ضروری ہے۔ حدیث کے مطابق قرآن و اہلبیتؑ ہمیشہ ساتھ ساتھ موجود رہیں گے(66)۔ اس حدیث کے مفاہیم کی ضد لانے کیلئے علی شیر حیدری نے یہ دعویٰ کیا کہ خدا نے مسلمانوں کیلئے دو قبلے بنائے ہیں۔

ایک وہ کعبہ ہے جو مکہ میں ہے جو نماز کے رخ کو متعین کرتا ہے اور دوسرا قبلہ صحابہؓ ہیں کہ جن کی طرف رخ کر کے ہی مسلمان رسول اللہؐ کی اطاعت کر سکتے ہیں(67)۔ دوسرے الفاظ میں صحابہؓ اس جہیز کی مانند ہیں جو والدین اپنی بیٹی کی شادی کیلئے تیار کرتے ہیں، جس میں ضرورت کی تمام اشیاء جیسے کپڑے، زیورات اور برتن وغیرہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہؐ نے سارا دین اور اسکی ضروریات صحابہؓ کے پاس رکھ دیں اور انہوں نے اپنے سینوں کو قرآن سے بھر لیا(68)۔

چنانچہ سپاہِ صحابہ کے لئے صحابہؓ ویسے ہی غیرمعمولی مقام و مرتبے کے حامل ہو گئے جو شیعوں کے ہاں آئمہٴ اہلبیتؑ کو حاصل تھا۔ انکے الفاظ اور اقوال ہر مرض کا علاج اور ہر مسئلے کا حل قرار پائے(69)۔ صحابہؓ کا اجتہاد ایسی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ ان کی آراء اور اعمال کا احترام ضروری ہے چاہے اسکی شرعی توجیہ آج کل کے مومنین کی سمجھ میں نہ آئے۔ انکے بقول صحابہؓ کے عمل کو قرآن کی متشابہآیات سے بھی جوڑا جا سکتا ہے جن کو مسلمان پوری طرح سمجھے بغیر بھی خدا کا کلام مانتے ہیں(70)۔ جس طرح قرآن کی سب سورتیں اللہ کی آیات ہیں، صحابہؓ بطورِ مجموعی اللہ کی جماعت ہیں(71)۔ اسطرح رسول اللہؐ، جن کا تقدس شیعوں اور سنیوں کیلئے مشترکہ ورثہ تھا، کے بجائے صحابہؓ کو مذہب کا مرکزی منبع قرار دے کر انہوں نے شیعوں اور سنیوں کے درمیان مشترکات کو محدود تر کر دیا۔

مسائل کو مزید گھمبیر بنانے کے لئے سپاہِ صحابہ نے بظاہر اہلبیتؑ، جو شیعوں کیلئے بہت عزیز تھے، سے بھی عقیدت کا اظہار کر کے خود کو اتحاد بین المسلمین کا علمبردار بھی قرار دیا۔ جیسا کہ توقع تھی، انہوں نے اہلبیتؑ کی شناخت کو بھی اپنی تنگ نظر سوچ کے مطابق بدلنے کی کوشش کی۔ ان فرقہ پرست علماء کیلئے اہلبیتؑ سے مراد رسول اللہؐ کی بیویاں ہیں۔ یہ موقف نہ صرف شیعوں بلکہ معتدل سنیوں کی تفسیر کے بھی خلاف تھا، جن کے مطابق اہلبیتؑ سے مراد دخترِ پیغمبر فاطمہؑ، انکے شوہر علیؑ اور انکے بیٹے حسنینؑ اور انکی اولاد تھی۔ اگرچہ اہلسنت میں ازواجِ نبیؓ کو اہلبیتؑ میں شمار کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن اہلبیتؑ کو ازواج نبیؓ سے مخصوص کرنے کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں (72)۔ پچھلے چند سالوں سے سپاہِ صحابہ کی توجہ حضرت عائشہؓ پر مرکوز ہے۔ وہی عصمت و پاکیزگی جو شیعہ اپنے آئمہؑ سے منسوب کرتے ہیں، یہ حضرت عائشہؓ سے کر رہے ہیں۔ ان کو ایک ایسے مکمل مسلمان مجتھد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جن سے مرد صحابہؓ بھی فتوے لینے کیلئے رجوع کرتے تھے (73)۔

صحابہؓ کا رتبہ اسقدر بڑھانے کے بعد اگلا مرحلہ ”دفاعِ صحابہ“ کو حق اور باطل کا معیار قرار دینا تھا۔ وہ لوگ جو صحابہؓ کی عصمت کے نظریئے کا دفاع کر رہے تھے وہ اسلام کی قیمتی ترین تجلی اور اصلِ ایمان کے مدافع قرار پائے(74)۔ لہذا انہیں سارے دین کا چوکیدار کہا گیا(75)۔ اس کا اطلاق ان مسلمانوں پر ہوا جو خود کو تاریخی طور پر سپاہِ صحابہ کے طور پر دیکھتے تھے، پس وہ نماز، حج اور کلمے جیسے اسلام کے لازمی ارکان کے مدافع بھی تھے۔ چنانچہ، سپاہِ صحابہ کے مطابق، دفاعِ صحابہ پاکستان میں چند دہائیاں پہلے بننے والی کسی تنطیم کا مسئلہ نہیں ہے (76)۔

سپاہِ صحابہ نے یہ بیانیہ تشکیل دیا کہ خدا بھی اس سوچ کو قبول کرتا ہے اور اس سلسلے میں وہ سورة الفتح کی اٹھارویں آیت کو پیش کرتے ہیں جس کے مطابق خدا ان اہلِ ایمان سے راضی تھا جنہوں نے درخت کے نیچے پیغمبرِ اکرمؐ کی بیعت کی تھی۔ اسلامی مصادر کے مطابق یہ آیت 628ء میں نازل ہوئی۔ پیغمبرؐ اور انکے اصحابؓ کے ایک بڑے گروہ نے عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ جانا چاہا تھا مگر شہر میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔ مکہ والوں کے لشکر سے بچ کر وہ صحرا میں ایک گاوں میں آرام کیلئے رکے اور اپنے دشمنوں سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ اس دوران یہ افواہ پھیلی کہ انکے ایک سفیر عثمان ابن عفانؓ(متوفی 656ء)، جو بعد میں تیسرے خلیفہ بنے، مار دیئے گئے ہیں۔ رسول اللہؐ نے اپنے ساتھیوں کو تجدیدِ بیعت کیلئے کہا تاکہ ان سے عہد لیں کہ وہ انکا فیصلہ قبول کریں گے(77)۔

