Featured Original Articles Urdu Articles

نہیں، سرکار ایسے بینرز پیچھے مت چھپیں – عامر حسینی

کوئی مبینہ ریپسٹ، کوئی مبینہ قاتل، کوئی مبینہ جبری برطرفیاں کا مرتکب کسی کارپوریٹ میڈیا گروپ کا سی ای او اپنے کسی مبینہ جُرم کو چھپانے کے لیے اگر اینٹی اسٹبلشمنٹ، جمہوریت پسند ،سویلین بالادستی کے بینرز اپنے چہرے کے آگے تان لے تو کیا ہم مبینہ جُرم کی تحقیق کے مطالبے سے دست بردار ہوجائیں؟

کوئی فوجی آمر آئین توڑے اور جب اُس کو آئین شکن کہا جائے تو وہ دو یا تین جنگوں میں شرکت کی سند اپنے چہرے کے آگے رکھ لے اور الزام لگانے والوں کو مُلک دشمن، غدار کہنے لگے تو کیا ہم قبول کرلیں گے؟

نہیں جناب ایسا نہیں ہوگا چاہے وہ اے پی این ایس کا صدر ہو چاہے وہ ڈان میڈیا گروپ کا سی ای او ہی کیوں نہ ہو

ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او پر معروف فلمساز جمشید رضا محمود /جامی مور کی طرف سے ریپ کے الزام کی ٹوئٹ سامنے آنے کے بعد کچھ حلقے اسے پاکستان کی فوجی قیادت سے ڈان میڈیا گروپ کی ناراضگی کا ہی شاخسانہ قرار دے رہے ہیں

میرا موقف اس معاملے میں اُن حلقوں سے مختلف ہے

ڈان میڈیا گروپ آزادی صحافت کا علمبردار بنتا ہے اور آزادی صحافت کے راستے میں رکاوٹ بننے والے گروپوں کے خلاف وہ سول سوسائٹی سے تعاون مانگتا ہے لیکن جب ایک معروف فلمساز اپنے ٹوئٹ کی سیریز میں اپنے ساتھ ہوئے ریپ کی کہانی بیان کرتا ہے اور اُس میں ایسے اشارے موجود ہوتے ہیں جس سے دھیان حمید ہارون کی طرف جاتا ہے تو وہ اس ٹوئٹ بارے خبر اپنی آفیشل ویب سائٹ سے ہٹالیتا ہے

جامی جمشید کا کہنا ہے کہ ڈان نیوز سمیت پاکستان کے چند بڑے میڈیا گروپ سے جب انہوں نے اُن کے الفاظ نہ چھاپنے بارے پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ ریپ کرنے والے کا نام دیں – اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 13 سال پہلے ریپ کے واقعے بارے بتانا کیا خبر نہیں ہوتا؟ کیا ضروری ہے ریپ کرنے والے کا نام ظاہر کیا جائے؟ خیر جب نام لے دیا گیا تو تب بھی کسی ایک میڈیا گروپ نے جامی مور کے الفاظ شایع نہیں کیے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈان میڈیا گروپ کی ایسے کیسز جن میں مالک ملوث ہو یا کوئی اور ماضی میں کیا پالیسی رہی ہے؟

ڈان میں سالہا سال سے کام کررہے عالم گیر شہرت کے مالک کارٹونسٹ محمد رفیق عرف فیکا کے بارے میں دی نیوز انٹرنیشنل ڈیلی کی سٹاف رپورٹر عروج ضیاء نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اُن کی ایک دوست نے اُن کو بتایا ہے کہ جب وہ چھوٹی بچی تھیں تو فیکا نے اُن سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی

اس ٹوئٹ کو بنیاد بناکر ایک ای میل ڈان میڈیا گروپ کو بھیجی گئی اور ڈان میڈیا گروپ نے فیکا کے خلاف انکوائری کمیٹی بٹھائی اور فیکا کے کارٹون کی اشاعت ڈان اخبار میں روک دی گئی- اور ڈان میڈیا گروپ نے اس بارے میں خبر شایع کرکے اپنے پڑھنے والوں کو آگاہ کیا

فیکا کے چاہنے والوں کے سامنے جب یہ معاملہ آیا تو انھوں نے ایک مشترکہ خط دستخطوں سے ڈان میڈیا گروپ کی انتظامیہ کو ای میل کیا- اس خط میں مطالبہ تھا کہ ڈان میڈیا گروپ انیس ہارون، عظمیٰ نورانی اور حنا جیلانی پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جس کے سامنے مبینہ متاثرہ لڑکی پیش ہو اور وہ ساری تفصیل سے آگاہ کرے اگر وہ کمیٹی فیکا کو قصوروار سمجھے تو ہم سب متاثرہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے – لیکن اُس سے پہلے فیکا کے کارٹون بند کرنا، اُن کے واجبات کی ادائیگی نہ کرنا، اُن کے کنٹریکٹ کو توسیع نہ دینا یہ سب اقدامات غلط ہیں- جبکہ فیکا کے خلاف متاثرہ کا نام تک کسی کو معلوم نہیں ہے