تاہم اورنگزیب فاروقی اس کو بالکل مختلف معنی دے کر اس واقعے (بیعتِ رضوان اور صلحِ حدیبیہ) کی اہمیت کے بارے میں تمام اسلامی روایت کے متنوع ورثے سے انحراف کرتا ہے(78)۔ اس کے مطابق اس بیعت کا مرکزی نکتہ خونِ عثمانؓ کا انتقام لینا تھا(79)۔ اور چونکہ وہاں موجود اصحابؓ نے ایک صحابیؓ اور اسکی ناموس کے ساتھ عقیدت کا اظہار کیا، اللہ نے ان سے راضی ہونے کا اور ان کے جنتی ہونے کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ آج کے دور میں سپاہِ صحابہ پورے ایمان کے ساتھ پیغامِ رسالت کے اس اہم حصے پر عمل کر کے خدا کے خصوصی انعامات کی حقدار ٹھہرتی ہے (79)۔

اگر کوئی اس تنظیم کے ایسی شخصیات سے منسلک ہونے پر اعتراض کرے کہ جن کا موجودہ پاکستان سے بظاہر کوئی تعلق نہیں تھا، تو سپاہِ صحابہ کے رہنما زور دے کر کہیں گے کہ کچھ صحابہؓ نے اس خطے میں اظہارِ وجود کیا ہے۔ محمد احمد لدھیانوی کا کہنا ہے کہ وہ ایک مرتبہ علی شیر حیدری کے ساتھ سندھ کے شہر خیر پور کے قریب سے گذرے جہاں وہ سڑک سے اتر کر ایک جگہ زیارت کیلئے گئے۔

انکا مقصد ایک قدیم قبرستان میں تین اصحاب رسولؓ کی قبور پر حاضری دینا تھا جو 711ء میں عربوں کی فتح سے پہلے اس علاقے میں آئے تھے۔ کچھ دن پہلے مقامی افراد ایک قبر کے قریب نئی قبر کھود رہے تھے کہ کچھ ایسے عجیب واقعات ہوئے جو وہ لوگ سپاہِ صحابہ کی قیادت کے علم میں لانا چاہتے تھے۔ سب سے پہلے تو ان ”صحابہؓ“ کی قبور سے ایک میٹھی خوشبو آنا شروع ہوئی کہ جو پورے علاقے میں پھیل گئی۔ (پھر دیکھا گیا کہ) ان تینوں ”صحابہؓ“ کے اجسام، یہاں تک کہ کفن بھی، صحیح و سالم تھے۔ ایک مقامی شخص نے ایک ”صحابی ؓ“کے ماتھے کو چھوا تو اسے تازہ پسینہ محسوس ہوا جس کی خوشبو ایک ماہ تک اسکے ہاتھ سے آتی رہی(80)۔

طویل مدتی فرقہ وارانہ مہم جوئی اور شیعوں کی تکفیر کا معمول

اب تک ہم نے یہ دیکھا ہے کہ 1979ء کے بعد سے کس طرح ایرانی انقلاب نے پاکستان میں شیعہ دشمنی کے نظریات کو تبدیل کیا اور ان میں سیاسی توجیحات کو مرکزی حیثیت دے دی۔ اس عمل نے صحابہؓ کے مقام و منزلت کے بارے میں عقائد کی قابلِ توجہ تشکیلِ نو کی۔ آخر میں ہم احسان الہٰی ظہیر کے زمانے سے جاری طویل مدتی شیعہ مخالف عقیدتی تبلیغ کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ ان کی بھرپور اور طاقت ور مہم کا اثر سیاسی پہلو کے آ جانے سے ختم نہیں ہوا، بلکہ ان کی کوششوں نے پاکستان میں ایک قابلِ توجہ رجحان کی بنیاد فراہم کی اور وہ فرقہ پرستی کے علم برداروں میں اس بات پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے کہ ان کا شیعوں کو غیر قرار دینے کا پیغام جڑ پکڑ چکا ہے۔ ان بیانات کو سپاہِ صحابہ کی لفظی مہم جوئی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ پاکستان میں فرقہ وارانہ شناختیں نمایاں ہو رہی ہیں لیکن یہ فرض کرنا ایک مبالغہ ہو گا کہ ملک کی متنوع سنی آبادی کی اکثریت ایسی سوچ رکھتی ہے۔ جدید اقوام شناسی کے علمی اصولوں کے مطابق بین المسالک شادیوں، عزاداری اور صوفیاء کے مزارات پر شیعہ و سنی کا ملنا جلنا اور اس قسم کے تعلقات کی مختلف جہتوں پر تحقیق ہونا باقی ہے(81)۔

 جب انہیں لوگوں کے ساتھ رابطے کا موقع ملتا ہے، چاہے وہ پاکستان کے ٹی وی چینلز پر انٹرویو کی صورت میں ہو یا سپاہِ صحابہ کے اجتماعات اور جلوسوں سے خطاب کی شکل میں، وہ شیعیت کو کفر کے مساوی شمار کرتے ہیں۔ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گویا سنیوں میں شیعوں کی تکفیر پر ایک حقیقی اور عالمگیر اتفاق پایا جاتا ہے۔ مشرقِ وسطی، خلیجِ فارس اور جنوبی ایشیاء کے علماء کی جانب سے بڑی تعداد میں فتوے جاری کرنا انکے موقف کے برحق ہونے کی دلیل ہے(82)۔ احسان الہٰی ظہیر کے زمانے کے برعکس، علی شیر حیدری مطابق اب اسے اپنے سامعین کے سامنے لمبے چوڑے دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ خود بھی صحابہؓ کی توہین کرے وہ کائنات کا بدترین، کالا کافر ہے۔ ملک کے گلی کوچے سپاہ صحابہ کی پہچان بننے والے نعرے ”کافر کافر شیعہ کافر“سے گونج رہے ہیں اور اسے کوئی نہیں روک سکتا(83)۔ نتیجتاً سنیوں اور شیعوں میں بھائی چارہ قائم کرنے کی کوششیں سعیِ لاحاصل ہیں(84)۔

اس قسم کی ذہنیت جہاں خلیجِ فارس کی وہابی سلفی فکر کے دائمی اور عمیق اثرات کا پتا دیتی ہے وہیں اسکا عکس تحریکِ طالبان پاکستان کی طرف سے شیعوں کے بارے میں جاری کردہ اعلامیوں میں بھی سامنے آتا ہے، جو 2007ء کے بعد مختلف دہشتگرد گروہوں کے اکٹھ کے طور پر منظرِ عام پر آئی(85)۔ ویڈیو بیان میں عمر خالد خراسانی کو دکھایا گیا ہے۔ یہ وہی بدنامِ زمانہ سرغنہ ہے جو 16 دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک سکول پشاور اور جنوری 2016ء میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ہے(86)۔ یہ جولائی 2016ء میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا(87)۔ اپنے ویڈیو بیان میں عمر خالد خراسانی نے پاکستان کے خلاف جہاد کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ حکومت شیعوں کے زیرِاثر ہے، جبکہ اس نے شیعوں کے پسِ پردہ کردار کا کوئی ثبوت پیش کرنا ضروری نہ سمجھا۔ اس نے نومبر 2013ء کو راجہ بازار راولپنڈی میں فرقہ وارانہ تشدد کے ایک واقعے کا حوالہ دیا۔

جب شیعوں کا عزاداری کا جلوس دیوبندی ادارے جامعہ تعلیم القرآن کے سامنے سے گذرا تو، ایک اخبار کے مطابق، مقامی امامِ جمعہ نے مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر شیعوں کے خلاف سخت توہین آمیز باتیں کیں۔ اس کے بعد ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی جس میں پہلے پتھراؤ ہوا اور پھر فائرنگ اور آتش زنی شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں نو لوگ جان کی بازی ہار گئے(88)۔ عمر خالد خراسانی نے فوراً حفاظت پر مامور اہلکاروں پر الزام لگایا کہ وہ اس تشدد کے دوران دور کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ مدرسے کے خلاف شیعوں کی یک طرفہ کاروائی سے چشم پوشی کر رہے تھے(89)۔ اسکے بقول نہایتاً یہ پاکستانی ریاست اور اسکی مرتد فوج تھی جس کو اس سارے واقعے کا الزام دینا چاہیئے، اور وہ میڈیا جس نے مقتولین کی تعداد کم ظاہر کی، جو دراصل ستر، یا اسی یا اس سے زیادہ تھی۔ یہ پردہ پوشی اور سہولت کاری حکومت کے دہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔

اگر ایسے ہی کسی واقعے میں دو شیعہ قتل ہو جاتے تو سوگ کا اعلان کیا جاتا اور متاثرین کے خاندانوں کو زرِ تلافی دیا جاتا۔ اس نے مزید یہ کہا کہ راولپنڈی میں کرفیو لگا کر مقتولین کی نمازِ جنازہ نہ ہونے دی گئی (90)۔ اس کے مطابق اس سے کم تشدد نے عرب ممالک میں عرب بہار کے نام سے اٹھنے والی انقلابی موج کو جنم دیا تھا۔ شام میں شیعہ حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا گیا تھا، اور پاکستان میں، جہاں شیعہ شام سے زیادہ مضبوط ہیں، اس جہاد کی زیادہ ضرورت تھی(91)۔ مستقبل میں جو انقلاب آئے گا وہ پاکستانی عوام کو شیعوں اور کافروں کی غلامی سے نجات دے گا(92)۔

(اس واقعے کے چار سال بعد پاک فوج کے ترجمان نے مورخہ 22 اگست 2017ء کو پریس کانفرنس کر کےتازہ گرفتار ہونے والے تحریکِ طالبان پاکستان کے ان دہشتگردوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جنہوں نے عمر خالد خراسانی کے منصوبے کے مطابق عاشوراءکے دن جامعہ تعلیم القرآن میں اندر سے آگ لگائی اور لوگ قتل کئے تھے تاکہ بڑے پیمانے پر فسادات کی آگ بھڑکائی جا سکے۔ تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو:

https://www.dawn.com/news/1353115)

یہ واضح فرقہ پرستانہ موقف قابلِ غور ہے۔ جب تحریکِ طالبان پاکستان نے 2007ء میں اپنا منشور شائع کیا تو بظاہر اس کے نصب العین میں فرقہ واریت شامل نہ تھی(93)۔ پاکستان کے شیعہ دشمن عناصر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حالات شیعوں کے خلاف ہو چکے ہیں اور ان کا کفر سب پر عیاں ہو چکا ہے۔

نتیجہٴ بحث

پاکستان کے شیعہ دشمن عناصر کی سوچ پر خلیجِ فارس سے اٹھنے والے تصورات کا گہرا اثر رہا ہے۔ لیکن بات 1970ء کی دہائی سے آگے بڑھ چکی ہے، جب مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے احسان الہٰی ظہیر پاکستان آئے اور پرزور انداز میں شیعوں کو کافر قرار دینے کی مہم چلائی۔ سپاہِ صحابہ نے انہی خطوط پر کام کرنے اور قدیم مسلکی استعاروں کو استعمال کرنے کے بجائے فرقہ واریت کو ایک نیا رنگ دیا جو سعودی مذہبی رہنماؤں کے مباحث سے آگے نکل گیا ہے۔ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے علماء نے شیعوں کے وجود کو ملک کے بنیادی سیاسی نظریئے کیلئے نقصان دہ قرار دیا، جو انکی نظر میں اسلام کے عالمگیر غلبے سے عبارت ہے۔ اپنے استدلال کو قوی تر بنانے کیلئے وہ دو دھاری تلوار کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ صحابہؓ کے بارے میں غلو کرتے ہوئے ان کو شیعیت میں آئمہؑ کے مقام و مرتبے کے برابر لے آتے ہیں اور دوسری طرف وہ اپنا پورا زور اس بات پر لگا دیتے ہیں کہ صحابہؓ کا دفاع تمام مذہبی فرائض کا محور ہے۔ جنوبی ایشیاء اور مشرقِ وسطی میں پیدا ہونے والے ان مسلکی اور سیاسی نظریات کا گٹھ جوڑ، جو پاکستانی طالبان جیسے نئے کرداروں کی طرف سے اپنایا گیا ہے، شیعہ سنی وحدت کے امکانات کو بہت کم کر دیتا ہے۔ ایک بار ان خیالات کو ایک بدیہی حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا تو ان کا توڑ کرنا بہت مشکل ہو گا۔

اس باب میں فرقہ واریت کے بیانئے کی مختلف پرتوں کو نمایاں کرنے کی اہمیت کو ظاہر کیا گیا ہے، جو پہلی نظر میں ایک جیسی لگتی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ علاقہ بدلنے سے یہ سوچ تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ شیعوں کی تکفیر ایک مشترکہ ہدف ہے لیکن سعودی اور پاکستانی علماء کا طرزِ عمل فیصلہ کن انداز میں ایک دوسرے سے مختلف ہے(94)۔ عقیدتی اختلافات کے غلبے کے مفروضے کو چھوڑ کر فرقہ واریت کے سیاسی پہلو کو سمجھنے کے لئے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ ایسے ممکنہ موضوعات موجود ہیں جو ان پہلوؤں کے تقابلی جائزے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر داعش نے آخری زمانے کے بارے میں آنے والی روایات کو سیاسی چہرہ دے کر دنیا بھر سے جہاد کے شوقین افراد کو شام میں جمع کر لیا(95)۔ لیکن آخری زمانے کو قریب لانا اور امام مہدیؑ کے آنے کیلئے میدان ہموار کرنے کا تصور تو شیعی فکر میں زیادہ نمایاں رہا ہے(96)۔