لیکن ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون اور ایڈیٹر ظفر عباس کو فیکا سے جان چھڑانا تھی اور یہ سارا کھیل کھیلا ہی اسی لیے گیا تھا کیونکہ فیکا کے بقول ظفر عباس اور ڈان میڈیا گروپ کا سی ای او حمید ہارون اخبار اور گروپ کو اپنے زاتی مفادات کے لیے استعمال کررہے تھے اور ایک ادارتی میٹنگ میں ظفر عباس ایجنڈے سے ہٹ کر ایک کنسٹرکشن کمپنی سے اُس کے تعمیراتی پروجیکٹ میں کسی نہ کسی طریقے سے حصہ داری کے حصول پر بات کرتا پایا گیا جس پر فیکا نے غصے کا اظہار کیا اور اسے پروفیشنلزم کے منافی قرار دیا تو ظفر عباس اُس کے بعد سے فیکا کے پیچھے پڑگیا

میرا موقف یہ ہے کہ ڈان میڈیا گروپ نے فیکا کے کیس میں خود یہ مثال قائم کی کہ می ٹو کے تحت اُس کے ادارے کے کسی شخص پر الزام لگے گا تو وہ شخص الزام سے پاک ہونے تک ادارے کا حصہ نہیں ہوگا تو حمید ہارون کا کیس بھی ایسا ہی ہے تو حمید ہارون ابتک سی ای او ڈان میڈیا گروپ کیوں ہے؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ڈان میڈیا گروپ نے فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جو لڑائی کی ہے اُس کی وجہ سے ڈان میڈیا گروپ کے ساتھ یہ ہورہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ فیکا کا چالیس سال کارٹونسٹ کے طور پر جو کام ہے اس میں اُس نے دو آمروں اور اسٹبلشمنٹ کی محلاتی سازشوں بارے جو خاکے بنائے بلکہ چھیتے حمید ہارون نے تو کبھی خواب میں بھی ایسا کام نہ کیا ہوگا- یہ اخبار جب ضیاءالحق کے حلقہ بگوش تھا اور اس کا مالک گورنر سندھ تھا تو بھی فیکا اُس زمانے میں فرنٹیئر پوسٹ اور دی مسلم میں ضیاءالحقی کے خلاف یادگار خاکے بنارہا تھا تو اُس پر لگے الزام کو اس طرح سے کیوں نہ دیکھا گیا جیسے حمید ہارون کے کیس کو دیکھنے کی یار دوست ضد کررہے ہیں

ڈان میڈیا گروپ جتنی سیلیکٹو اور یک طرفہ لڑائی موجودہ فوجی قیادت سے کچھ ایشوز پر لڑی ہے وہ تمام تر جانبداری اور تعصبات کی موجودگی کے قابل ستائش ہے اور میں نے ہمیشہ ڈان میڈیا گروپ کے خلاف پیمرا، آئی ایس پی آر کی کارروائیوں اور ایسے ہی بلوائی حملوں اور گمنام دھمکیوں کی علی اعلان مذمت کی ہے اور آئندہ بھی کریں گے لیکن اینٹی اسٹبلشمنٹ یا جمہوریت کے نام پر کوئی اپنے مبینہ جرائم کو چھپانے کی کوشش کرے یا کسی شخص یا گروہ کی خبر کو سنسر کرے، وہ اپنے ادارے سے کارکنوں کی جبری برطرفیاں کرے اور ادارے کے اندر آمریت قائم کرے، ہم اُس کے خلاف آواز اٹھائیں گے

ڈان میڈیا گروپ اگر سیاسی جماعتوں کی کوریج میں ڈنڈی مارے گا، ایک جماعت کے متاثرین نیب کی صفائی اور دوسری جماعت کے متاثرین نیب کو مجرم قرار دے گا تو تب بھی ہم اُس کے صحافتی کلامیے /ڈسکورس میں موجود بددیانتی کو بے نقاب کریں گے

ڈان میڈیا گروپ کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ فیکا کیس میں اپنے اختیار کردہ راستے کو اعلانیہ غلط قرار دے اور اُس پر فیکے سے معافی مانگے اور اُن کے بقیہ واجبات ادا کرے اور جامی مور کا بیان اپنے گروپ کی تمام اشاعتوں میں شامل کرے

دوسرا راستا حمید ہارون کو سی ای او ڈان میڈیا گروپ کے عہدے سے ہٹادیا جائے اور اُس کے خلاف انکوائری کمیٹی قائم ہو اور جامی مور کی خبر بھی شایع کی جائے

میں پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں، جمہوریت پسند صحافیوں، سیاسی کارکنوں، ادیبوں، دانشوروں اور لکھاریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جامی مور کے الزام کی غیر جانبدارانہ اور غیرمتعصب تحقیقات کے لیے ایک طاقتور کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کریں جس کے چئیرمیں ڈاکٹر ہارون احمد ہوں اور اُس میں ڈاکٹر حنا جیلانی، پروفیسر عرفانہ ملاح،انیس ہارون بطور اراکین شامل ہوں اور یہ جامی مور، حمید ہارون اور اس حوالے سے دیگر واقفان حال سے انکوائری کے بعد اپنا فیصلہ صادر کریں

یہ اسکینڈلائزیشن کی صحافت نہیں ہے بلکہ اس ملک میں مظلوموں کی آواز کو طاقتور بنانے کا سوال ہے

زرا سوچیں کہ اگر جامی مور جیسا طاقتور اور شہرت یافتہ شخص اپنے ساتھ ہوئی مبینہ جنسی زیادتی پر خود اپنی کمیونٹی میں ایک سے دو افراد کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہیں پاتا تو کسی کمزور کے ساتھ یہ کارپوریٹ اداروں کے سی ای اوز کیا کچھ نہ کرتے ہوں گے؟ اگر بالفرض جامی مور سچ نہیں بول رہا تو انکوائری دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے گی