اسکے برعکس سپاہِ صحابہ اس قسم کے خیالات کو اپنانے سے بالکل الگ رہی ہے۔ الٹا ان کے فوت شدہ رہنما پیچھے رہ جانے والوں کو خوابوں میں یہ کہتے نظر آئے کہ وہ جنت جانے کی نسبت پاکستان میں شیعہ مخالف جہاد کو زیادہ پسند کرتے ہیں(97)۔ یوں سپاہِ صحابہ کی توجہ دنیاوی زندگی کے معاملات پر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پاکستان کو اپنی تعبیر کے مطابق ڈھالنے میں کس قدر دلچسپی رکھتے ہیں؟ یہ داعش سے بالکل مختلف سوچ ہے، داعش تطہیرِ مسلک کے معاملے میں اپنے سلفی کٹر پن کا کھل کر اظہار کرتی ہے اور مسلح جدوجہد کے ذریعے روایتی سیاسی مراتب کے اعتبار سے ترقی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطی، خلیجِ فارس اور جنوبی ایشیاء میں فرقہ وارانہ نظریات کا دقیق مطالعہ اس پہلو کو بھی سامنے لائے کا کہ یہ نسلی برتری کے نظریات سے کس قسم کا تعلق رکھتے ہیں؟ سعودی علماء اکثر ایران کے خلاف خدا کے عربوں کو افضل قرار دینے دینے کا استدلال پیش کرتے ہیں(98)۔ پاکستانی فرقہ واریت کے بیانئے سے یہ استدلال بالکل غائب ہے۔

حوالہ جات

(1) For a thorough analysis of tensions between the two sects in undivided colonial India, see Jones, Justin, Shi‘a Islam in Colonial India, Cambridge, Cambridge University Press, 2011, pp. 186-221. The first decades after Partition witnessed Shi‘iorganisations voicing demands vis-à-vis the state but few actual instances of violence. See Rieck, Andreas, The Shias of Pakistan. An Assertive and Belaguered Minority, London, Hurst, 2015, pp. 55-195.

(2) For a study of the international dimension of the Islamic University, which was envisioned as an instrument to spread Salafism on a global scale, see Farquhar, Michael, ‘Saudi Petrodollars, Spiritual Capital, and the Islamic University of Medina: A Wahhabi Missionary Project in Transnational Perspective,’ IJMES, 47 (2015), pp. 701–25.

(3) Haykel, Bernard, ‘Al-Qa’ida and Shiism,’ in Moghadam, Assaf and Brian Fishman (eds), Fault Lines in Global Jihad: Organizational, strategic and ideological fissures, Milton Park, Routledge, 2011, p. 191.

(4) A particularly striking example is Ahmed, Khaled, Sectarian War. Pakistan’s Sunni-Shia Violence and its Links to the Middle East, Karachi, Oxford University Press, 2011. See also Cockburn, Patrick, The Rise of the Islamic State. ISIS and the New Sunni Revolution, London, Verso, 2015, pp. 108-9.

(5) For a detailed discussion, see Fuchs, Simon Wolfgang, Relocating the Centers of Shiʿi Islam: Religious Authority, Sectarianism, and the Limits of the Transnational, Unpublished PhD Dissertation, Princeton University, 2015, pp. 68–84 and pp. 254–309.

(6) See Fuchs, Simon Wolfgang, ‘Third Wave Shiʻism: Sayyid ‘Arif Husain al-Husaini and the Islamic Revolution in Pakistan,’ Journal of the Royal Asiatic Society, vol. 24, no. 3 (2014), pp. 493–510.

(7) See Fuchs, Relocating the Centers of Shiʿi Islam, op. cit. (2015), pp. 254–309.

(8) For a comprehensive account of acts of violence committed by both Sunni and Shi‘i actors in Pakistan during the first fifteen years of the twenty-first century, see Rieck, The Shias of Pakistan, op. cit., pp. 276–97.

(9) On the history of the SSP and its role in spreading sectarian discourses in Pakistan, see Zaman, Muhammad Qasim, ‘Sectarianism in Pakistan: The Radicalization of Shi‘i and Sunni Identities,’ Modern Asian Studies, vol. 32, no. 3 (1998), pp. 689–716 and AbouZahab, Mariam, ‘The SSP: Herald of Militant Sunni Islam in Pakistan,’ in Gayer, Laurent and Christophe Jaffrelot (eds), Armed Militias of South Asia: Fundamentalists, Maoists and separatists, New York, Columbia University Press, 2009, pp. 159–76. In January 2002, Pakistan’s military ruler Pervez Musharraf not only banned several sectarian and militant outfits but also prohibited religious organisations from adopting names that had a military ring to it such as jaysh, lashkar, or sipah, all of which mean army. See ‘Lashkar, Jaish, TJP, TNSM & SSP banned; ST under watch,’ Dawn, 13 January 2002, http://www.dawn.com/news/14777/lashkar-jaish-tjp-tnsm-ssp-banned-st-under-watch, accessed 22 July 2016. ASWJ leaders keep publicly denying that their organisation is the successor to the SSP. See Tal‘atHusayn with Ahmad Ludhiyanvi, ‘Naya Pakistan: Firqahvariyyataurkal‘adamtanzimen,’ Geo TV, 23 February 2015, https://www.youtube.com/watch?v=I4plnbrlw_s, accessed 8 June 2016, min. 4:15.

(10) In 2012 Lashkar-e-Jhangvi’s founder Malik Ishaq (d. 2015) was made vice-president of the ASWJ. See Mehmood, Rabia, ‘Malik Ishaq made vice president of banned ASWJ,’ The Express Tribune, 18 September 2012, http://tribune.com.pk/story/438715/road-to-peace-ishaq-made-vice-president-of-banned-aswj, accessed 20 June 2016. He was later ejected from the party due to serious internal frictions about strategy and because he was suspected of having been involved with the killing of a rival ASWJ member. See Kalbe Ali, ‘Malik Ishaq had serious differences with Ludhianvi: observers,’ Dawn, 25 August 2015, http://www.dawn.com/news/1202616/malik-ishaq-had-serious-differences-with-ludhianvi-observers, accessed 23 July 2016.

(11) Haydari was born in 1963 in a village in Pakistan’s Khairpur District in Sindh where he also received his initial education. He studied Islamic law at Ratodero, not far away from Larkarna, before founding his own seminary in Khairpur in 1987. Joining the SSP under the influence of its founder HaqqNavazJhangvi (d. 1989), Haydari was elected chief patron of the organisation after the assassination of Ziya al-RahmanFaruqi in 1997. He was killed in 2009 near his home village of Pir Jo Goth when twenty armed men attacked his vehicle in the middle of the night. See Dastavezi film: ‘Allamah ‘Ali SherHaydari, shahid-i namus-i sahabaKarar Productions, https://www.youtube.com/watch?v=siG3f8IEOfY, accessed 23 July 2016.

(12) Ludhiyanvi was born in 1952 in Kamalia (Toba Tekh Singh district) into a family that had migrated to Pakistan from Raikot, located in present-day Indian Punjab. He attended madrasas in Faisalabad, Sahiwal, and Multan before founding his own religious seminary in the village 168/9 L, south-east of Sahiwal. He was involved with the student wing of the Jama‘at-i Islami, the anti-Ahmadi agitations of the 1970s, and the protests against former president Zulfikar Ali Bhutto. In 1989, he joined the SSP, supposedly as a reaction to public Shi‘i denunciations of the Companions of the Prophet. Ludhiyanvi quickly rose through the organization’s ranks, becoming president of its Punjab chapter in 1995. After the assassination of A‘zam Tariq in 2003 he succeeded him as president of what was then known as Millat-i Islami (The Islamic Nation). See Arshad, Muhammad Navid, ‘Maulana Muhammad Ahmad Ludhiyanvimaddazillahu (khandani o jama‘atiihalat-i zindagi par eknazar),’ in Arshad, Muhammad Navid, (ed.), Sada-yiLudhiyanvi, Kamaliyyah, Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘at, 2007, pp. 23–28.

(13) Aurangzeb Faruqi hails from Karachi. He was chosen for his first SSP office as a local unit leader in 1994 while still being a student. After completing the curriculum (dars-i nizami) at Karachi’s Jami‘ah-i Faruqiyya in 1997, he became a full time party activist. Faruqi was appointed to various positions in Karachi and became the deputy leader for the Sindh province in 2005. Attracting the attention of influential party activists, he was first made general secretary and chief of the Ahl-i Sunnat Media Cell in 2011 (in the capacity of which he launched the weekly Ahl-i Sunnat) and finally elected central president in November 2015. See Hanafi, Taj Muhammad, “Allamah Ghazi Aurangzeb Faruqihamdard se le karmarkazisadrtak,’ Ahl-i Sunnat, 4 (13–19 November 2014), p. 2.

(14) For the Saudi case, see Ismail, Raihan, Saudi clerics and Shi‘a Islam, New York, Oxford University Press, 2016, p. 12. I refer to the argument of Ismail’s book in more detail below.

(15) I do not engage here with another important argument, namely the prevalence of local disputes between a rising Sunni middle class and influential Shi‘i landlords in the district of Jhang as an impetus for sectarian conflict in the 1980s. See Kamran, Tahir, ‘Contextualizing Sectarian Militancy in Pakistan: A Case Study of Jhang,’ Journal of Islamic Studies, vol. 20, no. 1 (2009), pp. 55–85. Even though these conflicts played a role for its founding, the SSP/ASWJ has increasingly moved away from such purely local origins and also reads its own history in a different light. See below as well as Fuchs, Relocating the Centers of Shiʿi Islam, op. cit., pp. 282–87.

(16) For a further discussion of the Companions’ religious significance and debates within the Islamic scholarly tradition regarding their identity, see Khalek, Nancy, ‘Medieval Biographical Literature and the Companions of Muḥammad,’ Der Islam, vol. 91, no. 2 (2014), pp. 272–94.

(17) For the Shi‘a concept of the Imamate, see Halm, Heinz, Shi‘ism, New York, Columbia University Press, 2004, pp. 28–44.

(18) For Zahir’s sectarian thinking, see Fuchs, op. cit. (2015), pp. 271–82. For an excellent study of polemics against the Shi‘as and Shi‘i views on the integrity of the Quranic text, see Brunner, Rainer, Die Schia und die Koranfälschung, Würzburg, Ergon, 2001.

(19) For a detailed exposition of all topics touched upon by Saudi scholars, see Ismail, op. cit., pp. 54–95.

(20) Ibid., pp. 144–52.

(21) Ibid., pp. 157–62 and pp. 166–89.

(22) Ibid., p. 202. This relative consistency of religious polemics has to be distinguished from efforts by political elites in the Gulf, described as ‘sectarian identity entrepreneurs’ by Toby Matthiesen, to employ sectarian arguments in the wake of the Arab spring as a ‘short-term solution […] to weather the storm and to further isolate Iran.’ See Matthiesen, Toby, Sectarian Gulf. Bahrain, Saudi Arabia, and the Arab Spring that wasn’t, Stanford, Stanford University Press, 2013, p. 127. For the political management and oppression of Saudi’s Shi‘i minority, see Matthiesen, Toby, The other Saudis. Shiism, Dissent and Sectarianism, Cambridge, Cambridge University Press, 2014.

(23) Al-Rasheed, Madawi, Contesting the Saudi State: Islamic Voices from a new Generation. Cambridge, Cambridge University Press, 2007, pp. 59–101.

(24) See ‘Know your enemy: Who were the Safawiyyah’ and ‘The Rafidah. From Ibn Saba’ to the Dajjal,’ Dabiq, Rabi’ al-Akhir 1437 (January 2016), pp. 10–13 and pp. 32–45.

(25) Husayn, ‘Umar, ‘Nohaaurmatam… haqiqatkaasl-i rukh,’ Ahl-i Sunnat, 3 (7–13 Nov 2014), p. 2, Ta‘aruf… Aghraz… nasb al-‘ayn… Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘atkyacahti he?, Islamabad: Sha‘bah-i nashr o isha‘at-i Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘at, p. 15, and ‘Sarkari TV par sahabah-i kiramkigustakhilamhah-i fikriyya,’ Ahl-i Sunnat, 4 (13–20 November 2014), p. 2.

(26) See Husayn with Ludhiyanvi, ‘Naya Pakistan: Firqahvariyyataurkalʿadamtanzimen,’ min. 5.00 and ‘Umar, ‘Nohaaurmatam.’ In reality, Jinnah was born into a KhojaIsma‘ili family but converted to TwelverShi‘a Islam around 1904 when he was 28 years old. See Wolpert, Stanley A., Jinnah of Pakistan, New York, Oxford University Press, 1984, p. 18. The purported lines by Iqbal, featured along with his portrait in Ahl-i Sunnat, were most likely penned by the Deobandi scholar Muhammad Taqi ‘Usmani (SajjadRizvi, University of Exeter, personal communication, 24 June 2016).

(27) Ludhiyanvi, Muhammad Ahmad, ‘Mahbub-i Subhani,’ in Arshad(ed.), Sada-yiLudhiyanvi, op. cit., p. 74.

(28) Siddiqi, Mazhar Mahmud, ‘Sanihah-i Peshavaraur liberal soc,’ Ahl-i Sunnat, 10 (26 December 2014–3 January 2015), p. 2. In this contribution Siddiqi lumps the attack by the Pakistani state on the infamous Lal Masjid (Red Mosque) in Islamabad in 2007 together with sectarian clashes in Rawalpindi in November 2013. See below for a more detailed discussion of both incidents.

(29) See ‘Maulana Aurangzeb Faruqi se Do Talk kiguftigu,’ Metro News, 15 December 2014, https://www.youtube.com/watch?v=OpdJ0CHQ1hE, accessed 8 June 2016, min. 1.15 and Ta‘aruf… Aghraz… nasb al-‘ayn…, pp. 13–14.

(30) See Haydari, ‘Ali Sher, ‘Payghambar-i inqilab,’ in Qasimi, Muhammad Nadim (ed.), Javahirat-i Haydari, Karachi: Idarat al-Anwar, 2010, pp. 53–4 and Faruqi, Aurangzeb, Difa‘-i sahabahkyunzaruri he?, Kulaci, Jarvar Academy Pakistan, p. 24.

(31) This applies, for example, to the report on the SSP activist Qari al-Rahman, assassinated already in December 1994, or Mufti Mu‘aviyah, killed in December 2012. See Kalyanavi, IbnZuhayr, ‘Parvanesahabarazi Allah ‘anhumkeMaulanaQariSa‘id al-Rahmanshahidrahimmahu Allah,’ Ahl-i Sunnat, 9 (19–25 December 2014), p. 2 and idem, ‘Parvanesahabarazi Allah ‘anhumke Mufti Mu‘aviyashahidrahimmahu Allah,’ Ahl-i Sunnat, 10 (26 December 2014–3 January 2015), p. 2.

(32) ‘Dahshatgirdikekhilaf action men insaflazimi he,’ Ahl-i Sunnat, 11 (9–15 January 2015), p. 2. See also Faruqi, Aurangzeb, ‘Mufti MunirMu‘aviyahshahidkemazlumanahqatl,’ 5 January 2014, http://www.dailymotion.com/video/x19c9o6_allama-ghaziaurangzeb-farooqui-s-speech-against-sunni-killing-in-pakistan-at-karachi-press-club-on_tv, last accessed 13 July 2016, idem, ‘Labbaykaharamaynsharifayn,’ https://www.youtube.com/watch?v=A7wW8ljIhrs, last accessed 8 June 2016, min. 7:55, and Fayyaz, Muhammad, ‘Doctor Muhammad Fayyazshahid, akhiritaqrir, 22 February 2015,’ https://www.youtube.com/watch?v=BADzaw7dLyQ, last accessed 13 July 2016, min. 12.30.

(33) Ludhiyanvi, Muhammad Ahmad, ‘Maulana Muhammad A‘zam Tariq,’ in Arshad (ed.), Sada-yiLudhiyanvi, op. cit., pp. 224–5. The ASWJ frequently highlights its own restraint and calming intervention after yet another assassination of one of their party workers and leaders. See ‘Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘atkihissasidaronkomunfaridpeshkash,’ Ahl-i Sunnat, 9 (9–15 December 2014), p. 2. Yet, despite this official line, the reaction of the audience at times betrays diverging convictions. During one of Ludhiyanvi’s speeches, for example, the crowd started to address ‘Ali SherHaydari with the following slogan: ‘shi‘onkigirdinpehchuripher—‘Ali Sher ‘Ali Sher’ (‘Ali Sher is the one who moves the knife across the Shi‘as’ neck). Ludhiyanvi, in response, did not disavow the slogan but rather said there was ‘no need’ (zaruratnahin) to take such an action. See Ludhiyanvi, ‘A‘zam Tariq shahid o ummi ‘A’isha,’ p. 238.

(34) On these aspects, see Rieck, The Shias of Pakistan, op. cit., pp. 31–53 and Qasmi, Ali Usman, The Ahmadis and the Politics of Religious Exclusion in Pakistan, London, Anthem Press, 2014.

(35) Ta‘aruf… aghraz… nasb al-‘ayn, p. 6.

(36) Ibid., p. 7. See also Hassan, Sajid, ‘Clean Chit with AurangzaibFarooqui (A.S.W.J.),’ AbbTakk News, 22 Feb 2014, http://www.dailymotion.com/video/x1d5o40_allamaghazi-aurangzaib-farooqui-s-explain-objectives-of-sipah-e-shaba-in-clean-chit-on-abbtakk-news_news, accessed 12 July 2016, min. 2.50.

(37) Faruqi, Difa‘-i sahabahkyunzaruri he?, p. 25.

(38) Ta‘aruf… aghraz… nasb al-‘ayn, pp. 7–8. For more information on the TNFJ and its far more complicated relationship with Iran, see Rieck, The Shias of Pakistani, op. cit., pp. 207–31 and also Fuchs, op. cit. (2014).

(39) Ta‘aruf… aghraz… nasb al-‘ayn, p. 8. On IbnTaymiyya’s view on Shi‘i Islam, see Ismail, op. cit., pp. 45–9. On Shah Wali Allah, see Rieck, The Shias of Pakistan, op. cit., pp. 15–16. On Lakhnavi, see Jones, Shi‘a Islam in Colonial India, op. cit., p. 188.

(40) Ta‘aruf… aghraz… nasb al-‘ayn, p. 9.

(41) Ibid., pp. 9–10 and pp. 28–9.

(42) Bunzel, Cole, ‘From Paper State to Caliphate: The Ideology of the Islamic State,’ Brookings Project on U.S. Relations with the Islamic World, Analysis Paper 19 (March 2015), http://www.brookings.edu/research/papers/2015/03/ideology-of-islamic-state, accessed 27 July 2016.

(43) Haydari, Kalim Allah, ‘Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘at hi par ilzam… akhirkyun?,’ Ahl-i Sunnat, 5 (21–27 Nov 2014), p. 2. In November 2014, a report prepared by the Department of Internal Affairs of Pakistan’s Balochistan province stated that ISIS had already taken root in Pakistan. It had supposedly established contacts with the ASWJ and debated whether it should outsource its anti-Shi‘i activities to Lashkar-e-Jhangvi while concentrating on attacks against Pakistan’s army. See Zaidi, Mubashir, ‘IS recruiting thousands in Pakistan, govt warned in “secret” report,’ Dawn, 08 November 2014, http://www.dawn.com/news/1143133, last accessed 28 July 2016.

(44) ‘Da‘ishka propaganda Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘atkekhilafsazish he, ‘Allamah Ahmad Ludhiyanvi,’ Ruznamah-i Pakistan, 11 November 2014, http://dailypakistan.com.pk/metropolitan1/11-Nov-2014/161649, accessed 27 July 2016.

(45) Hanafi, Taj Muhammad, ‘Firqahvaranahdahshatgardi – sababaurtadaruk,’ Ahl-i Sunnat, 7 (11–17 December 2014), p. 2. ASWJ leaders repeatedly pointed to the impressive size of their organization which could easily turn out 100,000 adherents as happened, for example, in October 2014 in Karachi. See ‘Karaci men yadgarmadh-i sahabamutalabatijulus,’ Ahl-i Sunnat, 2 (31 October 2014), p. 2.

(46) Shah, Muhammad Sikandar, ‘Ahl-i Sunnatwa-l-Jama‘athaqiqiinqilabijama‘at,’ Ahl-i Sunnat, 6 (28 November–6 December 2014), p. 2.

(47) Ludhiyanvi, Ahmad, ‘A‘zam Tariq shahid o ummi ‘A’isha,’ p. 235 and idem, ‘Mahbub-i subhani,’ pp. 78–79. For the importance of dreams in modern Islam, see Mittermaier, Amira, Dreams that matter. Egyptian landscapes of the imagination, Berkeley, University of California Press, 2011.

(48) According to Andreas Rieck, at this point most MNAs had already walked out ‘because of the unruly behaviour of the opposition’ (see Rieck, The Shias of Pakistan, op. cit., p. 254). See also Qasim, Muhammad Nadim, Hayat-iA‘zam Tariq. Maulana Muhammad A‘zam Tariq kemufassilhalat-i zindagi, Faysalabad: Isha‘at al-Ma‘arif, 1998, pp. 121–3.

(49) Ludhiyanvi, ‘A‘zam Tariq shahid o ummi ‘A’isha,’ pp. 231–2.

(50) For demands regarding the imposition of the death penalty for insulting the sahabah, see ‘Dahshatgardika hall… Army Chiefkopeshkash,’ Ahl-i Sunnat, 13 (16–22 January 2015), p. 2.

(51) For the outsize role which colonial law in Pakistan still plays today, despite all attempts at ‘Islamization,’ see Siddique, Osama, Pakistan’s Experience with Formal Law: An Alien Justice, Cambridge, Cambridge University Press, 2013. The ASWJ does not spell out how its amorphous notion of Hanafifiqh should be implemented and/or codified. For a discussion of the thorny issue of codifying the shari‘a among Deobandi scholars in Pakistan, see Zaman, Muhammad Qasim, The Ulama in Contemporary Islam. Custodians of Change, Princeton, Princeton University Press, 2002, pp. 93–9.

(52) Iran’s Sunni population is most likely somewhere closer to a figure between 5 to 10 per cent of her population.

(53) Ta‘aruf… aghraz… nasb al-‘ayn, p. 14. For an astute argument that ‘the relegation of religion and family to the private sphere is a signal feature’ of secularism as a ‘shared modality of legal-political structuration that cuts across the Western and non-Western divide,’ see Saba Mahmood, Religious Difference in a Secular Age. A Minority Report, Princeton, Princeton University Press, 2016, pp. 111–48.

(54) The pioneering observation of this phenomenon can be found in Zaman, ‘Sectarianism in Pakistan,’ pp. 702–3. See also the following section of this chapter, as well as Fuchs, Relocating the Centers of Shiʿi Islam, op. cit., pp. 287–300.

(55) For the domestic as well as international salience of khatt-i imam, see Reda, L.A., ‘Khatt-e Emam: The Followers of Khomeini’s Line,’ in Adib-Moghaddam, Arshin (ed.), A Critical Introduction to Khomeini, Cambridge, Cambridge University Press, 2014, pp. 115-36. For an elaboration of Jhangvi’s line, see Ludhiyanvi, ‘Mahbub-i Subhani,’ p. 76, and idem, ‘Khatm-i nubuvvat o difa‘-i sahabah,’ in Arshad (ed.), Sada-yiLudhiyanvi, op. cit., p. 113.

(56) Kalyanavi, IbnZuhayr, ‘Parvanesahabarazi Allah ‘anhumke hafiz ‘Abd al-RahmanBandhanishahidrahimmahu Allah,’ Ahl-i Sunnat, 7 (11–17 December 2014), p. 2. On the concept of khums in Shi‘i jurisprudence, see Sachedina, Abdulaziz, ‘Al-Khums: The Fifth in the ImamiShiʿi Legal System,’ Journal of Near Eastern Studies, vol. 39, no. 4 (1980), pp. 275–89.

(57) A video released on the occasion of a designated ‘Martyrs’ Day’ depicted the organisation’s leaders as tenderly caring towards the sons and brothers of slain ASWJ members. The ulama helped the children into the swimming pool of a rented Karachi holiday resort, pushed them on swings, and distributed sweets. These scenes were interspersed with attempts at extracting sectarian slogans from the children and giving speeches. Ahl-i-Sunnat Media Cell, ‘Shuhada’ Day, khususi report,’ 3 June 2016, https://www.youtube.com/watch?v=kV1hp6PGSSU, last accessed 10 July 2016. Space limitations do not allow here for a fuller elaboration on how essential the narrative of martyrdom and its construction (both pertaining to Karbala as well as the war with Iraq) was and still is in the Islamic Republic. See Kamran, Scot A., Martyrs of Karbala: Shii symbols and rituals in modern Iran, Seattle, University of Washington Press, 2004 and Devictor, Agnès, Images, combattants et martyrs. La guerre Iran-Irakvue par le cinémairanien, Paris, ÉditionsKarthala, 2015.

(58) For a discussion of the seminary, the circumstances of the siege, and Lal Masjid’s attitude towards Shi‘i Islam, see Blom, Amélie, ‘Changing Religious Leadership in Contemporary Pakistan: The Case of the Red Mosque,’ in Lyon, Stephen M. and Marta Bolognani (eds), Pakistan and its Diaspora. Multidisciplinary approaches, New York, Palgrave Macmillan, 2010, pp. 135–68. See also Abbas, Hassan, The Taliban Revival. Violence and extremism on the Pakistan-Afghanistan frontier, New Haven, Yale University Press, 2014, pp. 121-40.

(59) Ludhiyanvi, Muhammad Ahmad, ‘Sanihah-i Lal Masjid aurakabirinkizimmahdari,’ in Arshad (ed.), Sada-yiLudhiyanvi, op. cit., p. 282.

(60) Haydarii ‘Ali Sher, ‘Karbala-yiLal Masjid,’ in Qasimi (ed.), op. cit., p. 264.

(61) Ibid., p. 265.

(62) See Haydari, ʿAliSher, ‘Shan-i ahl-i bayt,’ in Qasimi (ed.), op. cit., p. 177. During the jihad in Afghanistan, the Arabophone and closely Saudi-aligned Afghan party leader ʻAbd al-RasulSayyaf (b. 1946) went as far as changing his name to ʻAbdRabb al-RasulSayyaf in order to meet Wahhabi sensibilities. His original name was problematic insofar as it termed him to be the Servant of the Messenger, i.e. Muhammad. This would give undue veneration to the Prophet of Islam and infringe on God’s right to exclusive worship. Sayyaf’s ‘new’ name translates instead as Servant of the Lord of the Messenger. See Edwards, David B., Before Taliban. Genealogies of the Afghan jihad, Berkeley, University of California Press, 2002, pp. 266–7.

(63) See Haydari, ‘Shan-i ahl-i bayt,’ op. cit., p. 158.

(64) Ludhiyanvi, ‘Mahbub-i Subhani,’ op. cit., p. 82.

(65) Haydari, ‘Shan-i ahl-i bayt,’ op. cit., p. 168. Such an argument raises the question of how we can know about the conduct of the sahaba if not via their own transmission, thus displaying problems of circularity.

(66) See Bar-Asher, MeʼirMikhaʼel, Scripture and exegesis in early Imami-Shiism, Leiden, Brill, 1999, pp. 93–8.

(67) Haydari, ‘Ali Sher, ‘‘Ibadatkaqiblabayt Allah aurita‘atkaqiblasahabah-i kiram,’ in Qasimi (ed.), op. cit., pp. 108-9.

(68) Haydari, ‘Shan-i ahl-i bayt,’ p. 169.

(69) Ta‘aruf… Aghraz… nasb al-‘ayn…, p. 34.

(70) On the complex discussion within the Muslim scholarly tradition regarding these two categories of Qur’anic verses, see Kinberg, Leah, ‘Muḥkamat and Mutashabihat (Koran 3/7): Implications of a Koranic Pair of Terms in Medieval Exegesis,’ Arabica, vol. 35, no. 2 (1988), pp. 143–72.

(71) Haydari, ‘Ali Sher, ‘Qur’an aur sahib-i qur’an,’ in Qasimi (ed.), op. cit., pp. 66–7.

(72) While it is not uncommon for Sunni authors to include the Prophet’s wives in their definition, it is very rare to do so exclusively. For a study of the shifting terminology during the first centuries of Islam, see Sharon, Moshe, ‘Ahl al-Bayt – People of the House,’ Jerusalem Studies in Arabic and Islam, no. 8 (1986), pp. 169–84.

(73) Faruqi, Difa‘-isahabahkyunzaruri he?, p. 25 and Hanafi, RabbNavaz, ‘Special Message About Youm-e-Ammi Ayesha Siddiqa (Raziallahoanha),’ 22 June 2016, https://www.youtube.com/watch?v=-bPZV-mkPUg, accessed 29 July 2016, min. 4:45.

(74) Faruqi, Difa‘-i sahabahkyunzaruri he?, op. cit., pp. 18–19.

(75) Haydari, ‘Shan-i ahl-i bayt,’ p. 175.

(76) Ibid., pp. 176-7.

(77) Watt, W. Montgomery, ‘al-Ḥudaybiya,’ in Bearman, P. et al (eds), Encyclopaedia of Islam, Second Edition, Leiden, Brill, 1960-2007, http://dx.doi.org/10.1163/1573-3912_islam_SIM_2922, accessed 29 July 2016.

(78) Görke, Andreas, ‘Die frühislamischeGeschichtsüberlieferungzuḤudaibiya,’ Der Islam, 74 (1997), pp. 193–237.

(79) Faruqi, Difa‘-i sahabahkyunzaruri he?, pp. 28–30. The Urdu reads as ‘us bay‘atka agenda ekthakhun-i ‘Uthmankabadalahlenaaur is bay‘atka agenda bhiek he, ‘Uthmanjaysesahabikadifa‘ karna.’ The ‘other’ bay‘aFaruqi refers to here was the re-establishment of the former SSP after Musharraf’s ban.

(80) Ludhiyanvi, ‘Sanihah-i Lal Masjid,’ pp. 287–90. For the ‘cultural obsession with the wholeness of the body as the foundation for moral righteousness and political cohesiveness,’ pertaining to the incorruptible earthly remains of Muslim saints, see Kugle, Scott, (p.299) Sufis & Saints’ Bodies. Mysticism, Corporeality & Sacred Power in Islam, Chapel Hill, The University of North Carolina Press, 2007, pp. 60–68.

(81) This evaluation should be regarded first of all as a rhetorical claim advanced for propaganda purposes by the ASWJ. While there indeed appears to be a hardening of sectarian identities in Pakistan, it would be far-fetched to assume that the country’s entire and internally very diverse Sunni population held such views. More ethnographic research is required to get a better understanding regarding the salience of continuing intermarriage between Sunnis and Shi‘as, the shared participation in processions, and overlapping mystical practices at Sufi shrines in Pakistan, to name only a few potential areas of further study.

(82) See Tal‘atHusayn with Ahmad Ludhiyanvi, ‘Naya Pakistan: Firqahvariyyataurkal‘adamtanzimen,’ min. 8.29.

(83) Haydari, ‘‘Ibadatkaqiblabayt Allah aurita‘atkaqiblasahabah-i kiram,’ op. cit., p. 114

(84) Ludhiyanvi, ‘Mahbub-i Subhani,’ op. cit., p. 85.

(85) Abbas, The Taliban Revival, op. cit., p. 156.

(86) On Khurasani, a member of the Mohmand tribe and former journalist, see Kugelman, Michael, ‘Bad as Baghdadi? Pakistan’s Most Dangerous Man,’ War on the Rocks, 4 September 2014, http://warontherocks.com/2014/09/pakistans-baghdadi/, accessed 29 July 2016. See also Akbar, Ali, ‘APS mastermind claimsBacha Khan University attack, 21 killed,’ Dawn, 21 January 2016, http://www.dawn.com/news/1234200/aps-master-mind-claims-bacha-khan-university-attack-21-killed, accessed 29 July 2016.

(87) His death was reported on 13 July 2016. See ‘Peshawar school massacre mastermind confirmed dead in drone attack: ISPR,’ Express Tribune, 13 July 2016, http://tribune.com.pk/story/1141165/peshawar-school-massacre-mastermind-confirmed-dead-drone-attack-ispr/, accessed 29 July 2016.

 

(88) For a detailed report, see Yasin, Aamir and Mohammad Asghar, ‘Ashura clashes turn Pindi into ghost town,’ Dawn, 17 November 2013, http://www.dawn.com/news/1056721, accessed 23 July 2016.

(89) Khurasani, ‘Umar Khalid, ‘Sanihah-i Ravalpindiamir-i muhtaram ‘Umar Khalid Khurasanihifzahu Allahkapaygham,’ https://www.youtube.com/watch?v=6-7Zho-s5LzI, accessed 28 April 2016, min. 2.00.

(90) Ibid., min. 3.58. Khurasani added that the curfew imposed in Rawalpindi after the clashes had prevented even a proper burial for those killed there.

(91) Ibid., min. 8.20. For the role played by the former Syrian dictator Hafez al-Asad in turning the country’s Alawites into a ‘respectable’ branch of Shi‘ism, see Kramer, Martin, ‘Syria’s Alawis and Shi’ism,’ in idem (ed.), Shi’ism, Resistance, and Revolution, Boulder, Westview Press, 1987, pp. 237–54.

(92) Khurasani, ‘Sanihah-i Ravalpindiamir-i muhtaram ‘Umar Khalid Khurasanihifzahu Allah kapaygham,’ min. 10.00.

(93) Abbas, op. cit., p. 152.

(94) Notice the important difference here that ISIS rejects the category kuffar for the Shi‘as but opts to calls them apostates (murtadds) instead. For a discussion of this distinction and its implications in Islamic law, see Friedmann, Yohanan, Tolerance and coercion in Islam. Interfaith relations in the Muslim tradition, Cambridge, Cambridge University Press, 2003, pp. 54–86 and pp. 121–59.

 

(95) McCants, William, The ISIS apocalypse. The history, strategy, and doomsday vision of the Islamic State, New York, St. Martin’s Press, 2015, pp. 99–119.

(96) See, for example, Ourghi, Mariella, ‘“EinLichtumgabmich…” – Die eschatologischenVisionen des iranischenPräsidentenMaḥmudAḥmadinežād,’ Die Welt des Islams, 49 (2009), pp. 163–80.

(97) Ludhiyanvi, ‘Mahbub-i Subhani,’ op. cit., p. 79.

(98) Ismail, op. cit., p. 206.